پاکستان کا پہلا ’اسلامی قدم‘ اور ’کافروں‘ کے اعتراضات!
’قرارداد مقاصد‘ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی وہ واحد تخلیق ہے جسے آج بھی آرٹیکل ٹو۔ اے کے تحت (جنرل ضیا الحق کے اسلامی نظام اور جماعت اسلامی کے ’طفیل‘ ) ’آئینی تحفظ‘ حاصل ہے۔ خود آرٹیکل ٹو۔ اے کی اپنی کیا حیثیت ہے؟ اس کو اگر ایک جملے میں سمونا ہو تو ہم یوں کہنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ ’آئین پاکستان کے کسی ایک آرٹیکل کو آئین کے کسی دوسرے آرٹیکل پر کسی قسم کی کوئی برتری یا فضیلت حاصل نہیں ہے‘ ۔
7 مارچ 1949 کو وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اس قرار داد کوپاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا اور 12 مارچ 1949 کو ( 79 ممبران پر مشتمل اسمبلی میں صرف 21 ووٹوں سے ) یہ قرار داد منظور ہوئی۔
جب قرار داد مقاصد کو دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اس موقع پر اسمبلی کے ممبران کی طرف سے چند ترامیم کی صورت میں انتہائی بنیادی اعتراضات اٹھائے گئے تھے (یہ الگ بات ہے کہ کوئی بھی ترمیم منظور نہیں ہو سکی) ۔ آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ تا کہ 73 سال گزرنے کے بعد ہم اس بات کو جانچ سکیں کہ یہ نکتہ چینی کس حد تک درست تھی۔ اور اسلام کے نام پر اس ملک میں کن قوتوں نے اپنی ’دنیا و آخرت‘ سنواری۔
مسٹر پریم ہری برما:
قرارداد میں ”جمہوریت، آزادی، مساوات، برداشت اور سماجی انصاف جیسے کہ اسلام نے بیان کیے ہیں“ ہمیں ان اصولوں پر کسی خاص مذہب کی شرط نہیں لگانی چاہیے۔ ان کو عالمی طور پر مانے گئے اصولوں (اقوام متحدہ کے بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر) کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ پھر بھی اگر ہم آئین کو مذہب کی بنیاد پر بنانا ہی چاہتے ہیں تو اسے کسی ایک مذہب کی بجائے ان تمام مذاہب کے اصولوں کے مطابق بنانا چاہیے، جتنے مذاہب کے ماننے والے پاکستان میں آباد ہیں۔
قرارداد میں ”جب کہ مسلمانوں اور غیر مسلمانوں دونوں کو مساوی طور پر اپنے اپنے مذہب کے مطابق اپنی اپنی زندگیاں، انفرادی اور اجتماعی دائروں میں، بسر کرنے کے قابل بنایا جائے گا“ کی ترمیم کی جانی چاہیے۔ ہم نے آئین سب لوگوں کے لیے بنانا ہے، صرف مسلمانوں کے لیے نہیں۔
مسٹر کامینی کمار دتا:
اگرچہ حاکمیت اعلیٰ خدا کی ہے، لیکن خدا براہ راست حکمرانی نہیں کرتا۔ اور چوں کہ خدا کا یہ اختیار لوگوں کو تفویض کیا گیا ہے۔ لہذا قرارداد میں ان الفاظ ”جب کہ قومی حاکمیت پاکستان کے لوگوں کی ہو گی“ کا اضافہ کیا جانا چاہیے۔ اور حکمرانی کا یہ حق کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کو تک محدود نہیں ہے۔ اس حق کا دعویٰ ہر وہ شخص کر سکتا ہے جو پاکستان کا شہری ہو۔
قرارداد میں جہاں ”جمہوریت، آزادی، مساوات، برداشت اور سماجی انصاف جیسے کہ اسلام نے بیان کیے ہیں“ ، وہاں ان الفاظ ”اور جن کی اساس دائمی اصولوں پر ہے“ کا اضافہ کر دینا چاہیے۔ مجھے یاد ہے کہ مسلم صوفیا نے یہ کہا ہے کہ اسلام پر کسی خاص قوم کا مخصوص قبضہ نہیں ہے بلکہ اسلام پوری انسانیت کے لیے ورثہ ہے۔
مسٹر سریس چندرا چٹوپاڈھیا:
تقسیم کے 18 ماہ کے بعد ’قرارداد مقاصد‘ کو سامنے لایا گیا ہے۔ اور در حقیقت، اس اسمبلی کی کوئی کمیٹی بھی اس قرارداد بارے نہیں بنائی گئی تھی۔ ہمارا اصل کام آئین بنانا ہے نہ کہ کوئی نظریاتی قسم کی ’قرارداد مقاصد‘ لانا۔ ویسے بھی پاکستان میں ایسے حالات نہیں ہیں کہ کوئی قرارداد مقاصد لائی جائے۔ جن ملکوں میں کوئی قرارداد مقاصد ہے بھی تو وہاں حالات اور تھے۔
ہمیں مذہب اور سیاست کو گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ یہی قائد اعظم کا اسمبلی میں بیبیان تھا۔ لیکن موجودہ قرارداد مذہب کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔
مسٹر بھوپندرا کمار دتا:
مذہب اور سیاست دو الگ الگ شعبے ہیں۔ مذہب، ایمان کے دائرے میں آتا ہے جب کہ سیاست، عقل کے دائرے میں۔ اور پھر مذہب اور سیاست دونوں میں سے جب بھی کوئی ایک، دوسرے کی قیمت پہ حاوی ہوا ہے تو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر شدید ہلچل پیدا ہوئی ہے۔ یورپ اور ہماری اپنی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ سیاسی معاملات میں کھلم کھلا تنقید کی جاتی ہے جب کہ ایمان پہ تنقید اس کے تقدس کو کم کر دیتی ہے۔ اور پھر مذہبی معاملات میں مختلف قسم کی تشریحات اور توجیحات بعض دفعہ بہت خطرناک ثابت ہوتی ہیں جب کہ سیاسی تشریحات میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اگر یہ قرارداد قائد اعظم کی زندگی میں آتی تو موجودہ شکل میں ہرگز نہ ہوتی۔
کل کلاں کو ہو سکتا ہے کوئی ”یووان شکئی یا بچہ سقہ“ جیسا سیاسی طالع آزما اسی قرارداد مقاصد کی بنیاد پر اپنی مرضی اور اتھارٹی ریاست پر نافذ کر دے۔ اور یہ اعلان کر دے کہ یہ اختیار خدا کی طرف سے اسے ودیعت کیا گیا ہے۔ ہمیں اس ”ابتدائیہ“ کی بنیا د پر ریاست کو خدائی صفات کا حامل قرار دینے سے بچانا ہے۔ ابھی حال ہی میں ہٹلر نے ایسا کیا ہے۔
قرارداد میں جہاں جمہوریت، آزادی، مساوات، برداشت اور سماجی انصاف جیسے اصولوں کا ریاست کو پابند کیا گیا ہے وہاں سے یہ الفاظ ”جیسے کہ اسلام نے بیان کیے ہیں“ حذف کیے جائیں۔ کیوں کہ یہ اصول ایسے تصورات ہیں جو مختلف تجربات اور تضادات کی روشنی میں مسلسل ارتقا پذیر رہتے ہیں۔ تاریخ کے کسی مخصوص وقت میں جس طرح ان اصولوں کو سمجھا گیا ہے آج کے جدید دور میں اس طرح ان کو نہیں دیکھا جاتا۔ ہمیں ان اصولوں کے ساتھ کوئی شرط چاہے جتنی بھی مقدس یا شاندار ہو، بالکل نہیں لگانی چاہیے۔ اور اس قسم کے الفاظ سے پاکستان میں یک دم دو طبقے پیدا ہو گئے ہیں۔ ہم لوگ نسلوں سے اس خطے میں آباد ہیں۔ ان الفاظ نے ”جیسے کہ اسلام نے بیان کیے ہیں“ آپ نے ہمیں ہمیشہ کے لیے نچلے درجے میں پھینک دیا ہے۔
مسٹرراج کمار چکراورتی:
خدا کی طرف سے حق حکمرانی کا اختیار عوام کو تفویض کیا گیا ہے، ریاست کو نہیں۔ اگر یہ حق ریاست کا مان لیا جائے تو اس سے عوام ریاست کے ماتحت ہو جائیں گے۔ عوام کی بالادستی کی بجائے ریاست کی برتری قائم ہو جائے گی۔ لوگ پہلے آتے ہیں، ریاست بعد میں۔ ریاست لوگوں کے لیے ہے نہ کہ لوگ ریاست کے لیے۔
ریاست عوام کو جواب دہ ہوتی ہے۔ لیکن اس قرارداد سے لگ رہا ہے کہ ریاست عوام کو جواب دہ نہیں ہے۔


