دس ہزار ارب روپے کا قرض
پاکستان کی تاریخ میں اتنا قرض اتنے کم عرصے میں نہیں لیا گیا جتنا گزشتہ ڈھائی سالوں میں تحریک انصاف کی حکومت نے لیا ہے۔ قرض لینے کی رفتار کا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے۔
دس ہزار ارب روپے۔
ایک مرتبہ پھر بولیں دس ہزار ارب ( 10,000,000,000 )
یہ دس ارب کا فگر یے۔ دس ہزار ارب کا فگر آپ گوگل پر سرچ کر کے خود لکھیں اور اپنے ضمیر سے سوال کریں۔ (یہ مشورہ صرف ان کے لیے ہے جن میں تبدیلی کا جنون تھا) ۔
نواز شریف کی تین حکومتوں، زرداری کی دو حکومتوں اور جنرل مشرف کی دس سالہ حکومت کے ادوار کے لیے گئے قرضہ جات کی نسبت کا اگر پاک دامن کپتان کے ڈھائی سالہ دور سے موازنہ کیا جائے تو قرض لینے میں دس ہزار گنا فرق نظر آئے گا۔ باقیوں نے چالیس سال میں جتنا قرض لیا کپتان نے ڈھائی سال میں ان کو پیچھے چھوڑ دیا۔
اتنا قرض لینے کے بعد بھی ملک ہے کہ چل نہیں رہا۔ معیشت ہے کہ سنبھل نہیں رہی۔ کاروبار رکا ہوا ہے۔ ڈالر آسمان پر پہنچا ہوا ہے۔ دال سے پٹرول تک ہر چیز کی قیمتیں اتنی بلند ہیں کہ غریب کا بھرگس نکل گیا ہے۔ ۔ ۔ ملکی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ملازمین کی تنخواہیں زیادہ نہیں ہوئیں البتہ مہنگائی میں پانچ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ۔ ۔ مزید یہ کہ ملازمین کا سالانہ انکریمنٹ ختم کرنے اور وقت سے پہلے ریٹائر کرنے کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ۔ ۔
نواز شریف جب حکومت چھوڑ کر جا رہا تھا اس وقت چینی 57 روپے کلو تھی آج 85 روپے کلو ہے۔ پچاس کلو آتا 19 سو کا تھا آج 27 سو کا ہے۔ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں مگر بول نہیں رہے۔ غربت سہہ سہہ کر لگتا ہے اب پاؤں میں سکت ہی نہیں کہ حرکت کریں۔ ہاتھوں میں دم نہیں رہا کہ حکمرانوں کو گریبان سے پکڑ کر کرسی سے اتاریں۔ بے حسی کا عالم ہے۔ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔ مگر کھیل ختم ہونے کو ہے۔ دیر ہوئی تو پھر کچھ نہیں رہے گا۔ ایک دوسرے کا گوشت نوچنا پڑے گا۔ معیشت ڈوب جائے تو سب کچھ ڈوب جاتا یے۔


