اقبال کا شاہین اور مکار دشمن کا ڈرون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زیادہ بڑے مفکرین میں عموماً یہی خوبی ہوتی ہے کہ دوسروں کو بتی کے پیچھے لگا کر خود نچنت پڑے رہتے ہیں۔ ہم خود کو بھی ایک بڑا نا سہی، درمیانہ سا مفکر سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارا اپنا بھی وہی حال ہے جیسا اقبال کا سننے میں آتا رہتا ہے۔ حاشا وکلا ہمارا یہ مطلب نہیں کہ ہم کوئی بہت عقل والی باتیں سوچتے ہیں۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ ہمارا لائف سٹائل بھی اقبال والا ہے۔

بیسویں اور اکیسویں صدی کے سب سے بڑے دیسی مفکر علامہ اقبال کے بارے میں یہی پڑھا ہے کہ ہمیشہ چارپائی پر نیم دراز پڑے شاعری اور امت کی حالت پر غور و فکر کرتے رہتے تھے، جس نے ان سے ملنا ہوتا تھا خود جا کر مل لیتا تھا وہ خود اپنے پایہ تخت کو نہیں چھوڑتے تھے۔ وہیں چارپائی سے ہی نیم درازی کی حالت میں وہ دوسروں کو بڑھاوے دیتے تھے کہ شاہین بنو اور پہاڑ کی چٹان پر چڑھ جاؤ۔ خود کبھی ایسا نہیں کیا۔ علامہ کی کسی سوانح میں ذکر نہیں ہوا کہ وہ ہائکنگ، ٹریکنگ، کوہ پیمائی یا گھڑ سواری کے شوقین تھے اور بحر ظلمات کیا لاہور کی سرکلر روڈ پر بھی گھوڑا دوڑاتے پھرتے تھے۔ مجبوری میں سفر کرنا بھی پڑ جاتا تھا تو دیسی شرفا کی طرح تانگے ٹم ٹم یا موٹر کار کا انتخاب کیا کرتے تھے۔

ایسا ہی فلسفہ ایک مغربی مفکر بیان کر گیا ہے کہ خود مرنے کے لے کسی خاص قابلیت کی ضرورت نہیں ہوتی مگر اپنی جگہ کسی دوسرے کو مرنے پر آمادہ کرنا مشکل کام ہوتا ہے اور صلاحیت کا یہی فرق ایک جرنیل کو ایک عام سپاہی سے ممیز کرتا ہے۔

اقبال ایک ایسے وقت میں امت کے نوجوانوں کو شاہین بننے اور گھوڑے دوڑانے کی تلقین کرتے رہے جب مغرب میں علم اتنی زیادہ ترقی کر چکا تھا کہ اس زمانے میں گھڑ سوار دستوں کی جگہ بکتربند دستے لے چکے تھے اور آسمان پر شکاری شاہینوں اور شکروں کی بجائے ہوائی جہاز مشین گن کی گولیاں برساتے اڑ رہے تھے۔

ایسے معرکوں کا نتیجہ وہی نکلا جو شاہین اور لڑاکا جہاز کے مقابلے کا نکلنا چاہیے۔ یعنی شاہین ابھی جھپٹنے پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کے لیے درکار توانائی ہی جمع کر رہا ہوتا تھا کہ شائیں سے ایک گولی آتی تھی اور وہ ایک بال و پر کا لچھا بن کر خلد آشیانی ہو جاتا تھا۔

زمین پر گھوڑوں کے ساتھ یہی ہوا۔ مجاہدین جب ایک ہاتھ میں اپنی توڑے دار بندوقیں اور دوسرے میں شمشیر لہراتے دگڑ دگڑ دشمن پر یلغار کرتے تھے تو وہ مکار دشمن، داستان امیر حمزہ کے بہادروں کی طرح دو بدو لڑنے کی بجائے آگے سے بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کا دستہ لے آتے تھے۔

ابھی مجاہد ملت رجز پڑھ ہی رہے ہوتے تھے کہ ”جسے اپنے پیاروں کو رلانا ہو آئے اور اپنا جوہر دکھائے، منم عادی پہلوان، دوست دشمن میری ہیبت سے تھر تھر کانپتے ہیں، جسے شجاعت کا دعویٰ ہو آئے اور اپنے جوہر دکھائے، پھر نا کہنا کہ خبر نا ہوئی“ ، کہ دھائیں سے ایک گولہ چلتا تھا اور دشمن کئی سو میٹر دور سے ہی مومن کو بے تیغ گرتے ہوئے دیکھتا تھا۔ اس زمانے میں بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے والوں کو بھی اس کرہ فانی پر آخری منظر ایسی آبدوز کا ہی دیکھنے کو ملا ہو گا جس کی کھڑکیوں سے عیار دشمن منہ چپکائے انہیں ہاتھ لہرا لہرا کر ویو کر رہے ہوتے تھے۔

بجنگ آمد میں کرنل محمد خان بتاتے ہیں کہ وہ بحری جہاز پر ہندوستانی فوج کے ساتھ بصرہ جا رہے تھے کہ ایک صبح پیغام موصول ہوا کہ اتحادی فوجوں نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔ کرنل صاحب تھے تو برطانوی فوجی لیکن دل ان کا اپنے مسلم برادر ایران کے ساتھ تھا اور کہتا تھا کہ اگر وہ جیت نا بھی سکیں تو دادِ شجاعت دے کر ہاریں۔ اگلی صبح وہ بے تابی سے نوٹس بورڈ پر لگا خبرنامہ دیکھنے گئے تو لکھا تھا کہ ”ایران میں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ ہے“۔ کرنل صاحب جو اس وقت نیم لفٹین تھے، سوچتے ہی رہ گئے کہ مقابلے کا کیا ہوا؟ مقابلے کا وہی ہوا جو شاہین اور ممولے کی جنگ میں ممولے کا ہوتا ہے یا آج کل ڈرون کے یکطرفہ حملوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔

علامہ مرحوم نہایت دانشمند تھے، مگر بدقسمتی سے زمانہ قیامت کی چال چل گیا اور انہیں خبر نا ہوئی۔ جب امت کو سائنس، ٹیکنالوجی اور فلسفہ سیکھنے کی تلقین کرنے کی ضرورت تھی اس وقت اسے خیالی گھوڑے دوڑانے اور ممولوں کو ہوائی جہاز سے لڑانے پر لگا دیا۔

بخدا بچپن میں ہم بھی فسانہ آزاد کے نواب صاحب کی طرح یہ سمجھتے تھے روحانی طاقتوں سے چونچ تک بھرا ہوا ایک بٹیر بھی ایسا صف شکن ہو سکتا ہے کہ روسی افواج کے توپ خانے کو کیل کر سکتا ہے اور زمین سے ایک کنکری اٹھا کر کچھ بدبدا کر اسے دم کر کے دشمن کی طرف اچھالتا ہے تو اس کا اثر نیپام بم سے کسی صورت کم نہیں ہوتا۔ پھر بدقسمتی سے ہم بڑے ہو گئے اور دنیاوی معاملات میں ایسے صف شکن روحانی بٹیروں پر سے ہمارا اعتبار اٹھ گیا۔ خوش قسمتی سے بیشتر لوگوں کا یہ حال نہیں ہوا جو ہمارا ہوا، اور ہمارے لیے بہترین اینٹرٹیمنٹ کا سامان میسر رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1296 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “اقبال کا شاہین اور مکار دشمن کا ڈرون

  • 16/07/2020 at 1:13 pm
    Permalink

    روحانی طاقت سے بہرحال انکار ممکن نہیں۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *