بچہ گود لینا – پاکستانی تناظر میں 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلے حصے میں بچہ گود لینے کی بات مغربی ملکوں کے معاشرے کو سامنے رکھ کر کی تھی۔ اب کچھ بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں بچہ گود لینے کا کیا طریقہ کار ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاکستان میں مغربی طریقے پر بچہ گود لیا ہی نہیں جاسکتا۔ اور اسی لیئے اس پر قانون سازی بھی نہیں ہوئی۔ کسی لاوارث بچے کا سر پرست تو بنا جا سکتا لیکن بچے کو اپنی اولاد نہیں بنا سکتے۔

1989 میں جب بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ مرتب ہو رہا تھا تو بچوں کو گود لینے کی شق بھی سامنے آئی۔ تمام مسلمان اکثریتی ممالک نے مخالفت کی۔ دنیا حیران ہوئی کہ جو دین یتیموں کی سرپستی پر اتنا زور دیتا ہے اس دین کو ماننے والے یتیم کو گود لینے کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں۔ جواب آیا خدشات یہ ہیں کہ یہ بچہ بڑا ہو کر محرم ہوگا یا نامحرم؟ اسے جایئداد میں حصہ تو نہیں دینا پڑے گا؟ یہ بھی کہا کہ کسی غیر کو جائیداد میں حصے دار ٹھہرانا ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہر پانچ شادی شدہ جوڑوں میں سے ایک جوڑے کو بچہ پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اب لوگ بچہ گود لینے کے خواہشمند ہیں۔ لیکن پاکستان میں یہ کام قانونی طور پر انجام دینا آسان نہیں۔ زیادہ تر بے اولاد جوڑے اپنے ہی کسی رشتے دار کا بچہ لے لیتے ہیں۔ کسی کی بہن نے دے دیا یا کسی کے بھائی نے۔ یوں جایئداد کی تقسیم کا مسلئہ بھی زیادہ سنگین نہیں ہوتا۔ اور محرم والا خدشہ بھی کسی حد تک حل ہو جاتا ہے۔ بہن بھائی سے مطلب حل نہ ہوا تو کسی غریب رشتے دار کی کچھ مالی امداد کر کے اپنی گود بھر لی جاتی ہے۔ قانون نہ ہونے کی وجہ سے صرف زبانی وعدے اور ایک آدھ تحریری نوٹ سے کام چل جاتا ہے۔

اگر بچے یتیم ہو جائیں تو خاندان ہی کے لوگ انہیں لے جاتے ہیں۔ ریاست کوئی ذمہ داری نہیں لیتی۔ ان بچوں سے آگے چل کر کیا سلوک ہوتا ہے اور ان کے اپنے والدین کے اثاثوں میں سے انہیں کچھ ملتا ہے یا نہیں ریاست کو اس سے کوئی غرض نہیں۔

 کسی انجانے، نا آشنا بچے کو گود لینا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے حلال حرام ہونے کا مسلئہ ستاتا ہے۔ یہ خیال کہ کہیں یہ بچہ کسی گناہ کا نتیجہ تو نہیں۔ سن لیجیے کہ کوئی بچہ گناہگار نہیں ہوتا۔ بچے کی ماں بھی گناہ گار نہیں ہوتی۔ یہ معاشرہ ہے جس کے دباو میں آ کر ماں اپنے بچہ کو جدا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ مغربی معاشروں میں بچے کے حلال حرام ہونے کا سوال کبھی نہیں اٹھتا۔ دوسرا خدشہ گود لینے والوں کا یہ ہے کہ بچے کا مذہب اور فرقہ معلوم نہیں۔ ذات پات بھی پتہ نہیں۔ اس سلسلے میں مفتیوں اور علما سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے اس ڈر سے کہ کوئی خلاف شریعت حرکت سرزد نہ ہو جائے۔

وہاں سے کچھ اس قسم کی رہنمائی آتی ہے کہ بچہ گود لینا جائز تو ہے لیکن بچے کی ولدیت ہر حال میں حقیقی باپ کی طرف ہی منسوب ہو گی کسی اور کی طرف ولدیت منسوب کرنا حرام ہے اور یہ بھی کہ بچہ بڑا ہو کر نا محرم ہی رہے گا۔ سارے احکامات غیر محرم والے ہی ہوں گے اور منہ بولی ماں کا اس سے پردہ واجب ہوگا۔ اگر لے پالک لڑکی ہے تو پالنے والے باپ سے اس کا پردہ کرانا ہوگا۔ ۔ہر بات کو مذہب اور شریعت کی چھڑی سے پیٹنے کے بجائے کچھ کام انسانیت کی بھلائی کی خاطر بھی کر لینے چاہیں

معاشرےاور خاندان کے ڈر سے اپنی عزت بچانے کے لیئے بن بیاہی ماں بچے کو کہیں کسی کوڑے کے ڈھیر پر پھینک آتی ہے۔ جہاں کیڑے اور چیونٹیاں اس معصوم جسم کو کاٹتے ہیں۔ دعایں دیجیے عبدالستار ایدھی کو جنہوں نے اپنی بیگم کے ساتھ مل کر ایک ایسا ادارہ بنایا جہاں ان معصوم یتیموں کو جگہ ملی۔ ہر ایدھی سینٹر کے باہر ایک جھولا ہے۔ ایدھی صاحب کہتے تھے کہ “’اپنے بچے کو کبھی کوڑے میں مت پھینکو، قتل مت کرو، اُسے جھولے میں ڈال دو”۔ بلقیس ایدھی کی نگرانی میں یہ بچے پلتے ہیں۔ بے اولاد جوڑے ان سے بچہ گود لے سکتے ہیں۔ یہاں بچہ گود لینے کا باقاعدہ طریقہ کار ہے۔ گود لینے والوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اور تسلی ہونے پر بچہ ان کی گود میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی بچہ اور اس کے نئے والدین سے گاہ بگاہ ملاقات کی جاتی ہے یہ دیکھنے کے لیئے بچہ ایک محفوظ اور محبت بھرے ماحول میں پل رہا ہے یا کچھ مشکالات درپیش ہیں۔ اس ادارے کے تحت ہر سال تقریبا 250 بچے بے اولاد جوڑوں کو عطا کیئے جاتے ہیں۔

بے اولاد جوڑے بچہ نہ ہونے سے خود تو فکرمند ہوتے ہی ہیں، لیکن دنیا بھی انہیں جینے نہیں دیتی۔ طرح طرح کے مشورے دیئے جاتے ہیں۔ کسی اچھے ڈاکٹر کا پتہ۔ کسی حکیم کا معجون، کسی بابا کا تعویز، کسی پیرنی کا دم کیا پانی۔ لیکن شاید ہی کوئی ہو جو بچہ گود لینے کامشورہ دے۔ پرانی سوچوں، گھسی پٹی اقدار، فرسودہ نظریات سے ہم نکل ہی نہیں پاتے۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اولاد نہ ہونے کی ذمہ دار عام طور پر عورت ہی کو سمجھا جاتا ہے۔ مرد کو اپنی مردانگی پر پورا بھروسہ ہے۔ وہ تو ایک ٹسٹ بھی کرانے کو تیار نہیں ہوتا۔

بچہ گود لینے والے حتی الامکان اسے ایک راز رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ بچے سے بھی یہ بات چھپانا چاہتے ہیں کہ اسے گود لیا گیا ہے۔ اس کی بڑی ٹھوس وجوہات ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں لے پالک بچوں کو اگر تحقیر کی نظر سے نہیں تو ترحم کی نگاہ سے ضرور دیکھا جاتا ہے۔ اس لیئے بچے کے تحفظ کی خاطر کوشش کی جاتی ہے کہ بچے کو اس کی خبر نہ ہو۔ لیکن کوئی نہ کوئی گھر کا بھیدی یہ راز افشا کر ہی دیتا ہے۔ بچے پر جو گذرتی ہے اس کا اندازہ تو کوئی لگا ہی نہیں سکتا۔ اس کی پوری دنیا ہل کر رہ جاتی ہے۔ اسے گود لینے والے والدین کی محبت جھوٹی اور خود اپنا وجود بھی ایک دھوکا لگتا ہے۔

اس لیے بہتر تو یہ ہے کہ بچے کو شروع ہی سے بتا دیا جائے کہ کسی وجہ سے اس کے اپنے والدین اس کی پرورش کا فرض اٹھا نہیں پا رہے تھے اور خود انہیں بھی ایک بچہ کی خواہش تھی۔اس لیئے باہمی رضامندی سے کام کیا گیا ہے۔ جتنی جلدی بچے کو اس کا علم ہو جائے اتنی ہی جلدی وہ اس بات کو سمجھ لے گا لیکن ہمارا معاشرہ بہت بے درد ہے۔ بچے کا دل دکھتا رہے گا۔ اس لیے سوچ کو بدلنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ بچہ گود لے بھی لیا جائے تو ملکی دستاویزی طور پر اس کی رجسٹریشن نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ کوئی قانون ہے ہی نہیں۔

دوسری طرف بےتحاشا بڑھتی آبادی میں خاندانی منصوبہ بندی پر کوئی عمل نہیں۔ والدین نہ تعلیم دلا سکتے ہیں نہ ان تربیت کے لیئے ان کے پاس وقت ہے۔ یہ گلیوں میں آوارہ پھرتے لڑکے، لڑکیاں، کوئی بہلا پھسلا کر لے جاتا ہے۔ ان سے جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور پھر کسی کوڑے کے ڈھیر یا نہر کنارے ان کی لاشیں ملتی ہیں۔ کچھ شدت پسندوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور ان سےدہشت گردی کے پھیلاؤ میں کام لیا جاتا ہے۔ کچھ جسم بیچتے ہیں۔ کچھ منشیات کے استعمال اور خرید و فروخت میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ریاست ان بے سہارا اور لاوارث بچوں کو اپنی پناہ میں نہیں لے سکتی۔ بچے گود لینے والا ایک باقاعدہ ادارہ تشکیل دے۔ لوگوں کو اس پر آگاہی دیں کہ ایک بچے کی زندگی سنوارنا سو بھوکوں کو کھانا کھلانے سے بہتر ہے۔ کسی اپنے کی وفات پر یتیم خانے میں سے کچھ رقم دے کر بچے بلا کر قران خوانی کروانے کے بدلے انہیں پیٹ بھر کر کھانا کھلا دینے کو کافی نیکی سمجھتے ہیں۔

اسپتال سے بچے چوری کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک منظم گروہ ہے جو بچوں کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ کچھ بچے بے اولاد لوگ خرید لیتے ہیں کچھ بھکاریوں کے ہاتھ لگتے ہیں کچھ بچوں کو جنسی کج روی کی تسکین کے لیئے کسی خاص مقصد سے پالا جاتا ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے نہ کوئی قانون بننے دیا نہ لوگوں کی سوچ بدلی نہ ہی معاشرے نے اپنی ذمہ داری اٹھائی۔ ان چوری شدہ بچوں کی باقاعدہ نیلامی کی جاتی ہے۔ خریداروں کو تصاویر دکھائی جاتی ہیں اور پھر بولی لگتی ہے۔

حکومتی ادارے بچہ گود لینے کے قوانین ترتیب نہیں دیتے۔ پیچیدہ اور بے معنی کاغذی کارروائی لوگوں کو تھکا دیتی ہے مذہب کی رو سے اسے ناجائیز قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ستم ظریفی دیکھئے کہ ٹی وی پر کچھ سوالوں کے صحیح جواب دینے پر بچے تحفے کے طور پر دئے گئے ہیں۔ رمضان کی خصوصی ٹرانسمیشن کے دوران پروگرام کے ایک متنازع میزبان نے دو نومولود بچیوں کو بے اولاد جوڑوں کے سپرد کیا۔ کام نیکی کا ہے لیکن بغیر کسی قانون کے بچوں کو اس طرح تحفوں کی طرح بانٹنے کے اقدام پر سوالات نہیں اٹھانے جانے چاہیں؟

جو پہلے سے صاحب اولاد ہیں اور صاحب حثیت بھی وہ کبھی کوئی بچہ گود نہیں لیں گے۔ انہیں یہ بھی خدشہ ہوتا ہے کہ وہ لے پالک سے اولاد جیسا سلوک نہیں کر پایں گے۔ اپنا بچہ اپنا ہو تا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ بہت بڑا امتحان ہے۔ لیکن بس دل بڑا کرنے کی بات ہے۔

اگر بچہ گود لینے والے پاکستان سے باہر ہوں تو انہیں ایک قانونی راستے سے گذرنا ہوتا ہے۔ اس میں ان کا اپنا ملک جہاں وہ رہتے ہیں اور پاکستان کا اپنا جو بھی قانون ہے اس کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ یہ کام ہرگز بھی آسان نہیں ۔ہر ملک کا اپنا قانون ہے اور شہریوں کو اس کے حساب سے چلنا ہوتا ہے۔ مشکل انہیں پاکستان میں کوئی واضح قانون نہ ہونے سے پیش آتی ہے۔

 حالیہ تاریخ میں بچوں کو گود لینے کا ایک یادگار واقعہ: چند تاریخی تصاویر 

یہ تصویر 12 اپریل 1975 کو لی گئی۔ جنگ ویت نام کے دوران ہزاروں بچے یتیم ہو گئے تھے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکہ، آسٹریلیا، اور کینیڈا سمیت بہت سے مغربی ممالک سامنے آئے۔ Babylift کے نام سے شروع کئے گئے اس آپریشن کے دوران یہ بچے ویت نام سے امریکہ لائے گئے جہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے مکمل قانونی کارروائی کے بعد انہیں گود لیا۔

   

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *