آزادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلیل الرحمان قمر اور ماروی سرمد کی چپقلش پر بھانت بھانت کے تبصرے ہوئے۔ پروفیسر خاموش رہے۔ مجھے ان کی چپ چبھتی رہی لیکن ان کی طرف سے پہل کا منتظر رہا۔ دراصل جب تک پیمانہ چھلک نہ جائے۔ نہ پروفیسر بولتے ہیں اور نہ ہی میری تشفی ہوتی ہے۔ سو، میں نے بھی ’چپ شاہ‘ کا روزہ رکھ لیا۔ دراصل میں بہت کنفیوز ہو رہا تھا۔ ہر دو فریقین کا موقف سننے کے بعد خود کو اسی کا حامی پاتا تھا۔ اور پھر پروفیسر بھی کوئی سڑک کنارے بیٹھ کر فال نکالنے والوں میں سے نہیں تھے۔ حال ہی میں ایک یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے تھے۔ بظاہر علماء فضلاء والی کوئی بات ان میں نہ تھی کہ تنقید برداشت کرلیتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے باوجود ’سینئر تجزیہ کار‘ نہیں بنے تھے۔ اور مجھ ایسے بیسیوں کو چائے پانی بھی پلاتے رہتے تھے۔

’یوم خواتین‘ کو میں ان کے گھر ہی بیٹھا تھا جب ’پلے کارڈز‘ اٹھائے نعرہ زن حضرات و خواتین ان کی ڈرائنگ روم کی کھڑکی کی طرف والی روڈ سے گزرنے لگے۔ پروفیسر نے ایک نظر انہیں دیکھا اور پھر کتاب میں گم ہو گئے۔ جب ’ہزاروں‘ کا مارچ (پتہ نہیں اسے ہزارہ مارچ کہہ سکتے ہیں یا نہیں! ) گزر نے پہ شور ذرا تھما تو پروفیسر نے کتاب رکھ کے چائے اٹھا لی اور اپنی عادت کے مطابق سوال سے ہی بات چیت کا آغاز کیا۔ ”برخوردار! یہ خواتین کس لیے احتجاج کر رہی ہیں؟“ ۔

اب ایسا بھی نہیں تھا کہ پروفیسر کو علم ہی نہیں تھا۔ وہ جان بوجھ کر گھنے بن رہے تھے۔ سو، میں نے رٹو طوطے کی طرح میڈیا کا سکھایا ہوا بیان دہرا دیا کہ ”سر! یہ آزادیٔ نسواں کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں“ ۔ اور وہی ہوا جس بات کی پروفیسر سے امید کی جا سکتی تھی۔ یعنی ایک اور سوال کی۔ بولے ”خواتین کی آزادی؟ کیا انہیں احتجاج کرنے سے کوئی روک رہا ہے؟“ ۔ اس بار میں نے جواب کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ ”نہیں جناب! یہ مردانہ تسلط سے آزادی کی خواہاں ہیں۔ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا چاہتی ہیں۔ دفتروں، سکولوں، کالجوں میں مردوں کے ماتحت نہیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہتی ہیں۔ یہ چاہتی ہیں کہ کوئی مرد ان کے معاملات میں بالکل دخل نہ دے“ ۔

پروفیسر نے میری تقریر کے جواب میں روایتی سوال کے ساتھ ایک اشتعال انگیز جملہ بھی اچھالا۔ ”نوجوان! کیا تمہیں یقین ہے کہ مردوں کے تسلط سے آزادی چاہتی ہیں؟ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ تسلط اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہیں“ ۔ میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ جلدی سے دائیں بائیں دیکھا اور گھٹی گھٹی آواز میں پوچھا۔ ”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں جناب؟“ اب پروفیسر باقاعدہ سٹارٹ ہو چکے تھے۔ سو، چل نکلے ”دیکھو بھئی! دفتروں میں تو افسری ماتحتی کے باقاعدہ قوانین ہوتے ہیں۔ ماتحت چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اسے حکم ماننا ہی پڑتا ہے۔ ہاں اگر یہ عورت ہونے کے وجہ سے افسری میں کوئی اسپیشل کوٹہ لینا چاہتی ہیں تو پھر یہ آزادی کی جدوجہد تو ہر گز نہیں کہلا سکتی“ ۔

یہ سن کر میری پاؤں تلے سے زمین سرک گئی۔ سر پر سے آسمان ہٹ گیا۔ عجلت میں اور کچھ تو سوجھا نہیں۔ بس بھاگ کر کھڑکی بند کردی اور بانو قدسیہ سے ایک جملہ مستعار لے کر پروفیسر کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے۔ ”یہ آپ کیا کہہ رہے سر؟ خدا کے لیے چپ ہوجائیں اگر کسی ترقی پسندی کی دعوے دار عورت سے سن لیا تو آپ نے اس کے ہاتھوں حلال ہوجانا ہے بلکہ حرام ہو جانا ہے“ ۔

مگر پروفیسر کے جواب سے یقین ہو گیا کہ انہوں نے زمانہ دیکھ لیا ہے اور یہ بھی کہ اب وہ مزید جینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ کہنے لگے ”تو کیا میں یہ سمجھوں کہ وہ جو اپنی آزادی کے لیے لڑ رہی ہیں، وہ مجھے رائے کے اظہار کی آزادی دینے پر بھی تیار نہیں؟“ ۔ مجھے خجالت اور شرمندگی کے باعث بلڈپریشر گرتا ہوا محسوس ہوا۔ سو، تھرماس سے گرماگرم چائے کا کپ بھرا اور اسے ’پیگ‘ کی طرح ڈیک لگا کر پی گیا اور پروفیسر پر ایک اچٹتی افسردہ نگاہ ڈالی اور سلام کیے بغیر ہی اٹھ کر باہر نکل آیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *