پینشن ہولڈر بزرگ اور قومی بچت سکیموں کے دفاتر کے باہر کھڑے خزانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ شدید گرمی کی دوپہر تھی۔ فیروز پور روڈ پہ ٹریفک نے اسے اور گرم بنا رکھا تھا۔ ابھی تک ہم سگنل فری ٹریفک کو ’فری، ہی لے رہے ہیں اتنی معصوم قوم ہیں۔ ہم اپنے کسی کام سے جا رہے تھے کہ اچانک بزرگ خواتین و حضرات کا ایک گروہ گرمی اور عمر سے جھگڑتا ہوا دکھائی دیا۔ کوئی حکومت کو گالیاں بک رہا تھا۔ کوئی کرونا کو کوس رہا تھا، کوئی دفتر کے عملے پہ اپنا غصہ نچھاور کر رہا تھا۔ کوئی معمر خاتون ایک گارڈ سے لڑ رہی تھی کہ بھئی میں صبح گیارہ بجے سے آئی ہوئی ہوں ۔ اور میرے بعد آنے والوں کو تم اندر بھیج دیتے ہو۔ کوئی آس پاس کی دکانوں سے کر سیاں مانگ تانگ کر اپنے بزرگوں کو رتی بھر چھاؤں میں بیٹھا رہا تھا اور خود جلتی دھوپ میں کھڑا کسی معجزے کا انتظار کر رہا تھا۔ کوئی اپنی ماں کو سہارے سے لا رہا ہے۔ جو چل بھی نہیں سکتی تو کوئی میم صاب اپنا نام لکھوا کر اپنی گاڑی میں جا بیٹھتی ہے۔ اور اے سی آن کر لیتی ہے۔

یہ تھا وہ منظر جس نے اس ناچیز کو وہاں روک لیا۔ ارے بھئی اپنے کام بعد میں ہوتے رہیں گے۔ ابھی یہ ضروری ہے کہ علم تو ہو یہ منظر، یہ معمہ کیا ہے اور اس کی تاریخ کب سے سنہری حروف میں لکھی جا رہی ہے۔

ہم بھی دھوپ میں جا کھڑے ہوئے۔ اور پہلے تو خاموشی سے سننے لگے۔ تو معلوم ہوا کہ ایس او پیز نافذ ہیں۔ جس کے تحت چار سے زیادہ لوگ اندر نہیں جا سکتے۔ دفتر کا رقبہ بھی کم ہے اور فاصلے بھی زیادہ نہیں رکھے جا سکتے۔ لیکن ان سب مشکلات کے باوجود جس قدر ممکن تھا۔ دفتر کے اندر تو ایک نظام ترتیب دے لیا گیا تھا۔ جب کہ باہر کسی نظام کے نافذ ہو نے کی جرات بھی نہیں تھی۔

اب ہم نے چاروں طرف گھوم گھام کے دیکھا تو ایک عدد پنکھا، جس کی روشن صورت دفتر کے گارڈ کے جانب تھی۔ وہ خود بھی اپنی تنہائی پہ رنجیدہ تھا۔ گردن اٹھا کر دیکھا تو کوئی چار فٹ کا چھاتا چھاؤں کے لئے تنا ہوا تھا۔ زمین کی جانب دیکھا تو کوئی چار سے چھ فٹ ابھی پارکنگ کی جگہ موجود تھی جہاں لوگ دھوپ کے سائے میں کھڑے، اپنے بہتے پسینوں سے کوئی فرہادی خواہش کا عزم لئے گھبرائے ہوئے تھے۔

کسی کو بھی یاد نہیں تھا کہ ”گھبرانا نہیں،

صورت حال کچھ یوں تھی کہ شیلٹر اور کرسیاں مہیا کی جا سکتی تھیں جگہ موجود تھی۔ پانی کا انتظام نہیں تھا۔ کوئی بات نہیں با امر مجبوری آس پاس کی دکانوں سے خریدا جا سکتا تھا۔ دوسرے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس بھی تھی۔ جو ہمارا مخصوص نظام ہے۔ بتانے والے بتا رہے تھے کہ وہ صبح بجے آ جاتے ہیں کہ ان کی باری جلدی آ جائے۔ مگر ایسا ہو تا نہیں۔ کچھ ادھیڑ عمر کے مرد جوں صبح آٹھ بجے آتے، دفتر بند ہو نے پہ ہی جاتے۔ کہ بھئی ان سے معمر، اور سپیشل خواتین کو یوں دفتروں اور ایس او پیز کا مقابلہ کرتے نہیں دیکھا جاتا۔ سو وہ خواتین کو پہلے دفتر میں بھیجنے کے لئے اپنی باری کو چھوڑ کر باقی ماندہ خواتین اور حضرات سے حالات حاضرہ پہ محو گفتگو ہو جاتے۔ تو پتا لگتا ہے اتنا علم تو مراد سعید کے پاس نہیں ہے جتنا ان پنڈ سے آئے بابا جی کے پاس ہے جو اپنی سائیکل پہ اپنی پینشن لینے آئے ہیں۔

ارے میری سرکار
کچھ شرم کر یار

یہ جس سرمائے نے ووٹ دینے کی حماقت کی ہے۔ ان کو تو منی ڈریس میں سن باتھ لازم کروانا چاہیے۔ مگر حضور والا یہ جو میرے ملک کے بزرگ ہیں۔ ہمارا خزانہ ہیں۔ جو کچھ ستر سالوں میں تم سب نے مل ملا کر کر دیا ہے۔ ان کی دعاؤں اور ایمانوں سے اس ملک کی کشتی تیر رہی ہیں۔

تمہاری ہاتھوں کی تسبیحوں، آفریدی، عمران کی جائے نمازوں پہ فوٹو سیشنز، بھٹو کے نعرے، شیر کی دھاڑیں سب ڈرامہ اس حقیقت کے سامنے اتنا حقیر ہے کہ گوادر کی طرف جانے والی مون سون ہو اؤں کے ساتھ وہیں جا کر تم کو بھی کوئی چلو بھر پانی لے آنا چاہیے۔

کیونکہ اب یہاں بارش کا امکان نہیں رہا۔ بوندوں نے بھی تم سے منہ موڑ لیا کہ جب ان کی آخری منزل سمندر ہی ہے تو اب وہ وہی برسا کریں گی۔ اتنے سفر کی تھکان اب سیراب نہیں کرتی۔ نہ انسان کو نہ زمین کو۔

اے سرکار، اے بزدار
یہ جوان سرمایہ ہیں تو یہ بزرگ ہمارا خزانہ ہیں۔ یہ دفینے کرشمے ہوتے ہیں۔ جن کو تم نے سڑکوں کی خاک بنا دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply