عورت کی عزت بحیثیت انسان کی جائے

انگریزی محاورہ ہے کہ ”کلچر زبان کے ذریعے آتا ہے“ ۔ زبان کسی بھی معاشرت اور کلچر کی بیک وقت تخلیق کار اور آئینہ دار ہوتی ہے۔ ہم بچوں کو زبان کے ذریعے ہی مختلف تصورات سے روشناس کرواتے ہیں اور اسی زبان کی مدد سے ہم سوچ پاتے ہیں۔ اگر بچپن سے لڑکپن اور جوان عمری تک کسی کو ایک طرح کے پیغامات دیے جائیں تو ان پیغامات کے اثرات اس شخص کی شخصیت پر اور سوچ میں نمایاں

Read more

مردانہ معاشرے میں عورتوں کے بے نام رشتے

شوہر کے بڑے بھائی کو جیٹھ اور چھوٹے کو دیور کہا جاتا ہے۔ کبھی سوچا کہ بیوی کا بھائی چھوٹا ہو یا بڑا اسے صرف سالا کیوں کہا جاتا ہے؟ بیوی کے بھائیوں کے لئے الگ الگ ٹائٹل کیوں نہیں؟ والد صاحب کے بڑے بھائی تایا اور چھوٹے چاچا کہلاتے ہیں۔ لیکن والدہ محترمہ کے سب بھائیوں کو صرف ماموں کیوں کہا جاتا ہے؟ یہ سب پدر شاہی نظام کا کارنامہ اور مردانہ معاشرے کا عکس ہے۔ ہر کلچر میں

Read more

ہم مس انفارمیشن کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟

مس انفارمیشن سوسائٹی میں کیسے پھیلتی ہے، ہم مس انفارمیشن کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں؟ اس کو سمجھنے میں ڈیجیٹل دنیا اور سماجی نفسیات کے کچھ تصورات مدد گار ہو سکتے ہیں۔

جب ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو کچھ موضوعات کے حوالے سے زیادہ پڑھتے ہیں، سرچ کرتے ہیں یا کچھ لوگوں کو فالو کرتے ہیں۔ ہماری ایکٹیوٹی کی بنیاد پر ڈیجیٹل دنیا کو چلانے والے الگوردم ہماری دلچسپی کا مواد زیادہ بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنے ارد گرد ایسا ماحول بنا لیتے ہیں جس میں ہمیں من پسند لکھنے اور بولنے والوں کا مواد اور ایسی معلومات ملتی ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں۔ اس کو ٹیکنیکل زبان میں ”ایکو چیمبر“ کہا جاتا ہے۔

Read more

لوگ کس نفسیاتی وجہ سے خود کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کا لیڈر فریبی یا جھوٹا نہیں؟

اگر انسان خود یا کسی کے مجبور کرنے پر کوئی ایسا عمل یا فیصلہ کرے جس پر یقین نہ رکھتا ہو یا ذہنی و جذباتی طور پر آمادہ نہ ہو تو اس عمل/فیصلے کے حوالے سے ذہن میں خلش رہتی ہے۔ اسی طرح اگر ماضی میں کوئی عمل کیا یا فیصلہ لیا جو حال میں درست ثابت نہ ہو رہا ہو تو بھی ذہنی طور پر بے چینی ہوتی ہے۔ عمل چونکہ ماضی میں کیا ہوتا ہے، اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا تو لہذا موجودہ سوچ کو ماضی کے عمل/فیصلے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے، جواز تراشا جاتا ہے۔

انسان ہمہ وقت اپنی سوچ، برتاؤ اور عقیدے (عقیدے سے مراد مذہبی عقیدہ نہیں۔ اس سے مراد یقین ہے جو کہ کسی بھی شے کے حوالے سے ہو) کو ہم آہنگ دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ جواز اور جواب دونوں تراشتا ہے۔ لیکن وہ دورانیہ جس میں عقیدہ، رویہ اور برتاؤ آپس میں میل نہیں کھا رہے ہوتے اور انسان ذہنی کشمکش میں ہوتا ہے، اس کو Cognitive Dissonance کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت کا فیصلہ سازی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر اس کیفیت کے محرکات سے آگاہی ہو تو غلط فیصلوں کو ٹھیک کرنے اور نئے درست فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Read more

ڈیجیٹل پاکستان اور ڈیٹا پروٹیکشن

دسمبر 2019 کے آغاز میں وزیر اعظم پاکستان نے ڈیجیٹل پاکستان نامی پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ یہ قابل تحسین اقدام تھا لیکن ڈیجیٹل پاکستان بنانے کے عمل میں کہیں پاکستانی شہریوں کی حقوق تلفی میں اضافے کا باعث تو نہیں بنے گا؟ پاکستان کا ڈیجیٹل سفر گزشتہ دو دہائیوں سے شروع ہے جس کے تحت نادرا، پنجاب میں زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنا، کسٹمز کے محکمے میں جدید ڈیجیٹل طریقے کو شامل کرنا سے لے کر پاکستان سٹیزنز پورٹل جیسے کام شامل ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں آئے روز انقلابات واقع ہو رہے ہیں اور آئندہ کسی بھی ملک کی ترقی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں آگے بڑھے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا وزیر اعظم کا ڈیجیٹل پاکستان پروجیکٹ اس ملک کو جدید دنیا میں آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Read more