مردانہ معاشرے میں عورتوں کے بے نام رشتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شوہر کے بڑے بھائی کو جیٹھ اور چھوٹے کو دیور کہا جاتا ہے۔ کبھی سوچا کہ بیوی کا بھائی چھوٹا ہو یا بڑا اسے صرف سالا کیوں کہا جاتا ہے؟ بیوی کے بھائیوں کے لئے الگ الگ ٹائٹل کیوں نہیں؟ والد صاحب کے بڑے بھائی تایا اور چھوٹے چاچا کہلاتے ہیں۔ لیکن والدہ محترمہ کے سب بھائیوں کو صرف ماموں کیوں کہا جاتا ہے؟ یہ سب پدر شاہی نظام کا کارنامہ اور مردانہ معاشرے کا عکس ہے۔

ہر کلچر میں جس شے کی اہمیت ہو اسے خصوصی نام دیا جاتا ہے کیوں کہ نام کے ساتھ اس کی اہمیت و خصوصیات جڑی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر عربی زبان میں اونٹ اور گھوڑے کے لئے سینکڑوں الفاظ ہیں کیونکہ عرب معاشرہ میں اونٹ اور گھوڑے بردباری سے لے کر تجارتی نقل میں حمل اور جنگی محاذوں پر استعمال ہوتے تھے۔ اس کے برعکس گائے یا بھینس کے لئے عربی میں نسبتاً کم الفاظ ملیں گے کیوں کہ وہاں یہ زندگیوں کا اونٹ جتنا اہم حصہ نہیں تھیں۔

پدر شاہی معاشروں میں طاقت کا محور مرد ہوتا ہے۔ معاشرتی اور خاندانی سطح پر طاقت ایک مرد سے دوسرے مرد کو شفٹ ہوتی ہے جس میں عورتوں کی حیثیت محض رعایا کی سی ہوتی ہے۔ پاکستانی و انڈین معاشرے بھی بنیادی طور پر پدر شاہانہ معاشرے ہیں جہاں مردوں کی عورتوں پر حکمرانی ہے۔ چونکہ پدر شاہی ایک باقاعدہ نظام ہے، ایک سسٹم ہے تو ہر سسٹم کی طرح اس میں بھی طاقت اور ذمہ داریوں کے حساب سے درجہ بندیاں ہیں۔ طاقت کے حساب سے ٹائٹل دیے گئے ہیں۔

چونکہ طاقت و اختیارات ایک مرد سے دوسرے کو منتقل ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ درجہ بندی کے ساتھ ساتھ جانشین کی نشاندہی بھی بر وقت ہو جائے تاکہ ایک ”حکمران“ کے گزر جانے کے باعث اختیارات کی منتقلی میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اسی طرح زیادہ مردوں کی موجودگی میں ان کے باہمی اخیتارات بھی واضح ہوں تاکہ کوئی ”گستاخی“ کا مرتکب نہ ہو۔ ایک پوتے کے حساب سے بات کی جائے تو خاندانی سطح پر طاقت کا سرچشمہ دادا ہوتا ہے۔ اب اسے دادا کی حکمت سمجھئے یا قسمت کہ جائیداد اسی کے نام ہوتی ہے تو طاقت کا مرکز بھی رہتا ہے۔

دادا کے بعد سب سے زیادہ اختیارات تایا کے پاس ہوتے ہیں۔ تایا میرے ابا کے فیصلوں کو نہ صرف ویٹو کرنے کا حق رکھتے ہیں بلکہ اپنا فیصلہ تھونپ بھی سکتے ہیں۔ ابا یہی اختیارات چاچا پر استعمال کر کے اپنی انا کی تسکین کرتے یہں۔ البتہ گھر کی خواتین سے متعلق یہ درجہ بندی لاگو نہیں ہوتی۔ اس معاملے میں چاچا اپنی بڑی بھابی تک کی ڈانٹ ڈپٹ کر سکتا ہے۔

اسی طرح ایک بیوی کے حساب سے بات کی جائے تو شوہر تو ہے ہی ”مجازی خدا“ ۔ لیکن جیٹھ صاحب شوہر کی باز پرس کر سکتے ہیں۔ ویسے جیٹھ اور دیور کے القابات سے پہلے ہی بتا دیا جاتا ہے کہ نو بیاہتا کو کس کے سامنے زبان نہیں چلانی اور کون ”ماتھے کا ٹیکا“ ہے۔ سندھ میں عورتیں جیٹھ سے پردہ کرتی ہیں اور اس کی موجودگی میں اپنی رائے کا اظہار تک نہیں کر سکتیں۔ جبکہ پنجاب کے لوک گیتوں میں عورتیں اکثر یہ گاتی ہیں کہ دیور ماتھے کا ٹیکا ہوتا ہے۔ پنجاب میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب باپ کا انتقال ہو جائے تو بھلے بڑی بہن موجود ہو لیکن علامتی پگڑی بڑے بیٹے کے سر پر رکھی جاتی ہے کہ آئندہ وہ خاندان کا سربراہ ہو گا۔ اسے ایک چھوٹی سلطنت کی رسم تاج پوشی سمجھ لیجیے۔

اب اگر گھر کی خواتین کی بات کر لی جائے تو ابا کی تمام بہنیں پھوپھو ہیں۔ بڑی چھوٹی کا سابقہ لگا کر دل بہلا لیجیے ورنہ مردانہ معاشرے میں ان کے پاس اختیارات تو ہیں نہیں اور نہ ہی انہیں فیصلہ سازی کا حق ہے جو ان کی درجہ بندی کی جاتی۔ باقی عورتوں میں بھاوج اور نندیں ہیں۔ اب چھوٹی یا بڑی اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ انہوں نے کون سا عائلی مشاورتی عمل میں حصہ لینا ہے یا کوئی فیصلہ کرنا ہے۔

اب آئیے والدہ اور بیوی کے رشتہ داروں کی طرف۔ بیوی کی چھوٹی بہن یا بڑی، سب سالیاں۔ اب چونکہ یہ رشتہ ایک عورت کی وجہ سے جڑا ہوتا ہے تو اس طرف کے مرد بھی کسی کھاتے میں نہیں آتے۔ سب ماموں یا سالے۔ مستزاد یہ کہ کسی کو گالی دینی ہو تو ”سالا“ بول دیا جاتا ہے۔ یا اگر کسی کو بیوقوف بنا لیا تو اسے ”ماموں“ کا لقب دے دیا۔ ”سالا“ گالی کیوں ہے؟ یہ اس لئے گالی ہے کہ مردانہ معاشرے میں عورت مرد کی ملکیت سمجھی جاتی ہے اور ایک اصلی مرد وہی ہوتا ہے جو اپنی ملکیت اور ”عزت“ کی اچھے سے حفاظت کر سکے، اسے اپنی اجازت کے بغیر کسی اور مرد کو چھونے نہ دے (بہن کی اپنی اجازت کا تو کوئی سوال ہی نہیں ) ۔ اب اگر کسی مرد نے دوسرے کی مردانگی کو ٹھیس پہنچانی ہو تو اسے ”سالا“ بول دیا۔ اس کی مرضی کے خلاف اس کی ملکیت کے ساتھ رشتہ جوڑ لیا۔

اگر آپ کو یاد ہو تو انڈیا کی دو فلمیں بہت ہٹ ہوئیں تھیں۔ ”ایک منا بھائی ایم بی بی ایس“ اور دوسری ”تھری ایڈیٹس“ ۔ منا بھائی کا ”ماموں“ عامر خان کے ”چاچو (آل از ویل)“ سے زیادہ مقبول عام ہوا کیونکہ معاشرتی سطح پر ماموں کا لفظ پہلے ہی سے مستعمل تھا اور مردانہ معاشرے کی سوچ سے مطابقت بھی رکھتا تھا (یہاں پشتو والے ”ماما“ کی بات نہیں ہو رہی) ۔

زبان کسی بھی ثقافت کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ یہ بیک وقت ثقافتی اقدار کی تشکیل بھی کرتی ہے اور پہلے سے موجود اقدار کی عکاسی بھی۔ اردو زبان مردانہ معاشرے کی عکاس ہے اور اس کے فروغ کا باعث بھی۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ اردو میں اسم تصغیر بنانا ہو یا مونث دونوں کا کلیہ بیشتر جگہوں پر ایک ہی ہے کہ مذکر لفظ کے ساتھ ”ی“ کا اضافہ کر دیا جائے (دیگچہ سے دیگچی ہو یا بکرا سے بکری) ۔ یعنی ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ تصغیر اور تانیث ایک ہی بات ہے۔ یہ کلیہ محض اتفاقی طور پر بن گیا یا مردانہ سماج کی پیداوار ہے؟ مگر ایک بات طے ہے کہ تصغیر و تانیث کی مساوات نے معاشرے میں صنفی عدم مساوات کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply