قید – افسانہ

چار میلی دیواریں جن پہ کھرنڈ جمی تھی اور جگہ جگہ سے رنگ اترا ہوا تھا۔ اور فرش پر سے بھی کہیں کہیں سے سیمنٹ اکھڑا ہوا تھا جس میں سے عجیب و غریب حشرات نکل کر باہر آتے اور دیواروں پہ چڑھنے لگتے۔ چھت پہ پرانا سا پنکھا لگا تھا جس کا زنگ آلود لوہا اتنی خوفناک آواز پیدا کرتا کہ دماغ کی نس پھٹنے لگتی اور یوں بھی مجھے پنکھے کی ہوا سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ میں بس اس قبر نما ویران اور چھوٹے سے کمرے سے جلد از جلد نکلنا چاہتی تھی۔ اس کمرے میں نہ تو کوئی کھڑکی تھی نہ ہی کوئی روشن دان۔ اور روشنی کی صورت میں ایک چھوٹا سا بلب تھا جس کی زرد، مدھم روشنی سے دن بہ دن میری بینائی جواب دے رہی تھی۔ اور دل میں ویرانیاں ڈیرے ڈال رہی تھیں۔ مجھے یہاں پڑے کتنے دن کتنی راتیں ہو گئی تھیں، کوئی اندازہ نہ تھا کیونکہ کمرے میں کوئی وال کلاک نہ تھی۔ اور کلاک تو کیا اس کمرے میں ضرورت کی کوئی بھی چیز نہ تھی۔ یہ کمرہ ہر قسم کی انسانی ضرورت فرنیچر، الیکٹرانک اشیاء، بستر اور پردوں سے خالی تھا۔ نہ شیلف تھی، نہ کتابیں، نہ قلم، نہ گھڑا، نہ پانی۔

Read more