جنرل محمد افضل صاحب۔ سویلین بھائی اتنے بھی نکھد نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز سے این ڈی ایم اے کے سربراہ محترم لیفٹننٹ جنرل محمد افضل صاحب کا ایک بیان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں یونیفارم پہن کر آپ کے سامنے بیٹھا ہوں۔ اگرچہ میں ایک سویلین ادارے کا سربراہ ہوں۔ ہمارے ادارے میں چالیس فیصد کام کرنے والے فوجی ہیں۔ میں آج بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ فوجی مین پاور ہونے کا فائدہ بھی ہے۔ وہ اس لئے ہے کہ بہت ایسے کام ہیں جو ہمارے سویلین بھائی ہیں اس کے لئے ٹرینڈ نہیں ہوتے۔ جہاں کرونا کا تعلق ہے تو کرونا کے اندر فوج نے بہت زیادہ کنٹری بیوٹ کیا ہے۔ سب پہلی بات یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے ہمیں ڈیٹا [اعداد و شمار ] کے بات چیت کے اور رابطے کے بہت سے مسائل تھے۔ یہ پاکستان آرمی تھی جنہوں پورے نظام کو استعمال کرتے ہوئے انہیں ایک ٹیم کی صورت میں ڈھالا۔ ابھی ڈیٹا [ اعداد و شمار] کے جو دائمی مسائل تھے وہ ختم ہو گئے ہیں۔ جو معلومات آپ نے بھجوانی ہوتی ہے یا لینی ہوتی ہے وہ جلدی سے چلی جاتی ہے۔ ۔ ۔

ہم صرف اس وبا میں اعداد و شمار جمع کرنے کے مسئلہ کا جائزہ لیں گے۔ اور یہ دیکھیں گے کہ این ڈی ایم اے کے ”فوجی بھائیوں“ یا ”سویلین بھائیوں“ نے اس پہلو سے کیا کارکردگی دکھائی ہے؟ کسی تبصرے سے قبل یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ سائنسی طور پر جب ہم کسی وبا میں اعداد و شمار جمع کرتے ہیں تو اس سے کیا مراد ہوتی ہے؟ اس سے کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟

یہ واضح ہونا چاہیے کہ سائنسی اعداد و شمار صرف اس کا نام نہیں ہے کہ آج کتنے ٹیسٹ ہوئے؟ کتنے لوگوں میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ ان کا تعلق کس صوبے یا ضلع سے تھا اور کتنے مریضوں کا انتقال ہو گیا۔ یہ بنیادی اعداد و شمار بھی اہم ہیں لیکن ایک عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی نہیں اور نہ ان اعداد و شمار سے بھرپور سائنسی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ایسے اعداد و شمار تو آسانی سے جمع ہو جاتے ہیں۔

تو پھر سائنسی اعداد و شمار کیا ہوتے ہیں؟ میں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ اس وبا کے آغاز میں ہی شنگھائی [چین] سے ایک ریسرچ پیپر شائع کیا گیا۔ اس تحقیق میں ایسے دو ہزار سے زائد بچوں کے اعداد و شمار شامل کیے گئے تھے جنہیں کورونا کا مرض لاحق ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہر عمر کے بچوں کو کرونا کا مرض ہوا تھا لیکن یہ بیماری ان بچوں میں زیادہ خطرناک ثابت ہوئی جن کی عمر ایک سال کے قریب تھی۔

اس سے یہ فائدہ ہوا کہ کم از کم چین کے ڈاکٹروں کو یہ علم ہو گیا کہ اگر بچوں کو یہ بیماری ہو جائے تو یہ بیماری ان بچوں میں زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے جن کی عمر ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ ہے۔ ایسے بچوں کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اس مقالے میں یہ بتایا گیا کہ دو ہزار متاثرہ بچوں میں صرف ایک کی موت ہوئی۔ مطلب یہ کہ بچوں کے وارڈوں اور ہسپتالوں میں مصنوعی سانس کی مشینوں کی زیادہ ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس سہولت کی زیادہ ضرورت ان وارڈوں میں ہو گی جن میں بڑی عمر کے مریض داخل ہیں۔

اس تحقیق سے پتہ چلا کہ جن بچوں کو یہ بیماری ہوئی ان میں دو طرح کی علامات ظاہر ہوئیں۔ ایک گروپ کو بڑوں کی طرح بخار، کھانسی اور گلا خراب ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں اور دوسرے گروپ کو متلی، الٹیوں اور اسہال کی علامات ظاہر ہوئیں۔ اب جو ڈاکٹر پڑھے گا اسے یہ علم ہو جائے گا کہ بچوں میں کیا علامات موجود ہوں تو اس بیماری کا شبہ ہو سکتا ہے۔ اس طور سے تجزیہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند ماہ میں پانچ سو سے زائد ریسرچ پیپروں میں چین میں ہونے والی اس تحقیق کا حوالہ دیا گیا۔ کیونکہ اس میں صرف خام اعداد و شمار نہیں درج تھے بلکہ سائنسی تجزیہ کر کے کارآمد نتائج پیش کیے گئے تھے۔

جب ہم این ڈی ایم اے کی سائٹ کا جائزہ لیتے ہیں تو آج کی تاریخ تک جو آخری رپورٹ اس سائٹ پر موجود ہے وہ وہ 2018 کے پہلے چھ ماہ کی کارکردگی کی رپورٹ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خود این ڈی ایم اے کی سائٹ پر اس عالمی وبا کے دوران اعداد شمار اور کارکردگی کی رپورٹ بھی آویزاں نہیں کی گئی۔ اگر سائنسی تجزیہ کے ساتھ یہ رپورٹ وہاں پر موجود ہوتی تو اس کا تجزیہ پورے ملک کے ڈاکٹروں اور شعبہ صحت سے وابستہ افراد کے لئے راہنمائی کا باعث ہوتا۔

شاید اس کا یہ عذر پیش کیا جائے کہ اس بیماری کے حوالے سے حکومت نے علیحدہ سائٹ بنائی ہوئی ہے۔ آپ اس سائٹ کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ اس سائٹ پر پاکستان میں اس بیماری کے صرف موٹے طور پر اعداد و شمار موجود ہیں۔ اور روزانہ تازہ اعداد و شمار مہیا ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کا سائنسی تجزیہ پیش نہیں کیا جاتا۔

اس پر یہ سوال کیا جائے گا کہ کیا پاکستان میں کوئی بھی ان اعداد و شمار کا تحقیق کے انداز میں سائنسی تجزیہ پیش کر رہا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں کئی ڈاکٹرز اور ماہرین اس بیماری کے اعداد و شمار کا سائنسی تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔ اور ان کے ریسرچ پیپرز ملک سے باہر کے نامور سائنسی جریدوں میں شائع بھی ہو رہے ہیں۔ یہ سب ماہرین ”سویلین بھائی“ ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ”فوجی بھائی“ نہیں ہے۔

چند مثالیں پیش کر دیتا ہوں۔ برٹش میڈیکل جرنل طبی تحقیق کا چوٹی کا جریدہ ہے۔ اس میں کرونا کی وبا کے بارے میں آغا خان یونیورسٹی کے دو ڈاکٹرز کا ریسرچ پیپر شائع ہوا ہے۔ اسی طرح اسی جریدے میں اس وبا کے بارے میں پاکستان کے نامور ماہر پروفیسر ذوالفقار بھٹہ صاحب کا ریسرچ پیپر شائع ہوا ہے۔ اسی طرح حمل اور بچوں کی پیدائش کے بارے میں پاکستان کے کئی ڈاکٹرز کا ایک ریسرچ پیپر طب کے ایک بین الاقوامی جریدے میں شائع ہوا ہے۔

مختلف قسم کا حفاظتی سامان ہسپتالوں میں کام کرنے والوں کی کتنی حفاظت کر سکتا ہے، اس بارے میں پاکستانی ڈاکٹرز کا ریسرچ پیپر ایک بین الاقوامی جریدے میں شائع ہوا ہے۔ ان کے علاوہ ان چند ماہ میں پاکستان کے کئی تحقیق کرنے والوں کے ریسرچ پیپرز شائع ہو چکے ہیں۔ اور بین الاقوامی سطح پر ان کی اشاعت، ان کی افادیت کا اعتراف ہے۔

سب سے زیادہ ریسرچ پیپرز آغا خان یونیورسٹی کی طرف سے شائع ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ قائد اعظم یونیورسٹی، کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی اور دوسری یونیورسٹیوں کی طرف سے تحقیقی کاوشیں سامنے آ چکی ہیں۔ اگر ”سویلین بھائی“ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں تو این ڈی ایم اے کی سطح پر بنیادی اعداد و شمار جمع کرنے کا کام کیوں نہیں کر سکتے؟

محترم جنرل محمد افضل صاحب نے کس بناء پر یہ دعویٰ کر دیا کہ پاکستان کے سویلین تو بنیادی اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے اہل بھی نہیں۔ ان کی تو ٹریننگ ہی نہیں ہوئی۔ اس لئے مجبوری ہے۔ ہم ”فوجی بھائیوں“ کو ہی اس وبا کے اعداد و شمار پر کام کرنا پڑ رہا ہے۔ میرے خیال میں اس بات کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی حکومت ”سویلین بھائیوں“ میں نمایاں ماہرین اور تحقیق کرنے والوں کو قومی اسمبلی کی کمیٹی میں مشورے کے لئے بلائے۔ کئی دوسرے ممالک کے قانون ساز اداروں کی کمیٹیوں میں طبی ماہرین کو بلا کر ان کا نقطہ نظر سنا گیا ہے۔ اور اگر جنرل محمد افضل صاحب اور ان کا ادارہ این ڈی ایم اے بھی ان ماہرین سے کچھ استفادہ کر لے تو بہتر ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply