محترمہ بے نظیر بھٹو بنام میاں نواز شریف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میاں صاحب۔

امید ہے آپ کے مزاج اچھے ہوں گے اور طبیعت پہلے سے بہتر ہوگی۔ میرے علم میں ہے کہ کیسے آپ کو ایک بار پھر مقدمات میں گھیر لیا اور سزا سنا کر جیل میں ڈال دیا۔ جس کے دوران بیگم کلثوم کی علالت اور اسی حالت میں ان کی وفات کا ایک گہرا صدمہ آپ کی زندگی کو متاثر کر گیا۔ میں سمجھ سکتی ہوں یہ بہت دکھ اور تکلیف کی گھڑی ہوتی ہے، آپ اپنی شریک حیات کے پاس نہیں تھے، کیسے آپ کو اجازت دی گئی اور میں اندازہ لگا سکتی ہوں، یہ بھی سیاستدانوں کو پہنچائی جانے والی اذیت کی ایک شکل ہے، جس میں اپنوں کی بیماری اور دنیا سے رخصت جیسے المناک مواقع پر دور رکھا جائے۔

میری والدہ اور مجھے بھی اپنے والد کے آخری دیدار سے محروم رکھا گیا، ہم ماں بیٹی اس غم کو کبھی نہیں بھلا سکیں۔ لوگ کوئی بھی بات کریں، ہماری قربانیوں میں ایسے لمحات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

میاں صاحب۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت والی زندگی دے، ہم نے میثاق جمہوریت کیا، جسے مخالفین نہ جانے کیسے نام دیتے ہیں، اس میں یہی طے پایا تھا کہ غیر جمہوری قوتوں کا مل کر مقابلہ کرنا ہے، اور عوام کے لئے اپنی جماعتوں کی جدوجہد کو باہمی تعاون سے آگے بڑھانا ہے۔ سیاست میں کیا کچھ ہمارے ساتھ ہوا، یہ سب کے سامنے ہے، ہم نے کوشش کی کہ جمہوری اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔

میاں صاحب۔ یاد ہے میں نے آپ کو 2007 میں وطن واپس آنے کے لئے قائل کیا، جنرل مشرف کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ جمہوری قوتیں ملک میں ہوں گی تو دنیا میں تاثر جائے گا کہ یہاں عوام کے منتخب نمائندے اداروں کو چلا رہے ہیں۔

وقت وفا نہ کر سکا، مجھے دھمکیاں مل رہی تھیں، لیکن میں سمجھ رہی تھی کہ یہ لوگ مجھے محدود کرنا چاہتے ہیں، ایک سیاستدان کو عوام سے دور رکھنے کا صاف مطلب اسے گھر بٹھانا ہے۔ میں بھٹو کی بیٹی تھی، ان کی دھونس میں نہ آئی، میری حفاظت ان اداروں کا فرض تھا، وہ خود میری وطن آمد سے ناخوش تھے۔ انہیں دکھائی دے رہا تھا اب مجھے عوام دوبارہ منتخب کر لیں گے۔ اس لئے منظر سے ہٹانے کا پروگرام بن گیا تھا۔ مجھے اس کی بو آ رہی تھی۔ لیکن میں پیچھے ہٹنے والی نہ تھی، پارٹی کے اندر سے بھی رہنماؤں نے محتاط رہنے کا مشورہ دیا، میں سمجھ سکتی ہوں کہ ایسا کرنے سے میرا ایک کمزور یا مصلحت پسند لیڈر کا تاثر ابھرنا تھا، یہ شاید میرے لئے قابل قبول نہ تھا۔

میاں صاحب۔ میں نے اپنی جان کا نذرانہ دے دیا، آپ نے بڑی وضع داری اور بڑے دل کا مظاہرہ کیا، میرے علاقے گڑھی خدابخش تعزیت کے لئے آئے، میں جانتی ہوں، اس کے لئے بیگم کلثوم نے آپ کو قائل کیا تھا، وہ حقیقی معنوں میں آپ کی شریک حیات اور جہاندیدہ خاتون تھیں۔ انہوں نے کئی اہم مواقع پر آپ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ بیگم صاحبہ کی بخشش فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

آپ نے میرے شوہر اور خاص طور پر بیٹے سے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا، یہ پہلی بار تھا کہ دونوں جماعتوں نے مل کر حکومت بنائی ہاں الگ بات ہے کہ یہ انتظام دیرپا نہ رہا۔ لیکن ہماری حکومت سے آپ کی معاونت ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہوں۔

میاں صاحب۔ بچوں کی بات کر لیں، ماشا اللہ مریم بیٹی سیاست میں اچھا اضافہ ثابت ہوئیں۔ اس نے جارحانہ انداز اپنایا، کبھی مجھے اپنی یاد آ جاتی ہے، وہ نہ صرف جیل دیر سے گئیں لیکن عوام سے رابطہ کرنے والا لیڈر جلد جان لیتا ہے کہ ان کی قیادت کیسے کرنا ہے، آپ کی تربیت بھی خوب تھی۔ میں نے اپنے بچوں کے لئے ایسا بندوبست کیا تھا۔ لیکن وہ ابھی چھوٹے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مہلت نہ دی۔ میں نے پارٹی کے سینئر لیڈرز کی ذمہ داری لگائی تھی کہ بچوں کو سیاست کے اسرار و رموز بتائیں۔ آصف بھی انہیں اپنے انداز سے کچھ نہ کچھ سمجھاتے رہتے تھے۔ مجھے نہی لگتا تھا کہ بلاول معاملات کو سنبھال سکے، اس کی توجہ اپنی پڑھائی پر ہوتی تھی۔ جب کبھی بات کرتی تو جلد موضوع بدل لیتا، جس سے مجھے لگتا کہ بلاول شاید سیاست میں کامیاب نہ رہے، آصفہ چھوٹی تھی لیکن اس کی ذہانت یہ بتاتی کہ بھٹو خاندان کی نمائندگی بہتر انداز میں کرسکے گی۔

بہرحال آصف نے جلد بلاول کو میدان میں اتار بھی دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پارٹی اور لوگوں کے لئے قابل قبول بنا دیا، میرے بیٹے کو ابتدا میں دقت ہوئی، لیکن اس نے بہت محنت کی، میری طرح کئی کمزوریوں پر قابو پا لیا، جن میں زبان و بیان بنیادی مسئلہ تھا۔ وہ مجھے بہت یاد کرتا ہے، پہلے اس کی سوچ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی طرف نہیں تھی۔ اب وہ بہت سنجیدہ ہے، اور بتایا جا رہا ہے کہ اسے سیاسی پنڈت آئندہ کا لیڈر شمار کرنے لگے ہیں، اس بات کی آصف کو بھی تسلی ہے، وہ کافی عرصہ سے علیل ہیں، اب حالت زیادہ بگڑ گئی ہے، آپ دونوں کی صحت کے معاملات سے ادارے بخوبی واقف ہیں، جسے دیکھتے ہوئے وہ کسی حد تک مطمئن ہیں کیونکہ ان کا اعتراض بھی یہی تھا کہ منظر سے ہٹا دیا جائے۔ ہم دو خاندانوں پر وراثتی سیاست کا الزام لگایا جاتا ہے۔

میاں صاحب۔ کیا سب جانتے نہیں کہ دوسرے لوگوں کو لانے کے تجربے کس قدر کامیاب رہے، اگر ہم نے اپنی جماعتوں کو متحد رکھا اور اپنی بساط میں حکومتیں چلائیں، کیا سب اکائیوں کو جوڑ کر رکھنے کا کام کوئی اور کر سکتا تھا۔ ماضی میں ہماری جماعت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، پھر ہمیں سندھ تک محدود کرنے کی سوچ دوبارہ تازہ ہو گئی ہے۔ اس سب کے باوجود ہم نے حالات کا مقابلہ کیا اور مستقل مزاجی سے ڈٹے رہے۔

میاں صاحب۔ آپ نے بھی تبدیلی کا نعرہ دیکھ لیا، بلاشبہ اس میں بڑی کشش ہوتی ہے، نئی نسل خصوصاً بہت متوجہ ہوتی ہے لیکن ملکی معاملات کو چلانا کوئی آسان کام ہے، بیس ماہ کے دوران جس انداز میں حکومت چلائی گئی، اس کا اندازہ میرا خیال ہے حکومت چلانے والوں کو زیادہ ہو گیا ہوگا۔

ہم پر کرپشن کے الزامات لگانے والے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک لیں، کہاں کہاں اور کس ادارے میں کیا کچھ ہوا، کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، سیاسی قوتوں کو بدنام کرنا اور کلنک کا ٹیکہ بنا کر پیش کرنے والے بھی اپنا آپ سب کے سامنے رکھیں۔

میاں صاحب۔ نئی نسل اب جان چکی ہے کیا کچھ سیاست کے میدان میں اور حکومتی ایوانوں میں ہوتا رہا ہے، آپ زیادہ پریشان نہ ہوں میں سمجھ سکتی ہوں کہ وطن سے دور جس حالت میں آپ رہ رہے ہیں یہ کسی جلاوطنی سے کم نہیں ہے۔ آپ فکر نہ کریں، حالات جلد بدلنے والے ہیں۔ چھوٹے میاں صاحب کبھی ڈگمگا سے جاتے ہیں، وہ ذہین آدمی ہیں۔ لیکن مصلحت پسندی کا جس قدر مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس نے ان کی پوزیشن زیادہ کمزور کردی ہے، میرے خیال میں ان کی جگہ سیکنڈ لیڈرشپ کے طور پر رہے گی، ان کا بیٹا بھی اپنے آپ کو مستحکم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، کچھ سوچ بھی کاروباری سی ہے، لیکن یہ بچے سیکھ جائیں گے، آنے والا وقت انہیں کا ہے۔

مریم بیٹی کو میرا مشورہ ہے کہ نئی نسل کو اپنے ساتھ جوڑے رکھے، اپنا جارحانہ انداز ترک نہ کرے، لیکن جذباتیت سے دور رہے، ان دونوں میں فرق ہے، جب وہ یہ جان لے گی تو سمجھ لیں، وہ قیادت بھی سنبھال لے گی۔ اب آپ بھی اس پر بھروسا کریں۔

کپتان نے جس تیزی سے سیاسی منظر میں اپنا مقام بنایا وہ حیران کن تھا، لیکن حکومتی معاملات چلانے میں کھلاڑی کی کارکردگی متاثر کن نہ رہ سکی۔ سب سے بڑھ کر اس کی ٹیم میں مستقل مزاج افراد کی کمی ہے، جن نئے چہروں کو لایا گیا وہ زیادہ تجربہ کار نہیں۔

یہ نیا تجربہ زیادہ اچھا اور کامیاب ثابت نہیں ہوسکا، کپتان کی سوچ اور عمل میں تضاد اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس کے جذباتی نعرے اچھے ہیں، لیکن وہ لوگوں کو عملی طور پر کچھ دے نہیں پایا، وہ جانتا نہیں کہ جذباتیت اور غصہ سیاست میں دیرپا نہیں ہوتا،

بس آپ مریم سے بھی ایسے روئیے پر قابو پانے کی تلقین کریں، بلاول بھی غصہ کرنے لگ گیا تھا، اسے روک دیا ہے، اب وہ سمجھ داری سے بات کرتا ہے۔

میاں صاحب، اپنا خیال رکھئیے گا، اجازت دیں،
آپ، عوام اور ملک کی خیر اندیش۔
عالم ارواح سے بے نظیر بھٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں سنیئر پروڈیوسر نیوز کے عہدے پر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

nauman-yawar has 64 posts and counting.See all posts by nauman-yawar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *