اترپردیش کا چرواہا اور کمشنر آفس مکران کا مومن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے خیال میں عوام اور اشرافیہ کے طریقہ کار کا دو فقروں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ اشرافیہ ہر کام چھپا کے کرتی ہے۔ یا اپنے آپ کو خصوصی مقام کا اہل سمجھتی ہے-عوام ہر کام دوسروں کو ملا کے کرتے ہیں اور دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ عوام کی اخلاقیات کو کیوں برتری حاصل ہے اسے سمجھانے کے لئے دو کہانیاں، جیسے میں نے وصول کی ہیں، من و عن آپکے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ اخلاقی راستہ بظاہر کمزور، غیر سیاسی اور غیر انقلابی نظر آتا ہے لیکن سب سے زیادہ با اثر ہے۔

ایک بار ہندوستان کےسابقہ الیکشن کمشنر شری ٹی این سیشان، اتر پردیش کے دورے پر روانہ ہوئے تو ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ بھی تھیں۔ راستے میں، وہ ایک باغ کے قریب رک گئے۔ باغ کے درختوں پر پرندوں کے بیشمار گھونسلے تھے۔ ان کی اہلیہ نے خواہش ظاہر کی کہ باغ کے کسی درخت سے کوئی گھونسلا لیتے چلیں، تاکہ میں انہیں گھر میں سجاؤں۔ سیشان جی نے اپنے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں سے کوئی گھونسلہ اٹھا کر لانے کو کہا۔ پولیس والوں نے ایک لڑکے سے جو قریب ہی ایک گائے چرا رہا تھا، دس روپے دیتے ہوئے کوئی ایک گھونسلہ درخت پر سے لانے کے کو کہا لیکن وہ لڑکا گھونسلہ لانے کے لئے تیار نہیں یوا۔ ٹی این سیشان نے پولیس والوں سے اس لڑکے کو دس کے بجائے پچاس روپے دینے کو کہا، پھر بھی لڑکا تیار نہیں ہوا۔

لڑکے نے سیشان سے کہا: “جناب! گھونسلے میں پرندوں کے بچے ہیں، جب پرندے شام کو کھانا لے کر لوٹیں گے تو انھیں اپنے بچوں کو نہ دیکھ کر بہت دکھ ہو گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ مجھے اس کام کے لیے کتنا معاوضہ دیتے ہیں۔ میں کسی گھونسلے کو توڑ کر نہیں لا سکتا۔ “

اس واقعے کا ٹی این سیشان کو زندگی بھر افسوس رہا کہ ایک چرواہا بچہ ایسی سوچ کا حامل بھی ہو سکتا ہے اور اپنے اندر بڑی حساسیت رکھتا ہے جبکہ میں اتنا تعلیم یافتہ اور آئی اے ایس ہونے کے بعد بھی اس بچے جیسی سوچ اور احساس اپنے اندر پیدا نہیں کرسکا۔ وہ ہمیشہ ہی رنجیدہ رہے کہ ان میں وہ حساس فطرت کیوں پیدا نہیں ہوئی؟ تعلیم کس نے حاصل کی؟ میں نے یا اس بچے نے؟

انہیں شدت سے احساس رہا کہ اس چھوٹے لڑکے کے سامنے ان کا مؤقف اور آئی اے ایس ہونا بالکل ہیچ ہے۔ گویا ان کا قد اس بچے کے سامنے سرسوں کے دانے کی مانند گھٹ گیا ہے۔

غور فرمائیں ۔۔۔ تعلیم ، سماجی مقام اور معاشرتی حیثیت، انسانیت کا معیار نہیں ہے۔ محض بہت سی معلومات جمع کرنے کو علم نہیں کہا جاسکتا! زندگی تبھی خوشگوار ہے جب آپ کی تعلیم: انسانیت کے تئیں حکمت، شفقت اور ذہانت کا وسیلہ بنے۔

دوسری کہانی میرے دوست یونس خالد نے بلوچستان کمشنر آفس کے ایک اہلکار مومن کی حیران کن کارکردگی کے بارے میں بھیجی ۔ کہانی کا عنوان تھا۔ “ہر سرکاری ادارہ میں ایک مومن بیٹھا ہے”۔

مومن کے بارے میں بتانے سے پہلے یہ وضاحت کرتا چلوں کہ اس کا کوئی مذہبی پہلو نہیں بلکہ مومن ایک کردار ہے جو ہر سرکاری محکمہ میں پایا جاتا ہے۔

مکران کے لوگ خاص طور پر اور بلوچستان کے لوگ عمومی طور پر جانتے ہیں کہ کمشنر مکران کے دفتر میں ایک سپرنٹنڈنٹ ہوتا تھا جس کا نام مومن تھا- یہ ایک ایسا شخص تھا جس کے پاس ہر تالے کی چابی تھی اور ہر لاینحل گتھی سلجھانے کی صلاحیت رکھتا تھا- جہاں سب ناکام ہو جاتے یہ شخص الہ دین کے چراغ کے جن کی طرح ہر مسئلہ کا حل نکال لیتا تھا۔ اس کی اس خداداد صلاحیت کی وجہ سے وہ کمشنر آفس پر راج کرتا تھا، لیکن وہ کمشنر کے علاوہ کسی کو خاطر میں نہ لاتا تھا-

میرا اس سے تعارف تب ہوا جب میں کسی انکوائری کے سلسلہ میں تربت گیا۔ ہم کام سے فارغ ہوکر پسنی گئے۔ دوسرے روز واپسی تھی لیکن ہمارا ایک ساتھی پسنی میں رہ گیا۔ فلائٹ کا وقت قریب آرہا تھا لیکن ساتھی سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ اس زمانے میں موبائل فون نہیں ہوا کرتے تھے۔ ہم پریشان تھے کہ کسی نے مشورہ دیا کہ مومن سے رابطہ کیا جائے، وہ راستہ نکال لے گا۔ میں چونکہ اسے نہیں جانتا تھا، میں نے کہا کہ مومن سے آپ کہہ دیں لیکن اس نے معذرت کی کہ وہ کمشنر کے بغیر کسی کی بات کو اہمیت نہیں دیتا۔ اس لئے کمشنر کے دوست کی حیثیت میں اگر میں کہوں تو زیادہ مناسب رہے گا۔ میں نے بے یقینی سے اسے فون کیا اور مدد مانگی۔ اس نے آدھ گھنٹے میں ہمارے ساتھی کو تلاش کرکے ہماری بات کروائی اور جہاز کو بھی ہمارے لئے رکوا لیا-

یہ میرے لئے حیران کن بات تھی۔

میرا ایک بیچ میٹ ڈی سی تربت لگا لیکن مومن نے کبھی اسے گھاس نہ ڈالی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اگر وہ کبھی کمشنر لگا تو سب سے پہلے مومن سے جان چھڑائے گا اور کمشنر آفس میں اس کا داخلہ بند کر دے گا۔ اتفاق سے چند سال بعد وہ کمشنر مکران تعینات ہوا اور اپنے فیصلہ کے مطابق سب سے پہلا آرڈر اس نے مومن کے تبادلہ کا کیا-

جب وہ آفس پہنچا تو آفس میں ترتیب اس کے مزاج کے مطابق تھی۔ ہر چیز اسکی طبیعت کے مطابق تھی۔ کچھ دیر میں اسکی بیگم کا فون آیا اور وہ پوچھ رہی تھی کہ کیا اس نے کچن اور ڈرائینگ روم کی ترتیب پہلے سے بتا دی تھی کیونکہ ہر چیز انکے گھر کے مطابق تھی۔ یہ حیران ہوا کہ اس نے تو کسی کو کچھ نہیں کہا تھا پھر یہ سب کس نے دفتر اور گھر میں مہیا کیا تھا؟

معلومات کے بعد پتہ چلا کہ یہ سب انتظامات مومن نے کئے تھے اور اس نے پہلے سے صاحب اور گھر والوں کے بارے میں تحقیقات کر لی تھیں۔ بہرحال ہمارے دوست نے مومن سے کوئی رابطہ نہ کیا- کچھ دن بعد کوئی فنکشن ہونا تھا، وزیراعظم یا وزیر اعلی کی آمد متوقع تھی۔ وقت تھوڑا تھا اور بہت سا کام کرنا تھا۔ شامیانے، کرسیاں، کھانے اور ریفرشمنٹ کا بندوبست کرنا تھا۔ مومن کی جگہ جو صاحب آئے تھے انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ اتنی کم مدت میں یہ سب انتظام ممکن نہ تھا۔ زیادہ چیزیں کراچی سے منگوانا پڑتی تھیں- کمشنر ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ کیا حل نکالا جائے کہ مومن دست بستہ حاضر ہوا اور نوید سنائی کہ کراچی سے کیٹرر روانہ ہو چکے ہیں، دعوت نانے بھیج دئے گئے ہیں، شامیانے لگ رہے ہیں اور فکر کی کوئی بات نہیں۔ کہنے لگا آپ کی خدمت میری ذمہ داری ہے اور اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اسے کون سی ڈیوٹی دی گئی ہے۔ کمشنر صاحب متاثر ہوئے پر تبادلہ منسوخ نہیں کیا-

ابھی اس مسئلہ سے نکلے کچھ دن ہوئے تھے کہ میرانی ڈیم کے متاثرین کی امداد کے لئے چیک تقسیم کرنے کے لیے پھر وزیراعلی کی آمد کا اعلان ہوا- رقم کروڑوں میں تھی اور تربت بنک کو پہلے سے کیش کی ترسیل کے لئے کہنا پڑتا تھا۔ فنانس کی طرف سے ریلیز اتھارٹی آنی تھی اور پھر مقامی خزانہ دفتر سے بل پاس کروانا تھا۔ مومن کی جگہ جو شخص آیا تھا۔ اس نے کہا کہ تین روز میں یہ سب ممکن نہیں۔ سیلڈ اتھارٹی کے بغیر خزانہ آفس کبھی بل پاس نہیں کرے گا اور بنک کو بھی دو دن درکار تھے پیسوں کا بندوبست کرنے کے لئے۔ اسی اثنا میں مومن پھر حاضر ہوا اور پیسوں سے بھرا بریف کیس کمشنر کے سامنے رکھتے ہوئے دست بستہ عرض کی پیسوں کا عارضی طور پر بندوبست ہو گیا ہے اور دفتری کارروائی بعد میں ہوتی رہے گی۔ اس نے مزید کہا کہ وہ برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کے صاحب کی سبکی ہو۔ وہ جہاں بھی ہے خوش ہے۔ کمشنر صاحب نے اسی لمحے اس کے آرڈر کینسل کئے اور دوسرے اہلکار کو واپس بھیج دیا۔

اگر ہم اپنے سرکاری محکموں پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر دفتر میں ایک مومن ملے گا جو دفتر کے معاملات چلاتا ہوگا۔ دوسرے سب اس کے محتاج ہوتے ہیں۔ قاعدہ قانون سے بھی وہی واقف ہوتے ہیں۔ سارا دفتر ان کی وجہ سے متحرک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزارتوں سے لے کر چھوٹے دفاتر تک سب مومنوں کے مرہون منت ہیں۔ ان کے پاس ہر تالے کی کنجی اور ہر مسئلہ کا حل ہوتا ہے اور اپنی بندوبستی مہارت کی وجہ سے اکثر یہ مومن اعلی ترین عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہماری ساری گورننس انہی کے گرد گھومتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply