پلاٹ، کہانی، کردار: باہمی تعلق اور ان کی تشکیل کے مراحل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر افراد اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ پلاٹ اور اسٹوری (کہانی) میں کیا فرق ہے؟ کہانی جہاں کسی کردار کی ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک کا سفر بیان کرتی ہے، وہاں پلاٹ اسی کہانی میں موجود ”سیکوینس آف ایونٹس“، یعنی وقت کے اعتبار سے حالات و واقعات کا بیان کرتا ہے۔

ایک کردار جو عام زندگی گزار رہا تھا، کلوکار بن کے شہرت اور دولت حاصل کر لیتا ہے۔ یہ ہوئی کہانی۔ اس سارے عمل میں وہ جن اتار چڑھاو سے گزرتا ہے، یہ اس کہانی کا پلاٹ ہوتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر کہانی میں پلاٹ موجود ہوتا ہے، مگر ہر پلاٹ میں کہانی موجود ہو، ایسا ضروری نہیں۔ آگے چل کر مثالوں کے ساتھ اس پہ مزید بات کریں گے۔

سب سے پہلے کہانی اور پلاٹ کا تعلق سمجھنے کے لیے ہم چھے بنیادی سوالوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ اردو میں ’ک‘ سے شروع ہونے والے سوال: کون؟ کیا؟ کیوں؟ کب؟ کہاں؟ کیسے؟ انگریزی میں یہی سوال Who, what, why, where, when, How ہیں۔ ان کے ذریعے ہم بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اُن میں سے تین سوال (Who+What+Why) کون، کیا، کیوں ہیں۔ یعنی آپ کا پروٹیگونسٹ یا ہیرو کون ہے؟ کیا ہے؟ اور ڈرامے یا فلم کے آغاز میں جہاں دکھایا گیا، وہ وہاں کیوں ہے؟ اور وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ اور کیوں کرنا چاہتا ہے۔ یہ تمام کون، کیا، کیوں پہ مبنی سوال کہانی (اسٹوری) تشکیل دیتے ہیں۔

دوسرے تین سوال: (When+Where+How):
کب، کہاں، کیسے اس کہانی کا پلاٹ بناتے ہیں۔ یعنی ہمارا کردار کہاں ہے؟ کہاں کہاں جائے گا؟ کس زمانے میں ہے؟ کب کب اس کے ساتھ کوئی واقعات پیش آئے؟ اور کیسے کیسے پیش آئے؟ کیسے اس نے اپنی منزل حاصل کی؟ وغیرہ۔ کہاں، کب، کیسے کے سوال ہمارا پلاٹ تشکیل دیتے ہیں۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ جہاں جہاں ہمارا کردار قدم دھرے گا، جن رستوں سے گزر کے جائے گا، وہ اس کی کہانی کا پلاٹ ہو گا۔

اگر آپ پلاٹ کا چارٹ دیکھیں تو پلاٹ کی ترکیب سمجھ میں آ سکتی ہے۔ پہلا مرحلہ ’ایکس پوزیشن‘ یعنی کردار کو متعارف کرانے کا ہے۔ داستان گو کہانی کے شروع میں اپنے کردار کے بارے میں کیا کیا معلومات دے رہا ہے۔ وہ جہاں ہے، وہاں کیوں ہے؟ کیوں وہ کچھ کرنا چاہتا ہے؟ یہاں سے ایکشن شروع ہوتا ہے۔

چارٹ میں اوپر کو جاتی ہوئی ترچھی لکیر ’رائزنگ ایکشن‘ بتاتی ہے کہ وہ کردار متحرک ہو گا۔ کوئی نا کوئی عمل کرے گا۔ اس دوران میں اتار چڑھاو سے گزرے گا۔ چیلنجوں کا مقابلہ کرے گا۔ خطرات مول لے گا۔ کسی نا کسی کشمکش/تضاد کا شکار ہو گا۔ اِن سب مراحل سے گزر کر کہانی کلائمکس کو پہنچ جاتی ہے۔ یہ اس گراف میں بلند ترین سطح ہے، جہاں حالات و واقعات اپنے مکمل کھچاو پہ پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ اس مقام کے بعد فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے۔ یہاں سے آگے کچھ کرنے کو نہیں رہتا۔ اس لیے یہاں سے ’فالنگ ایکشن‘ شروع ہوتا ہے۔ اور پھر پلاٹ اپنے اختتام (ڈی نومن) کو پہنچتا ہے۔

اگر اسی گراف کو پہلے مرحلے ’ایکس پوزیشن‘ سے لے کر ’ڈی نومن‘ تک متوازی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ ’کہانی‘ ہوتی ہے۔ جب کہ یہ اوپر جاتے گراف کے تمام مراحل پلاٹ بناتے ہیں۔
’ایکس پوزیشن‘ سے لے کر ’ڈی نومن‘ (ریزولوشن) تک، یہ متوازی لکیر، اسٹوری (کہانی)، ہے۔ اِس اسٹوری کو ایکسپریس کرنے کے لیے جتنا ایکشن بتایا یا دِکھایا جائے گا، یعنی رائزنگ ایکشن، کلائمکس، اور فالنگ ایکشن، جس میں آپ کا کردار جو خطرات مول لے گا۔ کچھ چیلنجوں سے نبرد آزما ہو گا۔ کانفلیکٹس/تضادات کا سامنا کرے گا۔ یہ آپ کا پلاٹ بنے گا۔

ارسطو جسے ہم لٹریچر اور کری ایٹو آرٹ کا بانی مانتے ہیں، اس نے ڈرامئ کے بنیادی اصول وضع کیے۔ اس کے نزدیک آپ کا کردار، جب حالات و واقعات کے چیلنج سے گزرتے ہوئے اپنے عمل میں تبدیلی لائے، اسے یونانی زبان میں peripeteia) پیری پیٹایا) یا سادہ الفاظ میں Reversal کہیں گے، یعنی آپ کا کردار اپنی غلطیوں کو سمجھتے ہوئے ہر بار اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے نیا عمل اختیار کرے، اور جب آپ کا کردار انجام تک پہنچے تو لازم ہے کہ وہ پہلے سے بہتر انسان بن چکا ہو۔ اپنا مقصد حاصل کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھ چکا ہو۔ اس کو یونانی لفظ Anagnorisis(اینگنارسس) یا سادہ زبان میں Realization ہو چکی ہو۔ ایسا پلاٹ جس میں ان تمام مراحل کا اہتمام کیا جائے، کامپلیکس پلاٹ کہلاتا ہے۔

اگر ارسطو کے حوالے سے ڈرامے کی تعریف کو دیکھا جائے، تو ڈرامے کی بہترین قسم (ٹریجڈی) المیہ کہانی کا پلاٹ ہے۔ المیہ ڈرامے کا اہم کردار کوئی بادشاہ، شہزادہ، کوی جنگ جو، یا کوئی خدائی اوتار ہونا چاہیے۔ انجام پہ آپ کا کردار کسی تباہ کن صورت احوال (Catastrophe) حتا کہ موت کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ ارسطو سمپل پلاٹ کو (جس میں آپ کا کردار پہلے سے بہتر بن کے نہ ابھرے) کامیڈی کے لیے موزوں خیال کرتا ہے۔ کامیڈی ارسطو کے نزدیک ایک عامیانہ تخلیق ہے۔

گو کہ آج ڈراما ایک نئی شکل اختیار کر چکا ہے، مگر پھر بھی سمپل پلاٹ ہم ایسے پلاٹ کو کہیں گے، جس میں آپ کے ’پروٹیگونسٹ‘ کو کسی خاص چیلنج کا مقابلہ نہ کرنا پڑے۔ بس حالات و واقعات کی تبدیلی ایک تسلسل سے پیش آئے، مگر کامپلیکس پلاٹ کا مضمون بڑا ہو گا۔ کردار کو ایک سے زیادہ میدان میں جدوجہد کرنا ہو گی۔ یہ سب کرتے ہوئے وہ ریورسل اور ریئلازیشن کے مراحل سے گزرے گا۔ کامپلیکس پلاٹ میں نا صرف یہ کہ آپ کا کردار جو سنگر بننا چاہتا ہے، وہ اپنے اس رستے میں محنت کرتا ہے، بل کہ اُس کو غربت کا بھی سامنا ہے۔ رشتوں کے الجھاو کا شکار بھی ہے۔ کسی وِلن کا سامنا بھی ہے۔ مطلب یہ کہ بیک وقت بہت سے چیلنج فیس کرتا ہے۔

ملٹی پل پلاٹ ہم ایسے پلاٹ کو کہیں گے، جس میں بیک وقت دو، تین یا اس سے زائد کہانیاں چل رہی ہوں، مگر ایسے میں بھی یہ خیال رکھنا ضروری ہو گا کہ ایک ’مین پلاٹ‘ یعنی مرکزی پلاٹ ہو اور باقی ’سب پلاٹ‘ یعنی ذیلی پلاٹس کی حیثیت سے لے کے چلا جائے۔ انسان کی ذہنی استعداد کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ بیک وقت سات کہانیاں/پلاٹ چلا سکتے ہیں۔ اس سے زائد الجھن پیدا کر سکتے ہیں۔ مگر بہتر ہے کہ حد تین یا چار کہانیوں کو ساتھ چلایا جائے۔ اس سے زیادہ نہیں۔

ملٹی پل پلاٹ میں اہمیت ہے کہ آپ کے کردار یا ان کے حالات کا ٹکراو دکھایا جائے۔ انھیں Intersection Points کہا جاتا ہے۔ اس کی کئ تکنیک ہیں۔

سب سے واضح انٹرسیکشن تو یہ ہو سکتا ہے کہ کردار آپس میں ملیں، اور سب سے لطیف یہ کہ فلم یا ٹی وی ڈرامے کی صورت ایک فریم میں لائے جائیں۔ خواہ ایک دوسرے سے با خبر ہوں یا نہیں۔

ملٹی پل پلاٹ میں جتنے کمال سے انٹرسیکشن پوائنٹ بنائے جائیں گے، اتنا ہی پلاٹ کی knitting یا بنت مضبوط ہو گی. اس کے لیے لکھاری دیوار پہ مختلف رنگوں سے مرکزی پلاٹ اور ذیلی پلاٹس کو الگ الگ رنگوں کے کاغذ سے ظاہر کر کے ایک میورل یعنی دیوار پہ خاکہ بنا سکتا ہے اور اچھے طریقے سے انٹرسیکشن پوائنٹس ترتیب دے سکتا ہے۔
اب ہم اس بات کی طرف آتے ہیں کہ کیا کسی فلم یا ڈرامے میں اسٹوری اور پلاٹ دونوں کا موجود ہونا ضروری ہے؟

سیموئل گولڈ وِن کہتا ہے: This book has too much plot and not enough story یہ ممکن ہے کہ کسی کتاب میں یا کسی ڈرامے میں پلاٹ تو ہو مگر اسٹوری موجود نہ ہو۔ ایکشن فلمیں اس کی مثال ہیں اور بھی کئی فلمیں ہیں، جن میں turn of events ہوں مگر کوئی کہانی موجود نہ ہو۔ جیسے ہندی فلمیں ’ریس‘،’اندھا دھن‘، ’گج گامنی‘۔ جب کہ بہت سی فلمیں ایسی ہوتی ہیں، جن میں کہانی سب کچھ ہوتی ہے۔ ان میں‌ ایکشن کم ہوتا ہے۔ ’اجازت‘، ’ہم دل دے چکے صنم‘ کو مثال کے طور پہ لیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی سمجھ لیجیے کہ کہانی کا تعلق جذبات سے ہوتا ہے، جب کہ پلاٹ کا تعلق حالات و واقعات کے پیچ و خم سے ہوتا ہے۔ کچھ فلموں کی کہانی اور پلاٹ دونوں شان دار ہوتے ہیں۔ جیسا کہ فلم ”ستیوم شیوم سندرم“ یا ”تارے زمیں پر“۔

کہانی کا ایسا پلاٹ بنایا جائے کہ پہلے سے اس کے اختتام کو طے کر لیا جائے۔ Closed Ended پلاٹ ہوتا ہے۔ البتہ کچھ پلاٹ Open Ended بھی ہوتے ہیں، جن میں پہلے سے لکھاری انجام طے نہیں کرتا، حالات و واقعات کے بہاو کے ساتھ چلتا ہے اور کسی ممکنہ انجام پہ کہانی ختم کرتا ہے۔ کبھی کبھی ایک نا مکمل اختتام یا سسپنس پر کہانی کو ختم کیا جاتا ہے، جس سے قاری یا ناظر اپنے ذہن سے ممکنہ انجام سوچتے ہیں۔ ایسے اختتام کے لئے Cliff Hanger کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

اگر لکھاری اختتام پہلے سے طے کر لے تو لکھنے میں سہولت کے لیے بہتر ہے کہ کہانی کو پانچ یا آٹھ حصوں میں تقسیم کر لے اور پھر اس کہانی کا خاکہ، الٹی ترتیب سے تیار کر لے۔ گھر کی کسی دیوار کو اپنا میوریل بنا لے۔ اُس پہ چھوٹے چھوٹے پوائنٹس پیسٹ کرتا چلے جائے۔ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے۔ سطریں، نقشے، یا چارٹ اٹیچ کرتے چلا جائے۔ اس طرح پلاٹ ترتیب دینے کے عمل سے لکھنے میں سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔

کردار یا پلاٹ کا باہمی تعلق کیا ہے؟
جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جس رستے سے آپ کے کردار گزریں گے، اسے آپ پلاٹ کہتے ہیں۔ یعنی رے بریڈ بری کے الفاظ میں کرداروں کے فٹ پرنٹ۔ ان کے قدموں کے نشان۔ رے بریڈ بری یہ بھی کہتا ہے:
Writing plot is not a mechanical thing, but a dynamic one

اس کے نزدیک ایک اچھا پلاٹ یوں بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے کہ کہانی نویس کرداروں کو وقت، حالات اور واقعات کے ساتھ بہنے دے۔ خود ایک طرف کھڑا ہو جائے۔ کردار خود اپنا پلاٹ تشکیل دیں گے۔ شاید اِسی کو مد نظر رکھتے، آج کل سوپ تیار کیے جاتے ہیں اور ایک ڈراما کئی کئی سیزن پر مشتمل ہوتا ہے۔ بیچ میں تہوار آتے ہیں، عید یا دیوالی آتی ہے، وہ بھی قسط میں شامل ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس ڈرامے کو آپ کی زندگی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ بھی ایک طریقہ ہے۔
کرداروں اور پلاٹ کے باہمی تعلق کو بناتے وقت یہ ترتیب آپ کو مدد دے سکتی ہے:
1: سمپل کریکٹر۔ سمپل پلاٹ
2: سمپل کریکٹر۔ کامپلیکس پلاٹ
3: کامپلیکس کیریکٹر۔ سمپل پلاٹ
4: کامپلیکس کریکٹر۔ کامپلیکس پلاٹ

سمپل کریکٹر وہ ہے، جس کی ذہنی اور دلی کیفیت کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جائے گی۔ جس طرح عموماً کامیڈی یا رومانی فلموں یا ڈراموں میں ہوتا ہے۔ مگر کامپلیکس کریکٹر کے ذہنی الجھاو، کشمکش پہ قلم کار خاص توجہ دیتا ہے۔ شیکسپیئر کا کردار ”ہیملیٹ“ اس کی مثال ہے، جو بیرونی حالات کے ساتھ ساتھ اپنے اندرونی کانفلیکٹ کا شکار بھی دکھائی دیتا ہے، اور ‘To be or not to be’ کی الجھن میں گرفتار ہے۔

شیکسپیئر کی ایک بہترین ڈراما نگار ہونے کی یہ دلیل کم نہیں کہ وہ پہلی بار کردار کے ذہنی الجھاو کو سٹیج پہ لایا (جب کہ انسان کے رویے کا مطالعہ، نفسیات کے مضمون کے تحت کہیں جا کے انیسویں صدی میں شروع ہوتا ہے)۔
پیرا نارمل سائیکو لوجی پہ بنی کئی فلمیں، کامپلیکس کریکٹر کی مثال کے طور پہ لی جا سکتی ہیں۔ جب کہ سائنس فکشن فلمیں کامپلیکس پلاٹ کے طور دیکھی جا سکتی ہیں۔

کردار اور پلاٹ کا باہمی تعلق سمجھنے کے لیے، اس پہلو پر بھی نظر ڈال لیجیے۔
1: آپ کا پلاٹ، کرداروں کو تشکیل دیتا ہے۔ اس کے لیے ہم Plot-driven characters کی اصطلاح استعمال کریں گے. یعنی جوں جوں واقعات پیش آتے جاتے ہیں، آپ کا کردار ویسے ویسے بنتا چلا جاتا ہے۔ ارسطو کی ٹریجڈی کی تعریف کے مطابق، کردار کچھ نہ کچھ سیکھ کر پہلے سے بہتر بن کے ابھرتے ہیں۔ اس کی مثال کے طور ہر بڑی کہانی یا فلم لی جا سکتی ہے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے ”ہیملٹ“، ”کنگ لیئر“، ہندی فلم ”مدر انڈیا“ وغیرہ۔

2: دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ کردار پلاٹ کو تشکیل دیتا ہے۔ اس کے لیے Character-driven Plot کی اصطلاح ہے۔ ایسی فلم یا ڈراما جس میں کردار کے مطابق حالات و واقعات بنائے جائیں۔ مثال کے طور پہ ہندی فلم ”گزارش“، ایک پیرالائزڈ کریکٹر ہے، جو بستر پہ پڑا ہے۔ ایسے میں فلم کا پلاٹ اس کردار کے مطابق ہی بنتا چلا جائے گا۔ دوسری مثال فلم ”بلیک“ ہے۔ اندھی، گونگی، بہری لڑکی کی کہانی۔ اس کردار کے لیے پلاٹ کے ایکشن ترتیب دئیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ وہ تمام فلمیں یا ڈرامے جہاں کردار اہم ہے۔ تاریخی کرداروں کی کہانیاں بھی اسی زمرے میں آئیں گی اور کامپلیکس کریکٹرز کی کہانیاں بھی۔

کرسٹوفر بوکر نے 34 سال اس مطالعے میں صرف کیے اور اس نے سات بنیادی پلاٹ بتائے ہیں کہ ہر کہانی انھیں میں سے کسی ایک کی شکل ہوتی ہے۔
پہلی قسم یہ کہ آپ کا ہیرو کسی بلا، جن، دیو، وبا یا طوفان وغیرہ کا مقابلہ کرتا ہے۔ دوسری قسم یہ کہ آپ کا ہیرو غریب کردار ہے اور وہ امارات تک کا سفر کرتا ہے اور کام یابی حاصل کر لیتا ہے۔ تیسری قسم کا پلاٹ یہ ہے کہ آپ کا کردار کسی چیز کی تلاش میں نکلتا ہے، مہم پہ۔ کسی چیز کو کھوجنے کو نکلتا ہے مثلا: کوئی خزانہ یا اپنی فلم کے لیے کسی ہیروئن کی تلاش وغیرہ۔ چوتھا یہ ہے کہ ہیرو کسی بحری سفر پہ نکلتا ہے اور واپس ہوتا ہے۔ جیسے ”کاسٹ اوے“ ایک فلم تھی۔ ”اولڈ مین اینڈ دا سی“ یا مشہور زمانہ فلم ”ٹائٹینک“۔ پانچواں یہ کہ آپ کے کردار کا ’دوسرا جنم‘ ہوتا ہے۔ اگر آپ گہرائی سے سوچیں تو شاید یہ ٹریجڈی سے ملتا جلتا ہے۔ چھٹا کامیڈی ہے۔ اس میں کنفیوژن ہو سکتی ہے۔ مس ایڈوینچر ہو سکتا ہے۔ سچوایشنل کامیڈی/کامیڈی آف ایرر ہو سکتی ہے۔ اس میں کردار اور پلاٹ سادہ ہوتے ہیں۔ ساتواں ٹریجڈی ہے۔ ٹریجڈی کی بات ہم تفصیل سے کر چکے ہیں جس میں کردار پہلے سے بہتر انسان بن کے ابھرے۔

پلاٹ ترتیب دیتے وقت آپ پلاٹ میں فلیش بیک کا استعمال کر کے قاری یا ناظر کو ماضی اور موجودہ وقت کے درمیان آگے پیچھے جھلا سکتے ہیں۔ یہ ایک دل کش تیکنیک ہے۔ جیمز ہلٹن کا ناول ”گڈ بائے مسٹر چپس“ اس کی مثال ہے۔ ایسے ڈرامے یا فلمیں دل چسپ ہوتی ہیں اور قاری کو خوب باندھ کے رکھتی ہیں۔

فلم یا ڈراما جو بھی لکھا جائے، پلاٹ میں ’سسپنس‘ یعنی آگے کیا ہو گا کا احساس، ہر مرحلے پہ خصوصی کاوش سے رکھا جائے۔ جب کہ کلائمکس پہ سسپنس بڑھ کر ’خطرہ‘ بن جائے۔
ایک لکھاری کو ہسٹری کیا ہے، جیو گرافی کیا ہے؟ لاجیک، ایجادات ہر شے کا علم ہونا چاہیے۔

انگریزی بیسٹ سیلر Jerry B. Jenkins جنھوں نے چالیس برس میں 190 کتابیں لکھیں، انھیں ضرور سنا جائے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ کام کتنی زیادہ تنظیم مانگتا ہے۔ وہ ایکسل شیٹ، سپریڈ شیٹ کے اوپر پورا ٹائم ٹیبل بنا کر کمال خوبی سے خود کو آرگنائز اور ڈیڈ لائنز کے لئے پابند کرتے ہیں۔ اپنی میز کے اوپر ہسٹری چارٹ رکھتے ہیں کہ حالات و واقعات کی ترتیب میں کسی غلطی سے بچا جا سکے۔

ایک اچھا پلاٹ تشکیل دینے کے بعد جب تحریر درمیان یا اس سے کچھ زائد ہو جاتی ہے تو اکثر لکھنے والے تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں (اس مرحلے کے لیے ”میرتھن آف دا مڈل“ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے)۔ یہاں قلم کار کو پہلے سے زہادہ زور لگانا پڑتا ہے، تا کہ اپنی تخلیق مکمل کر سکے۔ سب سے اہم بات یہ کہ آپ ڈراما لکھ رہے ہیں یا فلم۔ اس کا اختتام جذبات کو، دل کو چھونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply