علامہ کی مزید شاعری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونیورسٹی میں یوم اقبال کی تقریب منعقد ہوئی۔ کاغذی کارروائی تھی۔ سو چند منٹ پہلے ہی سب کو معلوم ہوا۔ حاضرین تو اردگرد کی کلاسوں سے پورے کیے گئے۔ اب ہال بھرا ہوا ہے اور سٹیج خالی۔ ڈھونڈ ڈھانڈ منت سماجت کر کرکے چند طلبہ کوکچھ کہنے کہلانے پرراضی کیا گیا۔ مقررین میں خواتین کی نمائندگی کے لیے ایک لڑکی بھی تلاش کرلی گئی۔ باقی مقرر حاضرات نے تو جو کہا، وہ ہمیں یاد نہیں۔ البتہ جب طالبہ سٹیج پر آئیں تو کہنے لگیں کہ کل رات علامہ بذات خود میرے خواب میں آئے تھے۔ اس بات پہ حاضر لڑکوں کے چہرے پر دلچسپ مسکراہٹ پھیلتی دیکھی گئی۔ غالباً ان کے خیال میں علامہ اسی ارادے سے مقررہ کے خواب میں آئے تھے، جس مقصد سے لڑکوں کے خوابوں میں مستورات آتی ہیں۔ بہرحال مقررہ نے اس اندازے کو رد کیا۔ اپنی کئی باتیں علامہ کے سر ڈالیں اور پہلی پوزیشن کی حق دار ٹھہری۔

یہ قصہ ہمیں یوں یاد آیا کہ رات ہمارے خواب میں بھی علامہ تشریف لائے تھے۔ زیادہ بات وات نہیں کی بلکہ صرف اپنا واٹس ایپ نمبر بتایا اور کہا کہ جاگتے ہی ویڈیو کال کرنا۔ نیلگوں گگن میں قوس قزح کی طرح غائب ہونے سے پہلے انہوں نے ایک کمپنی کا نام لیا اور بتایا کہ اس کی سم سے کال مت کرنا وہ یہودیوں کی ہے۔ اس کے جنت میں سگنل نہیں آتے۔

ہم صبح جاگے اور حسب ہدایت کال ملائی توایک خوب صورت حور نے وصول کی۔ استفسار پہ بتایا کہ علامہ رات بہت دیر تک لوگوں کے خوابوں میں گھومتے رہے ہیں۔ سو، ابھی جاگے نہیں۔ سہ پہر کو کال گھمائی تو علامہ نے خود ہی ریسیو کی۔ رسمی سلام دعا کے بعد انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ایک غیر رسمی انٹرویو ہو گا۔ ہم نے پوچھا کہ ”اگر لوگ اس ویڈیو چیٹ کی حقیقت پر اعتراض کریں تو کیا آپ کا نمبر انہیں بھی دے دوں؟“ بھڑک اٹھے اور اس سے پہلے کہ کال منقطع کردیتے۔ ہم نے معافی طلب کی اور ایک اور سوال اٹھایا کہ ”انور مقصود کو صرف خط کیوں لکھتے ہیں انہیں کال کیو ں نہیں کرتے؟“ کہنے لگے کہ ”اس کے پاس ڈیٹاپیک نہیں ہوتا اور ویسے بھی اسے واٹس ایپ استعمال کرنا نہیں آتا“ ۔

ہم نے علامہ کی توجہ وزیر اعظم کی ٹویٹ کی جانب دلائی تو پھر طیش میں آگئے، بولے کہ ”تم لوگ کج بحثی کیوں کرتے ہو؟ کیا تمہیں علم ہے کہ اسدؔ معروف کو وہ نظم ایک خواب میں ہم نے ہی لکھوائی تھی؟“ ہم حیرت زدہ ہونے ہی والے تھے کہ انہوں نے ایک اور انکشاف کیاکہ ”خاتون اول میری اور پی ایم ان کے ارادت مند ہیں۔ بس یہ دو خوابوں کی بات تھی، جو ایک خواب پہلے افشا ہو گئی“ ۔

ہم سیاست سے اوب گئے توعلامہ سے تازہ شاعر ی سنانے کی فرمائش کی۔ کہنے لگے کہ ”اب روایتی شاعری کی بجائے ظفرؔ اقبال کی طرز پرہیئت کے تجربات کررہاہوں“ ۔ نمونے کے طور پر ایک شعر بھی سنایا:

جنازہ ofعاشق isنکلاfrom theگلی of محبوبہ with veryزوروشور
محبوبہ جھانکی from the door اور بولی مرگیا حرام خور

ہم گنگ ہو گئے اورداد بھی نہ دے سکے مگر علامہ کے ارد گرد بے تحاشا ’واہ وا‘ اور ’واللہ‘ کا شور اٹھا۔ ہم نے فون میں جھانک کر دائیں بائیں تاڑنا چاہا توہماری طلب بھانپ کر بولے کہ جنت کے شوخ مکین ہیں۔ یہ کم سن ہیں اور ایسی ہی شاعری پسند کرتے ہیں اور پھر یہاں ایسی کوئی کاہل (اوریاسمین راشد کے بقول جاہل بھی) قوم نہیں جسے جگانا مقصود ہو۔

ہم نے لیکچر سے اکتا کر مزید شاعری کی فہمائش کی تو علامہ نے ایک اور شعر پھینکا:
This Mohabbat is not your bloody stock market
یہاں ایک بار بھاؤ گر گیا تو بس گر گیا

علامہ کو ہم نے توجہ دلائی کہ یہ اوزان تو مروجہ کسی بحر کے نہیں تو انہوں نے حوروغلمان کی بے تحاشا داد سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ ”باقاعدہ وزن میں ہیں۔ یہ بحر منجمد شمالی ہے“ ۔ ہم لاجواب ہو گئے۔ علامہ نے شاعری پر بات جاری رکھی اور بتایاکہ وہ ہیئت میں ’ری مکس‘ شاعری کی ایک طرح بھی ڈال رہے ہیں۔ جو جنت میں بے حد مقبول ہو رہی ہے۔ دو شعر ہماری نذر بھی کیے :

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنامیری
پاک سر زمین شاد باد

’ابن انشا ء‘ ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

ان اشعار پہ وہ غلغلہ اٹھاکہ خدا کی پناہ۔ علامہ نے بہتیرا بچایا لیکن کسی شوخ کا ہاتھ پیر فون پر لگا اور کال کٹ گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *