مائنس پلس کا کھیل چھوڑیں: دستوری رفوگری کا راستہ اپنائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک میں ایک بار پھر مائنس ون کاغلغلہ ہے حتیٰ کہ وزیر اعظم عمران خان کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس کا حوالہ دینا پڑا اور قوم کو یقین دلانا پڑا کہ مائنس ون کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ کرکے دوستوں دشمنوں کی حیرت میں اضافہ بھی کردیا کہ اگر مائنس ون ہو بھی گیا تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ اور خاص طور سے اپوزیشن کو تو کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔

مائنس ون کا سارا ہوم ورک مکمل کرلیا گیا ہے۔ تحریک انصاف میں ان لوگوں کی فہرست تیار ہوچکی ہے جوعمران خان کے متبادل طور پر سامنے آسکتے ہیں۔ پارٹی اور پاکستانی عوام کو ذہنی طور سے تیار کرنے کا کام پورے زور شور سے جاری ہے۔ کالم نگار پیش گوئیاں کررہے ہیں اور ٹاک شوز کے تبصرے مائنس ون کا گراؤنڈ ورک کرنے میں دن رات مصروف ہیں۔ اعلیٰ ترین سطح پر لیڈر کی تبدیلی کے لئے ٹائم فریم دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ مختلف حلقوں کی طرف سے اس بارے میں مختلف تاریخ دی جاتی ہے ۔ کوئی بجٹ کے بعد آنے والے مہینوں کو تبدیلی کا مقررہ وقت قرار دیتا ہے اور کسی طرف سے چھ ماہ انتظار کرنے اور تحریک انصاف کی حکومت کو ’ڈیلور‘ کرنے کی مہلت دینے کی بات کی جاتی ہے۔ کوئی یہ تان اڑاتا ہے کہ پہلے پنجاب میں تبدیلی آئے گی پھر مرکز میں وزیر اعظم کو تبدیل کرنے کے لئے اقدام ہو گا۔ یہ قیاس بھی سامنے لایا گیا ہے کہ تبدیلی اور مائنس ون کے فارمولے پر عمل تو پہلے ہی ہوجاتا لیکن ماضی قریب میں مائنس ون ہونے والے ایک لیڈر نے ایک نئے مائنس ون کا منصوبہ خاک میں ملادیا۔

اس صورت میں پوچھنا تو یہ چاہئے کہ اگر کوئی مائنس ون ہونے کے بعد بھی مائنس یعنی غیر فعال یا غیر مؤثر نہیں ہوتا اور سیاست سے نکالے جانے کے باوجود سیاست اسی کے گرد گھومتی ہے تو پھر یہ مائنس ون کرنے کا طریقہ دوبارہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ناکام ہونے والوں کو اندازہ نہیں ہو پاتا کہ ان کے ہتھکنڈے فرسودہ اور ناکارہ ہوچکے ہیں ۔ کوئی بھی طاقت عوام کی رائے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اسی لئے مائنس ون کے لئے خواہ اسٹبلشمنٹ کا خفیہ ہاتھ استعمال ہو یا انصاف کے ریشمی دستانے میں لپٹا عدالتی حکم نامہ ، کسی سیاست دان کو میدان سے نکالنے کا کام عوام کے ووٹوں کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ متعدد بار اس کا تجربہ کیاجاچکا ہے لیکن لگتا ہے کہ مائنس ون کا طریقہ کسی انتظامی ہتھکنڈے یا سیاسی ضرورت سے زیادہ بادشاہ گری کے اسلحہ خانہ کا سب سے مؤثر اور تیر بہدف نسخہ سمجھ لیا گیا ہے۔

 یہ طریقہ اپنے محبوب یا معتوب کو مرعوب کرنے یا دباؤ میں رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس حد تک تو شاید یہ حکمت عملی کامیاب ہو۔ اس طرح مائنس ون کا زیادہ شور بھی برپا نہیں ہوتا بلکہ کسی کو مائنس کیا بھی نہیں جاتا اور جسے دباؤ میں لانا مقصود ہوتا ہے ، اسے باور بھی کروادیا جاتا ہے کہ مائنس ون کا اگلا نشانہ وہی ہے لہذا تابعداری میں کسی کمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لیکن جب معاملہ درپردہ انتباہ سے مائنس کرنے کے عملی اقدام کے قریب پہنچنے لگے تو پیچیدگیاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور مشکلات کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ ان میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مائنس ون فارمولے کی ساری تفصیلات اور اس کے اجزائے ترکیبی اب خاص و عام کو یکساں طور سے ازبر ہیں۔ ملک میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے عمل میں مائنس ون استعمال کرتے ہوئے حیرت کا جو عنصر موجود رہتا تھا، وہ اب عنقا ہوچکا ہے۔ اب تو اتنا سسپنس بھی باقی نہیں ہے کہ عمران خان نکالے جائیں گے تو کون ان کی جگہ لے گا۔ امیدوار وں کے نام اور ان کے تمام خواص کا تفصیلی ذکر سامنے آچکا ہے کہ متعلقہ متبادل کو پسند کئے جانے کی کیا وجوہات ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے متحرک ذرائع ان وجوہات کو کھنگال کر سمندر کی تہ سے موتی نکال لانے کا ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ سیاست کے اس ٹھہرے ہوئے منجمد پانی کی تہ میں موتیوں کی بجائے گلا سڑا کچرا ہی ملتا ہے جسے معاشرے کے سیاسی انتظام کی سڑاند تو بڑھ سکتی ہے شفافیت اور تازگی کا احساس پیدا نہیں ہوسکتا۔

یوں تو پاکستان کے موجودہ سیاسی انتظام میں سیاسی پارٹیاں اور نظم حکومت جس ڈھب سے چلایا جارہا ہے اس میں مائنس ون کی بظاہر کوئی خاص ضرورت یا وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ عمران خان کو نکال کر اسٹبلشمنٹ کو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے کون سا بہتر متبادل مل سکتا ہے جو زیادہ تابعداری اور انکسار کا مظاہرہ کرے۔ جی آپ نے درست پڑھا ، عمران خان کے طاقت ور حلقوں کے ساتھ مراسم کو بیان کرنے کے لئے ہی انکسار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ منظر عام پر شیریں گفتگو کرنے والا ہی زیادہ منکسر المزاج اور تابع فرمان ہو۔ وہ مکار اور کایاں بھی ہوسکتا ہے جس کے لئے تھوڑی دیر بعد ہی مائنس ون کی ضرورت محسوس ہونے لگے۔ اب مائنس ون کا نسخہ جیسا بھی تیر بہدف اور آزمودہ ہو لیکن کسی سخت اینٹی بائیٹک کی طرح اس نسخے کی خوراک بھی ایک خاص مدت کے بعد ہی دوبارہ استعمال کی جاسکتی ہے ورنہ اس کا سارا اثر زائل ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

 بعینہ بظاہر سخت گیر، صاف گو، صاف بات منہ پر کہہ دینے کی شہرت رکھنے والا، تابعداری میں زیادہ طاق اور ضرورتیں پوری کرنے میں مؤثر ہوسکتا ہے۔ مسئلہ صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی تابعدار سے بگاڑے کام سدھارنے کی توقع بھی کی جاتی ہے۔ عمران خان تو اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے اسی پارلیمانی نظام کو تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھانے پر بھی آمادہ ہیں جس کے ذریعے منتخب ہو کر وہ وزیر اعظم بننے کے قابل ہوسکے تھے۔ وہ اسی میڈیا کے پر کاٹنے کا ہر حربہ استعمال کرچکے ہیں جس کی پروپیگنڈا طاقت کے کاندھوں پر سوار ہوکر انہیں وہ دیومالائی مقبولیت حاصل ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ قوم و ملک کی تقدیر پر مسلط کردیے گئے۔ اب اگر ان سے مغلظات ، الزام تراشی ، اشتعال انگیزی اور کیچڑ اچھالنے کے ساتھ ملکی معیشت کو درست کرنے کی توقع بھی کی جائے گی تو وہ کیسے یہ ’خدمت‘ انجام دے سکتے ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہیں کہ وہ معیشت ٹھیک کرنا یا گورننس بہتر بنانا نہیں چاہتے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ان میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ ایسی صورت میں مائنس ون تو انہیں ہونا چاہئے جنہوں نے یہ انمول نگینہ قوم کو تحفے میں دینے کا اہتمام کیا تھا۔ عمران خان تو وہی کریں گے جو انہوں نے ساری زندگی کیا ہے یعنی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا الزام دوسروں پر عائد کرکے خود اپنا قد بلند کیا جائے۔

عمران خان مائنس ون ہوئے تو حالیہ تاریخ میں زبردستی منظر سے ہٹائے جانے والے وہ تیسرے قومی لیڈر ہوں گے۔ سب سے پہلے الطاف حسین کو ٹارگٹ کیا گیا۔ انہیں اسی طریقے سے منظر سے ہٹایا گیا جس طرح مسلط کیا گیا تھا۔ ایک سہانی شام ملک بھر کے ٹیلی ویژن چینلنز اور اس سے اگلی صبح قومی اخبارات پر یہ منکشف ہؤا کہ اب اس شخص کی تقریر نشر یا شائع کرنا ان کے مقدس فرائض کا حصہ نہیں ہے۔ بس مقبولیت کے غبارے سے ہو انکل گئی۔ رہی سہی کسر نائن زیرو سے الطاف حسین کی حکمرانی کا اعلان کرنے والوں کے ساتھ شبینہ ملاقاتوں کے بعد پوری ہوگئی اور منصہ شہود سے متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نمودار ہوئی۔ لیجئے الطاف حسین کے مائنس ون ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہوئی۔ لیکن کیا وہ ان لوگوں کے دلوں سے نکال دیے گئے جنہوں نے تین دہائی تک ان کی صورت میں اپنی محرومیاں دور کرنے کا خواب دیکھا تھا؟ ہر گز نہیں۔ کسی عوامی لیڈر کو خبر اور گفتگو سے خارج کرکے لوگوں کے دلوں سے نہیں نکالا جاسکتا۔ ہو سکتا ہے الطاف حسین اپنے پیچیدہ پس منظر کی وجہ سے کبھی پاکستانی سیاست میں کردار ادا نہ کرسکیں لیکن وہ جس محرومی اور خواہش کے نمائندہ تھے ، وہ اپنے اظہار کا اس سے زیادہ پر تشدد راستہ بھی اختیار کرسکتی ہے۔ اس کی مثال پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں فوج کے ہاتھوں نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور ناراضی میں تلاش کی جاسکتی ہے۔

حالیہ سیاسی تاریخ میں مائنس ون کا دوسرا تجربہ نواز شریف کے ساتھ کیا گیا۔ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے ذریعے انہیں نااہل اور آئینی شقات کے تحت ’ کاذب و بددیانت‘ قرار دے کر واضح کیا گیا کہ وہ عوام کی نمائیندگی کے اہل نہیں ہیں۔ پر عوام اپنا لیڈر چننے کے لئے عدالتی فیصلے اور سرکاری حکم نامے نہیں پڑھتے بلکہ دل کی آواز سنتے ہیں۔ پنجاب کے وسیع علاقوں میں آباد عوام کے دلوں پر نواز شریف کی حکمرانی باقی رہی اور ملک کے حکمرانوں کی پریشانی میں اضافہ کا سبب بنتی رہی۔ نیب کے جج نے جو اب بخود اپنے داغدار کردار کی وجہ سے برطرف کئے جاچکے ہیں، نواز شریف کو 7 سال کے لئے جیل بھیج دیا۔ جیل کی کوٹھری میں بند نواز شریف بھی عوام کے دلوں کی دھڑکن تھا اور اس کی یہی مقبولیت حکمران طبقات کی بے چینی کو بڑھا رہی تھی۔ طے کیا گیا کہ انہیں ملک سے باہر بھیج دیا جائے۔ اور ان کی صاحبزادی کو جاتی عمرہ کے محل میں محبوس کرکے نواز شریف کو لندن میں خاموش رہنے کا پابند کرلیا جائے تو سارا معاملہ حل ہوجائے گا۔ نواز شریف مائنس ون ہوجائے گا اور عمران خان کے راستے کی دیوار ہٹا دی جائے گی۔

دیواریں ہٹانے کے باوجود عمران خان ڈیلور نہیں کرسکے۔ انہیں اقتدار میں لاتے ہوئے ڈیلیور کرنے کی شرط نہیں رکھی گئی تھی بلکہ تصور کرلیا گیا تھا کہ بس یہی شخص ڈیلور کرسکتا ہے۔ کھیل اور سماجی شعبہ میں کار ہائے نمایاں کی وجہ سے انہیں عوامی مقبولیت حاصل تھی۔ وہ اسٹبلشمنٹ کے دل کی آواز لوگوں کی زبان میں بیان کرنے کا ’حوصلہ ‘ رکھتے تھے۔ ہر دور میں عسکری قیادت کا درباری رہنے کو اعزاز سمجھنے والا عمران خان ایک ایسا امید وار تھا جس کے بغیر پاکستان کی تقدیر تبدیل نہیں ہوسکتی تھی۔ ایمانداری کو سو خوبیوں کی ایک خوبی بتا کر عمران کی ذات سے منسوب درجنوں برائیوں کو طاق نسیاں کی زینت بنا دیا گیا۔ لیکن اب مائنس ون کی لسٹ پر عمران خان کا نام سر فہرست ہے۔

نوٹ کرلیجئے یہ طریقہ غیر مؤثر اور ناکارہ ہوچکا۔ اقتدار میں رہتے ہوئے عمران خان ہر شرط ماننے پر مجبور ہے۔ مائنس ون ہوکر وہ حکمرانی کے سب مراکز کے لئے بڑا خطرہ بنے گا۔ موجودہ مسائل کا حل مائنس ون کا آزمودہ ہتھکنڈا نہیں ہے بلکہ جمہوری عمل میں غیر جمہوری طریقے ترک کرنے سے ہی اصلاح احوال کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ بظاہر ملک میں ابھی کوئی اس نوشتہ دیوار کو پڑھنے پر آمادہ نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1575 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *