6000 روپے بجلی کا بل اور تنخواہ میں 25% کٹوتی کا پہاڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وبا نے میرے اندازے کے مطابق بدترین اثر تو نہیں دکھایا مگر وطن عزیز میں معاشی حالات کا دھارا بدل ڈالا ہے۔ حکومت وقت نے وبا سے لڑنے کے لیے خاص اقدامات کیے ہوں گے مگر یہ خاص انتظامات حکومتی عہدیداران تک محدود رہے۔ عوام کو سڑکوں پر رُلتے میں نے انہی گنہگار آنکھوں سے دیکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس طبقے میں سے ہوں جس نے غربت بہت قریب سے دیکھ رکھی ہے۔ اور اسی غربت کا دوبارہ مزاچکھنے پر مجبور ہوں۔ کئی بر س پہلے کئی دن کئی راتیں نوکری کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھاتے اور ہری مرچ کے ساتھ سادہ روٹی کھاتے گزارے۔ جوانی تھی۔ سب کچھ برداشت کرنے کی ہمت تھی۔ کچھ ہمت عورتوں سے خصوصاً تفویض ہے۔ اسی کا فائدہ ہوا کہ بھوک کو امیرغریب سے بڑھ کر انسان کی میراث جانا اور جی جان سے گلے لگایا۔ تب ہمت نہ ہارنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ روٹی چاہے دو روپے کی نہیں خریدی مگر یہ نعرہ ہی ہمت بخشتا تھا۔ کچھ دوستوں کا بھی کمال رہا کہ ہمت بندھاتے رہے یوں وقت کٹتا رہا۔

کمرشل آرٹ سے گھر کا کرایہ اور بجلی گیس کے بل کا خرچ نکل آیا کرتا تھا۔ تب اپنی کوئی سیاسی سمجھ بوجھ کے ساتھ سٹوری لائن نہیں تھی۔ ٹی ہاؤس میں جو پی پی پی کے حامی کالے کوٹ والوں نے پارٹی دی تو اس کا حصہ بن کر چائے پینے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ جو کبھی نون لیگیوں نے ڈیرا جمایا تو وہاں بھی باتیں سنیں اور چپکے سے کھسک لیے کہ اپنا تو صرف چائے کا کوٹہ ہوا کرتا تھا۔ جو کہیں عاصمہ جہانگیر کے چاہنے والے جمع ہوئے تو وہاں بھی سننے سمجھنے کی نیت باندھی مگر چائے پی کر کھسکنے کے علاوہ کوئی آپشن استعمال نہ کی۔ فراغت تھی۔ آوارہ گردی کو خالص آوارہ گردی تک رکھا اور چائے پی کر کھسک گئے۔جن جن محفلوں میں گئے مزدوروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے ہتھکنڈے دکھائی دئیے۔ کوئی خالص مزدور ساتھی جماعت نظر نہیں آئی۔ جو کوئی ہو گی وہ میرے مشاہدات سے اوجھل رہی۔

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ سب جماعتیں بکواس لگنے لگیں۔ کیوں کہ سب ایک ہی تھالی کے بینگن دکھائی دیتے تھے۔ جو صرف بول سکتے ہیں۔ کچھ کر نہیں سکتے اور چونکہ کچھ کر نہیں سکتے اس لیے صرف بولتے ہیں کہ کوئی گرم خون جوش مارے اور کوئی جادو ہو جائے۔ لہٰذا ان جماعتوں کے بلاووں اور ان جگہوں پر جانا بند کر دیا۔ اور سکول کی نوکری کر لی۔ بھلا استاد خود معاشرے کا بگاڑ دیکھ رہا ہو تو بچوں کو صرف سلیبس پڑھائے گا؟ ہر گز نہیں۔ بچوں کو نصاب کے ساتھ ساتھ کہانیاں سنانی شروع کیں۔ میری جماعت میں ماشاللہ ہر طرح کے بچے تھے اور تعصب سب کے ذہنوں میں تھا۔ سندھی ،بلوچ، پنجابی، پہاڑی، پشتون، لاہوری  اور خدا کی پناہ۔ نجانے کن کن علاقوں سے خود کو منسوب کرتے یہ چوتھی جماعت کے انگریز بچے۔ چھ مہینے ان کو انسان بنانے کی کوشش میں لگ تو گئے مگر ان چھ مہینوں نے ادھ موا کر دیا۔

کچھ حادثات بھی جان لیوا ہوتے ہیں۔ کئی بار حادثات صرف بیماری لے آتے ہیں۔ وہی ہوا۔ صبح سویرے مجھ پر حملہ ہوا اور لیپ ٹاپ، موبائل اور دو کتابیں تھیں۔ کل متاع جاتی رہی۔ اس کے بعد طبیعت ایسی بگڑی کہ اثرات اب تک باقی ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ٹھہری کہ سکول جانے سے معاش کچھ بہتر ہوا تھا۔ کچھ صحت بھی اچھی رہی کہ محلے والوں کی نظریں میرا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ میں مزے سے صبح سویرے سائیکل دبائے سکول جاتی اور شام میں واپس آ جاتی۔ بھوک بھی لگتی تھی۔ اور دال ہی سہی مگر کھانے کو کچھ کمی نہیں تھی۔ انہیں دنوں میں سیاسی جماعتوں کے تمام بیانات میں بھول بھال چکی تھی۔ اور اتنا عرصہ سب سے کٹے رہنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ سب بھول بھال گئے۔

نئی نوکری شروع ہوئی تو بچے صرف یاد آتے تھے کہ لڑ جھگڑ کر وہ آخر ایک ہی جگہ بیٹھتے اور کھانا کھاتے تھے۔ اور یہ میرے چوتھی جماعت کے بچے ہی تھے جو سیاسی نہیں تھے۔ جو کھیلتے تھے تو صرف لڈو یا پسو پنجو۔ اور ایسی معصومانہ کھیلوں پر بھی پرنسپل کی طرف سے پابندی تھی کہ اس سے بچے شور کریں گے۔ اور سکول میں بچوں کو شور کرنے کی اجازت نہیں۔ ’شور نہ کرنے کی اجازت‘ ایک کھیل ہے۔ ’بچوں کو شور کرنے کی اجازت نہ دینا ‘سے مراد تہذیب سکھانا ہر گز نہیں ہے۔ انہیں جسمانی کھیلوں سے دور کرنا ایسا ہی ہے کہ مستقبل کے لیے اپاہج تیار کیے جا رہے ہوں جو نہ صرف ذہنی طور پر اپاہج ہوں بلکہ جسمانی طور پر بھی انہیں معذور بنایا جاتا ہے۔ اسی لیے میں نے ان کے لیے کہانیوں کا رستہ چنا۔

کہانیاں اس پرستان کی جہاں سب بچے خوب کھیلتے تھے۔ درختوں پر چڑھے شہتوت توڑ کر خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔ ایسی کہانیوں سے انہیں ہمت ملتی تھی۔ اور اس جیسی دوسری کہانیوں سے وہ تازہ دم رہتے تھے۔اب بھی بچے بہت یاد آتے ہیں کہ معاشی مسائل راہ میں رکاوٹ نہ ہوں تو میں انہیں بچوں کو مزید بگاڑ کر انہیں کھیلتا کودتا، ناچتا گنگناتا، ہنستا مسکراتا دیکھنے کی خواہش رکھتی ہوں۔ مجھے بچوں کے شور میں زندگی گیت کی مانند سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ احساسات ہیں جو اس وقت مجھے ہمت دیتے ہیں جب کہ میرے کندھے کام کے بوجھ سے اکڑے پڑے ہیں۔ اور یہ معاشی بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ کندھوں میں مسلسل درد نے ڈیرہ جما رکھا ہے۔ معدہ ہر دم بھاری رہتا ہے اور بھوک نہ لگنے کا سبب وہ پریشانیاں ہیں جو ملک خداداد میں نئی حکومت کی ایک غریب کو بطور تحفہ دین ہیں۔

گزشتہ شام، میرے پاس میری ایک سہیلی آئی۔ وہ اکثر محبت میں میرے کپڑے دھو دیا کرتی ہے اور میرے کمرے کو صاف کر دیا کرتی ہے۔ اس کا شام میں آنے کا مقصد ایک مدد کی پکار تھا کہ شاید میں اس کے کچھ کام آ جاؤں۔ اس میری طرح غریب عورت کے پاس نہ اے سی ہے نہ کوئی بھاری بھرکم الیکٹرانک مشین۔ لیکن ایڈجسٹمنٹ کے چکر میں 6000 روپے کا بل کسی میزائل کی صورت اس پر گرا اور وہ گرتی پڑتی میرے دروازے تک آ پہنچی۔ مجھے زیب نہیں دیتا تھا کہ میں خالی ہاتھ جانے دیتی سو اپنی جمع پونجی ہتھیلی پر رکھ دی اور یہ طے پایا کہ وہ یہ رقم مجھے نہیں لوٹائے گی۔ بدلے میں اس کو میری مدد کرنی ہو گی۔ میرے کندھوں کی راحت کا کچھ سامان کرنا ہو گا۔ اس ایگریمنٹ پر اس کا بل جمع ہو تو گیا۔ مگر میرے کندھو ں کا درد بڑھ گیا ۔ میری کندھوں نے تمام امت کے غم برداشت کرنے کا ٹھیکہ جو لے رکھا ہے۔ انہیں غموں میں ایک غم عالم میں مزدور طبقے کی تنخواہ سے پچیس فیصد کٹوتی کا پہاڑ ہے۔ اچھی بات میری یہ ہے میرے دوست مجھے ہمت دیتے ہیں اور میں محنت سے اپنے کام میں مگن ہوں۔ بری بات یہ ہوئی کہ وہ تمام جماعتیں دوسرے غم غلط کرنے میں مگن ہیں۔ مزدوروں کی نمائندگی کا ڈھونگ چاک ہو چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *