ہمارا بنیادی سیاسی مسئلہ: ’’کوئز لنگ لیگ‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2020ء کے پانچ جولائی نے پھر وہی سوال دہرایا ہے۔ کیا سیاستدانوں کی نا اہلی کے باعث وردی والے آتے ہیں یا پھر وردی والوں کی نا اہلی کے باعث اہل سیاست کو موقع مل جاتا ہے۔ 1950ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی امریکی سفارتخانہ کی خفیہ خط و کتابت ایوب خاں کی اقتدار کی شدید خواہش ظاہر کرتی ہے۔ ایک موقع پر وہ امریکی سفیر سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکے۔ ہم اس ملک کو سیاستدانوں کے ہاتھوں تباہ ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ آخر کچھ ہماری بھی ذمہ داریاں ہیں۔ لیکن 1958ء میں اقتدار پر قبضہ کر لینے کے بعد صدر ایوب اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کیلئے انہی سیاستدانوں کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہو گئے۔

مادر ملت کے خلاف صدارتی الیکشن میں پنجاب اور سندھ کے ان سیاسی گھرانوں میں ووٹ مانگنے بھی پہنچے جن پر انتظامیہ اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ پھر یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ وردی والوں کوہمیشہ سیاستدانوں کے موثر طبقے کی حمایت مل جاتی ہے۔ یہ طبقہ وہ ہے جواپنے مفاداتی مسائل کے باعث اقتدار سے دور نہیں رہ سکتا۔ عوامی بیداری اور اپنی صحت کے ہاتھوں معذوری نے صدر ایوب کو کمزور کر دیا۔ انہوں نے اقتدار اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کے سپرد کرنے کی بجائے فوج کے سربراہ کے حوالے کیا۔ ان سے اقتدار چھینا گیا یا یہی ان کی منشاء تھی؟ یہ ایک الگ سوال ہے۔

سقوط ڈھاکہ میں آپ فوجی حکمران جنرل یحٰیی خاں کا کردار نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس جرم میں ایک سیاستدان بھٹو اور ایک سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کا کردار بھی نمایاں ہے۔ سقوط ڈھاکہ اور ہندوستان میں نوے ہزار فوجی قیدیوں کے باوجود جنرل یحییٰ خاں اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ قوم کو ایک نئے آئین کی’’ بخشیش‘‘ کرنے کے بارے سوچ رہے تھے۔ لیکن نوجوان فوجیوں کے شدید رد عمل کے باعث انہیں پسپا ہونا پڑا۔ اقتدار بھٹو کو مل گیا۔ یہ سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گے۔ بھٹو عوامی مقبولیت کی معراج پر کھڑے تھے۔ فرزند اقبالؒ اور سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس جاوید اقبال کے لکھے ایک واقعہ سے فوج کے مقابلہ میں بھٹو کی بے بسی عیاں ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں ایک کرنل کے خلاف ایک دیوانی نوعیت کا مقدمہ زیر بحث تھا۔ صریحاً زیادتی پر جج صاحب نہ رہ سکے اور انہوں نے کرنل کی تھوڑی سی سرزنش کی۔ آرمی چیف ٹکا خاں نے اس واقعہ کی بھٹو سے شکایت کی۔ بھٹو نے چیف جسٹس شمیم قادری کو بلایا اور یہ کہتے ہوئے کہ ہم ابھی جنگل میں رہتے ہیں۔ انہیں اپنے جج کو سنبھالنے کا کہا۔ متعلقہ جج صاحب اتنے خوفزدہ ہوئے کہ معافی تلافی ملنے پر انہوں نے داتا صاحب شکرانے کی دیگیں بھی چڑھائیں۔ آپ دو بھائی ہیں۔ ایک بھائی کے پاس بندوق ہے اور دوسرا نہتا ہے۔ اب نہتے بھائی کی اپنے بھائی کے مقابلے میں طاقت صرف اس کی اخلاقی قوت ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے اس معاملے میں سیاستدانوں کی رپورٹ بہت اچھی نہیں۔ اچھی رپورٹ بندوق والے بھائی کی بھی نہیں۔ لیکن اسے بوجوہ ڈسکس نہیں کیا جا سکتا۔

اگر قدرت اللہ شہاب کی ’’یاخدا‘‘ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ 1947ء میں مہاجر کیمپوں میں بھی سیاسی کارکنوں کے اخلاقی معاملات قابل ستائش نہیں تھے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بیورو کریٹ قدرت اللہ شہاب نے اپنی تحریروں میں سیاستدانوں کی کردار کشی کا کوئی موقع کبھی ضائع بھی نہیں کیا۔ اب آتے ہیں پانچ جولائی 1977ء کے تاریخی دن کی طرف۔ مرتضیٰ سولنگی نے اسے بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ اس روز ریڈیو پاکستان سے صبح چھ بجے کا نیوز بلیٹن چل رہا تھا۔ اس میں بھٹو کی رات والی پریس کانفرنس کی تفصیل تھی۔ اپوزیشن کے مزید مطالبوں کا ذکر بھی تھا۔ بھٹو کے مطالبے ماننے کا مذکور بھی تھا۔ بھٹو کی بے بسی بھی تھی۔ قدرے اعتماد بھی تھا۔ اپوزیشن میں وہ لوگ بھی موجود تھے جو سمجھوتے کے علاوہ کچھ اور چاہتے تھے، وہی ق لیگی ذہنیت۔ نیوز بلیٹن کے مطابق بھٹو نے کہا کہ ہفتہ کے روز ہمارے درمیان جو سمجھوتہ طے پایا تھا ، اب  PNA اس پر پھر بات کرنا چاہتا ہے۔ وہ بلیٹن سنے تو بندہ خون کے آنسو روتا ہے۔ بھٹو کے مطابق دو جولائی کو سمجھوتہ ہو چکا تھا۔ لیکن اب مزید بحث تکرار شروع کر دی گئی ہے۔ نیوز ریڈر ناہیدہ بشیر روانی سے خبریں پڑھ رہی تھیں۔ خبریں ختم ہونے میں صرف آدھا منٹ باقی رہ گیا۔

اسٹوڈیو کا دروازہ کھلا۔ دروازہ کھلنے کی آواز آج بھی ریکارڈنگ میں صاف سنائی دیتی ہے۔ ناہیدہ بشیر کی گھبرائی ہوئی خوفزدہ آواز میں مارشل لاء لگانے کی خبر کے ساتھ خبریں ختم ہو گئیں۔ آمریت کی تاریک رات اور جناح کے پاکستان کو دفن کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پھر ایک اسلامائزیشن کی لہر آئی اور وہ عقل ، شعور، رواداری اور توازن سمیت معاشرے سے سب کچھ بہا کرلے گئی۔ اب صورتحال یوں ہے۔ ابن خلدون کیا کہتے ہیں؟ غزالی کی کیا رائے ہے؟ علامہ اقبالؒ کا کیا خیال ہے؟ یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ یہاں نافذ جب بھی ہوگا، ملا کا اسلام ہو گا۔ ہمارے ملا مولوی صرف نماز، صبر اور تقدیر پر زور دیتے ہیں۔ یہ محکوم اور مظلوم طبقے کو دبانے کا ایک طریقہ ہے۔ آج دانش اور شعور کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ خانہ کعبہ میں اجتماع محدود ہو سکتے ہیں لیکن ہم ایسا پاکستان میں نہیں کر سکتے۔ یہاں ہر دینی مدرسہ’’ لال مدرسہ‘‘ ہے۔ ہم قربانی کے پیسے غریبوں میں نہیں بانٹ سکتے۔ عید کی نماز گھر نہیں پڑھ سکتے۔ ہمیں کرونا کی بڑھوتری منظور ہے لیکن ہم ملا کی ہٹی بند نہیں کر سکتے۔

پانچ جولائی 1977ء کے نیوز بلیٹن میں فوج ، بھٹو اور ق لیگ ، تینوں فریق دکھائی دے رہے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ اس دور میں ق لیگ نہیں تھی۔ ق لیگ کیا ہے؟ اس کی تشریح جینئس سیاستدان نواب اکبر بگٹی کی زبانی سنیے۔ سعید اکبر نوانی بھکر سے پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے۔ یہ اپنے دوست کے ہمراہ نواب اکبر بگٹی سے ملنے چلے گئے۔ جب ان کا تعارف مسلم لیگی رکن اسمبلی کے طور پر کروایا گیا تو نواب صاحب نے پوچھا۔ کون سی مسلم لیگ؟ جواب ملا، قائد اعظمؒ مسلم لیگ۔ نواب صاحب بولے۔ یہ ق لیگ قائد اعظمؒ مسلم لیگ نہیں، کوئزلنگ لیگ ہے۔ ان کا اشارہ دوسری جنگ عظیم کے ایام میں ناروے کے وزیر اعظم کوئزلنگ کی طرف تھا۔ جنہوں نے خود ہی ہٹلر کو پیغام بھیجا تھاکہ آپ فتوحات کا آغازمیرے ملک ناروے پر قبضہ سے کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply