خصوصی بچوں کی قابل فخر مائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ دو خصوصی بیٹوں کی والدہ تھیں۔ اکثر ان سے ملاقات ہوتی رہتی تھی اور میں نے انہیں ہمیشہ بہت راضی بہ رضا اور شکرگزاری کرنے والا پایا تھا۔ لیکن اس دن وہ میرے سامنے بیٹھی تھیں اور ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔ وہ کہہ رہی تھیں :

کوئی ہمارے لیے کیوں نہیں لکھتا؟
ہمیں کبھی کبھی یہ سننے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہم بہت اچھے طریقے سے اپنے بچوں کی تربیت کر رہی ہیں۔

ہم خصوصی بچوں کی مائیں بہت تنہا ہو جاتی ہیں، چند ہمت اور تعریف بھرے الفاظ ہمیں زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

وہ بہت دکھی تھیں، کیونکہ ان کے بھائی نے انہیں اپنے بیٹے کی شادی پر نہیں بلایا، مبادا ان کی بہن کہ دو خصوصی بچوں کو دیکھ کر ان کے ہونے والے سمدھی ڈسڑب نہ ہو جایئں۔ وہ کہنے لگیں، میرے دونوں بچے آٹزم کے ساتھ ہیں، میں جوائنٹ فیملی میں رہتی ہوں۔ سکول سے جانے کے بعد میں اپنے بچوں کے ساتھ اپنے پورشن میں لاک رہتی ہوں کہ کہیں میرے دیور کی فیملی ڈسڑب نہ ہو۔ میں نے کبھی کسی شکایت نہیں کی، لیکن میرا دل ضرور چاہتا ہے کہ کوئی میری ہمت بڑھائے، کوئی مچھے کہے کہ میں تنہا نہیں ہوں۔

یہ صرف ایک ماں کا قصہ نہیں ہے۔ جب کسی گھر میں ایک خصوصی بچہ آتا ہے تو اکثر والدین، خاص کر ماں کو لوگوں کے بہت سے چبھتے سوالات اور ناخوشگوار تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچہ چاہے جسمانی معذوری کاشکار ہو، بصارت سے محروم ہو یا ذہنی صلاحییتیں محدود ہوں۔ والدین کودومحاذوں پر بیک وقت لڑنا پڑتا ہے۔

ایک تو وہ اپنے جذبات سے نبرد آزما ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کے ساتھ ایسا کیسے ہو گیا؟ اب ان کے بچے کا مستقبل کیا ہو گا؟ وہ اپنے بچے کے علاج و تربیت کے لیے کس سے رابطہ کریں؟ دوسری طرف خاندان اور معاشرے کے سوالات کا سامنا ہوتا ہے۔

ایک خصوصی بچے کی ماں کو شروع سے اپنے دیگر بچوں کی تربیت، گھر کی ذمہ داریوں اور اس بچے کی تھیراپی، علاج اور تربیت کی کوششوں میں ایک توازن رکھنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔

جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کا احترام کرنا سکھانا۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تربیت دینا ایک اور اہم کام ہوتا ہے۔

ایک والدہ، جن کا بیٹا ڈاؤنز سینڈروم کے ساتھ ہے، نے مجھے بتایا کہ بعض اوقات پارک یا مارکیٹ میں کچھ لوگوں کا رویہ اتنا نامناسب ہوتا ہے کہ میری ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔

ایک بچی جو کروزون سینڈروم کے ساتھ تھی، اس کے والد نے اس کی والدہ سے صرف اس لیے اپنے راسطے جدا کر لیے کہ وہ اپنی بچی کے بارے میں لوگوں کے سوالات کا سامنا نہیں کر پائے۔ اس بچی کی والدہ نے ایک مرتبہ مجھے کہا تھا کہ

”زیادہ تر لوگ دل کے اچھے ہوتے ہیں لیکن تجسس سے مجبور ہو کر ایسے دیکھتے یا سوالا ت کرتے ہیں کہ ہم والدین کے لیے بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے“ ۔

ایسا کئی مرتبہ ہوا کہ ایک خصوصی بچے کے دیگر بہن بھائیوں کے رشتوں میں مشکل ہوئی، کیونکہ لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کے اپنے بچے بھی خصوصی ہو سکتے ہیں۔ میں ایک ایسی والدہ کو جانتی ہوں جن کا بیٹا سیریپرل پالسی کا شکار تھا (یہ ماروثی نہیں ہوتا) ، وہ اپنی بیٹی کے لیے آنے والے افراد سے خاص طور پر اپنے بیٹے کو بھی ملاتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں صرف ایسے خاندان میں اپنی بیٹی کی شادی کروں گی، جہاں اس کے بھائی کو کھلے دل سے قبول کیا جائے۔

میں کئی ایسی خواتین کو جانتی ہوں جن کے رات میں آنسوؤں سے بھیگے تکیے کبھی ان کی ہمت پست نہیں کر سکے، وہ ہر صبح ایک نئے جذبے اور ہمت سے اپنے بچوں کی تربیت کے لیے کوشاں ہوتی ہیں۔

خصوصی بچوں کی مائیں بہت خاص ہوتی ہیں۔ آج کے بعد جب بھی آپ کی ملاقات کسی ایسی ماں سے ہو جس کا بچہ کسی ڈس ایبیلیٹی کے ساتھ ہو تو اس کو ضرور بتایے گا کہ ہمیں اس ہر فخر ہے۔ وہ بہت اچھی ماں ہے اور وہ اکیلی نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نبیلہ چوہدری، لاہور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *