نئے نقاد کے نام خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عزیز مکرم!

میں تم سے عمر میں بڑا ضرور ہوں، میرا علم بھی تم سے زیادہ ہو، یہ ہر گز ضروری نہیں۔ علم کا ماخذ دو چیزیں ہیں۔ کتاب سے کلام اور خود سے کلام۔ اسے تم دو طرح کا تفکر بھی کہہ سکتے ہو۔ دوسروں کے ساتھ مل کر تفکر کرنا اور تنہائی میں تفکر کرنا۔ کچھ بیس سال کی عمر میں پچاس برس کی عمر والوں سے زیادہ یہ دونوں طرح کا تفکر کر لیتے ہیں اور کچھ ساٹھ ستر اسی سال کے ایسے بزرگ بھی ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی عمر عزیز کو اور کاموں میں مشغول رکھا ہوتا اور شہرت کمائی ہوتی ہے، سیکڑوں کتابیں بھی پڑھی ہوتی ہیں لیکن کتاب کی ہمراہی اور اپنی ہمراہی میں گہرے تفکر کی زحمت نہیں اٹھائی ہوتی۔ اس لیے عمروں سے کسی کے علم اور بصیرت کا اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔

یہ خط میں تمھارے علم میں کوئی نئی بات لانے کے لیے نہیں، تمھاری دل جوئی کے لیے لکھ رہا ہوں۔ شاعروں، افسانہ نگاروں کی دل جوئی کرنے والے بہت ہیں، نقادوں کے لیے تحسین کے دو حرف بھی کوئی مشکل سے کہتا ہے۔ اوروں سے کیا گلا۔ خود ہمارے ثقہ نقاد تنقید کی مذمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ان کی زبان یہ کہتے نہیں تھکتی کہ تنقید دوسرے درجے کی سرگرمی ہے اور تنقید تخلیق کے مقابلے میں کم تر ہے۔ میں محسوس کرسکتا ہوں کہ یہ باتیں نئے نقادوں کے لیے بہت دل شکن ہیں۔ کون پسند کرے گا کہ دوسرے درجے کی سرگرمی کے لیے اپنی بہترین قوتیں صرف کرے، جب کہ اس کے پاس وقت، وسائل اور توانائی محدود ہو۔ لیکن تم ان باتوں سے گھبرانے کی بجائے، ان باتوں کے اسباب پر سوچو اور لکھو۔ نقاد بننے کا فیصلہ کر کے تم نے کچھ ذمہ داریاں اپنے لیے لازم کرلی ہیں: سوچنا، سوال اٹھانا، متن سے کلام کرنا اور پھر جرآت سے لکھنا لیکن شائستگی اور دلیل کا دامن ایک پل کے لیے ہاتھ سے نہ جانے دینا۔ تم ان نقادوں کی طرف پر شوق نگاہوں سے مت دیکھنا جن کے پاس دلیل ہے، لیکن شائستگی نہیں۔ جو نقاد کسی سابق ادیب یا ہم عصر کی ذلت میں خوشی اور فخر محسوس کرے، خواہ اس کے بیان میں کتنی ہی کاٹ ہو، اسے دور سے سلام کرنا۔

 تم سوچوگے تو تمھیں سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ کوئی سرگرمی اوّل یا دوسرے درجے کی نہیں ہوتی، یہ ہم ہیں جو اسے پہلا، دوسرا یا اسفل درجہ دیتے ہیں۔ شاعری اپنی اصل میں افضل ہے نہ اسفل، اسے شاعرافضل یا اسفل بناتا ہے۔ یہی حال فکشن، تنقید اور تحقیق کا بھی ہے۔ تم دیکھو کہ ایک ہی دہائی میں کتنے شاعر و افسانہ نویس فراموشی کی قبر میں اتر چکے ہوتے ہیں، گو وہ ہمیں سوشل میڈیا اور ادبی جلسوں میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ اور کتنے ہی نقاد، جن کی ہڈیاں بھی گل چکی ہیں، وہ ہماری گفتگوئوں اور تحریروں میں سانس لے رہے ہیں۔ صرف وہی تحریریں زندہ رہتی ہیں جن میں نئے زمانے سے سے ہم کلام ہونے کی صلاحیت ہو اور جو ہمیں نئے زمانے کی تاریکیوں کو سمجھنے یا روشن کرنے میں مدد دے سکیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ شاعری ہے، فکشن ہے یا تنقید۔

انسانوں میں اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی عادت، شاید ارتقا کے کسی مرحلے پر پیدا ہو گئی تھی۔ اب تک چلی آتی ہے۔ تنقید کی ملامت وہی نقاد کرتے ہیں جو اپنی تنقید کو زمانے کے سیل کے آگے پسپا ہوتے دیکھتے ہیں۔ تم خود اس کا تجربہ کرو گے کہ زمانے کے سیل کے سامنے کوئی شے نہیں ٹھہر سکتی۔ صرف نقاد کو نہیں، سب لکھنے والوں کو یہ حقیقت قبول کرنے کی اخلاقی جرآت پیدا کرنی چاہیے کہ ان پر وحی نہیں اترتی کہ جسے زمانہ مٹا نہ سکے۔ ہمارا لکھا ہوا، کچھ، آدھا یا سارے کا سارا لوح جہاں پہ حرف مکرر کی صورت ہو سکتا ہے اور جسے نئے زمانے کی ایک لہر مٹا سکتی ہے۔ کوئی چاہے تو اس سچائی کے اعتراف سے، ایک نئی آگاہی تک پہنچ سکتا ہے۔ آدمی کی مانند اس کی تحریروں کی بھی عمر ہوتی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ آدمی زیادہ سے زیادہ سو اوپر چند سال لیکن بعض تحریریں زمانوں کی عمر پاتی ہیں۔

آج کل اردو ادب میں سب تیروں کا رخ تنقید کی طرف ہے۔ جب سے سوشل میڈیا آیا ہے اور پرانے اور نئے ادیبوں اور یونیورسٹیوں کے ایم فل و پی ایچ ڈی کے سکالر اس ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بنے ہیں، سب کی زبانیں تیر، خنجر، تلوار بن گئی ہیں۔ جب اسلحے کی بہتات ہو تو خواہ مخواہ جنگ کرنے کو جی بھی چاہتا ہے۔ تم نے ایک بات شدت سے محسوس کی ہوگی، نئی ٹیکنالوجی لوگوں کو نیا نہیں بناتی۔ یہ اسلحہ پہلے سے ان کے اندر موجود تھا۔ اس کی نمائش اور اسے کام میں لانے کا موقع اب ملا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی اپنی دیوار کو محاذ بنائے تنقید کے خلاف جنگ کو ایک مقدس فرض سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔ کبھی یہ تمھارا نام لیتے ہیں، کبھی نہیں۔

تم نوجوان ہو، تمھار اخون کھول اٹھتا ہے۔ لیکن تم ضبط سے کام لو۔ تیر لگے تو تکلیف ہوتی ہے۔ خنجر کہیں پیوست ہو تو خون کا فوارہ چھوٹ پڑتا ہے۔ اس کے باوجود تم اس جنگ کا حصہ بننے سے انکار کرو۔ جنگوں نے آج تک انسانوں کو کچھ نہیں دیا، سوائے موت، تباہی، ذلت اور رسوائی کے۔ انسانی تہذیب جن چیزوں پر فخر کرسکتی ہے، وہ سب یا تو انسان کی تنہائی کی پیداوار ہیں یا دوسرے سے مکالمے کی۔ تم اپنی تنہائی میں امن سے جینا سیکھو اور دوسروں سے مکالمے کو اپنا وطیرہ بنائو۔ جب کسی اپنے یا پرائے کا خنجر پہلو میں پیوست ہو تو کربلا کے معصومین کو یاد کرلیا کرو یا مہاتما بدھ کی دہشت گرد سے ملاقات کا تصور کر لیا کرو۔ یہ سوچا کرو کہ جو تمھیں تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنی پیدا کردہ بدروحوں کے ہاتھوں زخمی بھی ہوتے ہیں۔ ان کے زخمی دلوں کے لیے دست دعا اٹھا دیا کرو۔

تم سوالوں کے جواب ضروردیا کرو۔ دشنام اور ملامت کا نہیں۔ لیکن کسی سوال کا جواب دینے سے پہلے ضرور غور کیا کرو کہ تمھیں کس سوال کا جواب دینا ہے اور کس کا نہیں۔ تمھیں تنقید کے سوالوں کو پہچاننے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ ویسے بھی سوال کو پہچاننے کی صلاحیت ایک نقاد میں سب سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔ سوال کی زبان پر غور کرو گے تو جلد پہچان جائو گے کہ کہاں سوال ہے اور کہاں محض کسی نفرت، دشمنی، تعصب کو سوال کے پردے میں چھپایا گیا ہے۔ تم رفتہ رفتہ پہچان جائو گے کہ لوگوں کے پاس سوال کم سے کم ہیں اور منفی جذبات کا انبار ہے۔ سوال تو نعمت ہے۔ کاش نعمت اتنی ارزاں ہوتی! کیا تم دیکھتے نہیں کہ سوالوں کے نام پر چند ہی باتوں کی تکرار ہو رہی ہے۔ ایسے لگتا ہے لوگوں نے سوچنا چھوڑ کر چیخنا شروع کر دیا ہے۔

تم یہ بھی دیکھو گے جنھیں کچھ لکھنا آتا ہے، انھیں اپنی نفرت و دشمنی کو سوال کے پردے میں چھپانے کا فن بھی زیادہ آتا ہے، لہٰذا ادیبوں کے سوالوں کے سلسلے میں زیادہ ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے۔ سوال کو کیسے پہچانیں، یہ سوال اٹھاتے رہا کریں۔ خطابت، سب سے زیادہ دھوکہ دیتی ہے۔ جس شخص کے یہاں اسم صفات کا جتنا بے محابا استعمال ہو گا اور یک قلم چیزوں کو تلپٹ کر دینے کا رویہ ہوگا، وہ سوال سے اتنا ہی دور ہوگا۔ عہد وسطیٰ کے بودھی مفکروں نے سوال کی چارقسمیں بتائی تھیں اور سوال پوچھنے والے کی نسبت سے بتائی تھیں۔ میں انھیں لکھے دیتا ہوں۔ شاید ان سے کچھ مدد مل سکے۔

وہ آدمی بحث کے لیے موزوں نہیں جسے کہا جائے کہ وہ اپنا سوال قطعیت کے ساتھ واضح کرے، جسے قطعیت سے واضح کیا جانا ضروری ہو اور وہ واضح نہ کرسکے؛ اس سوال کو تجزیاتی طور پر واضح نہ کرسکے جسے تجزیاتی طور پر واضح کیاجانا ضروری ہو؛ کسی سوال کو مخالف سوال کی روشنی میں واضح نہ کر سکےج س کا مخالف سوال کی روشنی میں واضح کیا جانا ضروری ہواور کسی سوال کو ردّ نہ کر سکے جسے ردّ کیا جانا ضروری ہو”۔

تم یہ جانتے ہو گے کہ یہ بودھی مفکر (ـدگناگ، ناگارجن خاص طور پر) ہی تھے جنھوں نے سب سے پہلے کہا تھا کہ زبان کا باہر کی چیزوں سے نہیں، ذہنی تصورات سے تعلق ہے، جسے بعد میں سوشیور نے ہوبہو پیش کیا۔ خیر، اس پر ہم پھر کسی وقت بات کریں گے، یہاں میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمھیں صرف ان سوالوں پر لکھنا چاہیے جو سوال ہوں۔ جن میں قطعیت، وضاحت اور مخالف سوالات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت ہو اور جن کی تہ میں جاننے کا تجسس ہو۔ تم نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ لوگ بے معنی سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ ان دنوں اردو تنقید کے حوالے سے بے معنی سوال بھی گردش میں ہیں۔ ایسے سوالوں کا سامنا کرتے ہوئے منیر نیازی کو یاد کر لیا کرو۔

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

تمھیں کہا جاتا ہے کہ مغرب کے نقادوں کے حوالے کیوں دیتے ہو، ان کے بارے میں لمبے چوڑے مضامین کیوں لکھتے ہو۔ مغرب کے نظریات کیسے ہمارے ادب کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں۔ ہم نے اپنا ایلیٹ، اپنا دریدا، اپنا ایڈروڈ سعید کیوں نہیں پیدا کیا؟ تم سمجھو کہ یہ باتیں کب سے کہی جا رہی ہیں؟ حالی کے زمانے سے۔ لیکن اب کچھ ان میں زیادہ ہی شدت آگئی ہے۔ تم اس شدت کے اسباب پر غور کرو؛ نائن الیون کے بعد کے حالات پر غور کرو اور اپنے معاشرے میں شدت پسندانہ رجحانات پر سوچو تو شاید اس شدت کا سبب کچھ معلوم ہوسکے۔ لیکن لکھو وہی جو تم ٹھیک سمجھتے ہو۔ ٹھیک سمجھنے پر وقت صرف کر و، لیکن جب سمجھ لو تو پھر اعتماد وجرآت سے وہ سب کہوجسے تمھارا روشن دماغ تم پر عیاں کرے۔ تمھار ا خضر اگر کوئی ہو سکتا ہے تو یہی تمھارا روشن دماغ ہے۔ اس کی حفاظت ہر قیمت پر کرو۔

 تم نقاد ہو، تمھارے پاس بس تنقیدی آگہی ہونی چاہیے۔ تم مغرب، مشرق، افریقا، لاطینی امریکا کے کسی ادیب یا نقاد کے بارے میں لکھو، مت ڈرو، بس یہ لازم کرلو کہ تمھاری آگہی تنقیدی ہونی چاہیے۔ تنقیدی آگہی، کسی بھی نظریے کو چار اطراف سے سمجھنے سے آتی ہے۔ جب تم کسی نظریے کے بنیادی مفروضے کا اچھی طرح تجزیہ کر لو گے تو تمھیں اس کے باقی اطراف کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ یہ جاننا مشکل نہیں ہوگا کہ وہ نظریہ کس متن کے بارے میں کس بصیرت کو سامنے لاسکتا ہے۔ تمھارا کام ادبی متن سے متعلق بصیرتوں کی تلاش ہے اور تنقیدی نظریات انھی بصیرتوں کو مدلل انداز میں سامنے لانے میں مدد دیتے ہیں۔ لوگ ذوق اور فہم ادب کے مسائل چھیڑ کر تمھاری توجہ کو منتشر کرتے ہیں۔ تم دوسروں سے بہتر جانتے ہو کہ متن کو باریک بینی سے پڑھنے والے ہی صاحب ذوق ہوتے ہیں۔ کون ہے جو قبیح چیزوں کے ساتھ ایک پل سے زیادہ وقت گزار سکے؟

 اس بات کو کبھی فراموش نہ کرو کہ ہمیشہ سے علم سرحدوں سے ماورا رہا ہے۔ یونانیوں نے ہندوستان سے کتنا کچھ لیا؟ مسلمانوں نے یونانیوں سے کیا کیا اخذ نہیں کیا؟ ارسطو کے فلسفے ہی کے نہیں، ارسطو کی بوطیقا کے مسلمانوں کی تنقید پر بہت اثرات ہیں۔ تم نے بورخیس کا ابن رشد کا تفحص پڑھا ہوگا۔ اس میں اس ذہنی عمل کو دیکھا ہو گا جو بوطیقا کو عربی میں منتقل کرنے سے اس کے اندر رونما ہوا۔ پھر یورپ نے مسلمانوں سے کیا کیا حاصل نہیں کیا؟ یہ سب سامنے کی باتیں ہیں۔ یہ سوال ہی بے معنی ہے کہ ہم نے اپنا ایلیٹ، دریدا اور سعید کیوں پیدا نہیں کیا۔ خود کو اپنی نظر سے اور اپنی تاریخ کو اپنے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ اپنی ضرورت کے مطابق لوگ، نظریوں کو جنم دیتی اور سامنے لاتی ہے۔ تم بس اپنے اس کام پر دھیان دو، جو تم اس محدوو وقت، وسائل اور توانائی کے ساتھ کر سکتے ہو۔

اصل مسئلہ ہمارا نو آبادیاتی تجربہ ہے۔ اس نے چیزوں کو، تاریخ کو اور ہماری سائیکی کو گدلا کردیا ہے۔ یہ ایک آسیب کی مانند ہمارا تعاقب کررہا ہے۔ ہم ایک نئی صورتِ حال سے دوچار ہوئے۔ ہمیں نئے علم اور استعمار سے بہ یک وقت سابقہ پڑا۔ تم نقا د ہو یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ استعمار کی مذمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، خواہ وہ یورپی ہو یا مشرقی، بیرونی ہو یا مقامی، لیکن علم کہیں کا ہو، اسے نسل، مذہب اور فرقے کی نظر سے نہ دیکھو۔ اسے اپنی گم شدہ میراث سمجھو۔

خدا تمھار ا حامی وناصر ہو۔

تمھارا خیر خواہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “نئے نقاد کے نام خط

  • 18/07/2020 at 10:08 am
    Permalink

    استاد محترم اللہ پاک آپ کو عمردراز عطا فرمائے آپ ہمارے ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ہم طلبا کے لیے باعث فخر و سربلندی ہیں کہ ہماری نسبت آپ سے جڑی ہے. میرا تودل کرتا ہے کہ میرے شب و روز آپ کہ صحبت میں گزریں اور آپ کی علم سے استفادہ کرسکوں. آپ کے پڑھانے کا انداز بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ لکھنے کا انداز جس موضوع ہر گفتگو فرماتے ہیں یا قلم اٹھاتے ہیں اس کا کوئی بھی پہلو تشنہ نہیں رہتا. اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ آپ کس ٹاپک پر بات کریں گے اور وہ پہلے سے سوال لکھ کر لے آئیں کہ یہ سوال کریں گے تو جب وہ آپ کا لیکچریا تحریر ملاحظہ کریں گے تو سوالات کی گنجائش ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ آپ نے اس موضوع سے متعلق ہر ممکنہ پہلو اپنے لیکچر یا تحریر میں بیان کردینا ہوتا ہے. اس تحریر میں بھی ایسا ہی ہوا ہے ایک قاری کے ذہن میں جو سوالات ابھر سکتے تھے یا ایک مبتدی جو سوال اٹھا سکتا تھا آپ نے خود ہی ان کا جواب عطا فردیا ہے. بہت شکریہ سر جی ممنون

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *