اگر انسان خود یا کسی کے مجبور کرنے پر کوئی ایسا عمل یا فیصلہ کرے جس پر یقین نہ رکھتا ہو یا ذہنی و جذباتی طور پر آمادہ نہ ہو تو اس عمل/فیصلے کے حوالے سے ذہن میں خلش رہتی ہے۔ اسی طرح اگر ماضی میں کوئی عمل کیا یا فیصلہ لیا جو حال میں درست ثابت نہ ہو رہا ہو تو بھی ذہنی طور پر بے چینی ہوتی ہے۔ عمل چونکہ ماضی میں کیا ہوتا ہے، اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا تو لہذا موجودہ سوچ کو ماضی کے عمل/فیصلے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے، جواز تراشا جاتا ہے۔
انسان ہمہ وقت اپنی سوچ، برتاؤ اور عقیدے (عقیدے سے مراد مذہبی عقیدہ نہیں۔ اس سے مراد یقین ہے جو کہ کسی بھی شے کے حوالے سے ہو) کو ہم آہنگ دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ جواز اور جواب دونوں تراشتا ہے۔ لیکن وہ دورانیہ جس میں عقیدہ، رویہ اور برتاؤ آپس میں میل نہیں کھا رہے ہوتے اور انسان ذہنی کشمکش میں ہوتا ہے، اس کو Cognitive Dissonance کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت کا فیصلہ سازی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر اس کیفیت کے محرکات سے آگاہی ہو تو غلط فیصلوں کو ٹھیک کرنے اور نئے درست فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
Read more