شکریہ عمران خان – ناقابلِ اشاعت کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب جبکہ تبدیلی لانے والے تبدیلی سے بدظن ہیں اور اسے کوس رہے ہیں ایسے میں، میں سرعام، علی الاعلان کہنا چاہتا ہوں شکریہ عمران خان۔

یہ بات درست ہے کہ نئے پاکستان کے خواب کی تعبیر پاکستانیوں کے لئے نہایت بھیانک رہی۔ اب تو تبدیلی کے تمام تر دعویدار اسے ایک ڈراؤنا سپنا بتاتے ہیں۔ خود پر لعن طعن کرتے ہیں۔ اپنے منہ پر اپنا تھپڑ مارتے ہیں۔ تبدیلی کی تیز ہوا اتنی جلدی ایک تباہ کن آندھی میں بدل جائے گی یہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ عمران خان کی طلسمی شخصیت کا بت اس دھڑام سے گرے گا یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ابھی وقت ہی کتنا ہوا؟ دو سال پہلے یہی تبدیلی ٹھاٹھیں مار رہی تھی۔ جوش جذبہ اور جنون کے ترانے گا رہی تھی۔ نوجوانوں کو انقلاب پر اکسا رہی تھی اور دو سال میں ہم سب کے سامنے تبدیلی کا جنازہ جا رہا ہے اور اسے کاندھا دینے کو کوئی تیار نہیں۔ اس تبدیلی کے انتقال کا کوئی ماتم کرنے کو تیار نہیں۔ اس تبدیلی کی وفات پر کوئی آنسو بہانے کو تیار نہیں۔

منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔ پلان تلپٹ ہو گیا ہے۔ معیشت تباہ ہو گئی ہے۔ بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ تبدیلی مذاق بن گئی ہے۔ ایسا سنگین مذاق جس سے ہزاروں کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔ لاکھوں کی تمناؤں کا قصر مسمار ہو گیا ہے اور کروڑوں اس کے ملبے تلے دبے سسک رہے ہیں۔

بائیس سال کی جدوجہد کے بعد معرض وجود میں آنے والا نیا پاکستان دو سال میں ایسا ہو گیا ہے کہ لوگ پرانے پاکستان کو ترسنے لگے۔ کسی شہر کی کسی گلی کے کسی شخص سے پوچھ لیں وہ نئے پاکستان سے فرار چاہتا ہے۔ وہ پرانے پاکستان کو لوٹ جانا چاہتا ہے۔ وہ اب عزت کی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

اب سب کو اندازہ ہو گیا ہے کہ تبدیلی کی چلنے والی تیز اور مشک بار ہوا رک گئی ہے۔ اب حبس ہے، گرمی ہے اور تعفن ہے۔ اب اس مقام پر زیادہ دیر نہیں رکا جا سکتا ہے۔ عجیب معاملہ ہے اپوزیشن تبدیلی کو چھیڑنا نہیں چاہتی۔ عوام گھروں پر ہی لوڈ شیڈنگ کے احتجاج میں مگن ہے۔ کوئی اور غیر جمہوری قوت تبدیلی کے خلاف صف آرا نہیں مگر پھر بھی تبدیلی واپسی کے سفر پر گامزن ہے۔ اب کبھی وزراء اندر کی کہانیاں طشت از بام کر دیتے ہیں۔ کبھی وزیراعظم خود ہی مائنس ون کا نعرہ لگا دیتے ہیں۔ کبھی کوئی اتحادی آنکھیں دکھا دیتا ہے۔ کبھی پھر کوئی حماقت منظر عام پر آجاتی ہے۔ عجب معاملہ ہے تبدیلی کو بھیجنے والا کوئی نہیں مگر پھر بھی یہ سفر ختم ہونے کو ہے۔ یہ بازی الٹنے کو ہے۔ یہ بساط پلٹنے کو ہے۔ یہ معاملہ نمٹنے کو ہے۔

تبدیلی کی رخصت کا سب سے واضح اشارہ نہ وزیر اعظم کی کسی تقریر سے دستیاب ہوتا ہے نہ وزراء کی کسی حماقت سے۔ اصل تبدیلی کی پہچان وہ تجزیہ کاران ملت ہیں جو بڑے شوق سے عوام کو تبدیلی کے سہانے خواب دکھاتے تھے اب وہی تبدیلی کو سرعام ٹی وی پر کوس رہے ہوتے ہیں۔ وہی جو نئے پاکستان کے خواب بیچتے تھے وہی اب اس سے منفور ہو گئے ہیں۔ وہ اب نئے پاکستان سے ہی نہیں اپنے ماضی قریب سے بھی جان چھڑانا چاہتے ہیں۔

ہم ایسے لوگ ہیں جو واپسی کے سفر کے ساتھی نہیں ہوتے۔ اقتدار میں آنے والے کے تو سبھی ساتھ ہوتے ہیں اقتدار سے جانے والے کے نعرے کوئی نہیں لگاتا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ آج میں عمران خان کے حق میں نعرے لگاؤں، ان کے قصیدے گاؤں، ان کے صدقے واری جاؤں۔

دیکھیں قوموں کی زندگی میں دو سال کی کیا ہی اہمیت ہے۔ برا وقت آتا ہے گزر جاتا ہے مگر ہمیں بہت سے سبق سکھا جاتا ہے۔ اس تجربے کا ہمیں شکرگزار ہونا چاہیے اس المیے کا احسان مند ہونا چاہیے۔ اس لئے کہ یہ کیا کم ہے اس ہولناک تجربے سے سب نے سبق سیکھ لیا ہے۔ منتخب حکومتوں کو گرانے سے اس کے بعد توبہ ہو جائے گی۔ میڈیا پر قبضہ کرنے سے نصیحت پکڑی جائے گی۔ زر خرید اینکروں کو بھرتی کرنے سے تائب ہونا پڑے گا۔ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے سے عبرت پکڑی جائے گی۔

کوئی لیڈر، کوئی سیاسی جماعت یہ نہیں سمجھا سکی کہ اقتدار بنیادی طور پر عوام کا ہوتا ہے۔ ان کی منشا سے لوگ آتے ہیں۔ ان کے من پسند لوگوں کی حکومت بنتی ہے۔ یہ بات بہت سوں نے کہی مگر بات کسی کو سمجھ نہیں آئی۔ ہم سب کو بحیثیت قوم عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے پوری قوم کو سبق دیا ہے کہ غیر جمہوری طور طریقے وقتی ہوتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی دھمکی دے کر حکومت میں آنے والے خود ناک ڈاؤن ہو جاتے ہیں۔ کنٹینر پر طیش بھری انتقامی تقریریں کرنے والوں پر کچھ عرصے کے بعد ٹھٹھے لگتے ہیں۔ جھوٹے دعوے کرنے والے خود جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ ڈٹ کے کھڑے رہنے والے خود اپنے بوجھ سے زمیں بوس ہوتے ہیں۔

اب تبدیلی کی چیخیں مارنے والے اپنے آپ کو کوس رہے ہیں۔ کوئی خود کو گالیاں دے رہا ہے کوئی پانی میں ڈوب مرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ کوئی عوام سے معذرت کر رہا ہے۔ لیکن میرے خیال میں ہم سب کو شکریہ عمران خان کہنا چاہیے کہ انہوں نے ہمیں سبق دے دیا کہ اب ہمیں کسی نئے پاکستان کی ضرورت نہیں ہے۔ اب ہمیں کسی انقلاب کی ضرورت نہیں ہے۔ اب ہمیں پہلے سو دن میں سب کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں بس اب عوام کو اقتدار لوٹانے کی ضرورت ہے۔ تبدیلی چاہے کے پی کے سے آئے چاہے سندھ کے ساحلوں سے۔ بس اس کا نتیجہ عوام کو اقتدار کی واپسی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب انتقام اور نفرت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس کا مفہوم ووٹ کو عزت دو ہونا چاہیے۔

اگر عمران خان حکومت میں نہ آتے تو یہ سلسلہ نہیں رکنا تھا۔ اگر عمران خان حکومت میں نہ آتے تو ہم نے یہ سبق نہیں سیکھنا تھا۔ اگر عمران خان حکومت میں نہ آتے تو ہمیں بات سمجھ میں نہیں آنی تھی۔ اگر ہمارا گروتھ ریٹ منفی میں نہ جاتا تو یہ بات کسی کے پلے نہیں پڑنی تھی۔ اگر دو کروڑ لوگ بے روزگار نہ ہوتے تو ہمیں یہ عقل نہیں آنی تھی۔

عمران خان نے دو سال میں ہمیں وہ بات سمجھا دی جو ہمیں چوہتر برس سے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اب جبکہ تبدیلی واپسی کی جانب نہایت تیزی سے گامزن ہے ہم سب کو مل کر نعرہ لگانا چاہیے شکریہ عمران خان۔ آپ نے تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا ہے آپ نے دو سال نقصان کر کے ہمیں کسی بڑے نقصان سے بچا لیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 198 posts and counting.See all posts by ammar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *