سب رنگ سے آگے جہاں اور بھی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“Render unto Caesar the things that are Caesar’s, and unto God the things that are God’s.”

’سب رنگ کہانیاں‘ میرے سامنے ہیں۔ یہ سمندر پار سے شاہ کار افسانوں کے تراجم ہیں جو سب رنگ میں شائع ہوئے۔ اس کتاب میں مختلف ادیبوں نے شکیل عادل زادہ صاحب اور سب رنگ کے بارے میں جو تعریفی و توصیفی کلمات لکھے ہیں، ان کے بعد مجھ پر فرض تھا کہ میں یہ کتاب با وضو ہو کر پڑھوں اور ہر کہانی کے بعد کتاب کو چوم کر آنکھوں سے لگاؤں۔ میری عادت ہے کہ کتاب پڑھتے وقت اپنے پسندیدہ جملوں پر نشان لگا دیتا ہوں، جہاں پوری عبارت پسند آ جائے وہاں بڑا سا ستارہ بنا دیتا ہوں اور جو حصے پسند نہ آئیں ان پر حسب توفیق حاشیے میں کوئی جملہ لکھ دیتا ہوں۔

لیکن اس کتاب کے ساتھ میں ایسی گستاخی کر کے گناہ کا مرتکب نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ کتاب آرٹ پیپر پر چھپی ہے اور اس قدر مجلا، مصفا اور دیدہ زیب ہے کہ کہیں کوئی نشان لگانے، سرورق پر کافی کا مگ رکھنے یا کاغذ کا کان مروڑنے کو دل نہیں کرتا۔ میری ان باتوں سے خدا نخواستہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں شکیل عادل زادہ یا سب رنگ کی عظمت کا قائل نہیں۔ اپنے تمام کالم نگار دوستوں کی طرح میرا لڑکپن بھی سب رنگ اور ہم عصر ڈائجسٹوں کی کہانیاں پڑھتے ہوئے گزرا۔

حکایت، اردو ڈائجسٹ، قومی ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، عالمی ڈائجسٹ، سسپنس، جاسوسی دنیا اور اس نوع کے بے شمار ڈائجسٹوں کا ہم ہر ماہ بے چینی سے انتظار کیا کرتے تھے۔ ان میں لکھنے والے بھی کمال کے لوگ تھے، عنایت اللہ، ستار طاہر، مقبول جہانگیر، انوار صدیقی، انوار علیگی، محی الدین نواب، ایک سے بڑھ کر ایک نگینہ۔ کم و بیش ان 54 رسائل میں سب رنگ بلاشبہ ایک منفرد ڈائجسٹ تھا اور ایک موقع پر اس کی اشاعت ان تمام جرائد میں سب سے اوپر تھی۔

وجہ یہ تھی کہ اس میں شائع ہونے والی کہانیاں کڑے معیار پر پرکھی جاتی تھیں اور یہ کڑا معیار شکیل عادل زادہ کی مرہون منت تھا۔ شکیل صاحب ایک ایک کہانی کی چھانٹی کرتے تھے اور بعض اوقات بڑے بڑے جغادری ادیبوں کے افسانوں کو بھی رد کر دیتے تھے۔ تاہم یہ کام وہ اپنی ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہیں کرتے تھے بلکہ شکیل صاحب کے الفاظ میں ”کسی بھی وسیلے یا ذریعے سے فراہم ہونے والی کہانیاں سب رنگ سے متعلق ہر عمر اور ہر سطح کے کارکنوں اور فکشن کے طلب دار دوستوں کو پڑھوائی جاتی تھیں کہ وہ اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ ۔ ۔ اور خیال رہے، رائے لفظوں میں نہیں، اعداد میں دی جائے۔ کہانی کے سو نمبروں میں ان کی پسندیدگی کس درجے پر ہے، ساٹھ ستر، چالیس پچاس یا بیس تیس فیصد یا صفر۔ ان کی آرا پر کسی تنقید و تبصرے کی ممانعت تھی۔ بالعموم پچاس فیصد سے اوپر مجموعی پسندیدگی پر کہانی اشاعت کے لیے منتخب کر لی جاتی تھی۔“

شکیل عادل زادہ صاحب ایک بڑے آدمی ہیں، گوہر یکدانہ ہیں، زبان و بیان، تلفظ، املا اور انشا پر ان کی رائے حرف آخر سمجھی جاتی ہے، تحریر کے بازی گر ہیں، الفاظ کے جادوگر ہیں۔ سب رنگ کی شکل میں انہوں نے اردو زبان کی جو خدمت کی ہے وہ قابل تحسین و ستائش ہے۔ میرے کالم نگار دوستوں نے شکیل صاحب کی اس خدمت کے اعتراف میں گزشتہ چند برسوں میں جس طرح کالموں کے طومار باندھے ہیں ان کے بعد البتہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ’سب رنگ سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘ ۔

میں ابن صفی کا عاشق ہوں، عمران سیریز کی کہانیاں مجھے تقریباً زبانی یاد ہیں، میری ابن صفی کے بارے میں سوچی سمجھی رائے ہے کہ ان کا مقام اردو کے کسی بھی بڑ ے ادیب سے کم نہیں۔ لیکن اگر میں اسی کے آلھے گاتا رہوں اور ہر دو چار ہفتے بعد ابن صفی کی کتابوں اور کہانیوں کے حوالے دینا شروع کر دوں تو شاید یہ مناسب نہیں ہوگا۔ سب رنگ، عمران سیریز، بازی گر، انکا، دیوتا۔ ۔ ۔ بہت ہو گیا، وہ بات رفت گزشت، اب آگے چلیں، تازہ بات کریں، منفرد کتابوں کا تعارف کروائیں، جدید زمانے کے لکھاریوں کا موازنہ کریں، تخلیق کی نئی جہتوں سے روشناس ہوں اور دیکھیں کہ ہر صبح کھلنے والا دروازہ خاور ہمیں کیسے نت نئے اور رنگین مناظر پیش کرتا ہے۔

اور اگر پرانی بات ہی کرنی ہے تو پھر اس میں مبالغہ آرائی سے کام لینے کی بجائے میرٹ سے کام لیں۔ اردو زبان سب رنگ سے شروع ہو کر سب رنگ پر ہی ختم نہیں ہو گئی۔ اگر ڈائجسٹوں کا موازنہ ہی کرنا ہے تو پھر اردو ڈائجسٹ کا کوئی مقابل نہیں، ریڈرز ڈائجسٹ جیسے عالمی سطح پر مقبول رسالے کی طرز پر اردو ڈائجسٹ نکالنے کا سہرا الطاف حسن قریشی صاحب کے سر ہے۔ اس کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع تھا، ادب سے لے کر سیاست تک، ہر ذائقہ اس میں ملتا تھا اور بڑے نامور ادیب اس میں لکھا کرتے تھے۔

اس سے پہلے ہمارے ہاں اس قسم کے ڈائجسٹ کی روایت نہیں تھی، اردو ڈائجسٹ کو آپ ان معنوں میں رجحان ساز کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح باقی ڈائجسٹ بھی کم نہیں تھے، جاسوسی اور سسپنس میں بھی غیر ملکی کہانیوں کے تراجم کمال کے ہوا کرتے تھے۔ حکایت کا مجھے ہمیشہ انتظار ہوتا تھا، اگر میری یاد داشت دھوکہ نہیں کھا رہی تو حکایت میں ایک سلسلہ انگریز دور میں قتل کے جرائم کی ان سچی کہانیوں کا تھا جس کی تفتیش بہت سنسنی خیز انداز میں بیان کی جاتی تھی۔ یہاں کرن اور شعاع جیسے رسالوں کا ذکر نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی، یہ خواتین کے ڈائجسٹ تھے اور ان جرائد میں لکھنے والی خواتین آگے چل کر ملک کی بہترین ڈرامہ نگار بنیں، آج ہمارے ڈرامے ان خواتین لکھاریوں کی وجہ سے ہی مقبول ہیں۔ تنقید بھی کی جا سکتی ہے مگر بہرحال ان کا یہ کریڈٹ کوئی نہیں چھین سکتا۔

میرے دل میں شکیل عادل زادہ صاحب کا بے حد احترام ہے اور کسی طرح بھی میرا مقصد ان کے ادبی قد کاٹھ کو کم کرنے کی کوشش نہیں، سچ تو یہ ہے کہ یہ میرا مقام ہی نہیں، شکیل صاحب جیسی چند باقیات الصالحات ہی اب ہمارے درمیان رہ گئی ہیں، ان کی قدر کی جانی چاہیے۔ سب رنگ میں شائع ہونے والی کہانیوں کا یہ انتخاب لا جواب ہے، جونہی یہ کتاب شائع ہو کر آئی میں نے فوراً منگوا لی اور آج کل چمچی چمچی کر کے پڑھ رہا ہوں۔ اس میں ٹالسٹائی، چیخوف، موپساں، او ہنری، سمرسٹ مام جیسے ادیبوں کی کہانیوں کے تراجم ہیں اور ایسی گف نثر میں کہ بندہ خود کو بیگانہ محسوس نہیں کرتا۔

مدعا صرف اتنا ہے کہ تعریف ہو یا تنقید، غلو سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ہم جس پر عاشق ہوتے ہیں تو یوں ہوتے ہیں کہ اس کی مدح میں تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں اور جس سے نفرت کرتے ہیں تو ایسی کہ اس کی کوئی اچھی یا مثبت بات ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔ یہ انتہا پسندانہ رویے ہیں۔ بعض اوقات آپ ایسے شخص سے بھی کوئی کام کی بات سیکھ سکتے ہیں جسے آپ ناپسند کرتے ہوں مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ اپنی پسند اور ناپسند پر جانبداری کا سایہ نہ پڑنے دیں۔ جو سیزر کا بنتا ہے وہ سیزر کو دیں اور جو خدا کا حق ہے وہ خدا کو دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 113 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *