پاکستان میں جمہوریت کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک پائیدار جمہوری نظام کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ جب جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا جاتا تو اس کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے ادارے کمزور ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انصاف اور آزادی رائے ختم ہو جاتی ہے۔ کرپشن اور اقرباپروری بڑھتی ہے۔ با اثر افراد ملک میں قابص رہتے ہیں۔

ھمارا ملک پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے اس وقت سے لے کر آج تک ملک میں ایک لولی لنگڑی جمہوریت نظر آتی ہے۔ اس ملک میں اقتدار کو عوام کے منتخب نمائندوں کو دینے اور جمہوریت کو مضبوط کر نے کی بجائے ہمیشہ سے ایک طاقتور اسٹیبلشمنٹ حاوی رہی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کو اتنی مہلت نہیں ملی کہ ملک کو ایک آئینی اور مضبوط جمہوری نظام دیتے۔ ان کی وفات کے بعد ایک کمزور ڈھانچے کے ذریعے حکومتیں بدلتی رہیں۔ اس ملک کو جو زیادہ نقصان ایوب خان کے مارشل لاء سے پہنچا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ایوب خان کا دور حکومت اچھا تھا ملک میں ترقی ہوئی تھی۔ ایوب خان کے دور میں ترقیاتی کام بھی ہوئے لیکن گیارہ سالہ مارشل لاء نے ایک مضبوط پاکستان کی بنیادوں کو ہمیشہ کے لئے کھو کھلا کر کے رکھ دیا۔

مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بنے تو ملک میں جمہوریت کے لئے ایک نئی راہ ہموار ہوئی۔ قائد اعظم کے بعد اس قوم کو جو دوسرا لیڈر ملا وہ ذوالفقار علی بھٹو تھا جس نے اس ملک میں عام لوگوں کو بھی اپنے حقوق کا شعور دیا۔ 73 کا آئین دیا۔ ایف سی ار کے ظالمانہ قانون کو ختم کیا۔ لوگوں کو آئی۔ ڈی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے کے حقوق ملے۔ مڈل ایسٹ کے حکمرانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات ہونے کی وجہ سے بہت سے پاکستانیوں کا ان ممالک میں جانا ہوا جس کی وجہ سے بھاری زرمبادلہ ملک میں آیا۔ ملک میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ عرض یہ ہے کہ ملک کی ایک آزاد اور باوقار خارجہ پالسی رہی۔ ایٹم بم کا تحفہ دے کر دفاعی لحاظ سے بھی پاکستان کو مضبوط کیا۔ اپنی ذاتی تعلقات، کوششوں اور ذہانت کی وجہ سے کسی بھی سمجھوتے کے بغیر 90 ہزار قیدی واپس لے کر آئے جس کے بدلے انڈیا ہم سے کوئی بڑے سے بڑا مطالبہ منوا سکتا تھا۔ بھٹو کو اس دور کی اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ کے ساتھ مل کر ایک بے گناہ کیس میں عدالتی قتل کروایا جو آ ج تک ہماری عدالتوں کے لئے ایک بدنما داغ ہے۔ اس کے بعد ضیاءالحق کے مارشل لاء کی صورت میں پھر ملک میں ایک نیا تاریک دور کا آغاز ہوا۔

90 دنوں میں انتخابات کا وعدہ کرنے والے مرد مومن مرد حق نے گیارہ سال تک اپنا اقتدارطویل کیا۔ اس کالے دور میں فرقہ بندی، اسلحہ کا استعمال اور مذہبی تشدد پروان چڑھا جس کی سزا اب تک ہماری قوم خانہ جنگی اور قربانیاں دے کر بھگت رہی ہے۔ ضیاءالحق کی موت کے بعد پھر اس ملک میں جمہوریت کے لئے راہیں ہموار ہوئی۔ الیکشن ہوئے عوام کے نمائندے اقتدار میں آئے لیکن اس دور کی اسٹیبلشمنٹ نے سازش کر کے 58 ٹو بی کے ذریعے جمہوری حکومتوں کو فارغ کر دیا۔ طاقت حاصل کرنے کے اس کھیل میں ایک صاف ستھری سیاست پروان چڑھنے کی بجائے لوٹا ازم کی سیاست نے جنم لیا۔ اس کے بعد ایک اور ڈکٹیٹر مشرف نے جہاز اغوا کا بہانہ بنا کر طاقت کے بل بوتے پر آئینی حکومت کو چلتا کر دیا۔

مشرف تقریباً آٹھ سال تک اقتدار میں قابض رہے۔ جب 2008 میں نئے الیکشن ہوئے تو اکثریت کی بنیاد پر پیپلز پارٹی حکومت میں آئی۔ زرداری نے اپوزیشن اور دوسری پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت سے ایوان کو چلایا۔ زرداری نے کچھ ایسے کام کیے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ زرداری نے خود صدر ہونے کے باوجود اپنے اختیارات وزیراعظم کو دیے، 73 کا آئین بحال کیا، اٹھارہویں ترمیم کو منظور کروایا، چائنہ کے ساتھ سی پیک کا معاہدہ کیا جو ہمارے ملک کی معاشی ترقی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ زرداری پہ بھی اربوں روپے کے کرپشن کا الزام لگایا گیا، میمو گیٹ سکینڈل لایا گیا اور اخر کچھ بھی ٹابت نہ ہوسکا۔ پیپلز پارٹی کے بعد ن لیگ اقتدار میں آئی اور پہلی دفعہ جمہوریت کا ایک تسسل قائم ہوا۔ اقتدار جمہوری طریقے سے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کو منتقل ہوا۔ جب پاناما کا سکینڈل آیا تو طاقتور حلقوں نے عدالت کے ساتھ مل کر اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے کر نہ صرف وزارت اعظمی سے فارع کروا دیا بلکہ مجرم قرار دیا اور بیٹی کے ساتھ جیل بھیج دیا۔ ڈان لیکس اور کرپشن کے الزا مات لگے، عدالتوں میں پیشیاں ہوئیں مگر کچھ بھی ثابت نہ ہو سکا۔ میڈیا کے بعض عناصر کے ذریعے ان کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے بھی کروائے۔ غیر جمہوری قوتیں اس قسم کے ہتھکنڈے صرف سیاست دانوں کو بدنام کر نے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

نواز شریف کے دور حکومت میں جی ڈی پی کی شرح نمو چھ فیصد کے قریب تھی، ملک سے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی، موٹر ویز بنیں جس سے لوگوں کے لئے سفری سہولتیں آسان ہوئی، اسلام آباد میں ایک جدید طرز کا نیو ائرپورٹ بنایا، گورنمنٹ سکولوں اور ہسپتالوں کے نظام کو بہتر کیا، ہیپیٹاٹس سی کے مریضوں کے مفت ٹسٹ اور علاج کی سہولتیں مہیا کیں، میٹروز بنائے جس میں ایک غریب آدمی بھی جدید سہولتوں کے سا تھ کم سے کم کرائے پر سفر کر سکتا ہے۔

جب پنجاب میں ڈینگی پھیلا تو اس وقت کے وزیر اعلی شہباز شریف نے بروقت ایسے اقدامات کیے جس سے ڈینگی کنٹرول ہوا۔ جب ایسے ملک جس میں عدلیہ جانب دار ہو جائے اور غیرجمہوری طاقتوں کے ایما پر فیصلے دے، ان پر مقدمات چلائے اور ملک میں ان کا جینا دوبھر کر دیا جائے پھر بھی ہم کہتے ہیں وہ قربانیاں دیتے رہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لیڈر مثالی ہوں تو عوام کو بھی مثالی بننا ہوگا۔ ہمیں بھی ان کے لئے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔

ہر ادارے کو عوام کی حق رائے دہی کا احترام کرنی چائیے۔ جمہوریت عوام کی طاقت اور رائے کا دوسرا نام ہے اس لیے ضروری ہے کہ ایک کمزور جمہوری نظام ہو تو بھی اس کو چلنے دیا جائے۔ اگر یہ جمہوری سفر جاری رہا تو اس کی خرابیاں آہستہ آہستہ خود ہی دور ہوتی جائیں گی۔ پھر یہ ایک پائیدار اور مضبوط نظام بن کر پھل بھی دے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply