پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ (دوسرا حصہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر برصغیر میں اردو صحافت کی تاریخ کی بات کی جائے تو اس میں مولوی محبوب عالم کی 1903 میں تالیف کردہ فہرست اخبارات ہند کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ جس کی تربیت اور مقدمہ و حواشی طاہر مسعود نے لکھ کر مغربی پاکستان اردو اکیڈمی سے 1992 میں شائع کی اور کتاب کا عنوان رکھا ”اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ“ مگر سرورق پر طاہر مسعود صاحب نے صرف اپنا نام دیا ہے اور ٹائٹل سے اصل مولف مولوی محبوب عالم کا نام غائب ہے جو صرف اندرونی سرورق پر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں غیر مسلم اردو صحافیوں کا تذکرہ بھی موجود ہے۔

جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ نے ”نظریات ابلاغ“ کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی جو ایم اے ابلاغ عامہ کے نصاب کے لیے تھی۔ اس کے مرتب کردہ پروفیسر متین الرحمان مرتضیٰ تھے اور یہ 1998 میں جامعہ کراچی نے شائع کی تھی۔ یہ کتاب تین سو ستر (370) صفحات پر مشتل تھی اور اس میں کل اکیس تفصیلی ابواب ہیں جو زیادہ تر ترجمے اور تدوین پر مبنی ہیں اور صرف تین ابواب طبع زاد ہیں جن کو محمد انعام باری، پروفیسر زکریا ساجد اور پروفیسر متین الرحمان نے تحریر کیا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کتاب میں بھی پاکستان میں اظہار رائے کی پابندیوں، خاص طور پر فوجی آمریتوں میں صحافت پر قدغنوں، سنسر شپ اور صحافیوں کی جدوجہد اور قربانیوں پر ایک باب بھی نہیں لکھا گیا یا ترجمہ کیا گیا جب کہ پاکستان میں صحافتی جدوجہد کی ایک طویل تاریخ ہے اور پروفیسر مہدی حسن اور ضمیر نیازی جیسے صحافی اور دانش ور اس موضوع پر کتابیں لکھ چکے تھے۔ مگرشعبہ ابلاغ عامہ کی اس بیس ابواب پر مشتمل کتاب میں ان کا کوئی ذکر نہیں۔

انعام باری کا چھ صفحات پر مشتمل مضمون رویوں کی تبدیلی کے بارے میں ہے۔ پروفیسر ساجد زکریا کا چھ صفحات پر مضمون ہے ”نظریہ ابلاغ پاکستانی تناظر میں“ اس مضمون میں بھی وہی روایتی حب الوطنی اور مذہبیت کو ترویج دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثلاً ”پاکستان کا نظام ابلاغ“ کے زیر عنوان لکھتے ہیں۔

”پاکستان میں اسلامی تاریخ کے اکابر و مشاہیر اور مذہبی تعلیمات کے بارے میں پروگرام پیش کرنا قومی ضرورت ہے۔“ (301)

آگے لکھتے ہیں

”پاکستان کا ایک علیحدہ اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر وجود میں آنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تہذیب و تمدن اور ابلاغ کے اعتبار سے جنوبی ایشیا کی بجائے مشرق وسطیٰ کا حصہ ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ پہلو اور نمایاں ہوتا جائے گا۔“ (صفحہ 302 )

مزید آگے لکھتے ہیں

”اسلام کی جو تعبیر علامہ اقبال اور دوسرے جدید مسلم مفکرین نے کی ہے یعنی قرآن و سنت کی تفسیر و توضیح، جدید حالات اور علوم کی روشنی میں کی جائے اور محض تقلید جامد کو ہی قرآن و سنت کی تعبیر نہ قرار دے دیا جائے۔ اس کی روشنی میں قومی نظام ابلاغ کو نہ صرف جدید تقاضے پورے کرنے کا اہل بنایا جاسکتا ہے بلکہ اسے اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی جہت دے کر دنیا کے سامنے یہ مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ ابلاغ عامہ حفظ انسانیت کے لیے کن خطوں پر مرتب کیا جائے۔ (صفحہ 304 )

اسی طرح پروفیسر متین الرحمان مرتضیٰ اپنے مضمون ”قومی ابلاغی حکمت عملی کی ضرورت“ میں لکھتے ہیں۔

”ہمارا قومی زاویہ نظر، اہداف، مقاصد، آدرشن، مشاہیر، اعداد و اقدار اور سب سے بڑھ کر ہمارا عزیز قومی نظریہ، یہ سب کچھ خاک میں ملتے نظر آرہے ہیں۔ جو کچھ ہمیں کل تک بے حد عزیز تھا وہ سب دھندلائی ہوئی بصارت کے دھندلکے میں لپٹا چلا جا رہا ہے بلکہ منظر ہی سے غائب ہوتا معلوم ہورہا ہے۔“

”ہماری نظریاتی سرحدیں بیرونی جارحیت کی زد میں بالکل کھلی پڑی ہیں اور بے دفاع ہیں۔ ۔ ۔ ایک نظریاتی ریاست کی حیثیت سے ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے قومی نظریاتی اور ثقافتی تشخص کی حفاظت کریں اور ذرائع ابلاغ کی ریاستی پالیسی وضع کریں۔ ہمارے ملک میں ریڈیو، ٹی وی اور کچھ اخبارات ریاست ک ے کنٹرول میں ہیں مگر عملاً انہیں ریاستی کنٹرول میں رکھنے کے بجائے حکومت کے قبضے میں دے دیا ہے جو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔“ (صفحہ 335 )

یعنی صحافت کے یہ پروفیسر چاہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ ریاست کے کنٹرول میں رہیں اور ان پر حکومت کا بھی اثر نہ ہو گویا حکومت میں آنے والی سیاسی جماعتیں ابلاغ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر لیں گی اس لیے ان پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا جب کہ موصوف کو ریاستی اداروں پر مکمل بھروسا ہے اب جس ملک میں صحافت کے پروفیسر کے سماجی و سیاسی شعور کا یہ عالم ہو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ حضرت کس قسم کے صحافی تیار کرکے بھیج رہے ہیں۔

اس مضمون میں جس آخری کتاب کا میں حوالہ دینا چاہوں گا وہ ہمایوں ادیب کی کتاب ”صحافت پاکستان میں“ (مطبوعہ عزیز پبلشرز لاہور 1984 )

یہ کتاب اس وقت شائع ہوئی جب پاکستانی صحافت 1984 تک میجر جنرل اسکندر مرزا، جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان اور پھر ضیا الحق کے ادوار دیکھ چکی تھی۔ جب یہ کتاب لکھی گئی اس وقت جنرل ضیا الحق کی فوجی آمریت اپنے جبرو استبداد کے آٹھ سال پورے کرچکی تھی مگر ہمایوں ادیب صاحب کی کتاب ”صحافت پاکستان میں“ ان تمام اقدامات سے صرف نظر کرتی ہے جو مختلف آمریتوں نے صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے کے لیے کیے۔ آدھی سے زیادہ کتاب قیام پاکستان سے قبل کی صحافت کے بارے میں ہے اور اس میں بھی اردو صحافت کا ذکر کرتے ہوئے غیر مسلم اردو صحافیوں کے تحریک آزادی میں کردار کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ”ہندو اخبارات“ کا نام دیا ہے یعنی ہندو مالکان کے اردو اخبار دراصل ہندو اخبارات تھے نہ کہ اردو۔

مثلاً ہمایوں ادیب صاحب اپنی کتاب کے صفحہ 84 پر لکھتے ہیں۔ زیر عنوان ”بعض دیگر ہندو اخبارات“ ملاحظہ کیجیے۔

”پرتاب“ انڈین نیشنل کانگریس کا کٹر حامی اور مسلمانوں کا مخالف تھا۔ ”ملاپ“ بھی ان ہی خیالات کا حامل تھا۔ ۔ ۔ اسی دور کا ایک اور ہندو اخبار ”ویربھارت“ تھا اور یہ متعصب اخبار تھا اور کانگریس کا حامی تھا۔ ”

جب کہ مصنف نے مسلم لیگ کے حامی اخبارات کو ”کٹر“ اور ”ہندوؤں کا مخالف“ نہیں لکھا ہے حالانکہ مسلمانوں کے اردو اخبارات بھی اپنی کانگریس دشمنی میں اور کانگریس کے رہ نماؤں حتیٰ کہ مسلم رہ نماؤں جیسے مولانا ابوالکلام آزاد کے خلاف زہر اگلنے میں کسی سے پیچھے نہیں تھے۔

ہمایوں ادیب صاحب کا متعصبانہ رویہ صرف غیر مسلموں کے خلاف ہی سامنے نہیں آتا بل کہ سندھ کی صحافت کے بارے میں یہ پیرا گراف دیکھیے۔

”سندھ کی صحافت کے ضمن میں یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اس صوبے کی مسلم آبادی پسماندگی کا شکار تھی۔ مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود سیاسی طور پر کوئی موثر حیثیت اختیار نہیں کرسکے تھے۔ اس کی بڑی وجہ ان کی تعلیمی و اقتصادی پس ماندگی تھی۔ مسلمان زیادہ تر ہاری (مزارع) تھے۔ یا حمالی و باربرداری پر گزارہ کرتے تھے۔ ان کے وجود ہستی پر ہندو تہذیب و معاشرت کے گھیرے سائے چھائے ہوئے تھے۔“ (صفحہ 86 )

ہمایوں ادیب یہ اس صوبے کے بارے میں لکھ رہے ہیں جو قیام پاکستان کی قرارداد کو صوبائی اسمبلی سے منظور کرانے والا سب سے پہلا صوبہ تھا۔ یہ وہی رویہ ہے جس کے تحت مشرقی پاکستان کو بھی ہندو تہذیب کے زیر اثر قرار دے کر مطعون کیا جاتا تھا۔

اسی طرح کا متعصبانہ رویہ ہمایوں ادیب صاحب صوبہ سرحد کے بارے میں پھیلاتے ہوئے لکھتے ہیں

”تقسیم برصغیر سے پیشتر صوبہ سرحد سے نکلنے والے اکثر و بیشتر اخبارات کانگریس کے حامی تھے۔ ماسوائے معدودے چند اخبارات کے تمام پرچے ہندوؤں کی ملکیت تھے یا سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان کے زیر اثر تھے۔ لیکن خدائی خدمت گار اور سرخ پوش جب ریفرنڈیم میں ناکام ہوگئے اور ان کا ا کھنڈ بھارت کاکانگریسی خواب شرمندہ تکمیل نہ ہوسکا تو وہ اپنے اخبارات و جرائد بھی زندہ نہ رکھ سکے۔ قیام پاکستان کے بعد تمام کانگریسی اخبارات بندہوگئے۔“ (صفحہ 88 )

ہمایوں ادیب کی اس تحریک سے یہ تو واضح ہے کہ صوبہ سرحد میں کانگریس تھی مگر اس کاکوئی ذکر نہیں کہ کس طرح کانگریس کی منتخب حکومت کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر قیام پاکستان کے صرف ایک ہفتے بعد برخاست کیا گیا۔ سرخ پوش اورخدائی خدمت گار تنظیموں پر پابندیاں لگائی گئیں جس کے نتیجے میں ان کے اخبار بھی بند ہوگئے۔ مصنف کی تحریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا سب خود بخود ہوگیا اور مسلم لیگ کی مرکزی حکومت نے جو جمہویت کا تیاپانچہ کرنا شروع کیا اس کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی بلوچستان اور مشرقی بنگال کی صحافت کا کوئی ذکر ہے۔

ہمایوں ادیب کی کتاب ”صحافت پاکستان میں“ کے چھٹے باب میں ”آزادی کے بعد“ کے زیر عنوان کچھ دل چسپ معلومات بھی دی گئی ہیں مثلاً یہ دیکھیے۔

”قادیانوں کے خلاف تحریک کے دوران جو ہنگامے ہوئے تھے ان کی تحقیقات سے متعلقہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ جولائی 1951 سے جون 1952 تک“ آفاق ”،“ احسان ”، زمیندار“ اور ”مغربی پاکستان“ جیسے حکومت نواز اخبارات میں دو لاکھ روپے کی رقم تقسیم کی گئی تھی ان عطیات کی منظوری اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نے دی تھی۔ یہ رقم تعلیم بالغان کے مخصوص فنڈز سے دی گئی اور اس کا مقصد قادیانیوں کے خلاف تحریک چلانا تھا۔ ”(صفحہ 119 )

ایک طرف تو یہ کام کیا گیا اور دوسری طرف جب پنجاب میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا تو اخبارات پر سنسر لگا دیا گیا جن میں روزنامہ ”ڈان“، ”ایوننگ سٹار“، ”پاکستان اکونومسٹ“، ”مرر“ اور ”ورائٹی“ کو سرکاری اشتہارات سے محروم کر دیا گیا۔ سرکاری دفاتر کے لیے ان اخبارات و جرائد کی خرید بند کردی گئی اور انہیں سرکاری تقریبات میں شرکت سے روک دیا گیا۔ یہ سب اخبارات کراچی سے نکلتے تھے۔ (صفحہ 119 )

درج بالا اقتباسات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے خود معاشرے میں مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصب پھیلانے کے لیے اخبارات کو استعمال کیا اور پچھلے ستر سال میں یہ زہر پھیل کر پوری صحافت اور پاکستانی معاشرے میں سرایت کرچکا ہے۔

اس کتاب میں بھی آمریتوں کا سرسری سا تذکرہ ہے۔ مثلاً جنرل ایوب خان کی سنسر شپ اور آزاد اظہار پر بندشوں کا ذکر صرف ایک صفحے میں کیا گیا ہے۔ جب کہ بھٹو صاحب کے خلاف ایک پورا باب۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف پورا ایک باب رقم کیا گیا ہے جس میں اس دور کو تاریک ترین دور کہا گیا ہے جب کہ ایوب اور ضیاءکے ادوار کے بارے میں یہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے ہیں۔ مثلاً صفحہ 150 پر لکھتے ہیں۔

”پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اخبارات کے خلاف استبدادی کارروائی کا اگر ماضی میں اس قسم کے اقدامات سے موازنہ کیا جائے تو بھٹو حکومت کا پلڑا ڈیڑہ سوسالہ برطانوی سامراج کی زیادتیوں سے بھی بھاری نظر آئے گا۔ جس کی ایک ہلکی سی جھلک ہمیں اس دور کے بار میں ضیا حکومت کے شائع کردہ قرطاس ابیض میں بھی ملتی ہے۔“

موصوف پیپلز پارٹی کی حکومت اور ذوالفقار علی بھٹو کو جس طرح نشانہ بناتے ہوئے جنرل ضیا الحق کی حمایت کرتے ہیں اس نے پاکستان میں صحافیوں کی پوری نسل کو متاثر کیا ہے اس طرح کی درسی کتابیں پڑھ کر صحافت میں آنے والوں سے آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں جو ”مارشل لا نیا دور“ کے زیر عنوان یہ سب پڑھ کر آئے ہوں۔

” 1977 میں پانچ جولائی کو جب بھٹو حکومت کی معزولی کے بعد موجودہ مارشل لاءحکومت برسر اقتدار آئی تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا“ اس طرح ہمایوں ادیب جنرل ضیا الحق کے لیے رطب اللسان ہیں اور ان کی غیر جمہوری اور استبداد پر مبنی حکومت اور اس کے خلاف صحافیوں کی طویل جدوجہد، جس میں ناصر زیدی، نثار عثمانی، احفاظ الرحمان، منہاج برنا اور دیگر بڑے نام شامل تھے، غائب ہے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے پاکستان میں صحافت اور ذرائع ابلاغ کی تعلیم کو استعمال کرکے خاص طور پر جنرل ضیا کے بعد والی نسل کو ایک طرف تو یہ بالکل نہیں بتایا جا رہا کہ پاکستان میں جمہوری جدوجہد اور انسانی حقوق کے تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے صحافیوں نے کیا قربانیاں دی ہیں اور نہ ہی یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ کس طرح خود ریاستی اداروں نے مختلف فوجی آمریتوں کے دور میں اور ان کے بعد بھی یک طرفہ بیانیے کی تعیم دے کر صحافی تیار کیے جو تنقیدی صلاحیتوں سے بے بہرا ہیں اور تاریخ سے بھی واقف نہیں ہیں۔

اس مضمون کے اگلے حصے میں ہم دیکھیں گے کہ کچھ غیر درسی کتابیں موجود ہیں جو صحافت کے طالب علم پڑھ سکتے ہیں تاکہ انہیں تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر آ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *