قصہ ایک مسجد کے بننے کا، جب ہندوؤں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے سوا سو کی سال پہلے مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں پیش آنے والا یہ واقعہ متحدہ ہندوستان میں برطانوی راج کے دوران مغربی پنجاب کے شہر گجرات میں 1895 ء میں پیش آیا تھا۔ ہوا یوں کہ اندرون شہر گجرات کی ایک متمول فیملی کے سربراہ سردار محمد حیات خان درانی نے اندرون شہر پرانی غلہ منڈی میں ایک مسجد بنانے کا فیصلہ کیا۔ جس جگہ پر مسجد تعمیر کی جا رہی تھی اس سے چند گز کے فاصلے پر ہندوؤں کا ایک مندر تھا۔ ( 1992 کے دوران بھارت میں بابری مسجد گرائے جانے کے ردعمل کے طور پر پاکستان میں گرائے جانے والے دیگر مندروں کے ساتھ ساتھ گجرات شہر میں واقع یہ مندر بھی مشتعل ہجوم نے منہدم کر دیا تھا)۔ ۔۔۔ (طاہر چوہدری سچ بولو۔ کوئی اشتعال نہیں تھا ۔ سرکاری سرپرستی میں بدمعاش عناصر کو کھلی چھٹی دی گئی تھی۔ و ، مسعود)

گجرات شہر میں ماضی کے اس مندر کے آثار محض آثار قدیمہ کی صورت میں باقی ہیں۔ اب کھنڈرات بنا یہ مندر ایک برج کی صورت درختوں کے جنھڈ میں چھپا نظر آتا ہے۔

گجرات شہر میں اس وقت یوں تو اکثریت مسلمانوں کی تھی مگر زیادہ تر بڑے تجارت کے مراکز پر ہندوؤں کی اجارہ داری تھی۔ جس جگہ پر یہ مندر قائم تھا وہ سارا علاقہ تجارتی تھا۔ اور زیادہ تر دکانیں ہندوؤں کی تھیں۔ مندر سے ملحقہ بازار صرافہ میں سونے کا کاروبار کرنے والے سبھی ہندوؤ ساہوکار تھے۔

گجرات شہر میں تعداد میں اقلیت مگر مالی لحاظ سے مستحکم ہندوؤں نے مندر کے ساتھ مسجد بنائے جانے کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے مسجد کے قیام کو روکنے کے لیے اپنا بھرپور اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ معاملہ اس وقت کے گجرات میں انگریز ڈپٹی کمشنر مسٹر سی۔ اٹکنیز کے روبرو بھی پیش ہوا تھا۔ جنھوں نے کافی غور حوض کے بعد فیصلہ مسجد کے حق میں دیا تھا۔

ہندوؤں کے مسجد کے حوالے سے بنیادی طور پر دو اعتراض تھے۔ ایک یہ کہ مسجد چونکہ مندر کے انتہائی قریب بن رہی ہے۔ انہیں مسجد سے زیادہ مسجد مندر کے قریب بننے پر اعتراض تھا۔ شاید ان کے ذہن میں یہ بات ہو کہ مستقبل میں اس وجہ سے دونوں قوموں کے درمیان کشیدگی کی صورت میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ ایک کہی سنی روایت کے مطابق دوسرا اعتراض یہ تھا کہ مسجد کے پلان میں نیچے دکانیں بننی تھیں اور ان دکانوں کی مشترکہ چھت پر مسجد بنائی جانی تھی۔ ہندوؤں شاید سمجھتے تھے کہ دکانوں کی چھت پر مسجد بننے کی وجہ سے مسجد مندر سے اونچی ہو جائے گی۔

مسجد بننے کی راہ میں ہندوؤں کے سارے ہتھکنڈے اور اعتراضات ایک ایک کر کے رد ہو گئے۔

1895 ء میں اس مسجد کا افتتاح ہوا۔ پہلے ”درانی مارکیٹ“ کے نام سے نیچے دکانیں تعمیر ہوئیں۔ پھر ان کے اوپر ایک شاندار مسجد تعمیر ہوئی۔ جس کا نام مسجد کے بانی کے نام پر ”مسجد سردار محمد حیات خان درانی“ رکھا گیا۔ سردار محمد حیات خان درانی نے ایک اور اچھا کام یہ کیا کہ مسجد اور دکانوں کی ملکیت اپنے پاس رکھنے کی بجائے اس کے جملہ حقوق رجسٹری کی صورت میں مسجد کے نام وقف کر دیے۔ اس طرح دکانوں کے کرائے سے مسجد کے اخراجات پورے ہونے کی ایک مستقل صورت بھی پیدا کر دی گئی تھی۔

اس مسجد کے قیام کے بعد بھی متعصب ہندوؤں کے غم و غصہ میں کمی نہیں آئی وہ مختلف حیلے بہانوں سے مسجد کی راہ میں روڑے اٹکاتے سے باز نہیں آتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ جو میں نے سن رکھا تھا اس کی تصدیق گزشتہ ہفتے مسجد کے ہمسائے اور سرپرست مسجد خادم علی خادم اور گجرات کی مقامی انجمن تاجران کے رہنماؤں شجاع میر اور جنرل سیکریٹری افتخار شاکر نے تصدیق کی کہ ایسا واقعہ تو پیش آیا تھا جس کو وہ اپنے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں۔

یہ واقعہ اس طرح پیش آیا تھا۔ جب ہندوؤں نے مسجد کے قیام کے بعد دوبارہ اپنی شکایت داخل کرائی کہ ان کا مندر مسجد کے قریب ہونے کی وجہ سے مسجد میں جب اذان دی جاتی ہے تو اس وجہ سے ان کی مذہبی عبادات میں خلل پڑتا ہے۔ لہذا ان کی داد رسی کی جائے۔

شکایت کے ازالہ کے لیے انگریز کمشنر موقع ملاحظہ کرنے کے لیے خود گجرات پہنچا۔ وہ سب سے پہلے ہندوؤں کے مندر گیا اور مسجد انتظامیہ سے کہا کہ مسجد سے اذان دی جائے۔ اس وقت چونکہ لاؤڈ۔ اسپیکر نہیں ہوتے تھے۔ جب اذان دی گئی تو مندر میں موجود کمشنر نے کہا کہ اسے مندر کے اندر اذان کی آواز سنائی نہیں دی۔

پھر کمشنر مسجد میں آیا اور ہندوؤں سے کہا کہ وہ اپنی عبادت کی غرض سے بجائے جانے والے ”چھئنے“ بجائیں۔ جب چھئنے بجائے گئے تو ان کی آوازیں کمشنر اور دیگر لوگوں کو مسجد کے اندر بخوبی سنائی دیں۔ اس بنا پر انگریز کمشنر نے بھی ہندوؤں کا موقف اور شکایت ایک بار پھر مسترد کر دی کہ مسجد میں اذان کی آواز کی وجہ سے ان کی عبادات میں کوئی خلل واقع نہیں ہو رہا۔ بعدازاں سال ہا سال ہندوؤ اور مسلمان مسجد اور مندر میں اپنی اپنی عبادات کرتے رہے۔ اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

1895 ء میں بنی ”مسجد سردار محمد حیات خان درانی“ اب تک قائم و دائم ہے۔ بانیٔ مسجد سردار محمد حیات خان درانی 1905 میں انتقال کر گئے۔ وہ شاہدولہ روڈ گجرات پر واقع درانی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

اس مسجد میں ایک طویل عرصے تک، لگ بھگ کوئی ستر سال امامت کے فرائض سید فضل حسین شاہ سر انجام دیتے رہے۔ ان کے بعد انہی کے خاندان کے دیگر افراد مظفر حسین شاہ، شبیر حسین شاہ، مظہر حسین شاہ اور سلطان شاہ مختلف اوقات میں امامت کرواتے رہے ہیں۔

سردار محمد حیات خان درانی مرحوم اور ان کی فیملی ”پوپلزئی درانی“ ہیں۔ ان کا شجرہ نصب افغانستان کے سابق حکمران احمد شاہ ابدالی سے جا کر جا ملتا ہے۔ انگریز دور حکومت میں درانی فیملی کو افغانستان سے لا کر آ کر متحدہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سمیت لدھیانہ، کوئٹہ اور گجرات میں آباد کیا گیا تھا۔

سردار محمد حیات خان درانی مرحوم کے ایک پوتے جنھیں انگریز حکومت نے ”خان بہادر“ کا خطاب دیا تھا۔ سردار عبدالغفار خان درانی متحدہ ہندوستان اور بعدازاں قیام پاکستان کے بعد بھی مختلف اضلاع میں سپرنٹنڈنٹ پولیس تعینات رہے۔ وہ 1940 میں بطور ایس پی سرگودھا پولیس سے ٹرانسفر ہو کر گجرات میں کئی سال ایس پی کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔

سردار محمد حیات خان درانی کی نرینہ اولاد میں ان کے ایک ہی بیٹے سردار محمد حسین خان درانی تھے جو ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر رئٹائرڈ ہوئے تھے۔ ان کے آگے دو بیٹے سردار عبدالقدیر خان درانی اور سردار عبدالغفار خان درانی ہیں۔ عبدالغفار خان درانی ایس پی رئٹائر ہوئے۔ سردار عبدالقدیر خان کی اولاد میں زبیر قدیر خان درانی اور ادریس خان درانی ہیں۔ ادریس خان درانی کا چار سال پہلے انتقال ہو گیا ہے۔ جبکہ عبدالغفار خان درانی کے صاحبزادے سردار امان اللہ خان درانی پاکستان کے ایک بینک کے چیف ایگزیکٹو رہے ہیں۔ درانی فیملی کے دیگر افراد پاکستان کی بیورو کریسی اور دیگر سروسز میں اہم پوزیشنوں پر تعینات رہ رہے ہیں۔

بانی مسجد سردار محمد حیات خان درانی مرحوم کی فیملی کے چشم و چراغ سردار وہاب خان درانی، جنھوں نے حال ہی میں اے لیول کیا ہے نے بتایا کہ ”ان کے مرحوم دادا سردار قدیر خان درانی اور والد ادریس خان درانی مرحوم اپنی زندگی میں“ مسجد سردار محمد حیات خان درانی ”کے نظم ونسق کو بہتر طور پر چلانے کے لیے خصوصی دلچسپی لیتے رہے ہیں۔ اپنے بزرگوں کی جانب سے بنائی جانے والی ایک سو پچیس سال پرانی اس تاریخی مسجد کا قیام ان کی فیملی کے لیے فخر کی بات ہے۔ دینی اور رفاہی میدان میں ان کے خاندان کی خدمات کو لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں“ ۔

لوگ رخصت ہو جاتے ہیں مگر اچھے لوگ ہمیشہ اپنے اچھے کردار اور اچھے کارناموں کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں۔ اور ایسا ہی ایک نام سردار محمد حیات خان درانی درانی مرحوم کا بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply