چین میں موسم بہار کا جشن اور عورتوں کا عالمی دن


چین کے لوگ نئے قمری سال اور بہار کی آمد کا جشن ایک ساتھ مناتے ہیں، بس یوں سمجھ لیجیے کہ اس تہوار کی اہمیت ان کے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی مسلمانوں کے لئے عید ا لفطراور عیسائیوں کے لئے کرسمس کی۔ اس تہوار کی تاریخ ہر سال بدل جاتی ہے کیونکہ یہ قمری کیلنڈر کے مطابق منایا جاتا ہے۔ چینی قمری کیلنڈر میں بارہ سال کا ایک سائیکل ہوتا ہے اور ہر سال کسی جانور کے نام سے منسوب ہوتا ہے۔ کسی بھی جانور سے منسوب کوئی سال پھر بارہ سال بعد دوبارہ واپس آتا ہے۔ عام طور پر جنوری اور فروری کے وسط میں کوئی سی تاریخ پڑتی ہے۔ 2021ء میں چینیوں کا نیا سا ل بارہ فروری کو شروع ہو گا اور یہ ’بیل‘ OX کا سال ہو گا جب کہ 2022ء ٹائیگر کا سال ہو گا۔ چونکہ یہ تہوار بہار کی آمد کے ساتھ منایا جاتا ہے اس لئے اسے جشن بہار بھی کہتے ہیں۔

ہم نے سب سے پہلے 9 فروری 1986 کو چینیوں کو جشن بہار مناتے دیکھا۔ ہمارے ہاں عیدین پر زیادہ چھٹیاں ہو جائیں تو کچھ حلقوں کی جانب سے بہت تنقید ہوتی ہے لیکن چین میں ہر سال جشن بہار کے موقع پر چینیوں کو دو ہفتے کی چھٹیاں ملتی ہیں۔ مارکیٹوں کو نت نئی اشیا سے بھر دیا جاتا ہے۔ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لئے رشتہ دار اور دوست احباب جمع ہوتے ہیں اور جی بھر کے پیسے خرچ کرتے ہیں۔ اکثر چینی سال بھر اسی لئے پیسے جوڑتے ہیں تا کہ اس تہوار پر دوستوں کی اچھی طرح خاطر مدارات کر سکیں۔ والدین اپنے بچوں کے لئے نئے کپڑے خریدتے ہیں۔ بچے اپنے والدین کے لئے کھانے پینے کی خاص چیزیں خریدتے ہیں۔ ٹی وی سیٹ، کمپیوٹر اور ایسی دوسری چیزیں جنہیں ویسے فضول خرچی میں شمار کیا جاتا ہے، اس موقع پر ان کی خریداری مناسب تصور کی جاتی ہے۔

صارفین کی مانگ پوری کرنے کے لئے بہار کے تہوار کا روایتی میلہ بھی لگایا جاتا ہے اور حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ اس موقع پر سبزی، انڈے اور گوشت کی قیمت میں اضافہ نہ ہو۔ جشن بہار کے اختتام پر لالٹینوں کا میلہ لگتا ہے۔ گلیوں اور سڑکوں کو لال لالٹینوں سے سجایا جاتا ہے۔ تہوار سے پہلے گھروں کی اچھی طرح صفائی کی جاتی ہے اور پھر لالٹینوں سے سجایا جاتا ہے۔

نئے قمری سال کاجشن منانے کے بعد چینی خواتین مارچ میں دنیا بھر کی خواتین کی طرح آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن مناتی ہیں۔ اس موقع پر چین میں مقیم غیر ملکی خواتین کے لئے گریٹ ہال میں ایک ریسپشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کمبوڈیا کے پرنس سہانوک اس زمانے میں بیجنگ میں پناہ گزیں تھے۔ ان کی خوبصورت بیگم بھی باقاعدگی سے اس تقریب میں شرکت کرتی تھیں۔ میں نے مسلسل آٹھ سال تک یہ تقریب اٹینڈ کی لیکن میرے ساتھ مسئلہ شروع سے یہ رہا کہ میری بیٹی فیفے کی سالگرہ بھی آٹھ مارچ کو ہوتی ہے۔

جب میں تقریب میں شرکت کر کے گھر پہنچتی تھی تو احفاظ، رمیز اور فیفے کیک میز پر رکھے ہوئے میرے انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے۔ فیفے کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ میں اس کی سالگرہ والے دن وقت پر گھر نہیں پہنچتی۔ اور میں اسے یہ کہہ کر مطمئن کرتی تھی کہ یہ بھی تو دیکھو کہ تمہاری سالگرہ دنیا بھر کی عورتیں مناتی ہیں۔

1986 ء میں جب میں پہلی مرتبہ بیجنگ میں عورتوں کا عالمی دن منانے کے لئے گریٹ ہال پہنچی تو وہاں یورپی، افریقی اور ایشیائی خواتین کا جم غفیر نظر آیا۔ ہال میں گول میزوں پر اشیائے خورد و نوش اتنی خوبصورتی سے سجی ہوئی تھیں کہ کھانے کی بجائے صرف دیکھتے رہنے کو دل چاہتا تھا۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ کچھ تقریریں ہوں گی، کچھ باتیں ہوں گی لیکن وہاں ابتدائی کلمات کے بعد کہہ دیا گیا کہ اب آپ لوگ کھائیں پئیں اور اپنی سہیلیوں سے باتیں کریں۔

پھر ہم نے سوچا ٹھیک ہی تو ہے۔ چینی خواتین کے مسائل تو حل ہو چکے ہیں۔ انہیں معاشرے میں مساوی مقام حاصل ہے۔ اس وقت تصور کی آنکھ سے میں کراچی پریس کلب میں ویمنز ایکشن فورم کا جلسہ ہوتے دیکھ رہی تھی۔ گرما گرم بحث، تیز و تند لہجہ اور احتجاج۔ پھر میں نے سوچا کہ ابھی ہم پاکستانی خواتین کو کافی لمبا سفر طے کرنا ہے۔ ہاں تو ذکر ہو رہا تھا، گریٹ ہال میں ہونے والی تقریب کا۔ اس تقریب میں کوریائی خواتین اپنے لمبے لمبے ریشمی فراکوں اور افریقی خواتین اپنے روایتی ملبوسات میں سب سے نمایاں نظر آ رہی تھیں۔ بنگلہ دیش، نیپال اور ہندوستان کی خواتین نے ساڑیاں باندھ رکھی تھیں، پاکستانی خواتین شلوار قمیص میں ملبوس تھیں۔ یورپی خواتین حسب معمول اسکرٹ یا پینٹ شرٹ میں نظر آ رہی تھیں۔

اس موقع پر آل چائنا ویلفئیر فیڈریشن کی ایک سینئیر عہدیدار کا کہنا تھا کہ چینی عورتیں عالمی امن کو برقرار رکھنے اور قومی ترقی کو فروغ دینے کے لئے دوسرے ممالک کی خواتین کے ساتھ دوستانہ رشتوں کو مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔ ان کی تنظیم دیگر ممالک کی تنظیموں کے ساتھ دوستانہ روابط رکھتی ہے۔ اس تقریب میں پندرہ سو چینی اور غیر ملکی خواتین شریک تھیں۔ تنظیم کی معمر چیئر پرسن کھانگ کھی کھنگ کو خواتین نے گھیر رکھا تھا۔ ہمیں بھی دو منٹ ان سے بات کرنے کا موقع ملا تو ہم نے انہیں بتایا کہ ہم پاکستانی اخبارات میں چین کے بارے میں لکھتے ہیں۔ مترجم نے ہماری بات کا چینی میں ترجمہ کیا تو وہ بہت خوش ہوئیں اور بولیں ”شے شے“ یعنی شکریہ۔ اس تقریب کے علاوہ بھی چینی خواتین نے بہت سی تقاریب اور سیمینارز منعقد کیے ۔

چینی خواتین نے ماضی میں بہت دکھ اٹھائے اور ظلم سہے ہیں۔ معاشرے میں مساوی مقام حاصل کرنے کے لئے انہوں نے طویل سفر طے کیا ہے۔ اب وہ بڑی بڑی فرموں کی ڈائرکٹر بھی ہیں، اعلیٰ عہدیدار بھی ہیں اور نجی کاروبار بھی کرتی ہیں۔ اب وہ محض اچھی بیویاں اور شفیق مائیں بنے رہنے پر قانع نہیں ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ معاشرہ بھی ان کی انفرادیت تسلیم کرے اور شوہر حضرات بھی ان کے احساسات کو سمجھیں۔ ریٹائر ہونے کے بعد بھی یہ خواتین ہلکی پھلکی ملازمتیں یا سماجی کام کرتی رہتی ہیں۔ بہر حال دو ہزار سال پرانے جاگیر داری نظریات کو محض چند عشروں میں تو مٹایا نہیں جا سکتا۔

ایک زمانہ تھا کہ چینی خواتین کو لوہے کے جوتے پہنائے جاتے تھے۔ انہیں اس رسم کے خاتمے کے لئے بھی جدو جہد کرنا پڑی تھی۔ لیکن اب نئی نسل کی روشن خیال خواتین ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہیں۔ 1986 ء میں یوم خواتین سے دو روز پہلے چین کی خواتین صحافیوں کی ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔ اس موقع پر تنظیم کی چئیر پرسن وانگ شی نے کہا کہ خواتین اس ایسوسی ایشن کے قیام کی بہت عرصہ سے منتظر تھیں۔ افتتاحی تقریب میں ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والی پچاس تنظیموں کی دو سو سے زائد خواتین صحافیوں نے شرکت کی۔

اس ایسوسی ایشن کے ذریعے خواتین صحافی ایک دوسرے کو اپنے مسائل اور تجربات سے آگاہ کرتی ہیں اور غیر ممالک کی خواتین صحافیوں سے رابطہ قائم کر سکتی ہیں۔ چین میں خواتین صحافیوں کی تعداد اس وقت کل صحافیوں کی تعداد کا ایک تہائی تھی۔ ان میں کچھ اعلیٰ تنظیمی عہدوں پر فائز تھیں۔ صرف تین اعشاریہ پانچ فی صد خواتین ایڈیٹر انچیف تھیں۔ چینی خواتین مردانہ حاکمیت والے اس شعبے میں 1897 ء میں داخل ہوئیں۔ 1898 ء میں چین کے پہلے خواتین کے اخبار کا اجرا ہوا۔ اس زمانے کی ایک ممتاز صحافی چھیو چن تھیں جو ایک انقلابی خاتون تھیں۔ اس نئی تنظیم کے قیام کا مقصد چین کی خواتین صحافیوں کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے مساوی مواقع کا حصول بھی تھا۔

ان ہی دنوں چین کی ممتاز ادیبہ ڈینگ لنگ کا بیاسی سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ وہ چینی ادیبوں کی ایسوسی ایشن کی وائس چئیر پرسن تھیں اور چینی عوام کی سیاسی و قانونی مشاورت کانفرنس کی نیشنل کمیٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی ممبر تھیں۔ وہ 1904 ء میں پیدا ہوئیں۔ شنگھائی میں تعلیم حاصل کی۔ 1927 ء سے اپنی وفات تک انہوں نے تین سو ناول، افسانے، ڈرامے اور مضامین لکھے۔ 1928 ء میں شائع ہونے والے ان کے ناول ”مسز شیفائی کی ڈائری“ کی بدولت ان کا شمار صف اول کے ادیبوں میں ہونے لگا۔

1948 ء میں شائع ہونے والے ان کے ناول ”دریائے سانگان پر سورج چمکتا ہے“ کو ادبی شاہکار کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں نیم جاگیرداری اور نیم نو آبادیاتی ملک میں عورتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ 1951 میں انہیں اسٹالن لٹریچر پرائز ملا۔ 1955 ء اور اس کے بعد آنے والے سالوں میں انہیں غلط طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن 1979 ء میں انہیں بحال کر دیا گیا تھا۔

Facebook Comments HS