زرداری مولانا ملاقات کا اصل ایجنڈہ کیا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیر بلوچ کی تفتیشی رپورٹ (جے آئی ٹی) نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے لئے سنگین صورتحال پیدا کردی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اس میں معاملے میں involve ہوگئی ہے جس نے وزیراعظم عمران خان کو بھی اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ عزیز بلوچ کی مشترکہ تفتیشی رپورٹ میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف موجود مواد کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا جائے، پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر مملکت آصف زرداری نے حکومت پر جوابی دباؤ بڑھانے کے لئے مولانا فضل الرحمن سے اپنے لئے بھی ایک ”دھرنا“ مانگ لیا۔

مولانا فضل الرحمن کے آئندہ ہفتے پنجاب کے دورے میں مریم نواز اور شہباز شریف سے ملاقاتیں بھی طے بتائی جارہی ہیں کیونکہ آصف زرداری نے مولانا سے درخواست کی ہے کہ اے پی سی میں ”نون“ لیگ کی شمولیت اہم کردار ادا کر سکتی ہے لہذا لیگی قیادت کو شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی کی جائے۔ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والی اپوزیشن کی اے پی سی میں میزبان مولانا فضل الرحمن کی طرف سے ایک اور دھرنا دینے کا اعلان خارج از امکان نہیں۔

ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی با اختیار حلقوں میں یہ سوچا جا رہا ہے کہ سیاسی گرو کی شہرت رکھنے والے پی پی پی قائد آصف زرداری کو ملکی سیاست سے آؤٹ کرنے کی غرض سے عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں زرداری پر لگائے گئے سنگین فوجداری جرائم کے الزامات کو عدالت میں ثابت کر کے زرداری کا ”گھونٹ بھر لیا“ جائے لیکن اس میں آئینی و قانونی رکاوٹ یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے تیار کروائی کسی تفتیشی رپورٹ کو عدالت میں بھی متعلقہ صوبائی حکومت ہی لے جاسکتی ہے، الزامات کی چھان بین کرنے والا IO (تفتیشی افسر) بھی صوبائی حکومت کا ہوگا اور پراسیکیوشن بھی سندھ حکومت ہی کی ہوگی، اس صورتحال میں وفاقی حکومت کے پاس واحد راستہ صوبے میں گورنر راج کا نفاذ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ پی ٹی آئی کی صوبائی تنظیم اور سندھ کی اتحادی سیاسی قوتیں، خاص کر قوم پرست قوتوں کا گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس گورنر راج کا حامی اور خواہشمند ہے تاہم اس اہم اقدام کے تمام آئینی و قانونی پہلوؤں اور اس کے قانونی مضمرات کا باریکی سے جائزہ لیا اور اس بابت تفصیلی صلاح مشورہ کیا جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس بارے ابھی تک وفاقی حکومت میں سے صرف وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر علی زیدی کو اعتماد میں لیا ہے۔

دوسری طرف پی پی پی کے قائد آصف زرداری کو اسٹیبلشمنٹ اور مرکزی حکومت کے اس منصوبے کا علم ہو گیا ہے جس پر انہوں نے فی الفور مولانا فضل الرحمن سے ہنگامی ملاقات کر کے پیش بندی کے طور پر حکومت پر شدید سیاسی دباؤ بڑھانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جس میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کو زیادہ سے زیادہ جاندار اور نتیجہ خیز بنانے اور اس کے بعد بھرپور سیاسی دباؤ کی ٹھوس حکمت عملی طے کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق جمعرات کو بلاول ہاؤس کراچی میں ہونے والی آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کی تفصیلی ملاقات پیپلز پارٹی کے عملاً سربراہ آصف زرداری کی درخواست پر ہوئی تھی، وہی آصف زرداری جو ماضی قریب تک مولانا فضل الرحمن کا فون تک نہیں اٹھاتے تھے، خود کو ایک سنگین صورتحال میں گھرتا ہوا پا کر مولانا سے ملاقات کی درخواست کرنے پر مجبور ہوئے، بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ برس کا دھرنا شروع کرنے کے لئے مولانا فضل الرحمن جب ”آزادی مارچ“ لے کر کراچی سے نکلے تو انہوں نے آصف زرداری سے ملاقات کی بہت کوشش کی مگر زرداری نے ان کے ساتھ ملاقات سے گریز کیا جس پر مولانا نے آزادی مارچ سکھر پہنچنے پر مختصر ”پڑاو“ کرکے کوشش کی کہ کم از کم بلاول بھٹو زرداری ہی سے ملاقات ہو جائے مگر انہیں اس میں بھی مایوسی کا سامنا ہوا

ذرائع کے مطابق سابق صدر پاکستان کی رہائش گاہ، کراچی کے بلاول ہاؤس میں ڈیڑھ دو گھنٹے جاری رہنے والی مولانا اور ”زرداریوں“ کی یہ ملاقات آصف زرداری کی خواہش اور درخواست پر ہوئی جس میں پیپلز پارٹی کے قائد نے مولانا سے خصوصی طور پر درخواست کی ہے ”اسلام آباد میں ایک دھرنا ہمارے لئے بھی دے دیں“ اور مولانا کو دو ٹوک انداز میں دھرنے کے تمام تر احراجات ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ اسی لئے اس ملاقات میں آصف زرداری نے اپنے بیٹے اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کے سوا اور کسی کو شریک نہیں کیا تاکہ مولانا سے کھل کر معاملہ کیا جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے سربراہ نے جے یو آئی (ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ سے ان کے لئے سنگین مسائل اور دشواریاں پیدا ہونے کا خطرہ ہے جو ان کی جماعت، بالخصوص ان کے سیاسی کردار کے خاتمے پر منتج ہو سکتی ہیں، اس صورتحال سے اسی طرح نمٹا جاسکتا ہے کہ جواب میں حکومت پر بھی دباؤ بڑھا کر مشکل صورتحال پیدا کر دی جائے جس کے لئے اسلام آباد میں ایک اور دھرنا دینے کی ضرورت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے طویل صلاح مشورے میں طے پایا کہ مولانا کی طرف سے اسلام آباد میں بلائی گئی اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی وفاقی دارالحکومت میں حکومت کے خلاف ایک اور دھرنا دینے پر دوسری پارٹیوں کی بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

واضح رہے کہ حکومت کی اتحادی مسلم لیگ (ق) جس نے ایک مبینہ خفیہ ڈیل کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کا گزشتہ اکتوبر کا اسلام آباد دھرنا راتوں رات سمیٹ لیے جانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اس کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے ایک حالیہ بیان میں یہ راز فاش کر دیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا نہ ہوتا تو نواز شریف باہر نہ جا پاتے جبکہ مولانا اس بیان پر قدرے پریشان دکھائی دیے ہیں جنہیں فوری ردعمل میں سنیچر کے روز یہ کہنا پڑا ”چوہدری برادران کے پاس ہماری امانتیں خطرے میں ہیں“ سنجیدہ سیاسی حلقوں میں باور کیا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا اکتوبر 2019 کا اسلام آباد دھرنا ”سپانسر“ تھا جس کے اخراجات کے لئے ایک بڑی رقم لندن سے سابق وزیراعظم اور ”نون“ لیگ کے قائد نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز نے ادا کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اب مولانا اسلام آباد میں اپنا گزشتہ دھرنا ایک دم سے راتوں رات اچانک اٹھا لینے پر منتج ہونے والی ”افہام و تفہیم“ بے نقاب ہونے سے خوفزدہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بلاول ہاؤس کراچی میں پیپلز پارٹی کے عملاً سربراہ آصف علی زرداری کے ساتھ تفصیلی ملاقات اور اس میں ہونے والے طویل ”مذاکرات“ کے دوران مولانا نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے رویے کا گلہ کرتے ہوئے کہا ”بعد میں انہوں نے اپنی کمٹمنٹ کا مکمل طور پر پاس نہیں کیا“ جس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے قائد نے مبینہ طور پر انہیں یقین دلایا کہ دھرنے کے حوالے سے انہیں فکرمند نہیں ہونا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *