سعادت حسن منٹو کون تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منٹوکو کچھ لوگ ایک افسانہ نگار کہتے ہیں اور کچھ انہیں فحش نگار بھی کہتے ہیں مگر میں انہیں ”اندھوں کے شہر میں آئنہ بیچنے والا“ کہوں گا کیونکہ منٹو صاحب وہ ہستی تھے جو حقیقی افسانے لکھتے ہیں جو کہ منٹو کے لیے بھی بہت تکلیف دہ ثابت ہوئے، عدالتوں کے چکر بھی لگانے پڑے اور لوگوں سے باتیں سننیں کو ملیں۔ فتووں کا سامنا بھی رہا اور پاگل خانے بھی کچھ دن بسر کیے۔

اگر سچ پوچھیں تو منٹو نے ایسے معاشرے کے سامنے سچ بولا جو عملی طور پر کچھ کرنے غلط کرنے سے تو باز نہیں آتا مگر انہی کرتوتوں کو لکھنے پر بہت بھونکتا ہے۔ یہ شرف منٹو کو ہی حاصل تھا کہ کسی کے بھونکنے کے باوجود بھی حق کو لکھا.

باقی افسانہ نگاروں کی طرح منٹو نے بھی کچھ موضوعات کو پسند کر کے ان پر لکھنا شروع کیا، ہر افسانہ نگار کا ایک خاص طرز، ایک خاص انداز اور اسلوب ہوتا ہے جو اسے باقی افسانہ نگاروں سے منفرد بناتا ہے، ہر افسانہ نگار اپنے معاشرے و ماحول کا ترجمان ہوتا ہے آپ کسی افسانہ نگار سے کوئی خاص ڈیمانڈ نہیں کر سکتے آپ کسی افریقہ کے باشندے سے ایشیاء کے حالات پر تبصرہ کرنے کے لئے نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح منٹو نے بھی اپنے ماحول اپنے معاشرے میں موجود پسے ہوئے طبقے کے افراد پر لکھنا چاہا، انہونے ایک ایسی دنیا کے باشندوں پر قلم اٹھایا جسے ہم ”گنہگار لوگوں کی دنیا“ کہتے ہیں۔ منٹو سے پہلے تک اردو ادب میں اس دنیا کے باشندوں کے حالات کسی نے نہیں لکھے، کیونکہ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں گنہگاروں کے حالات لکھنا تو دور گنہگار لفظ کہنا بھی جرم ہے کیونکہ یہ لفظ ایک گالی ہے اس لئے شاید کسی کو ہمت ہی نہیں ہوئی کہ رنڈیوں، قحبہ خانوں، دلالوں پر کچھ لکھ سکے، کسی انسانیت کے لبادے میں چپھے بھیڑیے کو ایکسپوز کرسکے، ایسے میں سعادت حسن منٹو نے اٹھ کر معاشرے کے کنجر خانوں اور غلاظت سے بھرے کچرے کے ڈھیر میں رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ حیوانیت میں انسانیت اور انسانیت میں سے حیوانیت نکال کر ہمیں دکھا سکے۔ آپ منٹو کے نظریات سے اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن اس کے لکھے ہوئے سچ کو جھٹلا نہیں سکتے آج بھی کھول دو کی سکینہ ازار بند سرکا دیتی ہے، آج بھی کسی کوٹھے کی کوئی طوائف محرم میں کالی شلوار کے لئے پریشان رہتی ہے آج بھی قبروں سے ٹھنڈا گوشت نکال کر ہوس پوری کی جاتی ہے، آج بھی عورت کو دفتر میں پرسنل طوائف بننے کا لائسنس دیا جاتا ہے، آج بھی معاشرہ غلاظت سے بھرا ہے،

جو لوگ منٹو کو فحش، شرابی اور ہوس پرست کہتے ہیں میرا ان سب سے سوال ہے کہ غلاظت میں رہنے والا انسان نارمل انسان ہو سکتا ہے، کیا ایک نارمل انسان ادب تخلیق کر سکتا ہے؟ غالب اور منٹو میں کیا فرق ہے، دونوں ہی شرابی تھے، کیا منٹو پر سوال اس لئے اٹھایا جاتا ہے کہ انہونے آپ کے ننگ کو سب پر ظاہر کیا؟ اگر شراب کسی ادیب کی اچھائی اور برائی کا معیار ہے تو غالب کا دیوان جلادیں، میر کو نصاب سے نکال دیں، اور ان دونوں کی جگہ کسی پرہیز گار مولوی صاحب کی تصنیف شامل کریں۔ یا اپنی انکھیں بند کریں تاکہ آپ کو آئینے میں اپنا چہرہ نظر نہ آئے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان اسلم کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments