شوبز ڈائری: سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تحقیقات میں پیشہ وارانہ دشمنی کا عنصر، اقربا پروری پر کرن جوہر کی ٹرولنگ

نصرت جہاں - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشانت

AFP

سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خود کشی کے معاملے میں ممبئی پولیس پیشہ وارانہ دشمنی کے زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے اور اس بارے میں پولیس نے اب تک کئی لوگوں سے پوچھ گچھ بھی کی ہے۔

اس ہفتے فلمساز سنجے لیلی بھنسالی نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا جس کے بعد پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ بھنسالی سوشانت سنگھ کے ساتھ چار فلمیں کرنا چاہتے تھے لیکن سوشانت کے پاس وقت یا ڈیٹس نہ ہونے کے سبب یہ فلمیں کسی اور کو دے دی گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اب اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ سوشانت سنجے لیلی بھنسالی کی فلمیں کیوں نہیں کر پائے اور دوسرے پروڈکشن ہاؤسز کے ساتھ ان کے معاہدوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس اب تک سوشانت کے گھر والوں اور ان کے قریبی دوستوں سمیت 38 لوگوں کے بیان لے چکی ہے۔

بالی وڈ میں محنت اور قسمت کا کھیل

اسی ہفتے سوشانت سنگھ کی آخری فلم ’دل بیچارہ‘ کا ٹریلر رلیز ہوا تو ایک بار پھر ان کی موت کا زخم ان تمام لوگوں کے دل میں پھر سے تازہ ہو گیا جو شاید حقیقی زندگی میں سوشانت سے کبھی نہ ملے ہوں یا ان کے قریب رہے ہوں۔

ایک بار پھر سوشل میڈیا پر سلمان خان سے لے کر عالیہ بھٹ، سونم کپور، ایکتا کپور اور سب سے بڑھ کر کرن جوہر کو کوسنے دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

کرن جوہر اور کنگنا رناوت

Getty Images

کرن جوہر کے ایک قریبی دوست نے ویب سائٹ بالی وڈ ہنگامہ کو بتایا کہ کرن کو جس طرح سوشل میڈیا پر اقربا پروری کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور جس طرح انھیں بے دردی سے ٹرولنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے انھیں بہت تکلیف پہنچی ہے اور وہ جیسے بکھر کر رہ گئے ہیں۔

بالی ووڈ میں اگر اقربا پروری کی بات کی جائے تو کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو بالی ووڈ کے بادشاہ امیتابھ بچن کے بیٹے ابھشیک بچن آج بالی وڈ کِنگ ہوتے نہ کہ شاہ رخ خان، جو دلی سے نکل کر ممبئی کی اس مایا نگری کے بے تاج بادشاہ بن گئے ہیں۔

دیگر مثالیں تو رنویر سنگھ ،دپیکا پادوکون، پرینکا چوپڑہ اور اقرا پروری کے خلاف میدان جنگ میں موجود بالی وڈ میں جھانسی کی رانی کہی جانے والی کنگنا رناوت کی بھی دی جا سکتی ہیں جنہوں نے باہر سے آکر انڈسٹری میں زبردست کامیابی حاصل کی، یعنی محنت اور قسمت دونوں نے ان کا ساتھ دیا۔

بابیل خان: ’سِکس پیک ایبز والے ہنکس نے میرے پاپا کو باکس آفس پر ہرا دیا‘

View this post on Instagram

You know one of the most important things my father taught me as a student of cinema? Before I went to film school, he warned me that I’ll have to prove my self as Bollywood is seldom respected in world cinema and at these moments I must inform about the indian cinema that’s beyond our controlled Bollywood. Unfortunately, it did happen. Bollywood was not respected, no awareness of 60’s – 90’s Indian cinema or credibility of opinion. There was literally one single lecture in the world cinema segment about indian cinema called ‘Bollywood and Beyond’, that too gone through in a class full of chuckles. it was tough to even get a sensible conversation about the real Indian cinema of Satyajit Ray and K.Asif going. You know why that is? Because we, as the Indian audience, refused to evolve. My father gave his life trying to elevate the art of acting in the adverse conditions of noughties Bollywood and alas, for almost all of his journey, was defeated in the box office by hunks with six pack abs delivering theatrical one-liners and defying the laws of physics and reality, photoshopped item songs, just blatant sexism and same-old conventional representations of patriarchy (and you must understand, to be defeated at the box office means that majority of the investment in Bollywood would be going to the winners, engulfing us in a vicious circle). Because we as an audience wanted that, we enjoyed it, all we sought was entertainment and safety of thought, so afraid to have our delicate illusion of reality shattered, so unaccepting of any shift in perception. All effort to explore the potential of cinema and its implications on humanity and existentialism was at best kept by the sidelines. Now there is a change, a new fragrance in the wind. A new youth, searching for a new meaning. We must stand our ground, not let this thirst for a deeper meaning be repressed again. A strange feeling beset when Kalki was trolled for looking like a boy when she cut her hair short, that is pure abolishment of potential. (Although I resent that Sushant’s demise has now become a fluster of political debates, but if a positive change is manifesting, in the way of the Taoist, we embrace it.)

A post shared by Babil Khan (@babil.i.k) on

مرحوم اداکار عرفان خان کے بیٹے بابیل بھی آج کل انسٹا گرام پر کافی سرگرم ہیں اور اکثر اپنے پاپا کی تصاویر کے ساتھ ان کی باتیں اور نصیحتیں پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔

اس بار انھوں نے عرفان خان کے ساتھ اپنے بچپن کی تصویر کے ساتھ ایک طویل پوسٹ لکھی ہے جس میں انھوں نے بالی ووڈ کی مبینہ خراب روایات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ عالمی سنیما میں بالی ووڈ کا ذکر شاذو نادر ہی ہوتا ہے۔

بابل خان، جو لندن کی ایک یونیورسٹی سے فلم میکنگ پڑھ رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ عالمی سنیما میں نوے کی دہائی کے انڈین سنیما کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں ہے اور آج فلم کے نام پر جو لوگوں کو دکھایا جاتا ہے وہ حقیقت سے دور ہے۔ بابل کے مطابق ایسا اس لیے ہے کیونکہ انڈین ناظرین اپنی سوچ اور دوق بدلنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد نے اپنی تمام زندگی اداکاری اور فن کے معیار کو بلند کرتے گزار دی لیکن حقیقت سے دور ان فلموں میں جنس پرستی، پدرشاہی سوچ اور فوٹو شاپ آئیٹم سانگز کے ساتھ جملہ بازی کرتے سکس پیک ایپس والے ہنکس نے باکس آفس پر میرے پاپا کو شکست دی ہے۔‘

تاہم بابل کو لگتا ہے کہ بالی وڈ کی نئی نسل ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے جو ان روایات میں تبدیلی ضرور لائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14570 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp