لاہور کا ہاؤسنگ پراجیکٹ جس پر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں “جمہوری اتفاق” پایا جاتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیک وقت پی ٹی آئی اور ”نون“ لیگ، دونوں حریف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ’لینڈ مافیا‘ کی نئی ہاؤسنگ سکیم کی خاطر لاہور کے ماسٹر پلان کو حتمی شکل دینے کا عمل روک دیا گیا اور اس ضمن میں گورنر پنجاب کی مبینہ سرپرستی میں معروف مقامی صنعت کار و ڈویلپر کی مجوزہ رہائشی سکیم کو اس میں سمونے کی غرض سے ”ایل ڈی اے“ کو ”سٹینڈ بائی“ کر دیا گیا ہے۔

یہ دلچسپ کہانی ہے کاروبار سیاست اور صنعت و تجارت کے ایسے ابدی گٹھ جوڑ کی جو دو ”دشمن“ سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے لاہور کے تاجر صنعت کار خاندانوں اور لاہور ہی کی ایک ایسی کاروباری شخصیت کے گرد گھومتی ہے جسے صنعتی شعبے کا ”ملک ریاض“ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر پارٹی کی حکومت کے ساتھ ساتھ اس کی بیک وقت سابق صدر آصف زرداری، شریف برادران اور وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ذاتی دوستی ہے۔ یہ ہیں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے سابق) چیئرمین گوہر اعجاز جو گزشتہ دہائی میں ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ کے شعبے میں اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں ”لیک ویو سٹی“ پراجیکٹ ان کی خصوصی پہچان ہے جس کے فیز ٹو کی خاطر ایل ڈی اے میں لاہور کے ماسٹر پلان کو فائنلائز کرنے کا پراسیس لٹکا دیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ لاہور میں مزید ہاؤسنگ سکیموں کے لئے موزوں زمین یعنی ”براؤن لینڈ“ تقریباً ختم ہوچکی ہے اور شہر کا نظرثانی شدہ ماسٹر پلان گزشتہ برس دسمبر میں تیار کر لیا گیا تھا جسے فائنلائز کرکے اس سال کے آغاز یعنی جنوری فروری میں جاری کیا جانا تھا لیکن اسے حتمی شکل دینے کا پورا عمل محض اس لئے روک لیا گیا ہے کہ اس سے پہلے پہلے ”لیک ویو سٹی فیز ٹو“ کو بھی ایل ڈی اے سے منظور کروا کے اس کا حصہ بنایا جاسکے، جسے ماسٹر پلان جاری ہو جانے کے بعد شامل کرنا ممکن نہیں، اس لئے کہ ایک بار ماسٹر پلان جاری ہو جائے تو پھر ”گرین لینڈ“ یعنی کسی ایسے رقبے کو ”براؤن لینڈ“ میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا جسے آبادی یعنی ہاؤسنگ کے لئے غیر موزوں قرار دے دیا گیا ہو۔

اس کہانی کا مزید دلچسپ پہلو یہ ہے کہ صنعتکاروں کے ”ملک ریاض“ کے ”لیک ویو سٹی فیز ٹو“ پراجیکٹ کے لئے درکار زمین ابھی خریدی جارہی ہے۔ ”نون“ لیگ، بالخصوص اس کے صدر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے قریبی تعلق اور لاہور کے لینڈ مافیا کی شناخت رکھنے والے ”کھوکھر برادران“ (منشاء بم جن کا کارندہ ہے ) گوہر اعجاز کے اس رہائشی منصوبہ کے لئے ”گرین لینڈ“ کی پندرہ 20 ہزار ایکڑ اراضی خریدنے میں مصروف بتائے جاتے ہیں جس کا سٹیٹس لاہور کے ماسٹر پلان کو فائنلائز کرنے سے پہلے پہلے ”براؤن لینڈ“ میں تبدیل کروایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے خصوصی ”تعاون“ کے ساتھ وائس چیئرمین ایل ڈی اے ایس ایم عمران نے شہر کے ماسٹر پلان کو حتمی شکل دینے کا عمل ”سٹینڈ بائی“ رکھا ہوا ہے۔ ۔

اس لئے کہ شریف برادران سے قریبی تعلق رکھنے والی فیملی کے ایس ایم عمران جنہیں پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملک کے دوسرے بڑے شہری ترقیاتی ادارے، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے ) کا وائس چیئرمین لگایا ہوا ہے، ان کا بڑا بھائی ”لیک ویو سٹی“ پراجیکٹ کے مالک گوہر اعجاز کا سمدھی ہے جبکہ گوہر اعجاز کی آج کل گورنر پنجاب چوہدری سرور کے ساتھ اتنی گہری چھنتی ہے کہ ذرائع کے مطابق گورنر صاحب کی شامیں ان دنوں ”لیک ویو سٹی“ میں گزرتی ہیں جہاں وہ شام کی سیر (واک) ، ورزش (ایکسرسائز) اور ”ریلیکس“ کرنے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ موصوف کے ’فرصت کے لمحات‘ زیادہ تر وہیں گزرتے ہیں۔

پاکستانی، بالخصوص پنجاب کی سیاست کا یہ ”ملک ریاض ثانی“ اگرچہ چیئرمین ’بحریہ ٹاؤن‘ کی طرح ”مخیر“ شخصیت کی شناخت تو نہیں رکھتا البتہ اس قدر ”سوشل“ ضرور واقع ہوا ہے کہ میڈیا کو اپنی جیب میں رکھنے کی غرض سے لاہور پریس کلب کے صدر سے لگ بھگ 2 درجن مقامی صحافیوں کی لسٹ بنوا کر، منتخب صحافیوں کو پریس کلب کے عہدے داروں کے ہمراہ اپنے ”لیک ویو سٹی آئی لینڈ“ پر مدعو کر کے ان کی ”مبینہ بہترین کارکردگی“ کی بنا پر آن میں ایوارڈ بھی بانٹ چکا ہے۔

واضح رہے کہ گوہر اعجاز کے سمدھی کے بھائی وائس چیئرمین ایل ڈی اے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر ایس ایم منیر کے صاحبزادے ہیں، جو شریف فیملی کے ساتھ اس قدر قریبی تعلق رکھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں خود ایکسپورٹ پروموشن بیورو کے چیئرمین رہے ہیں جبکہ ان کا ایک صاحبزادہ (ایس ایم عمران کا چھوٹا بھائی) شہبازشریف کی حکومت میں پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کا چیئرمین رہ چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply