قاصد کی خبر، جمہوریت کا مستقبل اور عمران خان کا متبادل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاصد بار بار تبدیلی کی خبر لارہا ہے۔ کبھی اسلام آباد میں حکومت کا لے آؤٹ تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے اور کبھی فی الحال عمران خان کو بے بس و بے اختیار بنانے کے لئے پنجاب میں ان کے پسندیدہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس کو تبدیل کرنے کی بات سامنے آتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ قاصد تبدیلی اور عمران خان پر کم ہوتے اعتماد کی خبر پھیلاتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ یہ خبر نشر کرنے والا کون ہے۔

ملک میں کورونا کا بحران جاری ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ ملک میں اس مرض سے متاثرین کی حقیقی تعداد کیا ہے۔ ایک طرف حکومت کے نمائیندے سمارٹ لاک ڈاؤن کی برکات کا قصیدہ سنا کر بتارہے ہیں کہ عمران خان کے عظیم الشان ’ویژن‘ کی وجہ سے ملک کو کورونا وبا سے بچالیا گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم خود یہ انتباہ بھی کرتے ہیں کہ اگر عید الاضحیٰ کے موقع پر لوگوں نے بے احتیاطی کی اور حکومت کی بتائی ہوئی پابندیوں پر عمل نہ کیا تو ملک میں ایک بار پھر کورونا وبا پھیلنا شروع ہوجائے گی۔ اس معاملہ پر ماہرین اور حکمران جماعت کے درمیان اختلاف رائے واضح ہے لیکن عمران خان کی ملک کے غریبوں سے محبت کی وجہ سے سائنس کو خاموش ہونا پڑتا ہے۔ البتہ عیدالاضحیٰ اور لوگوں کی ذمہ داری کا قصہ سنا کر یہ گنجائش بہرحال پیدا کرلی گئی ہے کہ حالات سنبھل گئے تو لیڈر کی عظمت مسلمہ اور اگر بگڑ گئے تو ’غیر ذمہ داری‘ کا الزام عوام پر عائد کرکے ذہین و فطین لیڈر پھر سے کسی’ نئی سمارٹ لاک ڈاؤن ڈاکٹرائن‘ سے رجوع کرے گا۔

حقیقت احوال بہر حال یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے دنیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ متاثرین کی اطلاع دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ وبا ابھی شدت اختیار کرسکتی ہے۔ ابھی تک کورونا کے پھیلاؤ اور ہلاکت کے حوالے سے جو معلومات سامنے آسکی ہیں، ان سے یہ بھی واضح ہے کہ یہ وائرس نہ صرف کمزور صحت والے لوگوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ غریب ملک اور آبادیاں خاص طور سے اس کے نشانے پر ہیں۔ اس کا مظاہرہ امریکہ سے لے کر پاکستان و بھارت سے جمع کئے جانے والے اعداد و شمار سے کیا جاسکتا ہے۔ معاشرے کے خوشحال اور بہتر معیار زندگی رکھنے والے اس وبا سے کم متاثر ہوتے ہیں کیوں کہ وہ احتیاط کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر ان طبقات میں کوئی متاثر ہو بھی جائے تو ان کے پاس علاج کی سہولت میسر ہوتی ہے۔  امریکہ جیسے باوسیلہ ملک میں بہتر سماجی حیثیت رکھنے والی سفید فام آبادی کورونا سے بہتر مقابلہ کررہی ہے اور سیاہ فام یا تارکین وطن اس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان آبادیوں میں متاثرین اور مرنے والوں کی تعداد بھی اپنے سفید فام ہم وطنوں سے کہیں زیادہ ہے۔

سعودی عرب جیسے ملک میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے جہاں شروع سے ہی لاک ڈاؤن اور کرفیو کی سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ان کے نتیجہ میں مقامی عرب آبادی ان لاکھوں تارکین وطن کے مقابلے میں زیادہ محفوظ رہی ہے جو کام کی غرض سے اس ملک میں مقیم ہیں ۔ اس وقت سعودی عرب میں کورو نا وائرس کا شکار ہونے اور مرنے والوں کی اکثریت تارکین وطن پر مشتمل ہے کیوں کہ ان کے ابتر رہائشی حالات میں وائرس پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ پاکستان میں عمران خان غریبوں سے اظہار یک جہتی کے نام پر لاک ڈاؤن کے مخالف رہے ہیں لیکن یہ اعلان کرتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ جیسی آبادیوں اور بستیوں میں ملک کی کثیر آبادی رہتی ہے، وہاں ایک ایسے وائرس کی روک تھام کا امکان نہیں ہوسکتا جو ایک سے دوسرے انسان میں غیر محسوس انداز میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک مرتبہ وائرس پھیلنے کے بعد اگر کسی بستی کو سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر حصار میں بھی لے لیا جائے تو بھی اسے روکنا ممکن نہیں ہوتا کیوں کہ لاک ڈاؤن کی بحث کو سیاسی رنگ دے کر اور امیر بمقابلہ غریب کا معاملہ بنا کر عوام کی بڑی اکثریت کو سماجی دوری جیسے نظریہ کے بارے میں ذہنی طور پر تیار نہیں کیا جاسکا۔

جب ملک میں مناسب مقدار میں ٹیسٹ ہی نہیں ہوں گے اور کوئی متاثرہ شخص سرکاری ہسپتالوں میں سہولت حاصل کرنے کے قابل ہی نہیں ہوگا تو وہ کیسے جان پائے گا کہ اسے کیا عارضہ لاحق ہؤا ہے اور معمولی بیمار ہو کر صحت یاب ہونے یا اچانک بیمار ہو کر کسی کے مرجانے کی کیا وجہ تھی۔ یوں تو شاید دنیا کے کسی ملک میں بھی اس وائرس کے درست اعداد و شمار دستیاب نہ ہوں لیکن پاکستان کی آبادی، سہولتوں اور عمومی مزاج کے علاوہ حکومت کی حکمت عملی کی وجہ سے ملک میں کورونا وائرس کی صورت حال کی مکمل تصویر شاید کبھی سامنے نہیں آسکے گی۔ ایسے میں عمران خان غریبوں سے ہمدردی کا جتنا چاہے راگ الاپتے رہیں، کورونا کا شکار ہوکر مرنے والے غریبو ں کو کوئی پرسان حال نہیں ہوسکتا۔

اسی طرح ہمارا کوئی فوجی بھائی خواہ سویلین ادارہ چلاتے ہوئے جتنا بلند بانگ دعویٰ چاہے کرلے کہ فوج کی مدد کے بغیر سول ادارے نہیں چل سکتے کیوں ’سول بھائیوں کو تربیت ہی حاصل نہیں ہوتی‘ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہوگا۔ ایسے میں صرف امید کی جاسکتی ہے کہ دنیا کے ماہرین کسی طرح کووڈ۔19 سے بچاؤ کی کوئی ویکسین تیار کر لیں تاکہ پورے عالم کی طرح اہل پاکستان بھی اس مہلک وبا سے نجات پاسکیں۔ اس دوران کورونا کے نام پر سیاست تو کی جاسکتی ہے لیکن اس کے اثرات سے نمٹنا پاکستانی حکومت کے بس میں نہیں ہے۔

حکومت تو کورونا سے پیدا ہونے والی معاشی کساد بازاری سے نمٹنے کے لئے بھی کوئی مؤثر حکمت عملی سامنے نہیں لاسکی ۔البتہ بجٹ سے لے کر سیاسی بیانات تک میں کورونا کو عذر کے طور پر ضرور استعمال کیا جارہا ہے۔ اور یہ دعویٰ تسلیم کروانے کی کوشش کی ہورہی ہے کہ اگر اس عالمی وبا نے پاکستان کا رخ نہ کیا ہوتا یا دنیا کے دوسرے ملکوں میں مواصلت، صنعتیں اور کاروبا ربند ہونے کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا تو تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی معیشت کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دینا تھا۔ جو کام نہیں ہوسکا اس کے بارے میں جو چاہے دعویٰ کیا جاسکتا ہے ۔ اس لئے وزیروں مشیروں کے اس معاشی ترقی کے بارے میں دعوے جسے پاکستانی عوام نہ کبھی دیکھ سکے اور نہ ہی محسوس کر پائے، خیالی پلاؤ پکانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اصل چیلنج ملک کو درپیش معاشی زوال، صنعتوں کی بندش، بیروزگاری میں شدید اضافہ اور لاکھوں خاندانوں کا خط غربت سے نیچے چلے جانا ہے۔ یہ چیلنجز قومی مسئلہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور پوری قوم مل کر ہی ان کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

یہ خاکہ حکومت وقت اور وزیر اعظم کو فراہم کرنا ہے کہ ایسا قومی منصوبہ کیسے تیار کیا جائے۔ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم کو غور و فکر اور مسائل سلجھانے کے لئے استعمال کرنا بھی حکمران جماعت کا ہی کام ہے۔ اس کی بجائے اسے اپوزیشن لیڈروں کی کردار کشی یا اب سینیٹ میں این ایف سی ایوارڈ پر حملہ کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیا اس وقت متنازع امور کو زیر بحث لاکر ملک کو معاشی و سماجی بحران سے نکالا جاسکتا ہے یا پھر عمران خان کے بقول احساس پروگرام کے تحت خیرات بانٹ کر ملک کے غریبوں کا کلیان ہوسکتا ہے۔ عمران خان جس طرح ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائے کہ اب وہ اپوزیشن لیڈر نہیں بلکہ ملک کے وزیر اعظم ہیں، اسی طرح وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ حکومت کا کام خیرات بانٹنا نہیں لوگوں کا خیرات پر انحصار ختم کرنا ہوتا ہے۔ سماجی امداد کے سرکاری منصوبے اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب بیک وقت قومی پیداواری منصوبوں پر بھی کام شروع کیا جائے۔ غریب کی مدد کرتے ہوئے اس کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں۔

یہ سارے کام کرنے کے لئے عداوت اور سیاسی دشمنی کے حصار کو توڑنا اہم ہے۔ عمران خان اپنی حکومت کے تقریباً دو سال پورے کرتے ہوئے ذاتی انا کے خول کو توڑنے میں ہی کامیاب نہیں ہوئے، وہ مفاہمت یا معاشی بہتری کے منصوبوں کے لئے قومی اتفاق رائے کیسے پیدا کرسکتے ہیں۔ عمران خان کے اکھڑ اور سخت گیر مزاج نے اس وقت سیاسی تصادم کی صورت حال پیدا کی ہوئی ہے۔ وہ اپنا متبادل فراہم نہ ہونے کو اپنی کامیابی کا راز سمجھتے ہیں لیکن اس دوران متبادل امیدواروں کی قطار خود ان کی اپنی پارٹی سے ہی برآمد ہونے کی خبریں عام ہیں۔ عمران خان اس حقیقت سے نگاہیں ملانے کا حوصلہ نہیں کرتے کیوں کہ وہ قومی اسمبلی میں آکر اپنے ہم منصب ارکان اسمبلی سے برابری کی بنیاد پر ملک میں جمہوری روایت کے تسلسل کے لئے تعاون مانگنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ یہ ایک سنگین صورت حال ہے۔ اپوزیشن عمران خان کو نااہل قرار دے کر ان کی تبدیلی کا مطالبہ کررہی ہے اور وزیر اعظم اپوزیشن کو بدعنوان قرار دے کر پارلیمانی جمہوری روایت کو مسترد کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہی بادشاہ گروں کے پیغام رساں فعال ہوتے ہیں۔ یہ ماحول خود عمران خان نے فراہم کیا ہے۔

عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم کے مستقبل کا فیصلہ کسی ’ہما‘ کی اڑان سے نہیں کیا جاسکتا لیکن کیا وجہ ہے کہ اس وقت پرندوں کی نشست و برخاست ہی ملکی سیاست میں سب سے اہم خبر بنی ہوئی ہے۔ اس حکومت کو قائم رہنا چاہئے۔ کسی غیر منتخب ادارے کو کسی بھی عذر سے اس یا کسی بھی منتخب حکومت کو تبدیل کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا لیکن کیا عمران خان خود بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں؟ بہتر ہوگا کہ عمران خان اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے سہارے ڈھونڈنے کی بجائے اپنی عوامی مقبولیت اور پارلیمانی اکثریت پر بھروسہ کریں۔

ہوائی سہاروں سے لاتعلقی اختیار کئے بغیر ملکی سیاست کا قبلہ درست نہیں ہوسکتا۔ سیاست دانوں کو باور کرنا چاہئے کہ وہ جن سہاروں کے ذریعے اقتدار بچانا یا حاصل کرنا چاہتے ہیں ، وہ تو خود اپنی غیر مرئی طاقت کے لئے سیاست دانوں کے محتاج ہیں۔ جس روز سیاست دانوں نے اس طاقت کا کھلونا بننے کی بجائے خود ایک دوسرے کا سہارا بننے کا عہد کرلیا ، ملکی جمہوریت کے سر سے گہرے بادلوں کا سایہ چھٹ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1577 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply