شیخ لئیق احمد: بنام مرشد نازک خیالاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیخ لئیق احمد کی عمر لگ بھگ اسی سال ہے۔ چھ سال کی عمر میں بٹوارہ دیکھا۔ نامساعد حالات میں بھارتی پنجاب سے ہجرت کر کے پاکستان پہنچے۔ بلوے مار کاٹ خون ریزی ہم نے کتابوں میں پڑھی ہے انہوں نے آنکھوں سے دیکھی اور خود بھگتی ہے۔ حالات کے تھپیڑوں نے فیصل آباد لا پٹخا۔ محنت ان کا شیوہ ہے اس لیے آٹو پارٹس کا کاروبار شروع کیا۔ ایسا کبھی ہوا ہے کہ محنت کرنے والے کی کبھی ہار ہوئی ہو۔ اللہ پاک نے رنگ لگایا۔ سرائیکی وسیب سمیت پورے پنجاب میں کاروبار پھیلا دیا۔

اس وقت آن لائن بینکنگ اور ٹرانزکشن کی بجائے زبان کی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ لاکھوں کے سودے زبان پہ ہوتے تھے۔ اس لیے اصول پسندی ان کی سرشت میں شامل ہے۔ خاندانی آدمی تھے اس لیے خاندان پہ توجہ دیتے تھے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت پہ خصوصی توجہ تھی اسی لیے بیٹا انٹرمیڈیٹ میں بورڈ میں اول آیا پھر قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ بیٹیوں نے بھی ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ساٹھ ستر کی دہائی میں جب کار رکھنا چھوڑ موٹر سائیکل رکھنے والے کو بھی متمول سمجھا جاتا تھا اس وقت ان کے پاس اپنی گاڑی تھی۔

راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ صبح دکان پہ جانا دوپہر میں گھر کا کھانا اور شام کو دوستوں کے ساتھ چائے اور گھر۔ سادہ سی روٹین تھی۔ اللہ پاک نے ان کے طفیل چند اور گھرانوں کے رزق کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا۔ اچانک ملک میں مسلکی مذہبی جنونیت کی اک لہر اٹھی۔ پہلے پہل ان کو دھمکایا گیا ان کی دکان پہ چوریاں ہوئی۔ خاندان میں ڈکیتیاں ہوئیں۔ یہ ڈٹے رہے۔ ان کو اپنا ہی چوری شدہ مال دوبارہ خریدنا پڑا۔ کچھ عزیز بیرون ملک چلے گئے۔

مگر انہوں نے وطن کی خاطر دی جانے والی قربانیاں دیکھ رکھی تھیں اس لیے دیس نکالا قبول نہ کیا۔ حتیٰ کی ان کی دکان کو جلا دیا گیا۔ عزم نو ”کے ماٹو کے تحت محنت خدا کے فضل نے جلد پہلے سے آگے کر دیا۔ چھیاسی کے بعد چوریاں ڈاکے فرقہ واریت اور تعصب کے ساتھ بچوں کی جان اور عزت کو خطرہ محسوس کرتے نوے کی دہائی کے اوائل میں نقل وطن کا سوچا اور دو ہزار ایک کے اواخر میں کینیڈا سدھار گئے۔ کینیڈا میں بھی زندگی اتنی آسان نہیں تھی۔

اوائیل میں سڑک کنارے اک گیس سٹیشن خریدا۔ جس سے ملحقہ گھر میں رہائش اختیار کی۔ سٹیشن کی حالت ان کے معاشی حالت کی طرح خستہ تھی مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور تین ساڑھے تین سال تک روز صبح چار بجے جاگ کر بسم اللہ پڑھ کر کام کا آغاز کرتے اور رات گئے تک جتے رہتے۔ محنت رنگ لائی حالات بہتر ہوئے تو گیس سٹیشن فروخت کیا اور نسبتاً بہتر جگہ پہ شفٹ ہو گئے۔ آج برامپٹن کے اچھے علاقے میں ان کا شاندار گھر ہے گاڑیاں ہیں خوب صورت فیملی ہے بیٹے کا اپنا کاروبار ہے بیٹیا ں بیاہی گئیں اور اپنے گھروں خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں۔ دنیا بھر میں رشتہ دار پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر سال چھٹیاں منانے ملک ملک گھومتے ہیں مگر گزرے برس ان کے دل سے پاکستان کی محبت نہیں نکال سکے۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس کی بدولت ملک سے جڑے رہتے ہیں ہم جیسے نوجوانوں کی گوشمالی کرتے رہتے ہیں اور ملک کی بہتری کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔

راقم کے کئی بار درخواست کرنے کے بعد لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے اور ہم سب نامی معروف ویب سائیٹ پہ ان کی تحاریر نوجوانوں کو ماضی سے روشناس کراتی رہتی ہیں۔ خاکسار سے خصوصی شفقت و محبت کا رشتہ ہے۔ راقم نے یوٹیوب چینل بنانے کا ارادہ کیا تو پروفیشنل گرین سکرین اور بویا مائیک تحفے میں بھیجے۔ وقتاً فوقتاً ویڈیو کال بھی ہوتی رہتی ہے۔

سیاسی معاملات میں اختلاف بھی چلتا رہتا ہے مگر اک بات تو طے ہے کہ ان کے خلوص پہ شک نہیں کیا جا سکتا۔ شیخ صاحب کا دل سے احترام ہے مگر جو وطنیت ان کے دل میں بستی ہے وہ اس زمین پہ ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ سچ کہا خدا نے کہ دل ہے مگر سوچتے نہیں، آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں۔ دل سے سوچنا بھی بڑا عجیب کلام ہے۔ دماغ سے سوچنے والے کوتاہ نظر رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے کی جزا مانگتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ منافقوں کی صفوں میں شامل رہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قیام کے وقت سجدے میں گر پڑتے تاکہ تیر اوپر سے گزر جائیں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ خاکسار نے اک تاریخی غلطی کی طرف توجہ دلائی جس کے تصویری ثبوت اور عقلی دلائل بھی موجود تھے مگر وہ نصابی کتب کا حصہ نہیں جس پہ شیخ صاحب نے اس غلطی پہ بات کرنے کو انتشار پھیلانے پہ محمول کیا۔

حالانکہ وہ راقم کو نہیں اس معاملے کے متعلق ایسا فرما رہے تھے اور جواب میں اپنی آنکھوں دیکھی روداد سنا رہے تھے۔ یقیناً میرا ماننا ہے کہ کتابوں اور صحیفوں میں آنکھیں اندھی مت کرو۔ ایک دوسرے کی آنکھیں اور پیشانیاں پڑھو۔ ملاؤں، پنڈتوں اور پادریوں کی بھی ضرور سنو مگر کبھی دل و دماغ کی بھی سنو، دل سے پوچھو اور بتاؤ کہ تم کیا کہنا اور کیا کرنا چاہتے ہو۔ ہو سکتا ہے وہ اس معاملے میں درست ہوں اور مملکت کبھی غلط رہی ہو اس لیے غلط ڈاک ٹکٹ تک جاری کر دیے ہوں۔ مگر میری ان سمیت سب قارئین سے دست بدستہ گزارش ہے کہ کسی بھی سیاسی ناخدا کے لیے اتنا پریقین بھی نہیں ہونا چاہیے کہ کل کلاں توقعات ٹوٹنے کا دکھ سہنا پڑے۔ تعلقات اہم ہوتے ہیں رشتے اہم ہوتے ہیں دوستیاں اور محبت زیادہ اہم ہے۔

ہم وہ قوم ہیں جو نعروں اور تقریروں سے انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ جو کرنا ہے کریں مگر شبھ شبھ بولیں کہ بولیں تو باتوں سے پھول جھڑتے ہوں۔ نحمدہ ونصلی علیٰ کہہ کر تقریر شروع کریں اور دنیا جہان کے جھوٹ بولیں۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین کی آیت کا ورد کریں اور اندر خانے تعویذ گنڈے اور اوہام کے بت پوجتے رہیں۔ رحونیت کے مسائل اپنی جگہ مگر بھوک کے مسائل زیادہ مقدم ہیں۔ لہذا آئیڈیلزم کا شکار ہونے کی بجائے حقیقت پسندی کا دامن تھامیں ورنہ شیخ چلی اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *