گانمن سچار کون تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کا کردار اس کے انداز فکر پر مبنی ہوتا ہے۔ انداز فکر اچھا ہے تو کردار کا اچھا ہونا لازم ہے۔ انسان کے نظریات ہی اس کے کردار کی تشکیل کرتے ہیں اور کردار کی بنیاد سچ پر ہوتی ہے۔ جو سچ لکھتا ہے، سچ بولتا ہے اور سچ سننے کی طاقت رکھتا ہے وہ دراصل کردار کا غازی ہوتا ہے۔ کیوں کہ اتنی تکلیف سچ بولنے میں نہیں ہوتی جتنی کے سچ سننے میں ہوتی ہے۔ یاد رکھیں جھوٹا آدمی سچ بولنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ سچائی خطرے میں ہے۔ سچ تو وہی ہوتا ہے جو سچے انسان کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ جھوٹے انسان کا سچ منافقت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے تو آج بھی کوئی قسمت کا مارا اگر دن میں دوچار سچ بول دے تو اس کو لوگ طعنہ دیتے ہیں کہ بھائی اتنا گامن سچار نہ بنا کرو یہ وہ زمانہ نہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ شاہی درباروں میں ہمیشہ خوشامدی لوگوں کو پسند کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک دربار ایسا بھی تھا، جہاں ایک ایسے شخص کو عزت دی گئی، جو نہ خوشامدی تھا اورنہ مسخرہ، بلکہ حاکم کی ناراضگی کی پروا کیے بغیر سچ بات کہہ دیتا تھا۔ یہ دربار نواب غازی خان بلوچ کا تھا۔ جن کے نام پر ڈیرہ غازی خان کا شہر آباد ہے۔ غازی خان کے دربار میں ایک ”گانمن سچار“ وزیرتھا اور اس کی عادت یہ تھی کہ بھرے دربار میں جو بات کہنا ہوتی تھی، وہ کہہ دیتا۔

ایک دفعہ دربار میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ مصاحبین میں سے کسی نے گانمن سے پوچھا کہ نواب غازی خان کس کو زیادہ پسند کرتے ہیں تو گانمن نے غازی خان کی موجودگی میں کہہ دیا کہ سردار خوشامدیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ سردارغازی خان گانمن سچارکی عزت کے ساتھ ساتھ ہر بات کو بھی برداشت کرتے۔ غازی خان جیسے حکمران بہت کم ہوتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ سچ کہنے کی وجہ سے گانمن نہ تو نواب بن سکا اور نہ بادشاہ۔ گانمن نے فقیری میں ہی زندگی گزاری۔ سچ بات کہنے کی وجہ سے انہیں گانمن سچار کہا جاتا ہے۔

جھنگ کے علاقے بوہڑ کورائی میں بہبل خان بلوچ نامی ایک شخص رہائش پذیر تھا جو حضرت دیوان علی شاہ کا مرید تھا اور بہبل خان اپنی بیوی اوربیٹے گانمن کو ساتھ لے کر اچ میں آ گیا۔ یہ گانمن کی خوش قسمتی تھی کہ اچ کے درس میں پڑھنے لگا۔ پیر سید دیوان علی شاہ کے چار بیٹے تھے۔ در لعل، درجمال، در کمال اور در پیر شیخ سید جلال۔ جب پیر دیوان علی شاہ فوت ہوئے تو ان بھائیوں میں گدی نشینی کے باعث اختلافات شروع ہو گئے۔ گامن سچار نے سوچا کہ اگر میں کسی ایک کا ساتھ دوں تو دوسرے نمک خواری اور بے وفائی کی تہمت لگائیں گے۔ والدین ویسے بھی فوت ہو گئے ہیں، بہتر ہے کہ یہاں سے ہجرت کر جاؤں۔ گانمن وہاں سے چل پڑا اور ڈیرہ غازی خان پہنچ گیا۔

گانمن جب ڈیرہ غازی پہنچا تو مسافر سمجھ کرایک بزرگ خاتون نے گھر کے باہرچارپائی ڈال دی اور گانمن سو گیا۔ غازی خان کی کچھ سپاہی وہاں سے گزر ے تو دیکھا کہ چارپائی کے نزدیک ایک مرغ دانہ چگ رہا ہے۔ سپاہیوں نے مرغ کو پکڑنے کی کوشش کی۔ مرغ کی بار بار گانمن کی چارپائی کی نچے چھپنے کی وجہ سے گانمن کی آنکھ کھل گئی۔ سپاہیوں سے کہنے لگا۔ یہ مرغ میری پناہ چاہتا ہے، جتنے پیسے کہو میں دے دیتا ہوں۔ سپاہی کہنے لگے جانتے نہیں ہو، ہم کون ہیں؟

ہم غازی خان کے سپاہی ہیں اور یہ مرغ غازی خان کے کھانے کے لیے ہی پکڑ رہے ہیں۔ گانمن کہنے لگا غازی خان اتنی بڑی ریاست کا مالک اور کھاتا حرام ہے؟ سپاہیوں نے تلواریں نکال لیں اور کہا چلو غازی کے دربار میں۔ گانمن نے کہا چلو۔ دربار میں پیش ہوا، غازی خان نے کہا کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ گانمن کہنے لگا کہ میں آپ کی بڑی تعریفیں سن کر آپ کی فوج میں بھرتی ہونے کے لیے آپ کی سلطنت میں آیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ چند خوشامدیوں نے آپ کے بارے جھوٹی کہانیاں بنائی ہوئی ہیں کہ آپ بڑے اچھے انسان ہیں۔

جو سچ پوچھیں تو آپ بالکل ہی اچھے انسان نہیں۔ غازی خان غصے میں کہنے لگا، میں اچھا انسان کیوں نہیں؟ گانمن نے کہا! اگر کوئی انسان کسی غریب کا حق مار کر عیاشی کرے تو اس جیسا کمینہ شخص کائنات میں نہیں۔ آپ کی مثال بھی اس شخص کی طرح ہے جو اتنی ریاست ہونے کے باوجود بھی غریب کے مرغ کو چھین کر کھاتا ہے۔ قیامت کے دن رب کو کیا جواب دو گے۔ غازی خان کا مشیر مسدی کہنے لگا اس کمبخت کو قتل کرڈالو۔ غازی خان نے کہا نہیں، بلکہ اس کو کرسی دو۔ یہ پہلا شخص ہے جس نے میرے سامنے حق اور سچ بولا جو میں نے آج تک آپ لوگوں کی زبان سے نہیں سنا۔ غازی خان نے کہا نام کیا ہے تمہارا؟ گانمن، آج سے تم صرف گانمن نہیں بلکہ گانمن سچار ہو اور آج سے میرے اتالیق ہو۔

گانمن سچار مجھے کوئی مشورہ دو۔ پہلا مشورہ یہ ہے کہ اپنی ”میں“ کو ختم کرو، دوسرا یہ کہ رعایا سے نذرانہ مت لو اور ٹیکس کم کرو۔ غازی خان نے حکم صادر کر دیا کہ آج کے بعد رعایا سے نذرانے بند، ٹیکس کم۔ اس حکم سے درباری اور جاگیردار خلاف ہوگئے۔ لیکن رعایا گانمن سچار کو دعائیں دینے لگی۔

1519 میں ظہیر الدین بابر اور لودھیوں کے درمیان پانی پت میں پہلی جنگ چھڑ گئی۔ اسی جنگ میں ابراہیم لودھی مارا گیا۔ ظہیر الدین بابر نے دہلی میں اپنی سلطنت قائم کر لی۔ شاہ حسن ارغون نے لنگاہ حکومت کے انتشار اور زوال کا خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے ملتان پر قبضہ کر لیا اور اپنی سلطنت کو بابر کی سلطنت میں شامل کر دیا اور کوٹ کروڑ ملتان کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے بالواسطہ بابر کی حکومت میں شامل ہو گیا۔ لیکن ہوتوں اور میرانیوں نے اپنا حق سمجھتے ہوئے حملہ کر دیا اور اس کی تقسیم پر مسائل پیدا ہو گئے۔ سرحد کے تعین پر سردار اسماعیل خان اور غازی خان دونوں آمنے سامنے آگئے اور علاقے کے حصول کے لیے دنوں میں جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور یہ جنگی سلسلہ گانمن سچار کے ہاتھوں موڑ جھنگی پر سرحد قائم ہونے سے ختم ہوا۔

اچ شریف بہاولپور میں سرائیکی دھرتی کے اس خوشدل، خوش بیان اور سچے ہیرو گامن سچار کا مزار ہے۔ آج بھی لوگ ان کے مزار پر جا کر سات الٹے پھیرے لگاتے ہیں۔ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ چکر ایک سچے انسان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا طریقہ ہے اور ان پھیروں سے انسان میں سچ بولنے کی طاقت اور جرات پیدا ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply