کرونا ناول نے سندھ کی تعلیمی پر کتنا اثر چھوڑا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا ناول کی وبا نے جیسے پوری دنیا کو نئے ڈھنگ سے زندگی گزارنے کی اک چنوتی دے دی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یے جامع پالیسیاں، طویل منصوبے، تجارتی پلان سب کے سب جیسے بہت سفر کر کے آئے ہوں اور تھکان کی چادر تان کے سو رہے ہوں۔ فطرت کے حسن کو بچانے والے پیروکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ کی بوندیں برس رہی ہیں۔ اور وہ سکون کے کروٹ لے کے کہتے ہیں ؛ صدیوں سے انسان نے فطرت کو نیس و نابود کرنے کی کوشش کی ہے اب فطرت اپنا بدلہ لے رہی ہے۔ راستے، جنگلات، پرندے، پودے، درخت، دریا، تالاب کو کچھ عرصہ کے لئے انسانی قید سے رہا کیا گیا ہے جبکہ انسان خود کے کیے ہوئے پر پیشمان ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک، مختلف طریقوں سے اس وبا کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین اور پالیسی سازوں نے اپنے ملک کی معیشت کو نئی شکل دینے کے لئے روڈ میپ کو تبدیل کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ٹیکنالوجی پر کی جارہی ہے۔ لوگ شہروں کے بجائے، گاؤن کے دیہی ماحول کو پسند کر رہے ہیں اور وہاں جانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ انسان اب فطرت کو پسند کرنے لگا ہے اور اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے۔ ہم اس پورے ماحول میں کہاں کھڑے ہیں وہ ہمیں سوشل میڈیا ہر روز اپ ڈیٹ کر رہا ہے۔

دنیا کی ریس میں ہم سب سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سندھ حکومت نے راشن بانٹا، فیڈرل حکومت نے رقم تقسیم کی، پھر ہم سب ڈاکٹر بنے، کرونا کے خاندان کو تقسیم کیا، لطیفے بنائے، اس میں کچھ سنجیدہ کیفیت بھی دکھائی۔ ماسک پہننے اور پہننے کے طریقے سے خوب مزاک کیے، پھر وفاقی اور سندھ حکومت کا لڑائی بھی دیکھی۔ لاک ڈاؤن کی تو ایسی کی تیسی کی۔ مستقل مزاجی کے سوا تمام مشقیں کی بلا آخر ہم نے کرونا سے سجھوتا کرکے تمام کاروبار کو کھولا۔

ایس او پی (معیاری آپریٹنگ طریقہ کار) ہمارے مزاج کا حصہ نہیں ہے لہذا ہم پہلے دن سے ہی کورونا کی سنگ بیٹھ گئے، مانگنے پر دلیلیں بھی دی کہ کورونا سب ڈرامہ ہے۔ خیردنیا بھر سے لاتعداد اموات نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا۔ کورونا کی وبا کے سبھی شکار ہوئے۔ ویسے تو زندگی کے شعبے کا ہر کام متاثر ہوا ہے پر سب سے زیادہ بچے اور ان کی تعلیم بہت متاثر ہوئے ہے۔

سندھ میں تعلیمی کی صورتحال ویسے بھی کوئی ٹھیک نہیں تھی کرونا نے تو جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ کرونا کی وجہ سے فروری کے بعد اسکول بند کردیئے گئے۔ اس بارنہ کوئی امتحان ہوا نہ کوئی نئی داخلہ۔ پچھلے چھ ماہ سے طلبہ اور کتابوں کا کوئی رشتہ نہیں رہا۔ اگرچہ آن لائن کلاسوں کو چلانے کے لئے یونیورسٹی کی سطح پر کوشش تو کی گئی، لیکن اس کا بھی کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ بہت سارے شہروں میں انٹرنیٹ کی سروس کا مسئلہ ہے، لیکن جہاں سروس موجود ہے وہاں ٹیکنیکلی مسائل بھی بہت ہیں، طلباء اور اساتذہ کو ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں کوئی تربیت نہیں دی گئی ہے، گر کوئی یونیورسٹی آن لائن امتحان لے رہے ہیں تو وہاں مکمل نکل چل رہی ہے۔

نجی اسکول ایسوسییشن نے کراچی میں احتجاج کیا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلہ، والدین بھی ایسے حالات میں بچوں کو اسکول بھیجنے کے لئے تیار نہیں ہیں، کیونکہ صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ ہم ابھی تک اس بات پرمتفق نہیں ہیں کہ ٹیکنالوجی ہی مسائل کا حل ہے اور ہمیں ٹیکنالاجی کے ذریعے ہی مسئلوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ سول سوسائٹی پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ (Bringing all the  girls into school) کے مطابق، دنیا میں ایک کروڑ لڑکیاں (اسکولز میں پڑھنے والی) اسکولز سے باہر ہوجائیں گی۔ پاکستان میں اس وقت 22۔ 8ملین اسکول جانے کی عمر کے بچے اسکول سے باہرہیں۔

اس عرصے میں جب دنیا STEM education کی بات کررہی ہے ہمارے پاس 34 پرسنٹ پرائمری اسکولوں میں بجلی کی رسائی نہیں جبکہ 15 پرسیٹ سیکنڈری اسکولوں میں بجلی نہیں ہے، پرائمری اسکولوں کا 24۔ 9 پرسنٹ، ثانوی اسکولوں میں 11۔ 2 پرسنٹ پانی نہیں ہے۔ اسی طرز پر اگر ہم چلتے رہے تو اسکول جانے کی عمرکے تمام بچوں کو اندراج کرنے میں کم از کم 42 سال درکار ہوں گے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر 2030 تک ہم چاہتے ہیں کہ اسکول جانے کی عمر کی تمام لڑکیاں (جو اسکول سے باہر ہیں ) اسکول جائیں، تو ہمیں 6۔ 4 ٹریلین بجٹ کی ضرورت ہے۔ تاہم، سندھ میں تمام لڑکیوں کو اگلے دس سالوں میں اسکولوں میں داخل کرانے کے لئے 1913۔ 37 بلین کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے جی ڈی پی (گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ) صرف 2۔ 4 پرسنٹ تعلیم پر خرچ ہوتی ہے، کم از کم چار پرسنٹ جی ڈی پی کا تعلیم کے لئے مختص کیا جاناچاہیے۔

پاکستان کے دیگر صوبوں، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تعلیم میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن بلوچستان اور سندھ نے تعلیم کے شعبے میں کوئی نمایاں کارکردگی نہیں دکھائی۔ اس وقت سندھ میں کل 49493 اسکول ہیں۔ جن میں سے 5922 اسکول ایسے ہیں جن میں کوئی بھی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ جب کہ 37705 ایسے اسکول ہیں جن میں گر ایک سہولت ہے تو دوسری نہیں۔

صرف 5922 (11 پرسنٹ) اسکولوں میں تمام سہولیات موجود ہیں 11441اسکولز میں زیرو انرولمینٹ ہے۔ 18660 اسکولوں میں صرف ایک استاد ہے، 12136 اسکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں، 10516 اسکولوں میں ایک کمرہ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں بھی 4364 شیلٹر لیس اسکول بھی ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں پرائمری تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دیتی ہیں، لیکن پوسٹ پرائمری تعلیم کے لئے کوئی محرک نہیں ہے۔

چونکہ سندھ میں سائنس کے مضامین کے اساتذہ صرف 10 پرسنٹ ہیں، صرف 44313، 10 پرسنٹ پرائمری اسکول ہیں جبکہ صرف (4696) ، دس پرسنٹ پوسٹ پرائمری اسکول ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسکول جانے والے 42 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، لیکن الف اعلان کی رپورٹ کے مطابق، 64 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ڈراپ آؤٹ کی اوسط زیادہ ہیں۔ 77 پرسنٹ بچے، پرائمری پاس کر کے اسکولز سے ڈراپ آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ اتنے تعداد میں اسکولوں سے باہر بچوں کا ہونا یقیناً تشویشناک ہے پر جو اسکولز میں پڑھ رہے ہیں ان کی کارگردی بھی کوئی ٹھیک نہیں۔

آئی بی ای سکھر کے ذریعہ کرائے گئی سیٹ ٹیسٹ کی رزلٹ کے مطابق، پانچویں اور آٹھویں جماعت کے طلباء سائنس اور حساب میں اوسطا 30 سے کم نمبر لیے ہیں۔ ایک طرف دوسری بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھی کمی ہے کہ دوسری طرف آئی بی ای کوالیفائیڈ ہیڈ ماسٹرس، سندھ یونیورسٹی سے پاس اساتذہ ریگیلرائیز نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔ جبکہ حال ہی میں بھرتی ہونے والے اساتذہ تنخواہ کے لئے احتجاج کر رہے ہیں، کوئی ان کی بات سننے والا نہیں۔

سید سردار علی شاہ جب وہ وزیر؍تعلیم تھے تو حیدرآباد اور کراچی میں ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تھا، اسکولز کی پروفائلینگ بھی ہوئی۔ موصول ہونے والی تجاویز کے نتیجے میں، روڈ میپ اور پالیسی پر کام بھی ہوا، کابینہ کے اجلاس میں پریزنٹیشن بھی دی گئی، لیکن کچھ نہیں ہوا۔ اب کون آئے گا ان کاغذوں پر لگی دھول صاف کرنے کوئی پتا نہیں۔ موجودہ بجٹ میں بھی تعلیم کے لئے کوئی خاص پلان نہیں رکھا گیا، صرف اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا عارضی ریلیف ہے۔

کرونا کی کہانی سامنے آنے کو ابھی پانچ، چھ ماہ ہوئے ہیں لیکن تعلیم کے لیے کوئی واضح روڈ میپ سامنے نہیں آیا ہے۔ سیکنڈری اور ہایئر سیکنڈری کے بچوں کی پروموشن کی تو کی گئی ہے لیکن ان طلباء کو یہ بھی علم نہیں کہ وہ کس طریقے سے پروموٹ کیے گئے ہیں۔ ہیڈ ماسٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسکول کی صفائی کریں، دو چار دن کی بات تو ٹھیک ہے لیکن پھر کیا کریں گے کوئی علم نہیں۔ امتحان نہیں ہوئے، پچھلے سال والا جون کا بجیٹ، تھوڑا استعمال، زیادہ لیپس ہوا، فرنیچر اسکولز کو نہیں ملا، اسکولز کے حالات زیادہ بدتر ہوئے ہیں۔

عدالت نے اساتذہ کی خالی 37000 آسامیاں پر کرنے کا حکم دیا ہے پر اس میں ا ابھی تک کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی ہے، تعلیمی سال کس مہینے (اپریل یا جولائی) سے شروع ہوگا کوئی حتمی شکل نہیں دی گئی، لیکن دونوں ہی مہینے گزر گئے ہیں۔ اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوا۔ اگرچہ مختلف تاریخ اسکولز کو کھولنے کی دی گئی اور اب تو فیڈرل منسٹر شفقت محمود صاحب نے اعلان بھی کر دیا ہے کہ 15 ستمبر سے اسکولز کھلیں گے، لیکن اس کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح منصوبہ نہیں بتایا گیا۔ کیونکہ تعلیم اب صوبائی مسئلہ ہے اور ہر صوبہ اہنے حساب سے پلان بنائے گا۔

فرض کریں کہ اگلے چند مہینوں میں اسکول کھول دیے جاتے ہیں، تو کیا ہوگا؟

بچے خوفزدہ ہوں گے، والدین بہت محتاط رہیں گے۔ اس سال جن بچوں نے بہت محنت کی تھی وہ اپنی نتایج دیکھ کر افرسدہ بھی ہوں گے ۔ جن اسکولز میں اساتذہ نے ان چٰھ مہینوں کے دوران رٹائرمینٹ لی ہے ان کا اسکولوں پر بڑا اثر پڑے گا۔ خراب معاشی حالات کی وجہ سے، کچھ والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھجیں گے اور چائیلڈ لیبر بڑھے گا۔ ایک سال کے کورس کو پانچ، چھ ماہ میں مکمل کرنے کا پلان بنانا پڑے گا۔ جب تک کرونا کا مکمل طور پر خاتما نہیں ہوتا، اس طرح کی ایس او پیز کو نافذ کرنا خاص طور پر بچوں کے لئے مشکل ہوگا۔ نصابی سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے غیر نصابی سرگرمیاں بہت متاثر ہوں گی۔ بچوں پر مختصر وقت میں امتحانات دینے کے لیے ذہنی دباؤ بڑھے گا۔

ہر مسئلہ اپنا حل ساتھ لے کر آتا ہے۔ ماحولیات کو آلودگی سے بچانا، انسانیت کی قدرکرنا ہمیں کورونا نے ایک بار پھر سے سکھائی ہے۔ اب انسانوں کو طرز زندگی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کو بھی سمجھنا ہوگا اور اس پر زیادہ سے زیادہ انویسٹمینٹ کرنی ہوگی۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے، STEM Education (Science, Technology, Engineering  nd Mathematcis) کی قدر کرنی ہوگی تاکہ ہماری آنے والی نسل دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چل سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply