آزاد کشمیر کابینہ کا حکومت پاکستان سے آئین کی دفعہ 257 کی پاسداری کا مطالبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزاد کشمیر حکومت کی کابینہ کے 15 جولائی 2020 کے اجلاس کو بلاشبہ تاریخ ساز اجلاس قرار دیا جا سکتا ہے جس میں متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے دونوں حصوں میں رہنے والے باشندوں کی بہترین ترجمانی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی صدارت میں آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے غیر معمولی اجلاس میں آزاد کشمیر حکومت کی کابینہ نے وزارت امور کشمیر کی طرف سے موصولہ مسودہ آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی امور باہمی مشاورت، عوامی امنگوں کے مطابق اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 257 کی منشا کے مطابق ہی طے کیے جا سکتے ہیں جس کے لیے اعلی ترین سطح پر باہمی مشاورت کی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق ہندوستان کے جارحانہ اقدامات کے تناظر میں ریاست جموں وکشمیر کے دونوں اطراف بسنے والی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی خاطر حکومت آزادکشمیر کو مزید با اختیار بنانے کے لیے باہمی مشاورت سے اقدامات اٹھائے جائیں۔

اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”آزاد جموں وکشمیر کابینہ کا غیر معمولی اجلاس مورخہ 15 جولائی 2020 زیرصدارت جناب وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کابینہ کمیٹی روم ( وزیر اعظم سیکرٹریٹ ) مظفرآباد میں منعقد ہوا جس میں وزارت قانون و وزارت امور کشمیر حکومت پاکستان کی جانب سے موصولہ مسودہ آئینی ترمیم محررہ 22 جون 2020 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کابینہ نے مجوزہ مسودہ کی نسبت بذیل فیصلہ جات کیے۔

کابینہ نے مسودہ آئینی ترمیم سے متفقہ طور پر کامل اتفاق نہیں کیا۔ کابینہ کی متفقہ رائے ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کا وطن عزیز پاکستان کے ساتھ نظریاتی تعلق کشمیری عوام کی لازوال امنگوں کا مظہر ہے۔ جو کسی فرد، جماعت یا حکومت کی ملکیت نہیں ہے بلکہ ریاست کے دونوں طرف بسنے والے لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور یہ وابستگی حضرت قائداعظم محمد علی جناح، بانی پاکستان کے ویژن سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ کابینہ نے مزید اظہار کیا کہ حکومت ہندوستان کی جانب سے 5 اگست 2019 کے اقدامات کی بنا پر مسئلہ کشمیر کی مسلمہ بین الاقوامی حیثیت اور ریاستی عوام کی منشا اور بنیادی حقوق کی پامالی ہوئی ہے۔

حکومت ہندوستان نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ریاست جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے بھی صریحا متصادم ہے۔ اسی تناظر میں ریاست جموں وکشمیر کے دونوں اطراف بسنے والی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی خاطر حکومت آزادکشمیر کو مزید با اختیار بنانے کے لیے باہمی مشاورت سے اقدامات اٹھائے جائیں۔ کابینہ نے اس رائے کا بھی اظہار کیا کہ آئینی امور باہمی مشاورت، عوامی امنگوں کے مطابق اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 257 کی منشا کے مطابق ہی طے کیے جا سکتے ہیں جس کے لیے اعلی ترین سطح پر باہمی مشاورت کی ضرورت ہے۔ کابینہ نے متفقہ طور پر راجہ محمد فاروق حیدر خان صاحب، وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کی قیادت پر کامل و مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ ”

آزاد کشمیر میں 14 ویں آئینی ترامیم کے حوالے سے ایک عرصہ سے کشمکش اور تشویش کی صورتحال نظر آ رہی تھی اور اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی جاری تھیں۔ ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ وزارت امور کشمیر کی طرف سے ارسال کردہ 14 ویں آئینی ترامیم کے حوالے سے آزاد کشمیر حکومت پر مختلف حوالوں سے سخت دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور ان یک طرفہ آئینی ترامیم کو منظور کرنے کے لئے مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے آزاد کشمیر حکومت وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی قیادت میں تاریخ ساز 13 ویں آئینی ترامیم کرا چکے تھے، جس میں آزاد جموں کشمیر حکومت کو انتظامی اور مالیاتی طور پر با اختیار کرنے کے امور شامل تھے۔

یوں اب آزاد کشمیر حکومت نے ریاست جموں وکشمیر اور کشمیر کاز کے حوالے سے ایک بڑا اور جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے آئین میں ترامیم، پاکستان کے آئین کی دفعہ 257 کی منشاء کے مطابق، حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان اعلی سطحی مشاورت سے کی جا سکتی ہیں۔ یہاں یہ دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 257 میں کیا کہا گیا ہے۔ پاکستان کے آئین کی دفعہ 257 کے الفاظ یہ ہیں کہ ”جب ریاست جموں و کشمیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے، پاکستان اور ریاست کے تعلقات کا تعین ریاست کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔

(257. Provision relating to the State of Jammu and Kashmir.-When the people of the State of Jammu and Kashmir decide to accede to Pakistan, the relationship between Pakistan and that State shall be determined in accordance with the wishes of the people of that State.)

یعنی آئینی دفعہ 257 میں یہ کہا گیا ہے کہ ریاست کے لوگ جب پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان کے ساتھ ریاست کے تعلقات کا تعین بھی ریاست کے لوگوں کی مرضی کے مطابق ہو گا۔ ریاست جموں و کشمیر سے متعلق پاکستان کے آئین کی اس دفعہ کی منشاء، غرض و غایت یہی ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل اور مسئلہ کشمیر کے حل تک تمام امور میں ریاستی لوگوں کی رائے کا احترام کرے گا۔ اس اصول کی روشنی میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ آزاد جموں وکشمیر سے متعلق امور میں بھی پاکستان کی طرف سے ریاست کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ اس اصول کے مطابق حکومت پاکستان آزاد کشمیر کے لوگوں کی خواہشات کو مقدم رکھنے کی پابند ہے اور آزاد کشمیر حکومت پر یک طرفہ فیصلے مسلط کرنا پاکستان کے آئین کی دفعہ 257 کی صریحا خلاف ورزی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کابینہ کی طرف سے حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے اٹھائے گئے جارحانہ اقدامات سے پیدا شدہ مسئلہ کشمیر کی نازک صورتحال کے تناظر میں آزاد کشمیر حکومت کو کشمیر کاز کے حوالے سے کردار دیا جائے۔ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف بسنے والی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی خاطر حکومت آزادکشمیر کو مزید با اختیار بنانے کے لیے باہمی مشاورت سے اقدامات اٹھائے جائیں۔

آزاد کشمیر حکومت کی 73 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب کشمیر کاز اور آزاد کشمیر حکومت کے حقوق و اختیارات سے متعلق واضح اور دو ٹوک موقف اپنایا گیا ہے۔ یوں ایک واضح موقف دیتے ہوئے پس پردہ ان سازشوں اور دباؤ سے مجبور کرنے کی ان کوششوں کو بھی کمزور کیا گیا ہے جس کے نتائج کشمیریوں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بھی وسیع تر مفادات کے منافی ہو سکتے ہیں۔

یہ بات واضح رہے کہ کشمیریوں کی تاریخی قرار داد الحاق پاکستان میں بھی پاکستان کے ساتھ بطور ایک ریاست کے الحاق کی بات کی گئی ہے، جس میں دفاع، امور خارجہ، مواصلات اور کرنسی کے علاوہ باقی تمام امور ریاست جموں و کشمیر حکومت کے ہوں گے۔ پاکستان کے آئین کی دفعہ 257 سے بھی کشمیریوں کی مرضی کو تسلیم کیے جانے کی آئینی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اس طرح اب یہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کو ریاست کے دونوں حصوں کے لوگوں کی نمائندگی کے طور پر کشمیر کاز کے حوالے سے کردار دیا جائے اور آزاد کشمیر کے آئینی امور کے حوالے سے بھی پاکستان کے آئین کی دفعہ 257 کی پاسداری کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply