سبز اور زرد گھاس والے پہاڑی میدان میں اک شام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس پہاڑی کے اوپر واقع سبز اور زرد گھاس والے دو میدانوں میں سے اوپر والے بڑے میدان کے کنارے پر پڑی اک بنچ پر ہم دونوں بیٹھے سامنے پھیلے ہوئے شہر کے منظر اور اس سے پرے بادلوں اور دھند میں ڈھکے پہاڑوں کے سلسلے کو اک بے خودی کے عالم میں دیکھے جا رہے تھے۔

مرے نیپالی دوست حیران بھی ہوتے ہیں اور خوش بھی کہ میں جب فیس بک میسینجر اور واٹس ایپ پر ان سے باتیں کرتا ہوں تو کٹھمنڈو کے جادوئی سے شہر کے بارے میں بہت زیادہ پوچھتا ہوں اور تھوڑا بہت اپنے ان دوستوں کے بارے میں۔

کٹھمنڈو اک اسرار بھرا شہر، جس کی فضاؤں اور کوچوں میں جدید زندگی کے ساتھ صدیوں کی تاریخ زندہ ہے اور جیسے باتیں کرتی ہے۔ اس تاریخ کا اک خوبصورت اور زندہ حصہ ہے پشوپتی ناتھ کا مندر۔

پشوپتی ناتھ ٹیمپل کمپلیکس، نام کتنے مشکل اور دقیق سے ہو جاتے ہیں جب ہم اپنی مقامی یا خطے کی زبانوں میں مشہور ناموں کو انگریزی کا پیوند لگا کر جدید یا ماڈرنائزڈ کردیتے ہیں۔ ہندؤ مذہب کے چند بہت مقدس مقامات میں سے ایک کٹھمنڈو میں واقع پشوپتی ناتھ کا مندر بھی ہے۔

پشوپتی ناتھ کی مختلف عمارتیں جو اپنے عقیدت مندوں کے لیے اک عقیدت اور احترام کی علامت ہیں، اک وسیع سے علاقے میں بیچ سے گزرتی بھاگ متی ندی اور کچھ پہاڑیوں، ان پر پھیلی ہوئی سبز اور زرد گھاس کے بڑے بڑے قطعے۔ درختوں کے جھنڈ اور گھاس کے قطعوں میں کہیں کہیں پھولوں کے بہت سے پودوں، بہت سے تاریخی مندروں۔ اوپر نیچے جاتی بہت سی سیڑھیوں، بھاگ متی ندی کے کنارے کے مرگھٹ اور دریا پار کی پہاڑیوں سے گھری ہوئی ہیں۔

قدرتی عناصر اور مناظر جیسے سمندر، ساحل، پہاڑ، وادیاں، دریا، درخت، پھول اور باغ کسی بھی شہر کی تکمیل سی کرتے ہیں۔ پشو پتی ناتھ مندر کے وسیع وعریض علاقے میں سے ایک پہاڑی ہمارے ہاسٹل کے بالکل سامنے تھی اور اک منظر کو مکمل سا کرتی تھی۔پہاڑی اور اس پر کچھ مختصر سی عمارات جو دیکھنے میں کچھ سادھووٰں کی رہنے کی جگہ سی معلوم ہوتی تھیں۔

مگر اس دن میں اور پرویز شام کے وقت جب کہ ابھی جولائی کے سورج کی روشنی باقی تھی بہت سی سنگی سیڑھیاں چڑھتے اور ان کے اطراف میں بندروں کے گھرانوں کو ان کی شام کی مصروفیات میں مگن

دیکھتے ہوئے پہاڑی کے عین اوپر جاپہنچے۔ وہاں کچھ تاریخی آثار اور چھوٹے چھوٹے کھلے مندروں کو دیکھتے اور ان پر لگے معلوماتی بورڈز کو پڑھنے کے بعد ذرا اور اوپر چلے گئے اور پتہ ہے کہ وہاں جاکر کیا دیکھا! چھوٹی سی پہاڑی یا بڑے سے ٹیلے کے عین اوپر انے والوں کے قدموں سے کہیں کہیں گھسی ہوئی سبز سے زرد ہوتی ہوئی گھاس کے دو میدان تھے۔

پہلا، نچلی سطح پر سبز اور زرد گھاس سے بھرا میدان جس میں کئی درخت اور کنارے پر ڈھلان سے پہلے جھاڑیوں کے جھنڈ تھے۔

اور اگر ہم اس میدان میں بالکل پہاڑی کے کنارے پر جا کر وہاں لگے جھاڑیوں کے جھنڈ میں گھس کر نیچے جھانکنے کی کوشش کرتے تو ہمیں اپنے ہاسٹل کے کمرے کی وہ کھڑکی نظر آجاتی جہاں سے روز صبح اور شام ہم اس پہاڑی کے سڑک والے حصے اور اس پر لگے درختوں کے جھنڈ اور جھنڈ کے پیچھے سے دکھائی دینے والی کچھ مختصر سی عمارتوں کو دیکھتے تھے۔

دوسرا میدان اوپری سطح پر پہاڑی کے عین اوپر اک چھوٹی سطح مرتفع کی مانند پھیلا، سبز اور زرد گھاس سے بھرا اور اس کے اختتام پر جھاڑیوں اور گھاس سے مزین ڈھلانیں جو بھاگ متی دریا کے کنارے تک چلی جاتی تھیں۔

اوپر والے میدان میں موجود چند بنچوں پر سے اک پر ہم دونوں جاکر بیٹھ گئے اور ہماری پشت پر پورے سبز اور زرد گھاس سے بھرے میدان میں بہت سے لوگ شام کی چہل قدمی کا لطف اٹھا رہے تھے اور بہت سے گھرانے شام کے وقت کو گزارنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔

بہت سی سنگی سیڑھیوں سے گزر کر اور نچلی سطح پر واقع میدان کے اک حصے کو عبور کرکے انے کے بعد سستانے کی غرض سے اک خالی بنچ پر یونہی بیٹھ سے گئے اور خاموشی سے سامنے پھیلے ہوئے شہر کے منظر کو اک بے خودی کے ساتھ دیکھنے لگے۔

بالکل اگے نچلی سطح پر سبز و زرد گھاس سے بھرے چھوٹے سے میدان میں جھاڑیوں کے جھنڈ اور درختوں کے اوپر سے سامنے کی بستی کے مکانوں کی چھتیں، گلیوں کے کچھ مناظر سے پر ے شہر کی دیگر بستیوں کے فاصلے اور شام کے اترتے ہوئے اندھیرے سے دھندلے ہوتے ہوئے مناظر، سامنے دائیں جانب کہیں دور بدھا ناتھ کا اسٹوپا اور اس کے اطراف کی عمارات نظر تو نہیں آ رہی تھیں مگر اک شائبہ سا

ہورہا تھا اور دکھائی دینے والے دھندلے سے ہوتے جاتے مناظر سے پرے کٹھنمڈو کے شہر کو گھیرے میں لئے پہاڑوں کے سلیٹی سے رنگ کے عظیم الحبثہ ہیولے اور ان پر چھائے بادل نظر ارہے تھے۔ اونچائی سے کسی بھی شہر کو دیکھنے کا تجربہ اس شہر کی گلی کوچوں میں گھوم کر دیکھنے سے بالکل الگ ہے۔

بلندی سے شہر اک بڑی جادوئی سی تصویر بن کر نظر انے لگتا ہے۔ اک الگ سا منظر جو جزیات کو نہیں بلکہ شہر کو فاصلے سے نظر انے والی اک مکمل تصویر سا دکھلانے لگتا ہے اور ڈھلتی ہوئی شام میں تو عام سے منظر بھی طلسمی سے دکھائی دینے لگتے ہیں۔

جولائی کی اک سہانی سی گزرتی ہوئی شام اور پشو پتی ناتھ کے مندر کے ساتھ والی پہاڑی پر سبز و زرد گھاس سے بھرے میدان میں وقت گزارنا اک مختلف سا تجربہ اور اس تجربے کی یاد اس جگنو کی مانند ہے جو زندگی کے اندھیرے میں روشنی بن کر زندگی کو جگمگا دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *