زہرا ضمیرِ صدف میں بھی محفوظ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زہرا  صدف! تمہاری موت پہ کچھ لکھیں یا چپ رہیں۔ ستم یہ ہے کہ اعصاب شل ہو جانے سے لکھنے کی ہمت نہیں اور چپ رہنے کی صورت ضمیر کچوکے دیتا ہے۔ کیا قسمت پائی ہے ہم نے کہ یہاں نہ زینب محفوظ ہے، نہ صغرا مامون ہے اور نہ زہرا کو امان ملتی ہے۔ کیا لوگ ہیں کہ کہ نام میں علویت کا دعویٰ رکھتے ہیں اور اعمال میں سفلے پن کی آخری حد۔

تم موت کو گلے لگا کے جیتی جاگتی حقیقت سے ایک خبر میں بدل چکی ہو۔ تم موت کا سفید لباس پہن کے ہم پہ زہر خنداں ہو۔ ہم، عورت کی آزادی گیت گانے والے، حقوق اور اختیار کے نعرے لگانے والے، تمہارے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔  موم بتی کی لو میں مظلوموں کی یاد جھلملائے تو بھی مردار خور مخلوق کف در دہان ہو جاتی ہے۔

تمہاری موت نے ایک بدصورت سچ کل عالم پہ عیاں کر دیا ہے۔ ہم جو قصبوں، دیہاتوں اور گوٹھوں میں رہنے والے مردوں کی شان میں ہمہ وقت رطب اللسان رہتے تھے، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید آگہی، کم علمی اور بربریت انہیں عورت پہ ظلم کرنے پہ اکساتی ہے۔ ہم اس بات کا ادراک ہی نہیں کر سکے کہ مرد کی تعلیم، تہذیب، عہدہ، خاندان اور معاشرتی مقام بھی پدرسری کا وہ نشہ ہرن نہیں کر سکتا جس میں وہ عورت پہ تشدد کرکے اسے اپنے من پسند مقام پہ رکھنا پسند کرتا ہے۔

تم گھر بچانے کی کوشش میں جان سے گئیں، یہ تلخ حقیقت خون کے آنسو رلاتی ہے لیکن ہم یہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکتے کہ کونسا گھر؟ کیسا گھر؟ کیا عورت کا بھی کوئی گھر ہوا کرتا ہے؟ کیا بے گھر ہونے کے ڈر سے وہ عمر بھر سولی پہ آویزاں نہیں رہتی؟

https://dailyausaf.com/pakistan/news-202007-66149.html

عورت حالات کے تھپیڑوں کے ساتھ بہتی مختلف گھروں میں بسیرا کرتی ہے۔ ان گھروں کے باہر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے ناموں کی تختی لگی ہوتی ہے۔ سر چھپانے کے لئے چھت کا انتظام تو ہوتا ہے لیکن قواعد وضوابط میں لکھ دیا جاتا ہے کہ چھت قائم رکھنے کی ذمہ داری عورت کے کندھوں پر ہے۔ حکم عدولی کی صورت میں گوشمالی کے ساتھ ساتھ کان پکڑ کے باہر نکالنے میں بھی دیر نہیں لگائی جائے گی۔ وہ پناہ گزین تمام عمر کولہو کے بیل کی طرح ہانپ ہانپ کے اس چھت کو بچانے کی خاطر یا تو عمر بسر کر دیتی ہے یا کسی دن صدف زہرا کی طرح پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی جاتی ہے۔

صدف! کیا تم جانتی نہیں تھی کہ تم نے جہالت کے بورے میں حنوط کئے شیر کی کچھار میں پاؤں رکھا ہے۔ کیا تمہیں اندازہ تھا کہ تمہاری جرات رندانہ کا کیا انجام ہو سکتا ہے؟ کیا تمہیں علم نہیں تھا کہ شوہر نامی مرد اپنی عملداری میں اختلافی لفظ سن کے دیوانگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ جھوٹی مردانگی کا شکار یہ باؤلا مرد زیر کرنے کو ہی اپنی فتح جانتا ہے۔ کیا ابھی تک تم نے سمجھا نہیں تھا کہ عورت اس سماج کا وہ پرزہ ہے جسے معاشرے اور مذہب نے مرد کی احتیاج کے مطابق چلنے کا حکم دیا ہے۔

عورت معاشی آزادی کی بات کرے تو “گلی کی کتیا” کا نعرہ سنائی دیتا ہے اور کچھ اچھی اور پاکیزہ عورتیں ” گھر کی ملکہ” بننے کی صلاح دیتی ہیں جنہیں پدرسری معاشرے نے اپنی “ماما عظمت” کے منصب پہ بھرتی کر رکھا ہے۔ عورت علم حاصل کرنے کی بات کرے تو چولہے کے سامنے بٹھا کے چکی ہاتھ میں تھما کے مرد کی اجازت کا پابند بنا دیا جاتا ہے۔ تھکی ماندی عورت خلوت میں مرد کے بلاوے پہ کان نہ دھرے تو فرحت ہاشمی نامی ایک عورت فرشتوں کی لعنت کا درس سنانا شروع کر دیتی ہیں۔ شوہر سے پٹائی ہونے کی صورت میں شوہر کا مقدمہ ایسے پیش کرتی ہیں کہ عورت اپنی نظر سے گر کے اپنے آپ کو ہی قصوروار ٹھہرانا شروع کر دیتی ہے ” میں نے غصہ کیوں دلا دیا”،”میں نے کھانا اچھا کیوں نہیں بنایا”، “میں نے ان کی پسند ناپسند کا خیال کیوں نہیں رکھا”، “میں نے وقت پہ ان کا کام کیوں نہیں کیا؟”

ہمیں بحیثیت ایک عورت صدف زہرا اور ان سب بیٹیوں کا دکھ رلاتا ہے جنہیں نہ زمین پاؤں رکھنے کی جگہ دیتی ہے نہ آسمان کڑی دھوپ میں سایہ فراہم کرتا ہے۔ ہم سے زیادہ کون جانتا ہے کہ بیٹی کا وجود تو پیدائش سے پہلے ہی ماتھے کی تیوری کا سبب بنتا ہے اور یہ تیوری تب تک سیدھی نہیں ہو پاتی جب تک اپنی بلا کسی اور کے سر منڈھ نہ دی جائے۔

بیٹی کو بیٹے کی طرح معاشرے کا فعال کردار بنانے کی بجائے ایک ہی راستہ چنا جاتا ہے، بلوغت کی عمر کو پہنچتے ساتھ ہی اگلے مالک کا پٹہ گلے میں ڈالنے کا انتظام۔ شعور اور ذہنی پختگی جو سوال اور خواہش سے بندھے ہوں، کسی بھی عورت کا نصیب نہیں بنائے جا سکتے۔

پدرسری معاشرے میں ہر مرد دوسرے مرد کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے سو مرد سے مرد کو منتقلی کے درمیانی وقفے میں عورت کو صرف ایک بات سکھائی جاتی ہے، مرد کی اطاعت اور اس کی کور چشمی کی اطاعت۔ تمام عمر، بلا مشروط، بلا جواز، بنا شکوہ یا شکایت!

باپ کی عزت کا بھرم، بھائی کی غیرت کا بوجھ، شوہر کے لامحدود اختیارات و حقوق کی روشنی میں اچھی بیٹی، اچھی بہن اور اچھی بیوی کا مقام حاصل کرنے کی جدوجہد کیسے کرنی ہے؟ ان تمام اچھائیوں کے تعاقب میں اپنی آشاؤں کا گلا کیسے گھونٹنا ہے؟ درد و اذیت کے لمحات میں صبر کے گھونٹ پی کے کاٹھ کی اس ہنڈیا کو جلنے سے کیسے بچانا ہے جس کی چوکھٹ پر گھر کی جعلی تختی لٹک رہی ہے؟ یہ تختیاں عورت کے گلے میں وقت پیدائش پہنا دی جاتی ہیں۔

زہرا صدف، تم نے ملک سبا کو تیاگ کر سلمان کے دل میں جگہ بنانا چاہی تھی، زمانہ بہت بدل چکا مگر نہیں بدلا۔ اس نگر میں تو زہرا صدف کے ضمیر میں بھی محفوظ نہیں، سلمان کے تاریک غار میں موت کی سناؤنی کے سوا تمہیں کیا مل سکتا تھا؟ تم اپنے سرابوں کا تعاقب کرتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھیں ہم تمہارے غم میں اور تم جیسی بیٹیوں کے دکھ کی دھوپ میں بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ آخر کب تک  معاشرہ عورت اور مرد کے بیچ اونچ نیچ کی دیوار گریہ کی پرستش کرتا رہے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *