بچہ گود لینا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بے اولاد جوڑے اگر شدید تمنا رکھتے ہوئے بھی اولاد سے محروم ہوں اور سارے علاج، دعایں اور ٹوٹکے بے کار ہو چکے ہوں وقت کی ٹک ٹک آگے ہی بڑھتی جائے تو یہ ایک گہرا دکھ ہے۔ ایسے میں کوئی بچہ گود لینے کا خیال آتا ہے۔

لیکن کیا بچہ گود لینا ایک آسان سا کام ہے؟ والدین نے پیپر سائن کیے، چند ماہ انتظار کیا اور ایک ہنستا کھیلتا بچہ ان کی گود میں آ گیا۔ سونا آنگن آباد ہو گیا۔ اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ بچہ بھی خوش، بچہ دینے والے اور بچہ لینے والے بھی خوش۔ ایسا نہیں ہے۔

پہلی درد ناک بات یہ ہے کہ کوئی ماں ہنسی خوشی اپنا بچہ اپنی گود سے نہیں اتارتی۔ مجبوری میں کرنا پڑے تو عمر بھر اس درد سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی۔ اس کی یہ مجبوری کئی طرح کی ہو سکتی ہے۔

غربت، ماں کی کم عمری، ریپ، نامساعد حالات، پہلے سے کئی بچوں کا ہونا، بچے کے باپ کی عدم موجودگی، بچے کے بہتر مستقبل کے لیئے، معاشرے کا خوف، گھر والوں کا دباؤ۔۔ وغیرہ۔ کسی بھی صورت میں یہ غم ماں کے لیئے عمر بھر کا ہے۔ بچے کو گود لینے والوں پر تو بات ہوتی رہتی ہے لیکن گود خالی کرنے والی کے دکھ کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ اپنے بچے کو اڈوپٹیشن کے لیئے دینا شاید ان والدین، خاص طور پر ماں کے لیئے شاید مشکل ترین امتحان ہوتا ہے۔

بچے کی پیدائش خود ایک خاصا تکللیف دہ عمل ہے۔ لیکن بچے کو گود میں سمیٹتے ہی ماں اپنی تکلیف بھول جاتی ہے۔ لیکن اگر ساری تکلیف سہنے کے بعد اسے اپنی گود اجاڑنی پڑے تو قیامت ہے۔ ماں تکلیف، شوک اور بے قراری میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اور ساری عمر احساس ندامت میں رہتی ہے۔ اسے اس المیہ پر ماتم کرنے کا بھی وقت نہیں ملتا۔ کبھی کبھی تو بچے کو کسی اور دے دینے کا عمل رازداری سے ہوتا ہے اور ماں نہ اپنی تخلیق پر فخر کرسکتی ہے نہ اپنے نقصان پر رو سکتی ہے۔ پشیمانیاں لیئے باقی زندگی گھسیٹتی ہے۔

اب ان والدین کی طرف نظر کریں جنہوں نے بچہ اڈوپٹ کیا ہے۔ ایک عورت جب امید سے ہوتی ہے تو وہ ذہنی طور پر ماں بننے کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے۔ پہلی خبر پاتے ہی اس کا اپنے بچے کے ساتھ بندھن بن جاتا ہے۔ پھر جب بچہ پیٹ میں حرکت کرتا ہے تو ماں اور بھی بندھ جاتی ہے۔ ایک خوشحال اور خوش باش جوڑے کو جب نئے مہمان کی آمد کی نوید ملتی ہے وہ اسی دن سے اس کے استقبال کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔ استطاعت ہو تو نرسری روم سنوارتے ہیں۔ بچے کا پنگھوڑا، کپڑے اور دوسری ضروری چیزوں کی خریداری کرتے ہیں اور ایک روز ماں درد کے طوفان سے لڑ کر تخلیق کے عمل سے گذرتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد ماں کی چھاتیوں میں قدرت بچے کی غذائی ضرورت پوری کرنے کے اسباب مہیا کردیتی ہے۔ اور ماں اور بچے کا یہ بندھن اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔۔ بچہ دنیا میں آتا ہے تو والدین ایک نئے چیلنج اور تبدیلی کے لیئے تیار ہوتے ہیں۔ لیکن بچہ گود لینے والی ماں ان مراحل سے نہیں گذرتی۔ اس کے گھر میں ایک نیا مہمان آیا ہے لیکن اس سے اس کا بندھن کیسے بنے گا؟ کیا اس کے دل میں ممتا اتر آئے گی؟ یہ خود اسے بھی خبر نہیں ہوتی۔ بچہ گود لینے والی ہر ماں کے جذبات مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی خوشی سے بے قابو ہوتی ہے۔ کسی کو آنے والے چیلینجز کا خوف ہوتا ہے۔ کسی کو احساس جرم ستانے لگتا ہے کہ اس نے کسی اور کی گود سے بچہ چھین کر اپنا سونا آنگن آباد کیا ہے۔ آس پاس کے لوگوں کا بھی ملا جلا ردعمل ہوتا ہے۔ کوئی اسے ترحم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ کوئی گود اجاڑنے والی ڈائن سمجھتا ہے۔ اور کوئی اسے ایک نیک دل پری جس نے ایک بچے کی زندگی سنوار دی۔

برسوں بنجر کوکھ سے امید ٹوٹتے اور ناکام ہوتے کٹے۔ اب اجاڑ نگری میں پھول کھلا ہے اور اس کی آبیاری کرنی ہے۔ لاکھ کتابیں پڑھ لیں، کورسز کرلیں، اس تبدیلی کے لیئے ذہنی طور پر تیار بھی رہیں لیکن پھر بھی یہ سب نیا نیا لگتا ہے۔۔ والدین چونکہ کئی برس امید اور علاج میں گذار دیتے ہیں اس لیئے بچہ گود لینے کے وقت ان کی عمر کچھ زیادہ ہو جاتی ہے۔ تنہائی کی بھی عادت پڑ جاتی ہے۔ ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگ جاتا ہے۔ لیکن یہ سب آہستہ آہستہ والدین سیکھ لیتے ہیں۔ کچھ والدین ایسے بھی ہیں جو اپنے بچوں کے ہوتے ہوئے بھی بچہ گود لے لیتے ہیں۔

اب آتے ہیں گود لیے جانے والے بچہ کی طرف۔ کوئی بچہ اپنی مرضی سے ماں کی گود نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنے اڈوپٹیڈ والدین کا انتخاب بھی خود نہیں کرتا۔ میں یہ مضمون ناروے کے قانون اور معاشرے کو سامنے رکھتے ہوئے لکھ رہی ہوں۔ پاکستان میں بچہ گود لینے کا قانون اور طریقہ کار اور معیار بہت مختلف ہے۔ اس پر پھر کبھی بات ہو گی۔ ناروے میں جن ملکوں سے بچے اڈوپٹ کیئے جاتے ہیں ان میں زیادہ تر کوریا، چین، انڈیا، کولمبیا وغیرہ شامل ہیں۔ ان ملکوں سے آنے والے بچے شکل و صورت میں اپنے اڈوپٹیڈ والدین سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں بچے سے یہ بات چھپائی نہیں جاتی کہ اسے گود لیا ہوا ہے۔ بچہ بھی ہوش سنبھالتے ہی سمجھ لیتا ہے کہ اس کی شکل، بال اور رنگت والدین سے الگ ہیں۔ بچے کی عمر کے حساب سے اسے حقیقت بتائی جاتی رہتی ہے۔۔ کوشش یہ کی جاتی ہے کہ بچے کو بہت ہی کم عمری میں گود لیا جائے تاکہ اس کے ذہن میں پرانی کوئی یاد باقی نہ رہے۔ لیکن دنیا بڑی ظالم ہے۔ اسکول کی زندگی میں ہی اس بچے کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ بچے بھی کم ظالم نہیں ہوتے۔ سچے بھی ہوتے ہیں اور اپنی بات کہنے میں آزاد بھی۔ لے پالک بچے کو بار بار اس تکلیف سے گذرنا پڑتا ہے۔ کہ وہ کہاں سے آیا ہے کیوں آیا ہے؟ اس کے اپنے ماں باپ کہاں ہیں؟ وغیرہ۔ جیسے جیسے یہ بچے بڑے ہوتے ہیں ان میں ایک قسم کی بے چینی پیدا ہونے لگتی ہے

میں کون ہوں؟ یہاں کیوں ہوں؟ مجھے میرے اپنے والدین نے کیوں کسی اور کو دے دیا؟ شناخت کا یہ بحران انہیں بے قرار کر دیتا ہے۔ کچھ حساس بچے تو ٹروما کا شکار ہو جاتے ہیں۔ افسردہ رہتے ہیں، کچھ نڈھال ہو جاتے ہیں اور تعلیمی میدان میں پیچھے رہتے ہیں۔ کچھ اپنے اڈوپٹیڈ والدین کو مجرم گردانتے ہیں کہ انہوں نے ایک ماں سے اس کا بچہ چھینا یا خریدا۔ اس بچے کی زندگی پھولوں کی سیج ہرگز نہیں۔ چاہے یہ نئے والدین اس کتنی ہی اچھی اور آرام دہ زندگی کیوں نہ مہیا کردیں۔ کتنا ہی پیار محبت دے دیں، بچے کے دل کوئی کونا خالی خالی سا رہتا ہے۔ ان کے دلوں میں اپنی جڑیں تلاشنے، اپنی ثقافت اور فیملی سے ملنے اور انہیں جاننے کا خیال آتا ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں انہیں یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ چاہیں تو کھوج لگا لیں۔ یہاں ایک ٹی وی سیریز شروع ہوئی تھی جس میں گود لیئے جانے والے بچے ٹی وی والوں کی مدد سے اپنے والدین کو ڈھونڈتے ہیں۔ کچھ ملنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ عجیب جذباتی مناظر تھے۔ ماں شرمندگی سے رو رو کر کہتی وہ مجبور تھی۔ بچہ بار بار کہتا کہ وہ اسے الزام نہیں دے رہا بلکہ شکرگزار ہے کہ اسے ایک اچھی زندگی کے مواقع ملے۔ ان بچوں سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ واپس اپنے والدین کے پاس رہنا چاہیں گے؟ سب ہی کا جواب نفی میں تھا۔

یہاں گود لیے جانے والے بچے ایک اچھی اور پر تحفظ زندگی گذارتے ہیں۔ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ناروجین ٹی وی کا ایک جرنلسٹ کوریا سے گود لیا گیا ہے۔ ایک اور نیوز کاسٹر سری لنکا سے اڈوپٹ ہوئی ہے۔ کچھ جوڑے ایسے بھی ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ بچے گود لیے۔

ہالی ووڈ کے کئی فنکاروں نے بچے اڈوپٹ کیئے۔ ان میں انجلینا جولی اور بریڈ پٹ نے ایک سے زیادہ بچے گود لیے۔ ان کے اپنے بچے بھی ہیں۔ اسی طرح میڈونا نے بھی کئی بچے گود لیے۔ کچھ مشہور شخصیات بھی ہیں جو اڈوپٹ ہیں۔ ان میں ایپل کا بانی اسٹیو جابز، اداکارہ میرلین منرو اور نیکول ریچی شامل ہیں۔

کچھ دردناک واقعات بھی ہوئے ہیں۔ ایک جوڑے نے ایک بچے کو کولمبیا سے اڈوپٹ کیا گیا۔ ذرا بڑا ہوا تو ادوپٹیڈ باپ نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ لڑکا پندرہ سال کا ہوگیا اور اب اس نے مزاحمت کرنی شروع کر دی۔ اور باپ کو دھمکی دی کہ وہ یہ بات سب کو بتا دے گا۔ باپ نے اسے مارڈالا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اسے 21 سال کی سزا ہوئی۔ شکر ہے کہ اس قسم کے واقعات کم کم ہوتے ہیں۔ اب ایک سچا واقعہ سن لیجئے۔

بچوں کو گرمیوں کے جوتے دلانے لے گئی۔ وہاں ایک خاتون بچہ گاڑی دھکیلتی ہوئی اندر آئی۔ میں نے ایک لمحے میں دیکھ لیا کہ بچہ اتنا چھوٹا نہیں جسے پرام میں بٹھا کر لایا جائے۔ پھر میں نے نوٹ کیا وہ کہ خاتون سفید فام اور بلانڈ تھی اور بچے کے بال سیاہ اور نقوش مشرق بعید کے علاقے سے شباہت رکھتے تھے۔ اور تیسری چیز میں نے نوٹ کی کہ بچہ کا ایک پیر اندر کی طرف مڑا ہوا تھا۔ عورت نے بچے کو سیٹ پر بٹھایا پھر ایک ایک جوتا اٹھا کر لائی اسے پہنایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے چلانے کی کوشش کرتی۔ بچہ لڑکھڑاتا ہوا چلتا، وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتی۔ یہ سارا منظر میرے دل پر نقش ہو گیا۔

کچھ عرصے بعد ایک کرسمس کی پارٹی میں اتفاق سے وہی خاتون میرے برابر بیٹھیں۔ ساتھ وہی بچہ جو اب کچھ بڑا ہو چکا تھا۔ ہماری بات چیت شروع ہوئی۔ اس نے بتایا کہ اس کے تین بچے ہیں۔ ” یہ سب سے چھوٹا ہے۔ ” اس نے بچے کے بال سنوارتے ہوئے کہا۔ میں نے دوسرے بچوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے اشارہ کیا ” وہ” میں نے نظر ڈالی۔ دو سفید فام سنہرے بالوں والے بچے۔ ایک لڑکا ایک لڑکی۔ خاتون نے یقینی طور پر میرے چہرے پر ایک بڑا سالیہ نشان دیکھ لیا۔ مسکرا کر بولی” وہ دونوں ہمارے بائیلوجیکل بچے ہیں۔ یہ ولیم ہے۔ اس ماہ چھے سال کا ہو گیا۔ آٹھ ماہ کا تھا جب ہم نے اسے اڈوپٹ کیا۔۔ جب ہمارا بیٹا چھے سال کا اور بیٹی چار سال کی ہوگئی تو ہم نے تیسرے بچے کا سوچا۔ ہم افورڈ کر سکتے ہیں۔ پھر یہ خیال آیا کہ کیوں نہ کوئی بچہ گود لے لیا جائے۔ شاید اس طرح کسی بچے کو بہتر زندگی فراہم کر سکیں۔ “

میری نظریں بچے کے مڑے ہوئے پیر پر ٹک گیں۔ وہ میرا یہ ان کہا سوال بھی سمجھ گئی۔ “ہم نے بچہ گود لینے کا فیصلہ کیا اور اڈوپتیشین آفس میں درخواست ساتھ ہی تمام ضروری کاغذات، مکان کے کاغز، آمدنی، ٹیکس وغیرہ بھی۔ ہم چاہتے تھے کہ بچہ سال بھر سے زیادہ نہ ہو تاکہ اسے نئے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں دقت نہ ہو۔ اڈوپٹیشن آفس سے بلایا گیا کہ کوریا کے تین بچے ہیں۔ ایک لڑکا ہے چھے ماہ کا، ایک لڑکی چار ماہ کی۔ دونوں صحتمند ہیں۔ ان کے علاوہ ایک اور لڑکا ہے آٹھ ماہ کا جس کے پیر میں پیدایئشی نقص ہے۔ ہم نے سوچا وہ صحتمند لڑکا تو کوئی بھی گود لے لے گا۔ صحتمند لڑکی بھی چن لی جائے گی لیکن یہ نقص والا بچہ رہ جائے گا اور اس کی عمر یتیم خانے میں ہی گذر جائے گی۔۔ یہی سوچ کر ہم نے اسے چن لیا۔ “

“دو سال کا ہوا تو اس کا ایک آپریشن ہوا جس سے پیر پہلے سے تھوڑا بہتر ہو گیا۔ اب ذرا اور بڑا ہو گا تو ایک آپریشن اور ہو گا۔ امید ہے کہ اور بہتر ہو جائے گا۔ ” اتنے میں ولیم کے بھائی بہن آئے” چلو ولیم سانتا کلاوز آ رہا ہے” اور ولیم اپنی چھوٹی چھوٹی بیساکھیوں کی مدد سے ہنستا ہوا ان کے ساتھ سانتا کو دیکھنے چلا گیا۔ میری آنکھیں گیلی ہو گیں۔

دس سال بعد اسکول میں نیا تدریسی سال شروع ہوا تھا اور گیارہویں کلاس کا پہلا دن تھا۔ جب میں نے اسے پھر دیکھا۔ وہ اب بھی ہلکا سا لنگڑاتا تھا لیکن سہارے کے بغیر چل سکتا تھا۔ وہ میری کلاس کے ذہین بچوں میں تھا۔ اس کے ساتھ دو سال بہت دلچسپ اور یادگار گذرے۔

کہنا یہ ہے کہ بچہ گود لینا بہت سے چیلینجز ساتھ لاتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا ہونا ہی نہیں چاہیئے۔ بچہ گود لینا ایک مشکل کام سہی۔ کسی بچے کو ایک معیاری زندگی مہیا کرنا اسے محبت سے پالنا اور اپنے پیروں پر کھڑا کرنا۔ یہ ایک اچھا کام ہے۔ بچہ گود لینے والے اس احساس جرم میں مبتلا نہ ہوں کہ انہوں نے کسی کی گود سے بچہ چھینا ہے۔ یہ بچہ یتیم خانے سے آیا ہے اور اسے گود لینے والوں نے نا صرف اپنی خوشی کا سامان کیا ہے بلکہ ایک زندگی بچائی ہے۔ آخر میں ایک اور بات۔ ایک ہالی ووڈ کے فنکار کا انٹرویو دیکھ رہی تھی۔ نام یاد نہیں آ رہا۔ انٹرویو لینے والے نے پوچھا کہ سنا ہے آپ کے پانچ بچے ہیں۔ فنکار نے کہا جی ہاں۔ پھر پوچھا گیا سنا ہے ان میں دو اڈوپٹیڈ ہیں۔ فنکار نے کہا جی یہ بھی درست ہے لیکن مجھے یاد نہیں رہتا کہ وہ دو کون سے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *