کرونا وائرس، مقامی حکومتیں اور طرز حکمرانی کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے جیسے معاشروں میں اچھی اور شفاف طرز حکمرانی ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ ہمارے بیشتر مسائل کا براہ راست تعلق عملاً حکمرانی کے نظام سے جڑا نظر آتا ہے۔ وفاقی، صوبائی اور ضلعی یا مقامی حکمرانی کے نظام میں جو پیچیدہ یا سنجیدہ نوعیت کے مسائل ہمیں درپیش ہیں اس کا علاج تلاش کرنے کے لیے ریاستی و حکومتی سطح پر ہمیں کئی کمزوری کے پہلو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ اگرچہ یہاں سیاسی جماعتیں یا سیاسی حکومتیں 18 ویں ترمیم کی اہمیت، افادیت اور اس کے جواز کو بہت نمایاں طور پر پیش کرتی ہیں۔

لیکن اس بنیادی نکتہ کو ہماری حکومتیں اور سیاسی جماعتیں سمیت ان کی قیادت بھول جاتی ہے کہ 18 ویں ترمیم کی اصل روح مرکزیت کے نظام کو ختم کرکے عدم مرکزیت کا نظام قائم کرنے سے جڑا ہوتاہے۔ یعنی ہمیں زیادہ سے زیادہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرکے نظام کو زیادہ موثر اور شفاف بنانا ہوتا ہے جو یقینی طور پر مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔

1973 کا آئین یا دستور کا آرٹیکل 140۔ Aپورے نظام کو پابند کرتا ہے کہ صوبائی حکومتیں پابند ہیں کہ وہ صوبہ میں مقامی حکومتی نظام کو یقینی بنائیں اور اسی آئین کے تحت ان مقامی حکومتوں کے منتخب عوامی نمائندوں کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات دے۔ لیکن ہماری سیاسی اور جمہوری قوتیں مقامی نظام کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کے سیاسی اور جمہوری نظام میں مقامی حکومتوں کی تشکیل ریاستی و حکومتی ترجیحات کا کبھی بھی حصہ نہیں رہی۔

آج بھی پنجاب، خیبر پختونخوا ، بلوچستان میں مقامی حکومتوں کا نظام موجود نہیں اور وہاں کے لوگ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے اس نظام سے محروم ہیں۔ سندھ میں بھی اس نظام کے تحت اب نئے انتخابات اسی برس اگست کے بعد ہونے ہیں۔ چاروں صوبائی حکومتیں عملی طور پر صوبائی مرکزیت کی شکار ہیں اور اپنے بعد ضلعی، تحصیل یا یونین یا ولیج و نیبر ہڈ کونسل کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں۔

پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جسے کرونا جیسی وبا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کرونا کے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاتعداد حکمت عملیاں ترتیب دی۔ لیکن اس کرونا کے بحران سے نمٹنے میں ہمیں جس بحران کا بڑا سامنا کرنا پڑا وہ ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کے فقدان کا ہے۔ یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ کرونا کے بحران نے ہماری حکمرانی کے نظام کو بری طرح بے نقاب کیا ا ور لوگوں کو اندازہ ہوا کہ مقامی سطح پر حکمرانی کے تناظر میں ہمارے پاس کوئی موثر اور شفاف نظام موجود نہیں جو سنگین صورتحال کے پیش نظر ہم کو مختلف نوعیت کے بحرانوں سے بچاسکے۔ بالخصوص صحت کا شعبہ او رجس انداز میں ہمیں کرونا متاثرین کی مدد کرنا تھی جس میں راشن فراہمی، لوگوں میں کرونا وبا کے بارے میں سماجی شعور کی آگاہی، سماجی دوری کو پیدا کرنا، ہجوم سے گریز کرنا او رکیسے اس وبا سے بچنے کے لیے اختیار کی جانے والی حفظاتی اقدامات میں ہمیں لاتعداد مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ) یو این ڈی پی (نے کرونا کے بحران سے نمٹنے او رمقامی حکومتوں کے نظام سے استفادہ حاصل کرنے والے ممالک کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کے بقول بیشترممالک نے کرونا سے نمٹنے میں مقامی حکومتوں کے نظام کو ایک بڑے مربوط انداز میں استمال کیا اور بہتر نتائج حاصل کیے۔ لیکن اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان مقامی حکومتوں کے نظام کو کرونا سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو خود مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی ہے۔

بنیادی طور پر اس رپورٹ میں ریاست و حکومت کا شہریوں کے ساتھ فاصلے کو دیکھا گیا ہے۔ یو این ڈی پی نے اپنے پہلے کووڈ 19 کی بنیاد پر Social Economic Impact Assesment and Response Plan میں کہا ہے کہ پاکستان میں ریاست او رمعاشرہ کے درمیا ن رابطہ کمزور ہوگیا ہے او راس سے ملک میں پس ماندگی، شہریوں کے تحفظات، تنازعات اور معاشرتی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ کرونا کی وبا سے نمٹنے کے جو بہتر نتائج درکار تھے اس میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مقامی نظام حکومت کے حوالے سے چار پہلو اہمیت رکھتے ہیں۔ اول مقامی حکومتیں سیاسی رابطوں کی مدد سے مقامی لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑتی ہیں اور مقامی لوگوں کو مستحکم کرنے کے لیے ان کی تمام امور میں شمولیت کو یقینی بناتی ہیں۔ یہ عمل اچھی طرز حکومت اور قانون کی حکمرانی سمیت عام آدمی کے مسائل کا حل ثابت ہوتی ہیں اور ریاست و شہریوں کے تعلقات کو مضبوط بناتی ہیں۔ دوئم مقامی نظام حکومت عمومی طور پر ناگہانی آفات، وبا یا حادثات میں سب سے موثر حکمرانی کا ہتھیار ہے اور یہ اپنی مضبوط نگرانی، لوگوں کی اس نظام پر رسائی، اعتماد کا بھروسا، عوامی نمائندوں تک باآسانی رسائی، صوبائی حکومت او راداروں سے موثر رابطہ سازی، وسائل کا موثر استعمال کر سکتی ہیں۔

سوئم مقامی نظام وفاق اور صوبوں کے درمیان شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں ایک بڑے Bridgeکا کردار ادا کرتا ہے اور شہریوں اور بالخصوص کمزور طبقات میں حکمرانی کے نظا م کے بارے میں انتہا پسندی، غصہ، نفرت جیسے امور کو پیدا کرنے کی بجائے ان میں تعاون کے امکانات کوپیدا کرتا ہے۔ چہارم یہ نظام عملی طور پر وسائل کی منصفانہ تقسیم، شفافیت، نگرانی، جوابدہی اور مقامی ترجیحات کا تعین، مربوط منصوبہ بندی سمیت سیاسی و جمہوری نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ عمومی طور پر مقامی نظام حکومت جمہوریت کی بنیادی نرسریوں کی درجہ رکھتی ہے جو آگے جاکر مقامی قیادت سے بڑی قیادت میں بھی تبدیل ہوتی ہے اور سیاسی جماعتو ں کو بھی مضبوط بناتی ہے۔

یہ سوال توجہ طلب ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام، سیاسی جماعتیں، سیاسی قیادتیں، پارلیمنٹ اور اہل دانش سب ہی مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے میں وہ عملی سنجیدہ رویہ نہیں رکھتے جو اس حکمرانی کے نظام کو درکار ہے۔ محض لفاظی کرنا، بڑے بڑے سیاسی نعرے یا دعوے کرنے سے زیاد ہ لوگوں کو سیاسی نظام اور قیادت سے عملی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہم اپنے اس موجودہ سیاسی او رجمہوری نظام سے مستفید ہونے کی بجائے مسلسل بگاڑ کا شکار ہیں۔

پاکستان میں مختلف تھنک ٹینک موجود ہیں جو مقامی حکومت کو موثر بنانے کی بڑی بحث کا حصہ ہیں۔ لوکل گورنمنٹ ایسوسی ایشن LCAP، سول سوسائٹی فورم برائے مقامی طرز حکمرانی، سنگت ڈولیپمنٹ فاونڈیشن کی سطح پر قائم ”لوکل گورنمنٹ ریسورس سنٹر، Inclusive Local Govt Impact Consortium (iLOGIC) اور اسی طرح سے Women in Struggle for Empowerment (WISE) کے تحت ویمن کونسلرز کاکس جیسے نیٹ ورک کئی برسوں سے ملک میں مقامی حکومتوں کی حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے کے حوالے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ لیکن ان نیٹ ورکس کو بھی ایک نئی جہت کے ساتھ اپنے کام کو آگے بڑھانا ہوگا۔

ہماری ریاست او رحکمران طبقات کو دنیا کے تجربات سے ضرور سیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کیسے اپنے حکمرانی کے نظام کو موثر، شفاف اور عوامی توقعات کے مطابق بنایا ہے۔ کیونکہ اب دنیا حکمرانی کے نظام میں زیادہ سے زیادہ اختیارات کی سیاسی، انتظامی او رمالی تقسیم پر زور دے رہی ہے او راس کا نکتہ مربوط مقامی نظام حکومت ہے۔ ہمیں کرونا بحران سے سبق سیکھنا ہوگا کہ اگر ہم مستقبل میں اس طرز کے بحران سے بچنا چاہتے ہیں تو ہماری ترجیحات میں مقامی نظام حکومت کی مضبوطی ایجنڈے کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔

اس کے لیے ہماری سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں، علمی وفکری تعلیمی اداروں سمیت میڈیا کا اہم کردار ہونا چاہیے۔ یہ ہی طبقہ ایک بڑا دباؤ پیدا کرکے حکمرانوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ مقامی نظام کو اپنی ترجیحات کا حصہ بناکر محض رسمی ادارے نہ بنائیں بلکہ ان کو خو دمختاری بھی دی جائے۔ 18 ویں ترمیم کی اصل روح مقامی نظام سے جڑی ہوئی ہے اور اگر اختیارات کی مرکزیت کو قائم کرنا ہے تو حکمرانی کا نظام فعالیت پیدا نہیں کرسکے گا۔

اس وقت ہماری ترجیحات تین نکتوں پر ہونی چاہیے۔ اول فوری طور پر ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو یقینی بنایا جائے او راس کے لیے انتخابات کا فوری اعلان کیا جائے۔ دوئم اس نظام میں ان اداروں کو مکمل طور پر سیاسی، انتظامی اور مالی خود مختاری دی جائے۔ سوئم اس نظام کی مدد سے مقامی اداروں کی اصلاح کی جائے اور زیادہ سے زیاد ہ وسائل ان اداروں کی مدد سے استعمال کیے جائیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی موثر حکمرانی کے نظام میں موجود رکاوٹوں کو دور کریں او راپنے سیاسی نظام کو عوامی ترجیحات، خواہشات اور ضرورت کے تحت قائم کرنا ہماری ضرورت بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply