کیا ”سب رنگ“ ڈائجسٹ کے قاری کے ساتھ ہاتھ ہو گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں دو وجوہات کی بنا پر نئی کتابوں کی خرید مؤخر کی ہوئی تھی: ایک وجہ تو کرونا وائرس کی وبا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے زیادہ تر خریداری آن لائن ہو رہی ہے۔ ذہن میں یہی خیالات گردش کرتے رہتے ہیں کہ کتاب پیکنگ سے لے کر بذریعہ ڈاک ترسیل کے دوران پتہ نہیں کن کن ہاتھوں سے گزرے گی۔ ان میں سے کوئی فرد بھی خدانخواستہ کرونا کا شکار ہو سکتا ہے اوراس کتاب کو مشکوک کر سکتا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ گھر میں میرے علاوہ کوئی بھی فرد کتابوں کی طرف سیدھی کیا ترچھی نظر ڈالنا بھی پسند نہیں کرتا۔

ان حالات میں دل نہیں کرتا کہ کسی ایسے اثاثے میں اضافہ کیا جائے جس نے بعد میں ردی اور کاٹھ کباڑ کا حصہ بننا ہے۔ یہی وجہ ہے سوشل میڈیا پر بہت سے مشہور لکھنے والوں کی بہت ہی مقبول تخلیقات کے دل کش اور منہ میں پانی لانے والے اشتہارات دیکھ کر بھی زیادہ تر ضبظ سے ہی کام لیتا ہوں اور پرانی شراب ہی نئی نئی بوتلوں میں ڈال کر پیتا رہتاہوں۔ نشہ ہی پورا کرنا ہے، ضروری ہے مال نیا ہی ہو۔

انہی دنوں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں ماضی کے ایک پسندیدہ ڈائجسٹ ”سب رنگ“ کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ ”سب رنگ“ بہت سی وجوہات کی بنیاد پر اپنے ہم عصر ڈائجسٹوں کی نسبت زیادہ مقبول رہا۔ اپنی اس شاندار مقبولیت اور پسندیدگی کے باوجود کچھ وجوہات کی بنیاد پر اس کی اشاعت میں تعطل آ جاتا تھا۔ یہ تعطل 2007 میں مستقل شکل اختیار کر گیا اور اس کے اس کا کوئی شمارہ شائع نہیں ہوا۔ ”سب رنگ“ کے قارئین کی ہمیشہ سے ہی یہ خواہش اور کوشش رہی کہ اس کی اشاعت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

اصل میں ”سب رنگ“ کی پسندیدگی کی ایک وجہ اس کی سلسلہ وار کہانیاں، خاص طور پر ”بازی گر“ تھی۔ اس ادھوری کہانی کی خوبصورت ہیروئن ”کورا“ آخری شائع ہونے والی قسط تک کہیں گم تھی۔ ”سب رنگ“ کے دیوانوں کی شدید خواہش رہی ہے کہ چاہے رسالہ دوبارہ شروع نہ ہو، شکیل عادل زادہ (سب رنگ کے مدیر اعلٰی اور ”بازی گر“ کے رائٹر) کم از کم ”بازی گر“ کو تو مکمل کر دیں تاکہ ہمیں ہماری کھوئی ہوئی ”کورا“ کا کوئی سراغ مل سکے۔ بوجوہ یہ دونوں کام ہی نہ ہو سکے : رسالے کا اجرا ہوا نہ ”کورا“ بازیاب ہو سکی۔

”سب رنگ“ تو میدان میں نہ آسکا، البتہ ”سب رنگ کہانیاں“ کے عنوان سے اس کی کچھ ”باقیات“ میں دوبارہ روح پھونکی گئی ہے۔ منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے ”سب رنگ“ کے ایک دیوانے جناب حسن رضا گوندل نے اس میں شائع ہونے والی غیر ملکی کہانیوں کے تراجم پر مبنی ایک کتاب کی اشاعت کا مشکل کام کیا ہے۔ کتاب بازار میں آئی تو ”سب رنگ“ کے شیدائیوں کی عید ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر اس کے اشتہارات اور پرنٹ میڈیا میں کئی مشہور کالم نگاروں کے تعریفی کالم پڑھ کر ہم بھی جذبات کی رو میں ایسے بہے کہ نئی کتاب نہ خریدنے کی ”توبہ“ دھری کی دھری رہ گئی اور فوری آن لائن خریداری کا ”کوڑا گھٹ“ بھر لیا۔

کتاب جہلم کے مشہور اشاعتی ادارے ”بک کارنر“ نے شائع کی ہے۔ کتاب کا ٹائٹل شاندار ہے اور کاغذ بہترین۔ کہانیوں کا انتخاب بھی شاندار ہے۔ ”سب رنگ“ میں شائع ہونے والی کہانیاں ہمیشہ ہی معیاری رہی ہیں۔ یہ کتاب ”سب رنگ“ کے قارئین کے لئے یقیناً ایک بہترین تحفہ ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود ہمارے خیال میں اس میں ایک کمی رہ گئی ہے جو قابل غور بھی ہے اور اس کا آئندہ ازالہ بھی ضروری ہے۔ کتاب کا فونٹ یعنی اس کی تحریر کا سائز بہت چھوٹا ہے۔

”سب رنگ“ کا اجرا 1970 میں ہوا اور اس کا آخری شمارہ 2007 میں شائع ہوا۔ اپنے اجرا کے فوراً بعد ہی یہ مقبول ہو گیا تھا۔ ہم ٖفرض کر لیتے ہیں کہ اس کے قارئین نے بیس سال کی عمر میں اس کو پڑھنا شروع کر دیا ہوگا۔ گویا 1970، 1980، 1990 اور 2000 میں بیس سال کی عمر میں اس کو پڑھنا شروع کرنے والوں کی عمریں اب اس کتاب کی اشاعت کے وقت 2020 میں بالترتیب ستر، ساٹھ، پچاس اور چالیس سال ہو چکی ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر چالیس سال کی عمر کے بعد پڑھنے کے لئے عینک کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب اس عمر میں تحریر کا چھوٹا سائز ان کے لئے تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کتاب میں وہی دلچسپی لیں گے جو پہلے ”سب رنگ“ پڑھ چکے ہیں۔ کتاب کی تحریرکے سائز کا انتخاب کرتے وقت ان ”بابوں“ کی آنکھوں کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔

ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا۔ کتاب بہت شوق سے منگوائی اور فونٹ کا سائز دیکھ کر گھبرا گئے۔ اپنا ”دکھ“ سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو کچھ اور لوگوں نے بھی یہی شکایت کی۔ ایک بیٹی تو یوں گویا ہوئی: ابو نے بہت شوق سے منگوائی اور بغیر پڑھے مجھے دے گئے ہیں اور ساتھ تاکید کی ہے کہ دن کی روشنی میں پڑھنا، رات کو نہیں، بینائی چوس فونٹ ہے۔ ہم نے پھر بھی ہمت دکھائی کہ سوا دو کہانیاں پڑھ کر توبہ کی کہ آنکھیں بچانا زیادہ ضروری ہیں۔ اب اسے لفافے میں بند کر کے رکھ دیا ہے اوراسے دور دور سے ہی دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ : ”سب رنگ“ کے ایک قاری کے ساتھ شاید ہاتھ ہوگیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *