استنبول میں عالمی کشمیر کانفرنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چلیں آئیں، چلتے ہیں، ڈاکٹر خلیل طوقار نے کہا۔ محسن رمضان اس وقت زاہدہ خاتون شیروانیہ کے پیچیدہ شعروں کے ترجمے میں مصروف تھے۔ و ہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد معصوم صورت بنا کر میری طرف دیکھتے اور کسی شعر پر انگلی رکھ کر کہتے، استاد! بس، ایک نظر اس پر ڈال لیں۔ اس ہونہار نوجوان نے اتنی گہری شاعرہ کا اپنی زبان میں ایسا پتا مار کر ترجمہ کیا ہے کہ دل سے دعا نکلتی ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر جلال سوئیدان تھے جو اپنے کمپیوٹر میں سر دیے حضرت امیر خسرو کے کلام سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنی فیکلٹی کے مختلف شعبوں کی مجھے سیر کرائی تھی لیکن دل ابھی بھرا نہیں تھا۔ وہ اپنے دفتر میں داخل ہوئے تو میں واپس پلٹ گیا اور عثمانی عہد کی اس عظیم الشان یادگار کے مختلف حصوں میں اس عاشق زارکی طرح بھٹک گیا جو کوچہ یار یہاں وہاں اپنے دل کے ٹکڑے بکھیر کر سوچتا ہے کہ کبھی تو اس مقام سے بھی محبوب کا گزر ہو گا ا۔ اس آوارہ خرامی میں ایک شاگرد یاد آگیا۔

استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود نے ایک بار جامعہ کراچی میں طلب فرما کر حکم دیا کہ یہ کلاس تمھارے حوالے۔ انھیں تم نے ٹیلی ویژن کی خبر اور اس کے لوازمات سکھانے ہیں۔ یہ دو ہزار تیرہ چودہ کی بات ہو گی، مسئلہ یہ تھا کہ انڈسٹری کی ضرورت اور یونیورسٹی کے طریقہ تعلیم کے درمیان کوئی نکتہ اتصال پیدا نہیں ہو پا رہا تھا۔ استاد گرامی نے اعتماد کیا اور اللہ نے لاج رکھ لی۔ اس کلاس میں علی نام کا ایک طالب علم تھا، بھاری بھرکم اور پولیو کی وجہ سے چلنے سے معذور۔

علی نہایت محنتی اور ذہین بچہ تھا۔ معذوری کے با وجود کسی پر بوجھ بننا اسے گوارا نہ تھا۔ موبائل فون کی سمیں اور بیلنس فروخت کر کے اس نے تین پہیوں والا ایک موٹر سائیکل تیار کرا رکھا تھا۔ یونیورسٹی بھی وہ اسی پر آتا۔ شعبے کے صدر دروازے تک تو وہ پہنچ جاتا لیکن اوپر چڑھ کر کلاس روم میں پہنچنا مسئلہ بن جاتا۔ اسی سبب سے آنے سے پہلے وہ اپنے ہم جماعتوں کو فون کر کے تیار کرتا جو پہلے اسے وہیل چیئر پر بٹھاتے اور کرسی کو ا ٹھا کر اوپر پہنچاتے۔

یہ واقعہ ہر روز دہرایا جاتا اور میں سوچا کرتا کہ کیا کبھی ایسے مسائل کا حل بھی نکل پائے گا؟ فیکلٹی ادبیات میں مرکزی شاہراہِ کی طرف سے داخل ہوں یا عقب میں سلیمانیہ جامعی(سلیمان عالی شان کی جامع مسجد) کی طرف جانے والے راستے کی طرف سے، فیکلٹی کی طویل راہ داری آپ کا خیر مقدم کرتی ہے۔ ہے تو یہ ایک عام سی گزر گاہ لیکن اس سے گزرتے ہوئے انسان تاریخ کے جانے کتنے ہی ادوار سے گزر جاتا ہے۔ یہ مسافر بھی تاریخ کی خوشبو سے لطف اندوز ہوتا آگے بڑھتا جاتا تھا کہ یکایک سیڑھیوں کے آ جانے سے خیال کی ڈور ٹوٹ گئی، سیڑھیاں اترنے کے لیے بائیں جانب ریلنگ تھی اور دائیں جانب خود کار سلوپ جس کی گھنڈی گھما کر وہیل چیئر والا کوئی طالب علم بغیر کسی سہارے کے جہاں چاہے پہنچ سکتا ہے۔

اپنے شاگرد کی مجبوری اور اس کے ساتھیوں کی محبت یاد آ گئی۔ یہی کچھ سوچتا ہوا میں ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہوا جہاں محسن رمضان کو زاہدہ خاتون سے نبرد آزما پایا، زاہدہ خاتون کی بھاری بھرکم شاعری، امیر خسرو کی غزل اور ڈاکٹر صاحب کی متبسم سنجیدگی، ایسے ماحول میں کوئی ڈوب نہ جائے تو کیا کرے لیکن ڈاکٹر صاحب تو چاہتے تھے کہ یہاں سے اٹھیں اور پروفیسر لر ایوی( Profesörler Evi ) یعنی پروفیسروں کے گھر چلیں اور لذت کام و دہن سے شاد کام ہوں۔

پروفیسر لر ایوی بھی کمال کی جگہ ہے۔ ایک زمانے میں افسانوی شہرت رکھنے والے جرنیل اور وزیر دفاع غازی انور کمال پاشا کا دفتر تھی۔ اب اسے لاہور کا پاک ٹی ہاؤس سمجھ لیجیے جہاں اہل علم اپنے علم کے موتی لٹاتے ہیں۔ عثمانی تاجداروں کے زمانے کی اس عمارت کی سج دھج میں آج بھی کوئی فرق نہیں آیا۔ ویسے یہ ترک بھی کمال کے لوگ ہیں، باشاہوں کے محلات کو حکمرانوں کی عشرت گاہیں نہیں بنایا، علم کے مراکز میں بدل دیا ہے۔

پروفیسر لر ایوی عین اسی جگہ واقع ہے جہاں 1453 ءمیں سلطان محمد فاتح نے قیام کیا اور ایک بڑے خیمے میں ملک بھر علما کو جمع کر کے ہدایت کی یہاں ایک عظیم تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے۔ اس زمانے میں اسے فاتح مدرسہ لری کا نام دیا گیا۔ اب سے ٹھیک ڈیڑھ سو برس قانون سازی کر کے اس مدرسے کو جدید یونیورسٹی میں تبدیل کر کے اس کا نام دارالفنونی عثمانی کر دیا گیا۔ ان دنوں اسی دارالفنون کی ڈیڑھ سو سالہ تقریبات جاری ہیں۔

ان تقریبات کی منصوبہ بندی کے دوران ہی جامعہ کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محموت آق نے ڈاکٹر خلیل طوقار کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیاکہ پاکستان کے ساتھ محبت اور حریت و آزادی کے اصولی موقف کی حمایت کا یہ تقاضا ہے کہ ان تقریبات کو کشمیر سے منسوب کر دیا جائے۔ یہی سبب تھا کہ اس موقع پرKashmir: Regional and International Dimentions  کے موضوع پر دو روزہ  آن لائین بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی گئی۔ 29 اور 30 جون کو ہونے والی اس کانفرنس میں ترکی، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے اہل علم اور سیاسی قیادت کے علاوہ تیس ملکوں میں موجود کشمیری قائدین اور اہل علم نے شرکت کی جن میں وزیر اطلاعات شبلی فراز، آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان، امریکا سے ڈاکٹر غلام نبی میر اور ڈاکٹرغلام نبی فائی، ممتاز صحافی جاوید صدیق، کشمیر ٹوڈے سری نگر کے مدیر راجہ محمد سجاد خان اور جنوبی افریقہ میں کشمیر ایکشن گروپ کے سلمان خان کے علاوہ اس کالم نگار نے بھی شرکت کی۔

 میرے مقالے کا موضوع تھا، Desensitisation of Terror Through Media in Indian Occopied Kashmir۔ تشدد کے فروغ کے ضمن میں ذرائع ابلاغ کے مندرجات کے موضوع پرخطے میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کام ہے جسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس میں صدر ایردوآن کی نمائندگی پارلیمنٹ میں پاک ترک دوستی گروپ کے سربراہ علی شاہین نے کی۔ کانفرنس کا اعلامیہ اس دو روزہ بین الاقوامی سرگرمی کا نکتہ عروج تھا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر پر اپنے خصوصی نمائندے کا تقرر کر کے استصواب رائے کے انتظامات شروع کردے۔

 وادی گلوان میں چین سے کشیدگی کے علاوہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال جیسے ملکوں میں ابھرنے والی نئی سوچ کے بعد استنبول کانفرنس ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ بدلے ہوئے حالات میں ہمارے ترک دوستوں نے تو اپنا کردار ادا کر دیا ہے، اب ضروری ہے کہ ہم بھی داخلی اختلافات سے اوپر اٹھ کر اپنی ذمہ داری ادا کریں ورنہ یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو نہ صرف یہ کہ ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا بلکہ بھارت اپنی مشکلات کارخ پاکستان کی طرف موڑ دے گا جس کا آغاز کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی صورت میں ہو چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *