پولیس گردی کا شکار یونس مسیح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحصیل گوجر ہ کے نواحی گاؤں جلیانوالہ کے رہائشی یونس مسیح کو فیصل آباد کے تھانہ غلام آ باد کی پولیس نے رات کے اندھیرے میں گھر میں داخل ہو کر زود و کوب اور تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔ یونس مسیح کا بیٹا وقار یونس مسیح تھانہ سٹی گوجرہ میں مقدمہ نمبر 520 / 19 زیر دفعہ 302 / 324 کا مضروب اور چشم دید گواہ ہے۔ اور ملزمان مرحوم اہلخانہ پر پریشر ڈال رہے ہیں کہ وہ ان سے صلح کر لے۔ وقار یونس کے انکار کے رنج میں ملزمان کے کزن برادرم عارف جٹ نے ہمراہ اپنے ساتھیوں کے غیر قانونی ریڈ کر کے یونس مسیح پر تشدد کیا اور اس کے دونوں بیٹے کو گرفتار کر کے لے گئے۔ پولیس تشدد اور بیٹوں کے اغوا کے غم سے یونس مسیح وفات پا گیا۔

یونس مسیح گوجرہ کے گاؤں جلیانوالہ میں کرائے کے مکان میں اپنی بیوی طاہرہ اور پانچ بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔ یو نس مسیح بڑھاپے کے باعث گھر میں رہتا تھا جبکہ اس کے تین بیٹے قریب قریب کے گاؤں میں کپڑا بیچ کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ یونس مسیح کے بیٹا وقار یونس مقدمہ نمبر 520 / 19 میں چشم دید گواہ ہے اور مذکورہ مقدمہ میں مضروب بھی ہے۔ جس میں ملزمان نے پہلے تو وقار یونس کو مالی پیشکش کی، جو وقار نے قبول نہ کی۔

مابعد مورخہ 22۔ 6۔ 2020 کو 3 بجے صبح عارف جٹ پولیس ملازم نے ہمراہ چھ سات نامعلوم افراد کے مسلح ہو کر گھر کی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہو کر یونس مسیح کے خاندان کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اور وقار یونس کا پوچھنا شروع کر دیا جو کہ گھر میں نہ تھا۔ عارف جٹ نے وقار یونس کے دو چھوٹے بھائیوں کو پکڑا اور ساتھ لے جانے لگے۔ اسی پریشانی میں یونس مسیح کو روک کر اپنے بچوں کا جرم پوچھنے کی کوشش کی تو تمام لوگ یونس مسیح پر تشدد ٹھڈوں اور مکوں سے تشد د کرنے لگے اور اسے گرا کر اس پر چار پائی پھینک یونس مسیح کے بیٹوں کے اغوا کر کے فرار ہوگئے۔ صبح دس بجے تک یونس مسیح کے خاندان کے افراد نے گوجرہ کے تمام تھانوں میں پتہ کیا مگر اس کے بیٹوں کا پتہ نہ چلا۔ اسی غم اور پولیس تشدد کے باعث یونس مسیح وفات پا گیا۔

یونس مسیح کی بیوہ طاہرہ بی بی نے بتایا کہ ہمیں ابھی تک رات کو خوف محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح سے پولیس والو ں نے رات کے اندھیرے میں ہماری دیواریں پھلانگیں اندر داخل ہو کر ہمیں اسلحہ تان کر صحن میں زمین پر بٹھا دیا، ہمارے گھر کی الماریاں توڑ دیں، گالم گلوچ کیا، میرے میاں کو چارپائی سے ٹھڈے مار کر نیچے گرایا، میرے میاں کے منہ پر پاؤں رکھ کے دھمکیاں دیں کہ تمہارے بچوں پر مقدمے کر کے لمبا ہی جیل بھیجوں گا اور تمہیں اس گاؤں سے نکا ل کر در بدر کریں گے۔ ہم کرائے دار ہیں محنت مزدوری کرتے ہیں یہ جٹ کہیں میرے بچوں کو نہ کچھ کردیں۔ بس اسی خوف میں دن گزرتا ہے اور رات بھر مارے خوف کے نیند نہیں آ تی۔

یونس مسیح کے بیٹوں کا کہنا ہے کہ پولیس گردی ہمارے والد کی اکلوتی وجہ سے عارف جٹ نے پولیس کی وردی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ساتھ سنگین زیادتی کی ہے۔ اس سے بڑی زیادتی پنجاب پولیس کے لوگ ڈی پی او صاحب تھانہ سٹی کی پولیس اپنے ساتھیوں کو تحفظ دے کر کر رہی ہے۔ پولیس نے ہمارے مقدمے میں دفعہ بھی پوری نہ لگائی ہیں اور اورتفتیش میں بھی ہمیں ذلیل و خوار کر ہے ہیں۔

پنجاب پولیس کا یہ رویہ مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں کے ساتھ عمومی ہے۔ اس کے پیچھے معاشی، سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے کمزور ہونے کی سوچ ہے اور ریاست کا اقلیتوں کے ساتھ رویہ ہے۔ جو اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply