چند سو لفظی کہانیاں


تصویریں

تپتی دوپہر میں شہر کی مصروف سڑک کے ساتھ فٹ پاتھ پر وہ پریشان نگاہوں سے زمین پر بیٹھی کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔ اس کے چہرے کے اڑتے رنگ اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح تھی۔ پریشان آنکھوں میں آنسو سنبھالتے ہوئے مسلسل کچھ ڈھونڈنے کی کوشش میں لگی تھی۔

” کیا ہوا، کیا ڈھونڈ رہی ہو“
” میموری کارڈ گم ہو گیا ہے“
”تو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے، نیا لے لینا“
” اس میں میرے تینوں بچوں کی تصویریں تھیں“
”تصویریں بھی نئی بنا لینا“
” وہ تینوں مر چکے ہیں“ اس نے زمیں پر بکھری راکھ کریدتے ہوئے جواب دیا۔

آنکھیں

اس بوڑھی عورت کی آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں بالکل بے حس، بے تاثر اور ساکت۔ اس کی نگاہ آسمان کی وسعتوں میں گم ہو کر واپس پلٹنا بھول چکی تھی۔ ہسپتال کے بیرونی گیٹ پر اپنے ضعیف شوہر کے ساتھ کومے کی کیفیت میں کھڑی تھی۔

شوہر کی بوڑھی آنکھوں میں قیامت کا درد تھا۔ آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ کر بار بار اپنی خالی جیب ٹٹولتا اور اپنی ہم سفر کی پتھرائی آنکھوں کو محبت و لاچارگی سے دیکھتا۔ آخر اس نے بوڑھی عورت کو بازوؤں سے پکڑ کر بوری کی طرح اپنے کاندھے پر لادا اور بے سمت چل پڑا۔

عورت

میں نے وضو کے بعد اپنے بکھرے گیلے بالوں کی پونی بنائی اور نماز پڑھنے لگا۔ سلام پھیرا ہی تھا کہ کسی نے میری پونی کو کھینچ کر اپنی جانب متوجہ کیا۔ مڑ کر دیکھا تو ایک باریش نورانی چہرہ بزرگ کافی غضب سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔

” اس حالت میں نماز نہیں ہوتی“
”کس حالت میں؟“
” یہ عورتوں والا حلیہ ہے“
” مگر میں تو مرد ہوں“
” تو عورتوں جیسے بال کیوں باندھے ہیں“
” عورتوں کی نماز نہیں ہوتی کیا؟“
”بد تمیز، گستاخ، اسلامی احکام کا مذاق اڑاتے ہو“
مسجد سے نکلتے وقت میں تھر تھر کانپ رہا تھا۔

کھسرا

”میں دس نہیں، بیس روپے لوں گی ”ہیجڑا میرے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا
” وہ کیوں“ میں نے بھیک دینے کا ارادہ ترک کر دیا
” کیونکہ میں کھسرا نہیں ہوں، کھسری ہوں“
” ان دونوں میں کیا فرق ہوتا ہے“
” بہت فرق ہوتا ہے، لمبی بات ہے“
” مختصراً بتا دو“
” کھسری کا آدھا جسم عورتوں جیسا ہوتا ہے، اور آدھا مردوں جیسا“
” کیا مطلب، میں سمجھا نہیں“
اس نے اپنی قمیض پیٹ سے بھی اوپر اپنی گردن تک اٹھا کر اپنا برا کھول دیا۔ وہ ابھی اپنا آزار بند بھی کھولنے لگی تھی۔
میں نے جلدی سے بیس روپے دے دیے

کرایہ

” پتر، میرے پاس کرایہ نہیں ہے۔ تھوڑے پیسے دے دو“
” یہ طریقہ پرانا ہو گیا ہے، کچھ نیا سوچ کر آؤ، دے دوں گا“
” میں سچ کہہ رہا ہوں“
” معاف کرو بابا“
وہ میری میز سے ہٹ کر ایک دوسری میز پر جا چکا تھا۔ میں نے واپس اپنے ہیڈ فون لگا لیے۔
دوسری میز سے اس کو پیسے مل گئے تھے۔ میرے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آ گئی۔
” ڈرامے سالے“ میں ذرا لب بڑبڑایا
چائے کی آخری چسکی لیتے ہوئے میں نے دیکھا وہ ایک سوزوکی روک کر اس میں بیٹھ رہا تھا۔
میری مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

بھوک

ویک اینڈ تھا۔ دوستوں کے ساتھ آؤٹنگ کا پروگرام بنا۔ کھانے کا آرڈر دے کر ہم سب خوش گپیوں میں مصروف تھے جب وہ بھکارن ہماری ٹیبل کے پاس زمین پر آ کر بیٹھ گئی

” کھانا کھاؤ گی“ اس کے چہرے پر بھوک چپکی صاف نظر آ رہی تھی۔
” نہیں“ اس نے زمیں کو گھورتے اور لبوں پر زبان پھیرتے کہا۔
ہم کھانا کھا چکے تو اس نے بڑا سا شاپر کھولا اور بچا ہوا کھانا اس میں ڈالنے لگی۔
” تمہیں کہا تو تھا۔ کھا لو کھانا“
” مجھے بھوک نہیں ہے، یہ تو بچوں کے لیے لے جا رہی ہوں“

کہانی

وہ مجھے اتفاقاً سبزی کے ٹھیلے پر ملی تھی۔
” شعیب افضل“
” جی“
” آپ لکھاری ہیں نا“
” جی ہوں تو“
” میری کہانی لکھیں گے آپ“
”نہیں میں فقط اپنی کہانیاں لکھتا ہوں ؛ معذرت“
” مگر میری کہانی بہت ضروری ہے“
” کوئی کہانی“ بہت ”ضروری نہیں ہوتی“
”آپ ایک بار میری کہانی سن تو لیں“
” جی سنائیں ؛ کیا ہے آپ کی کہانی“

” میرا ریپ ہوا ہے“
” یہ کوئی کہانی نہیں“
” میرے شوہر نے کیا ہے“
” یہ موضوع بھی پرانا ہو چکا ہے“
” وہ نامرد ہے“
اب میں چونکا ”نامرد کیسے ریپ کر سکتا ہے“
وہ اب سبزیوں کی طرف متوجہ ہو چکی تھی۔

بھکارن

وہ جوان بھکارن فٹ پاتھ پر بیٹھی اپنے بچے کو چھاتیوں سے لگائے دودھ پلا رہی تھی۔ میری نگاہ پڑی تو رک گیا۔ مجھے اس منظر میں بھی لذت محسوس ہوئی۔ حالانکہ اس کی چھاتیوں پر بھی میل کی موٹی تہہ جمی تھی۔
” اللہ کے نام پر کچھ دے دو“ اس نے سسکتے ہوئے پیشہ ورانہ انداز میں کہا
میں نے بٹوہ کھنگالا ”کھلے نہیں ہیں“
” کتنے کا نوٹ ہے“
” پانچ ہزار کا“
” بولیں کتنے پیسے کاٹوں“
بچہ سینے سے پھسل کر گود میں آ گیا تھا۔ چھاتیوں سے بہتے دودھ کی بوندوں سے اس کی قمیض گیلی ہو گئی۔

بال

میں نے پہلی بار چائینیز لڑکی دیکھی تھی۔ تیکھے نقوش، چھوٹی سبز آنکھیں، باریک ہونٹ، اور نازک جسم۔ وہ نہایت خوبصورت تھی۔ ہم نے قیمت طے کی اور ہوٹل میں کمرہ بک کر لیا۔ اس کے پرفیوم کی تیز مہک مجھ پر سحر طاری کر رہی تھی۔ میں خوش تھا آج پہلی بار اتنا خوبصورت بدن ننگا دیکھ سکوں گا۔

اس نے دروازے کو کنڈی لگانے کے لیے بازو اوپر کیا۔ بغل میں اگے گھنے سیاہ بالوں کے گچھے پر نظر پڑی تو جی متلا گیا۔ سوچا اس کے تو ادھر بھی بال ہوں گے۔
مجھے لائیٹ آف رکھنا پڑی۔

شلوار

”بابا جی، کل میرے بیٹوں کا فیصلہ ہے، دعا کریں وہ بری ہو جائیں ”
” کیا مقدمہ ہے ان پر“
”قتل کا مقدمہ ہے بابا جی“
”شلوار اتارو اپنی“
”کیا؟“
” شلوار اتارو، بیٹے زندہ چاہیں یا نہیں“ محفل میں موجود سب مریدوں کی نظریں اب اس کی شلوار پر مرکوز تھیں۔
اس نے آنکھیں بند کر کے آزار بند کھولا بمشکل ایک ٹانگ ہی سے شلوار اتر پائی تھی۔ جلدی سے واپس پہن لی۔
” بس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، چلی جا، ایک کو پھانسی ہو گی، ایک بری ہو جائے گا“
اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ وہ پچھتاتی رہی کاش وہ پوری شلوار اتار سکتی۔

ٹائم ٹریول

” پڑھو مجھے“
” کون ہو تم“
” کہانی ہوں“
” کہاں سے آئی ہو“
” مستقبل سے“
” ٹائم ٹریول“
” ہاں“
” وقت میں سفر ممکن نہیں“
” سفر تو ہوتا ہی وقت میں ہے“
” کس نے لکھا ہے تمہیں“
” پہلے پڑھو تو لو“
پانچ منٹ کی خاموشی کے بعد
” پڑھ لیا۔ بکواس کہانی ہے۔ کس نے لکھی ہے؟“
” تم نے“
” میں نے ؛ ناممکن“
” میں مستقبل سے آئی ہوں“
” تم جھوٹ بولتی ہو“
” ہاں۔ تم سچ نہیں لکھتے“
” سچ کوئی نہیں پڑھتا“
” ابھی لکھو“
” نہیں ؛ میں تمہیں کبھی نہیں لکھوں گا“
” تمہیں لکھنا ہو گا۔“
” نا ممکن“
” میں تمہاری ہی ہوں ؛ مان لو“
” میں نہیں مان سکتا“

Latest posts by شعیب افضل (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شعیب افضل کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments