گیلانی صاحب کے امین کشمیری ہیں، ان کے رشتہ دار نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینئر حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی طرف سے حریت کانفرنس کی صدارت سے مستعفی ہونے کے اعلان کی حقیقت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اس بارے میں ان شکوک کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ گیلانی صاحب کی شدید علالت کی صورتحال میں ان کے قریبی رشتہ دار گیلانی صاحب کی مرضی و منشا کے برعکس اپنی مرضی سے گیلانی صاحب کے نام سے سیاسی بیانات جاری کرتے آ رہے ہیں۔ سینئر تحریکی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آزادی کی مزاحمتی تحریک کے سیاسی شعبے سے متعلق خرابیوں، بد اعمالیوں کے تدارک کے لئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ حریت کانفرنس کے ایک مفاداتی کلب ہونے کے تاثر کو زائل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

6 جولائی کو ’کشمیر میڈیا سروس ( کے ایم ایس) اسلام آباد سے سید علی شاہ گیلانی کے حوالے سے ایک بیان شائع ہوا جس میں 8 جولائی کو برہان وانی کے یوم شہادت اور 13 جولائی کو‘ یوم شہدائے کشمیر ’کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی گئی۔ 7 جولائی کو مقبوضہ کشمیر پولیس کی طرف سے جاری ایک بیان میں دعوی کیا گیا کہ سید علی شاہ گیلانی کے خاندانی ذرائع نے کہا ہے کہ برہان وانی کے یوم شہادت اور‘ یوم شہدائے کشمیر ’کے موقع پر کشمیریوں کو ہڑتال کرنے کی اپیل والا خط سید علی شاہ گیلانی نے جاری نہیں کیا ہے۔ گیلانی صاحب کے خاندانی ذرائع نے مقبوضہ کشمیر پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ گیلانی صاحب گزشتہ سال اور ہر سال برہان وانی کے یوم شہادت اور‘ یوم شہدائے کشمیر ’کے موقع پر ہڑتال کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ یوں ہندوستان کی طرف سے 5 اگست 2019 کے اقدام کے بعد گیلانی صاحب کی طرف سے کشمیری شہداء کے یوم کے حوالے سے ہڑتال کی اپیل نہ کرنے کی ان کے خاندانی ذرائع کی بات میں کوئی وزن نہیں ہے۔

چند ہفتے قبل سید علی شاہ گیلانی کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی تعریف و توصیف پر مبنی دو خطوط کی صحت سے متعلق اعتراضات اٹھاتے ہوئے وسیع پیمانے پر تشویش کا اظہار سامنے آیا تھا اور ان اطلاعات کو تقویت حاصل ہوئی کہ گیلانی صاحب کے چند قریبی رشتہ دار گیلانی صاحب کے نام سے سیاسی بیانات جاری کر رہے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کے سینئر رہنما سید علی شاہ گیلانی کی طرف سے استعفے کے اعلان اور جاری خطوط کی حیثیت مشکوک سے مشکوک تر ہو چکی ہے۔

سینئر حریت رہنما اشرف صحرائی کے متعین کردہ تین رکنی وفد کو گیلانی صاحب سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، جو گیلانی صاحب سے منسوب بیان کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے ملاقات کرنے گیلانی صاحب کی رہائش گاہ پہنچا تھا۔ گیلانی صاحب کے بیٹے نعیم گیلانی نے گھر کے بیرونی گیٹ پہ آ کر ان سے کہا کہ آپ کو پولیس اہلکار ملنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دوبارہ آنے کی بات پر بھی انہوں نے وفد سے کہا کہ دوبارہ آئیں تو بھی مجھ سے ہی ملاقات ہو گی۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک بیان کے ذریعے گیلانی صاحب کی وفات کی صورت ان کی نماز جنازہ کا شیڈول بھی جار ی کیا گیا تھا اور اس وقت سے اب تک گیلانی صاحب کی صحت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ سید علی شاہ گیلانی صاحب کی اہلیہ محترمہ تحریک آزادی کے سینئررہنما اشرف صحرائی کے فرزند کی شہادت پر ان کے گھر گئیں۔ اشرف صحرائی اور ان کی اہلیہ نے گیلانی صاحب کی اہلیہ سے گیلانی صاحب کی صحت کے بارے میں دریافت کیا تو گیلانی صاحب کی اہلیہ آبدیدہ ہو گئیں اور کہا کہ کئی بار تو گیلانی صاحب مجھے بھی نہیں پہچانتے۔

گیلانی صاحب کے ایک قریبی ساتھی شاہ ولی محمد، جو سوپور کے رہنے والے ہیں، گیلانی صاحب سے ملنے گئے، انہیں گھر میں بٹھایا گیا اور گیلانی صاحب کو اس کمرے میں لایا گیا جہاں وہ موجود تھے۔ شاہ ولی محمد کا کہنا ہے کہ گیلانی صاحب کو جس طرح کمرے میں لایا گیا، وہ ان کے لئے صدمے کی بات تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گیلانی صاحب ان کو بھی پہچان نہیں رہے تھے اور بتانے کے باوجود بھول جاتے تھے کہ وہ کون ہیں، اور دوبارہ وہی بات دریافت کرنے لگتے تھے۔ اس موقع پر شاہ ولی محمد نے گیلانی صاحب کے بیٹے نعیم سے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی وقار اور نفاست سے گزاری ہے، اب ان کے نام سے خطوط جاری کرتے ہوئے ان کو آخری عمر میں کیوں زمین پر پٹخ رہے ہیں۔ اس پر نعیم گیلانی نے جواب دیا کہ اس بارے میں دو تین دن میں ہم فیصلہ کر لیں گے۔ اور دو دن کے بعد ہی گیلانی صاحب کے استعفے والا خط سامنے آ گیا۔

چند ماہ قبل گیلانی صاحب کے نام سے ایک خط دکھایا گیا جس میں آزاد کشمیر، پاکستان میں حریت کانفرنس (گ) کا نیا کنوینئر اور نئی باڈی تشکیل دی گئی۔ اس کے چند ہی دنوں کے بعد گیلانی صاحب کی طرف سے مزید ایک خط سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ ان کے نامزد کردہ کنوینئر سے تعاون نہ کیے جانے کی صورتحال میں نامزد کی جانے والی باڈی کو ختم کر کے کنوینئر کو ہی تمام اختیارات سونپے گئے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے دو تین ہفتے قبل جاری بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں گیلانی صاحب کے نام سے جعلی خطوط جاری کروا رہی ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اسی سال فروری میں گیلانی صاحب سے منسوب ایک انگریزی کے خط میں مقبوضہ کشمیر میں منشیات کے کاروبار کی بات کی گئی اور اس وقت پاکستان کے خلاف جی سیون ممالک کی طرف سے قائم کر دہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس جاری تھا۔

گیلانی صاحب کے مختصر آ ڈیو بیان پر ایک بڑا شک یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گیلانی صاحب کی محض آواز کے بجائے گیلانی صاحب کا وڈیو پیغام کیوں جاری نہیں کیا گیا؟ اگر گیلانی صاحب نے ہی یہ باتیں کی ہیں تو اس کو وڈیو کے بجائے آڈیوکی صورت کیوں جاری کیا گیا؟ اسی طرح گیلانی صاحب سے منسوب خط میں تقریباً تمام باتیں آزاد کشمیر /پاکستان میں حریت نمائندگان سے متعلق کی گئی ہیں اور اس طرح کا اظہار بیان گیلانی صاحب کی شخصیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

چند سال قبل ایک تحریکی رہنما نعیم خان کے ایک بیان کو بنیاد بناتے ہوئے ہندوستانی ادارے ’این آئی اے‘ کے ذریعے تحریکی رہنماؤں کے خلاف بیرون کشمیر سے رقومات کی منتقلی کے الزامات میں وسیع پیمانے پر سخت کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا اور اب گیلانی صاحب سے ایک خط منسوب کرتے ہوئے کرپشن وغیرہ کے امور کو ہی موضوع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس تمام صورتحال میں سنیئر تحریکی رہنماؤں پر ذمہ داری عائید ہوتی ہے کہ وہ کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کے سیاسی شعبے کی خرابیوں اور کوتاہیوں سے متعلق اصلاحاتی طرز عمل اپنائیں تا کہ کشمیریوں کی سیاسی نمائندگی کی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکے۔ گیلانی صاحب کی سیاست کے امین عام کشمیری ہیں، ان کے خاندان کے افراد نہیں۔ گیلانی صاحب کی عزت ا ور وقار کا خیال رکھنے کی ذمہ داری ان کے قریبی ساتھیوں کی ہے اور انہیں اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply