EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

آیا صوفیہ اور امت مسلمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدالتی فیصلے کی روشنی میں صدارتی فرمان کے ذریعے ہم نے آیا صوفیہ کی بطور مسجد حیثیت کو بحال کر دیا ہے۔ اس طرح 86 سال بعد آیا صوفیہ ایک بار پھر سے بطور مسجد استعمال ہو سکے گی جیسا کہ فاتح سلطان محمد کے دور میں تھی۔ چونکہ اس کی حیثیت تبدیل کردی گئی ہے، لہذا ہم داخلے کی فیس منسوخ کر رہے ہیں۔ ”ہماری تمام مساجد کی طرح، اس کے دروازے بھی مسلم اور غیر مسلم سب کے لئے کھلے رہیں گے۔ دنیا کا مشترکہ ورثہ ہونے کے ناتے، آیا صوفیہ اپنی نئی حیثیت کے ساتھ ہر ایک کو زیادہ مخلصانہ انداز میں گلے لگاتا رہے گا۔“ ہم بین الاقوامی سطح پر دی جانے والی ہر رائے کا احترام کے ساتھ برتاؤ کریں گے لیکن جس طرح سے آیا صوفیہ کو استعمال کیا جائے گا وہ ترکی کے خودمختار حقوق کے ماتحت ہے۔ جلد تیاریاں مکمل کرنے کے بعد 24 جولائی 2020 کو جمعہ کی نماز سے آغاز کر کے آیا صوفیہ کو عبادت کے لئے کھول دیا جائے گا۔

”آیا صوفیہ کی بحالی مسجد اقصیٰ کی آزادی کی طرف پہلا قدم ہے۔“

ترک صدر رجب طیب اردگان تاریخی عدالتی فیصلے جس میں آیا صوفیہ کی حیثیت کو بطور مسجد بحال کیا گیا کے بعد عوام سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کے لہجے میں بلا کا اعتماد تھا اور ان کی الفاظ سے پختہ یقین چھلک رہا تھا۔ اس کے باوجود کہ ترکی کو گزشتہ برس اقتصادی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ جھکے نہیں بلکہ اپنے مقصد سے جڑے رہے۔

اس فیصلے پر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو، یونان اور روس نے احتجاج کی ہے جبکہ پاکستان سمیت بیشتر مسلم دنیا نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ عمارت مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے اتنی اہم کیوں ہے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں آیا صوفیہ کی تاریخ جاننا ہو گی۔

آبنائے باسفورس کے کنارے موجود اس تاریخی عمارت نے سینکڑوں ادوار کا مشاہدہ کیا اور بشمار تبدیلیوں سے گزری۔

بازنطینی بادشاہ کونسٹینیس دوئم (Constantious 2 nd) نے 360 عیسوی میں آیا صوفیہ کی پہلی عمارت کی تعمیر کا حکم دیا۔ اس کی چھت لکڑی سے بنائی گئی تھی مگر ملک میں ہونے والے ہنگاموں نے اسے جلد ہی جلا کر راکھ کر دیا۔

تھیوڈوسس ثانی (Theodseous 2 nd) نے 415 عیسوی میں اس کو دوبارہ تعمیر کیا مگر اس بار ماربل کا استعمال کیا گیا۔ لیکن 532 عیسوی میں خانہ جنگی کے دوران ایک مرتب پھر اس کو منہدم کر دیا گیا۔ اس کی چند باقیات آج کی عمارت کا حصہ ہیں۔

موجودہ عمارت کی تعمیر بازنطینی بادشاہ جسٹینین اول کے دور میں 537 عیسوی میں ہوئی۔ وہ اس وقت کا دنیا کا سب سے بڑا کلیسا بنانا چاہتا تھا۔ عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس نے کہا تھا

”Solomon I have surpassed you.“

یعنی سلیمان میں تم پہ برتری لے گیا۔ یہاں سلیمان علیہ السلام کی بنائی گئی مسجد کی طرف اشارہ تھا۔ آیا صوفیہ اس کے بعد سے قریباً ہزار سال تک آرتھوڈوکس عیسائی فرقے کا سب سے بڑا چرچ رہا ہے۔

1453 عیسوی میں عثمانی سلطان محمد ثانی المعروف محمد فاتح نے 53 روز کے محاصرے کے بعد بالآخر قسطنطنیہ فتح کر لیا۔ فتح کے بعد سلطان نے آرتھوڈوکس عیسائیوں، قسطنطنیہ اور بازنطینی سلطنت کا نمائندہ سمجھا جانے والے آیا صوفیہ کو کلیسا سے مسجد میں تبدیل کر دیا۔ سلطان نے عیسائیوں اور یہودیوں سمیت تمام شہریوں کو نہ صرف قسطنطنیہ میں رہنے کی اجازت دی بلکہ آیا صوفیہ کے علاوہ تمام کلیساؤں کو اصلی حالت میں برقرار رکھا اور ان میں عبادت کی مکمل آزادی دی۔ سلطان نے آیا صوفیہ میں موجود پینٹنگز، سکلپچرز اور عیسائیوں کی تمام مذہبی علامات کو ڈھانپ دیا۔ اس کے بعد ترک آرکیٹیکٹ سنان نے اس میں محراب اور مناروں کا اضافہ کیا جو ترک آرکیٹیکچر کا شاندار نمونہ ہے۔

1934 میں جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا اور جدید سیکولر ترکی کی بنیاد رکھی جا چکی تھی تو مصطفیٰ کمال اتاترک جو آیا صوفیہ کو دوبارہ کلیسا بنانا چاہتا تھا مگر عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا۔

1972 میں شائع ہونے والی کتاب ”Hagia Sophia A history of Constantinople“ میں Thomas Whitmore کے الفاظ کچھ اس طرح سے درج ہیں : ”جس دن میں اس (مصطفیٰ کمال) سے ملنے گیا سانتا صوفیہ ایک مسجد تھی۔ جب اگلی صبح میں مسجد دیکھنے گیا تو دروازے پر اتاترک کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک نوٹس چسپاں تھا۔ میوزیم تعمیراتی کام کی وجہ سے بند ہے“

اس روز سے لے کر آج تک 86 سال آیا صوفیہ میں اذان کی آواز گونجی اور نہ ہی نماز ادا کی جا سکی۔ مگر آج تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرا دیا۔

اس فیصلہ کو تمام مسلم دنیا میں سراہا جا رہا ہے البتہ یونان اور روس کے آرتھوڈوکس چرچ نے اس کی مذمت کرتے ہوا کہا کہ یہ آرتھوڈوکس عیسائی فرقے کا ثقافتی ورثہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک مخصوص طبقہ فقر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک تاریخی عمارت کو اصلی حالت میں بحال کرنا تھا تو اسے اپنی ابتدائی حالت یعنی کلیسا میں بدلا جاتا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بلفرض ایسا کر دیا جاتا ہے تو کیا اسپین میں موجود مسجد قرطبہ اور 3000 سے زیادہ مساجد جن کو گرجا گھروں میں تبدیل کیا گیا تھا، ان کو دوبارہ مساجد میں تبدیل کیا جائے گا؟

اگر وہاں حکومت اسپین کا اختیار ہے کیونکہ وہ ان کی ملکیت ہیں تو آیا صوفیہ ترکی کی ملکیت ہے وہ اس کا جیسے چاہے استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر آیا صوفیہ کے مسجد بننے پر عیسائیوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو مسجد قرطبہ اور اقصیٰ کو دیکھ کر ہمارا دل بھی خون کے آنسو روتا ہے۔ سلطان عبدالحمید ثانی نے فرانس کے بادشاہ کے اس سوال پر کہ آیا صوفیہ کو دیکھ کر ہمیں درد ہوتا ہے، کہا تھا کہ اس درد کو ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ آیا صوفیہ مسلمانوں کا ہے اور قیامت تک رہے گا۔

جہاں ایک طرف مسلم دنیا اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہے، ہر طرف انارکی، فسادات، دہشتگردی کا دور دورہ ہے تو دوسری طرف امت مسلمہ کو ایک بار پھر یکجا کرنے کے لیے ترکی اپنے تئیں اقدامات کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت طاقتور عرب ممالک ایران اور قطر کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب یمن، شام، عراق، لیبیا، ایک لمبے عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہیں اور بڑی عالمی طاقتوں کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں جبکہ فلسطین اور کشمیر کے عوام پچھلی کئی دہائیوں سے اسرائیلی اور بھارتی مظالم کا شکار ہیں۔

اس کسمپرسی کی حالت میں امت مسلمہ کے ایک ہونے کی بات کرنا ایک دیوانے کا خواب لگتا ہے مگر ترک صدر نے یہ بات کر کے، ”آیا صوفیہ کا بطور مسجد بحال ہونا مسجد اقصیٰ کی ایک بار پھر سے آزادی کی طرف پہلا قدم ہے۔ یہ تمام مظلوموں کی امید ہے۔“ امت مسلمہ میں ایک امید کا چراغ ضرور روشن کیا ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 13 وہں صدی کے اوائل میں ارطغرل ولد سلیمان شاہ نے بھی ایک ایسا ہی خواب دیکھا تھا جب اسے اپنے قبیلے کی رہائش کے لیے خیمے لگانے کی جگہ بھی میسر نہ تھی مگر چشم فلک نے دیکھا کہ اسی قبیلے نے مستقبل میں خونخوار منگولوں اور طاقتور بازنطینی سلطنت کی دہشت کے سائے میں ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جس کا سکہ چھ صدیوں تک تین براعظموں پر چلا۔ آج پھر سے ہمیں کم و بیش انھیں حالات کا سامنا ہے۔ شاید اب وہ وقت آ چکا ہے کہ ہم آپسی اختلافات کو بلائے طاق رکھ کر ایک بار پھر ایک ہی جھنڈے تلے اکٹھے ہو جائیں اور مظلوموں کے لیے امید جبکہ ظالموں کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوں۔ بقول اقبال

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے