کیا سائنس کی بھی زبان ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زبان کے مسئلے اس ملک کے قیام سے ہی اس کے ساتھ ہیں۔ اردو کو قومی زبان بنانے میں جو مسائل اور اعتراضات قیام پاکستان کے وقت تھے ان کا حل اب بھی بحث کا متقاضی ہے۔ آج جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ جب اردو کو قومی زبان بنا لیا گیا تو پھر سرکاری اور خاص کر تعلیمی اداروں میں کتنا اس کو لاگو کیا گیا؟ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ علاقائی زبانوں کے بعد جس زبان کو اس ملک کے زیادہ تر افراد سمجھتے ہیں اور اس میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں وہ اردو ہے تو پھر اس ملک کے تعلیمی ادارے جو علم کی ترسیل کرتے ہیں اور نصاب، جس کو بنیاد بنا کر تعلیم دی جاتی ہے، وہ کس حد تک اس زبان میں میسر ہے جس کو استاد یا طالب علم پڑھ اور سمجھ سکیں۔

کیوں کہ خالی پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ جب تک کسی چیز کو سمجھ نہ لیا جائے اس پر سوال اٹھانا اور اس سے منسلک نئے تصورات کو جنم دینا ممکن نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو خلیج زبان کو نہ سمجھ سکنے کی وہ سے پیدا ہوا ہے وہ ہماری سائنسی پسماندگی سے جری بہت ساری وجوہات میں سے ایک ہے۔ بلکہ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ یہ ایک بنیادی وجہ ہے۔

میں یہاں بہت سارے سوالات کو زیر بحث لاؤں گا لیکن سب سے پہلے ایک بنیادی سوال جس کا جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کیا سائنس کی کوئی زبان ہوتی ہے؟ سائنس کی غایت کیا ہے؟ اس کو پڑھانے کا مقصد کیا ہے اور وہ کون سی زبان ہے جس میں کوئی استاد اچھے طریقے سے سائنس کو پڑھا سکے اور طالب علم اس کو سمجھ سکیں۔ یہ وہ سوال ہیں جو بہت زیادہ غور و فکر کے متقاضی ہیں۔ یہ وہ سوال ہیں جن کے صحیح جوابات میں کسی بھی ملک کی ترقی کا راز پنہاں ہے۔

سب سے پہلے تو میں سائنس کی ایک بہت ہی عمومی سی تعریف کردوں اور وہ یہ ہے کہ ”ہمارے ارد گرد ہونے والے تمام فطری عوامل کو سمجھنے کی سعی سائنس کہلاتی ہے“ ۔ مراد یہ کہ سائنس کوئی فن یا مہارت نہیں ہے جو کچھ خاص لوگوں کو حاصل ہے۔ اس کے برعکس سائنس ایک سرگرمی کا نام ہے جس کے لیے نہ تو عمر کی کوئی قید ہے اور نہ ہے تجربے کی۔ جب ایک بچہ اس کو کھیلنے کے لیے دیے گئے کھلونے کو توڑ کر اس کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ سائنس ہی کر رہا ہوتا ہے اور ایک کم سن بچے کا ایسا کرنا اس چیز کا ثبوت ہے کہ چیزوں کو سمجھنے کی جستجو ہمارے اندر فطرتاً موجود ہے۔

جیسے جیسے ہم عمر کی سیڑھیاں چڑھتے جاتے ہیں یہ جستجو ماند پڑ جاتی ہے۔ تعلیم کا مقصد اس تجسس کو پھر سے اجاگر کرنا ہوتا ہے جس سے وہ میسر علم کی روشنی میں ایک نئے سرے سے اس کائنات کو سمجھ سکے اور اپنی طرف سے اس کی فہم میں مزید کچھ اضافہ کر سکے۔ کیوں کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے الفاظ میں تمام علم انسانیت کی مشترکہ میراث ہی تو ہے۔

پاکستان میں ہمیشہ سے ہی یہ ایک مشکل فیصلہ رہا ہے کہ سائنس کو کس زبان میں پڑھایا جائے۔ دس سال اردو کے حصے میں آئے تو بارہ انگریزی کے۔ اور یہ سلسلہ گزشتہ سات دہائیوں سے جاری ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ دسویں تک سائنس پڑھنے کی سہولت انگریزی اور اردو دونوں میں دستیاب ہے جب کہ گیارہویں جماعت کے بعد آپ کو خالصتاً انگریزی میں پڑھنا ہو گا۔ کوئی بھی صاحب عقل اس بات پر ذرا غور کرے تو اپنا سر پیٹ کر رہ جائے کہ جب گیارہویں میں انگریزی میں ہی پڑھانا ہے تو پھر دسویں میں اردو کیوں؟

ویسے تو زبان کا مسئلہ ہمارا قومی مسئلہ ہے۔ جہاں پنجابی کو Foul language کہا جائے اور انگریزی بولنے کو مہذب اور پڑھا لکھا تصور کیا جائے وہاں پر سائنسی اور اخلاقی پسماندگی کچھ زیادہ حیران کن نہیں ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ جب سائنس کا مقصد اس جہاں میں ہونے والے عوامل کو سمجھنا ہے تو پھر یہ کس نے کہہ دیا کہ آپ اس کو صرف انگریزی زبان میں ہی سمجھ سکتے ہیں؟ یونانی فلسفیوں اور سائنس دانوں نے اپنی یونانی زبان استعمال کی، اسی میں کتابیں بھی لکھیں اور پڑھایا بھی۔

اس کے بعد جب سائنس مسلم دور میں پہنچی تو عربی، فارسی یا جہاں بھی رہی اس نے اسی زبان میں ترویج پائی۔ اور آج یہ جہاں بھی موجود ہے اسی ملک کی زبان میں پڑھائی جاتی ہے سوائے وطن عزیز کے۔ اصل میں دیکھا جائے تو زبان سائنس کی زبان نہیں تھی بلکہ اس علاقے کی زبان تھی جہاں پر لوگ اس سرگرمی میں مصروف تھے جس کو ہم سائنس کہتے ہیں۔ غالباً یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جو غلامی سے نجات کے بھی غلامی میں ہی رہ رہا ہے۔ اور یہ غلامی کی بھی ایک خطرناک قسم ہے۔ ذہنی غلامی۔

آج بھی اگر ہم مختلف ممالک پر نظر دوڑائیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سب کا نظام تعلیم ان کی اپنی زبان میں ہے۔ جرمنی، فرانس، جاپان، چین، نیز دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اپنی ہی زبان میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وجہ واضح ہے اور اس کی وجوہات میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ پڑھانے کا مقصد ہے کہ طالب علموں کو اس چیز کی سمجھ آئے جو ان کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہاں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے جیسے ممالک جو تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہیں ان میں تعلیم کے مقاصد کو عموماً اور سائنسی تعلیم کی غایت کو خصوصاً غلط سمجھا گیا ہے۔

سائنس کوئی ایسی چیز تو ہے نہیں کہ اس کو جب بچہ سکول سے پڑھ کر آئے گا تو اگلے دن سکول جانے تک اس کو دوبارہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی؟ ایسا بالکل نہیں ہے اور یہ ہم سب جانتے ہیں۔ کسی بھی چیز کو اچھے طریقے سے واضح کرنے کے لیے انسان اس زبان کا استعمال کرتا ہے جس پر اس کو عبور حاصل ہوتا ہے اور جس میں وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ جو بولنا چاہتا ہے اس کے لیے اس کے پاس مناسب الفاظ میسر ہیں۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں جو سائنس کی کتابیں اردو میں میسر ہیں ان میں بھی انگریزی کے الفاظ کو ویسے ہی اردو میں لکھ دیا گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ کسی بھی زبان کو مسخ کرنے کی ایک باقاعدہ کوشش ہے۔ مندرجہ ذیل مثال ملاحظہ ہو۔

”ایک سمپل پینڈولم کا ٹائم پیریڈ اس کی لینتھ کے ڈائریکٹلی جب کہ اس کے ایکسیلریشن ڈیو ٹو گریوٹی کے ان ڈائریکٹلی پروپورشنل ہوتا ہے“

یہ اس طرح کا فقرہ ہے جو آپ کو دسویں جماعت کی اردو میں لکھی گئی فزکس کی کتاب میں ملے گا۔ اس کے برعکس اسی قطار کو اگر ہم خالصتاً اردو میں لکھیں تو یہ یوں بنے گا۔

”ایک سادہ لٹکن کا دوری وقفہ اس کی لمبائی کے راست جب کہ اس کے تجاذبی اسراع کے بالعکس متناسب ہوتا ہے“ ۔

اس سادہ سی مثال سے صاف ظاہر ہے کہ املا اور فہم دونوں لحاظ سے کس صورت میں لکھنا بہتر ہے۔ یہ ایک سادہ اور عمومی سی مثال ہے اصل صورت حال اس سے بھی زیادہ گمبھیر اور خطرناک ہے۔ اب اسی زبان میں لکھی گئی حیاتیاتی اصطلاحات کا تخیل کریں۔ کیا ایوولیوشن لکھنا آسان ہے یا ارتقا؟ سیل لکھنا مناسب ہے یا خلیہ؟ ایک بچہ جو گھر سے باہر نکلتا ہے اور درختوں کی جڑیں، تنا اور پتے دیکھتا ہے اس کے لیے سکول میں لفظ جڑ، تنا یا پتا سمجھنا آسان ہے یا روٹ، ٹرنک اور لیو؟

نصاب میں شامل ایک ایسی کتاب جس میں موجود مواد ایک طالب علم کو اس وجہ سے سمجھ نہیں آتا کہ اس کی آشنائی اس زبان سے کچھ زیادہ نہیں ہے جس میں وہ کتاب لکھی گئی ہے تو نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ میرا اپنا جو تھوڑا بہت پڑھانے کا تجربہ ہے اس میں مجھے طالب علموں نے بارہا اوقات یہ بتایا ہے کہ وہ کتاب میں لکھی گئی انگریزی کو سمجھ نہیں سکتے یا انہیں فقرات کے معنی اخذ کرنے میں بہت زیادہ دشواری پیش آتی ہے۔ بہت بار تو مجھے اضافی درس اس واسطے رکھنے پڑ جاتے تھے تا کہ اس بات پر بحث کی جا سکے کہ انگریزی میں فقرات کی بناوٹ کیسی ہوتی ہے اور ان سے معنی کیسے اخذ کیے جاتے ہیں۔ لیکن آپ ایسے کتنی اضافی درس رکھ سکتے ہیں؟ ویسے بھی اضافی درس رکھنا ایک مسئلے کا وقتی حل تو ہے پر مستقل حل نہیں۔ بات سادہ سی ہے کہ ایک زبان جس سے طلبا کی آشنائی اچھی نہیں ہے یا ان کا اس پر عبور نہیں ہے اس زبان میں ان کو کوئی بھی چیز سمجھانے کی کوشش رائگاں جانے کے امکان زیادہ ہیں۔

اور جب طلبا کتاب میں لکھے مواد کو نہیں سمجھ پاتے اور انہیں پھر بھی وہی چیز پڑھنی پڑتی ہے تو نتیجہ اس خطرناک صورت میں نکلتا ہے جسے ہم رٹا کہتے ہیں۔ یہ وہ عذاب ہے جس کے باعث ہم اسناد پر اسناد اکٹھی کیے جا رہے ہیں لیکن ہمیں انہیں مضامین جن کی اسناد ہمارے پاس موجود ہیں کی فہم بہت کم ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے، طلبا دسویں کے امتحانات میں 505 میں سے 504 نمبر لے رہے لیکن وہ جا کہاں رہیں وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ سائنسی ترقی میں ہماری شرکت کی دنیا دہائیوں سے منتظر ہے لیکن امید کی کرن کہیں نظر نہیں آتی۔ ہم کوئی آئن شٹائن یا عبدالسلام نہیں مانگتے لیکن کوئی ریاض الدین، فیاض الدین ہی اور ہو؟ کوئی دوسرا اصغر قادر، پرویز ہودبھائی یا عامر اقبال ہی ہو؟ ملتے ہیں تو آغا وقار۔

بہت سارے لوگ اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ اردو زبان میں مناسب الفاظ دستیاب نہیں ہیں اور جو ہیں وہ کافی مشکل ہیں۔ پہلے اعتراض پر عرض یہ ہے کہ سائنس ایک مسلسل عمل یا سرگرمی ہے۔ اس میں ہر لمحے کچھ نہ کچھ نیا سامنے آ رہا ہے اور ایسی صورت حال میں بہت سی نئی اصطلاحات بھی متعارف ہوتی رہتی ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا باقی زبانوں میں وہ نئی اصطلاحات پہلے سے موجود ہوتی ہیں یا اس زبان کے ماہرین نئی اصطلاحات بناتے ہیں؟

ایک زندہ زبان وہی ہوتی ہے جس میں نئے الفاظ اور اصطلاحات شامل ہوتی رہیں۔ اس بات کا ذکر پہلے ہی ہو چکا ہے کہ بدقسمتی سے اردو زبان کا گلہ دبایا جا رہا ہے۔ جہاں اردو بولنے والے کو معاشرے میں کم درجے والا سمجھا جائے تو آہستہ آہستہ اس زبان کے بولنے والے کم ہو جاتے ہیں اور جب بولنے والے کم ہو جائیں تو نئے الفاظ کا آنا تو کجا وہ زبان خود بھی آخری سانسیں لینے لگتی ہے۔ پھر بھی اس سب کے برعکس بہت ساری ایسی سائنسی اصطلاحات ہیں جن کے لیے مناسب الفاظ موجود ہیں۔

کیوں کہ ایسا وقت گزرا ہے جب تمام سائنسی علوم کو اردو میں ہی پڑھایا جاتا تھا اور تمام سائنسی کتب بھی اردو میں ہی لکھی جاتی تھیں۔ وہ کتابیں اب بھی اسلام آباد میں موجود مقتدرہ قومی زبان میں موجود ہیں۔ اور اگر مناسب ادارے بنا دیے جائیں یا جو پہلے سے موجود ہیں ان کو فعال کر دیا جائے تو ماہر لسانیات نئی اصطلاحات بھی بنا سکتے ہیں اور دوسری زبانوں میں لکھی گئی کتب کا ترجمہ بھی کر سکتے ہی۔ اور ویسے بھی ساری دنیا میں یہی تو ہو رہا ہے۔ ساری دنیا میں ایسے ادارے موجود ہیں جن کا کام دوسری زبانوں میں لکھی کتب کا ترجمہ کر کے ملکی زبان میں فراہم کرنا ہوتا ہے۔

دوسرا اعتراض میرے نزدیک اعتراض سے زیادہ ہماری تن آسانی اور کاہلی کے زیادہ قریب ہے۔ یہ اعتراض میرے ان سائنسی مضامین پر بھی اکثر اٹھایا جاتا ہے جو میں نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیے ہیں کہ آپ بہت مشکل اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ میرے نزدیک لفظ مشکل اضافی ہے۔ مثال کے طور پر ایک تیس سالہ اردو بولنے والے شخص کے لیے شاید انگریزی بولنا مشکل ہو لیکن ایک پانچ سالہ انگریز بچہ روانی سے انگریزی بول لے گا۔ لیکن اگر آپ اسی بچے کو ٹامس ہارڈی کا کوئی ناول پڑھنے کو دیں تو شاید اس کو انگریزی میں ہی لکھے اس ناول کو پڑھنے میں دشواری ہو۔

یہ دشواری الفاظ سے نا آشنائی کا نتیجہ ہے۔ کسی چیز کے مشکل ہونے کا تعلق اس چیز سے آشنائی یا نا آشنائی سے ہے۔ ایک طالب علم جس کو گیارہویں جماعت کی حیاتیات مشکل لگتی ہے وہی کچھ سال بعد طب کی مشکل کتابیں بھی پڑھ اور سمجھ کر ڈاکٹر بن جاتا ہے۔ اگر اپ کو لگتا ہے کہ چوں کہ آپ کی زبان اردو ہے اس لیے آپ کو اردو میں لکھی ہر چیز آتی تو آپ کی مثال اس بچے کی سی ہے جس کی زبان تو انگریزی ہے لیکن وہ اس وقت تک ٹامس ہارڈی کی کتاب کو نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ اپنی لغت کو اتنا بہتر نہ کر لے کہ ہارڈی کو پڑھنے کے لیے اس کے پاس مناسب الفاظ میسر ہوں۔

میں ایک اور سوال کو زیر بحث لا کر بات کو ختم کرنا چاہوں گا اور میرے خیال سے یہ سوال شاید زیادہ اہم اور حال و فردا کے موافق ہے۔ اور وہ یہ کہ آج کل زیادہ تر سائنسی تحقیقی مقالے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں تو ان تک رسائی کیسے ہوگی؟ اس سوال کا جواب سادہ ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے دنیا کے باقی ترقی یافتہ ممالک کی رسائی ہے۔ ہم انگریزی کو بطور مضمون جماعت اول سے پڑھاتے ہیں۔ اگر ہم اسی کو اس طریقے سے پڑھا دیا کریں جس طرح بین الاقوامی سطح پر ایک بیرونی زبان کے مضمون کو پڑھایا جاتا ہے تو میرے خیال سے طالب علم اس قابل ضرور ہو سکتے ہیں کہ وہ انگریزی میں لکھی ایک تحریر کو پڑھ سکیں۔ مزید یہ بھی ہے کہ طالب علم اس وقت تک ایک تحقیقی مقالے کو نہیں پڑھتا جب تک وہ کم از کم ایم فل یا پی ایچ ڈی میں نہ چلا جائے اور میرے خیال سے ایک پڑھے لکھے شخص سے جو ایم فل یا پی ایچ ڈی میں پہنچ گیا ہو یہ تقاضا کرنا کچھ زیادہ نہیں ہے کہ اسے اتنی انگریزی آتی ہو کہ وہ ایک سائنسی تحریر پڑھ سکے۔

لیکن اس سے پہلے ہمیں اس ذہنی پندار کو توڑنا ہو گا جس میں ہم انگریزی بولنے والے کو بارعب اور پڑھا لکھا تصور کرتے ہیں۔ میرے ساتھ یہاں ایسے چینی طالب علم بھی پڑھتے ہیں جن کی انگریزی بہت کمزور ہے۔ اور جب وہ بولتے ہیں تو ان کے لہجے کو سمجھنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے لیکن ان کو اس چیز کی کوئی پروا نہیں۔ جب تک وہ جو کہنا چاہتے ہیں اس کو ادا کر سکتے ہیں بھلے اس کے لیے ان کو جتنی بھی دشواری ہو۔ انگریزی سے مرعوب ہوئے بنا وہ اب بھی انہیں کتابوں سے پڑھتے ہیں جو چینی زبان میں لکھی ہوئی ہیں۔ اور میرے خیال سے اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ جو سائنس ان کو سیکھنی ہے وہ وہ سیکھ رہے ہیں۔

میرے خیال سے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوال پر غور کریں کہ آیا ہم نے گزشتہ سات دہائیوں سے جاری اس ناکام تجربے کو مزید جاری رکھنا ہے یا پھر اس تجربے کی طرف رجوع کرنا ہے جس کو باقی اقوام نے اپنایا ہے اور مثبت نتائج پائے ہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply