مندر سے آگے جہاں اور بھی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری سہیلی ووہان سے لاہور آئی ہوئی تھی، ایک شام یونیورسٹی سے واپسی پر بس ٹریفک میں منجمد ہو گئی۔ کسی احتجاج کی بدولت ٹریفک سرتاپا تھمی تھی، اسی اثناء میں بس میں جین مندر کے ٹھہراؤ کا اعلان ہوا۔ میری سہیلی مجھ سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ اس کے بھائی کی خواہش ہے کہ وقت نکال کر جین مندر دیکھنے کو آئے۔ میں دوست کے بھائی کی معصومانہ آرزو سن کر ششدر رہ گئی، بے اختیار منہ سے نکلا کون سا جین مندر کہاں کا جین مندر۔ جین مندر بس اسٹاپ ہونے کا مطلب ہر گز نہیں کہ حقیقت کی دنیا میں یہاں کوئی جین مندر بھی ہو۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر کی طرح غیر ہندوؤں کا جین مندر بھی اسی طرح مسمار کر دیا گیا جیسے بابری مسجد۔ میں تو کہتی ہوں کہ پاکستان ہندوستان کے مذہبی انتہا پسندوں کا منظم گٹھ جوڑ ہے، یہ مل کر کام کرتے ہیں۔ ان کا پتا کرائیں۔ نظریات بھی ایک سے ہیں نفرت، تشدد، عدم برداشت، حماقت، غیر معقولیت وغیرہ۔

اب سنا ہے کہ لوگوں کو ایک عمارت کی تعمیر پر بہت اعتراض ہے۔ بھلا کیوں نہ ہو، آخر عمارت بھی تو ایک مندر کی ہے وہ بھی ریاست مدینہ ثانی پاکستان کے دارالخلافہ میں۔ موجودہ حکومت میں ضیائیت کی اونٹنی جس جانب بیٹھتی نظر آ رہی ہے معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ دارالحکومت نہیں دارالخلافہ ہی بلایا جائے تو مناسب رہے گا۔ اب کے دور میں کیسی جمہوریت اور کیسا جمہور۔

گفتگو کا مرکز ایک مذہبی عمارت کی رکھی جانے والی اقلیتوں کی بے آسرا اینٹوں کا ہے جو ابتدائی طور پر بس رکھی ہی گئی ہیں، کچھ آئینی ستون اور تاریخی بنیادیں بھی تعمیر ہو ہی گئی ہوں گی مگر در و دیوار نہیں کھڑے کیے جا سکے، برداشت کے، محبت کے اور اتفاق کے۔ معاملات ایسے سنگیں ہوئے جاتے ہیں جیسے یہ بلند کیے گئے در و دیوار دارالخلافہ کے در و دیوار نہ ہلا دیں۔ نحیف اناؤں کی آنچ پر پکتے انتہا پسندانہ جذبات ضرور بھڑکتے ابلتے دکھ رہے ہیں۔ باتیں یہی سر گرداں ہیں کہ مندر کا بنائے جانا اچھی علامت نہیں۔ اجی ضرورت ہی کیا ہے؟ آخر اسلام آباد میں ہندو ہی کتنے ہیں کہ ان کے لئے سیدھا مندر کمپلیکس کھڑا کر دیا جائے۔ ریاست اسلامی ہو، اس کے پیسے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر لگیں؟ مزاج بخیر معلوم نہیں ہوتے، کیسا کفر کرتے ہیں؟

ہماری سماعتوں میں ہوائیں یہی صدائیں لا کر سرسراتی ہیں کہ لوگ ڈرتے ہیں۔ اب دیکھئے نا اتنے بھی برے نہ ہوئے تخصیص کی دیمک زدہ حامل شعور لوگ، گزشتہ دہائیوں میں جتنی سازشیں اس ملک خداداد اور دین کے خلاف مساجد اور مدارس ضرار میں ہوئی ہیں، بس دل میں وہی خوف بیٹھ سا گیا ہے کیا معلوم ویسی ہی سازشیں مندر میں نہ ہونے لگ جائیں۔ جیسے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو بد قسمتی سے مساجد اور مدارس میں پناہ دی جاتی رہی، خود کش حملوں کے آلہ کار وہاں جال بنتے، بم تیار کرتے، یہاں تک کہ خود کش بمباروں کو پنپنے، بم پھوڑنے کی تر بیت بھی انہی مقامات پر دی گئی۔ مدارس میں ہی طے کیا جاتا کہ اگلے جمعے کو کس غیر پسند کے فرقے اور ادارے کی مسجد میں حملہ کرنا ہے۔ اب خود دیکھئیے نا ایسے نازک حالات میں قوم کے نڈر لوگ خوف زدہ بھی نہ ہوں؟

خیر میں ٹھہری ایک عورت۔ ہمارا تو مساجد میں جانا ویسے بھی ممنوع ہے، مکروہ ہے، بے پردگی ہے۔ ہم دنیا میں کسی بھی جگہ بنا مصلے کے بھی بارگاہ الہی میں سجدہ ریز ہو جائیں تو ہماری نماز ہو جاتی ہے ماسوائے مساجد کے۔ یہ طرہ امتیاز بھی ہمارے پیارے وطن میں رائج ہے ورنہ مسجد جیسی دل آویز جگہ کوئی نہیں۔

یہاں پر عورت ذات ہو، اس کا تعلق خطہ برصغیر کے پیش پیش کسی بھی بڑے عقیدے سے ہو اور اپنے عقیدے کی عبادت گاہ میں بنا کسی امتیاز کے ہو لے ایسے کیسے ممکن ہے؟ مندر ہو یا مسجد عورتوں کی آمد پر خاص قسم کی پابندی ہی نافذ رہتی ہے۔ ہمارے ہونے سے عبادت گاہوں کی معاذ اللہ بے حرمتی سرزد ہوتی ہے۔

اب دیکھئے یہ ان دنوں کی بات ہے جب مال روڈ پر بم دھماکہ ہوا تھا، اس کے کچھ دنوں بعد لاہوری گیٹ کی عالیشان مسجد جانا ہوا، جانا بھی کیا ہوا، انار کلی کے ساتھ ہی مکتب ہے تو تصویر کشی اور جستجو کی غرض بلند میناروں والی مسجد لے گئی۔ بس جی امام صاحب کا دو چادر اور حجاب کیے لڑکیوں کو دیکھنا ہی تھا تو طیش میں آ گئے۔ نہایت منجی ہوئی حقارت سے ہمیں رفو چکر ہونے کا حکم صادر فرما دیا۔ بد قسمتی سے اس معصوم طفل کو خوامخواہ ڈانٹ پڑ گئی جو بڑے انہماک سے ہمیں مسجد دکھا رہا تھا۔ آج سے دس سال قبل وزیر خاں مسجد میں بھی ایسے ہی رویے نے استقبال کیا تھا لیکن وہاں اب حالات کمرشلزم باعث بہتر ہو چکے۔

زیادہ پرانی بات نہیں جب ہندوستان میں لڑکیوں کے مندر جانے پر پابندی عائد کی گئی، کہیں ان کی جسمانی جانچ پڑتال ہوئی کہیں ان کے وجود کو پلید گردان کر ان کا حاضری دینا، عبادت کرنا ہی ممنوع ہو گیا۔ یہ جھڑپیں تو مندر اور ناریوں کے مابین چلتی ہی آئی ہیں۔ سوچتی ہوں ایک دوسرے کے عقائد کو لے کر دونوں مذاہب کے پیروکار کتنا ہی الجھیں، جنگیں کریں، سرحدیں جدا کریں مگر خمیر اور خون تو ایک ہی ہے، ایک سا ہی ایک دوجے کے عقائد پر جوش مارتا ہے۔ ایک ہی طرح کی پدر شاہی کی عمارت کھڑی ہے۔ عورتوں کو کیا لگے کہاں مندر بنتا ہے یا مسیت ان کا وجود گاہے بگاہے ناقابل قبول ہی رہے گا۔

مگر بات اتنی سی ہے جانے دیجئے، ایسی بھی کیا حد بندی، ایک مندر ہی ہے، چار اینٹیں دو دیواریں ہیں۔ اگر مساجد ضرار سلامت رہ سکتی ہیں تو ایک مندر کسی کا کچھ نہ بگاڑے گا۔ ہم قومی ریاست ہے، داعش کی اسلامک ریاست نہیں۔ یہاں سب محصول مساوی دیتے ہیں۔ جانے دیجئے خدا کو مندر مسیت کی اینٹوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ نے کئی سو مندر گرائے ہیں، ایک شری کرشنا مندر کھڑا بھی کر دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply