میری عید مبارک کر دے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رنگ حنا، آج ”حنا“ کے ہاتھوں پر کچھ زیادہ ہی جچ رہا تھا۔ کبھی نرم و ملائم ہتھیلیوں کو دیکھتی تو کبھی چوڑیوں کے اندر موجود کانچ جیسی نازک کلائیوں پر نظر چلی جاتی اور تو اور آدھ گھنٹے میں پانچویں بار آئینے کا سامنا اتفاقا ہو گیا تھا، وہاں سب سے پہلی نظر اس کی اپنی شرمیلی مسکراہٹ پر ہی جاتی پھر لال ڈوپٹے کی اوٹ سے لال ہونٹ دیکھ کر میچ کرنے لگتی، آج اس نے بال نہیں بنائے کیونکہ کھلی زلفوں کی تعریف کی اس کو عادت سی ہوگئی تھی۔ جانے لڑکی کی زندگی کے یہ پل کتنے حسین ہوتے ہوں گے ، مسکراہٹ آنکھوں پر اور شرم ہونٹوں پر جچتی ہوگی حلانکہ یہ تو تضاد ہوا، اصول وضوابط سے۔

آج حنانے پیا کے آنے کی خوشی میں وہی لال رنگ پہنا تھا جو سہاگ کی یاد کو تازہ کر دیتا تھا اس سے ان دو سالوں میں کتنی بار یہ خواہش ظاہر کی گئی تھی مگر سر پر جو ں بھی نہ رینگتی۔ مگر آج، آج تو کچھ خاص ہی موقع تھا، یہی تیاری ہر دفعہ عید کی آمد پر طے ہوتی لیکن یہ خونی رنگ اس کی زندگی میں دوسری بار اس کے مخملیں بدن پر عشق کی داستان رقم کرنے چلا تھا۔ جس نے جدائی کے زخم نہ کھائے ہوں وہ وصل کی چاشنی حاصل کرنے سے بھی محروم رہتا ہے، بقول شاعر :

وصال یار بجز حجر یار کچھ بھی نہیں
نہ ہو جو پھول کے پہلو میں خار کچھ بھی نہیں
پروفیسر سعداللہ خان کلیم

اور حنا کی زندگی کچھ ایسے نشیب و فراز سے جڑی ہوئی تھی کہ اس کو ان دو سالوں میں جدائی، بعد از وصال کی لذت سے بخوبی واقف ہونا پڑا تھا۔ تبھی تو دیکھو کیسے کنواری شرارت اس کی روح میں لوٹ آئی ہے، جیسے کوئی کھلتی کلی خزاں کو موسم جاں فزا بنا رہی ہو۔

اس تیاری میں اس نے کتنا وقت صرف کر ڈالا تھا مگر مجال ہے کہ لمحات کے گزرنے میں معمولی بھی فرق پڑا ہو، دن تھا کہ گزرتا نہیں تھا، رات تھی کہ ڈھلتی نہیں تھی، آج آہنی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے عید کے چاند کو بھی حنا کچھ یوں بھاگئی کہ وہ ازلی آمدورفت کو بھول بیٹھا تھا اور کھڑکی کے سامنے والی بیری کے اوپر براجمان ہو کر لمحہ لحمہ بیری کی پتلی شاخوں کے بیچ سے جھانکتا اور حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے دوبارہ پس پردہ ہو جاتا۔

یہ آخری رات کا اضطراب وہی جانتے ہیں جن کی اپنی گھڑیاں وصل کے ادب و احترام میں اپنی چال بھول جاتی ہیں اور صدیاں بیت جانے پر کہیں ان کی بھٹکی روحوں کو منزل دکھ جاتی ہے اور وہ محبوب کو اپنے شکنجے میں ڈالے محب سے ملانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ بس یہی حال اس یاقوتی حسن سے آویزاں مخملی دوشیزہ کا بھی تھا، وقت تھا کہ گزرتا نہیں تھا، اگر اس کے بس میں ممکن ہوتا تو صوفہ کی ہتھی پر پاؤں رکھ کر نیم برہنہ دیوار پر منجمد کلاک کی سوئیوں کو کلاک وائز (Clock Wise) یعنی جانب محبوب پھر دیتی۔ جب شب انتظار سے شکست کھا کر پلنگ پر غرارہ پھیلائے بیٹھتی تو ہرے رنگ کا قدیم ٹیلیفون ٹکٹکی باندھے مہیلہ کی سیاہ حسین آنکھوں میں کھو جاتا تھا۔ ٹیلی فون اپنی نظریں ہٹاتا تو یہ لازوال حسن کسی اور کی نگاہوں میں آجاتا۔

آج تک کوئی ابن آدم یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ یہ آخری شب خوشیوں سے بھری ہوتی ہے یا پھر غم کا پلندہ۔ اگر ساری جدائی کا غم آج کی رات ہی ٹوٹ کر سر پر پڑنا تھا تو وہ قرب و وصال کی حسین مسکراہٹ، کیا وہ بے مقصد تھی؟ اور اگر یہ آخری شب خوشیوں سے جھولی بھرتی تو پھر شب انتظار کے آنسو بے وجہ کیوں ٹپکتے ہیں؟ عجب تماشا ہے یہ زندگی بھی، جتنا اس کی حقیقت سے باخبر ہوں اتنا ہی یہ پہیلی گمبھیر ہو جاتی ہے، چلو مان لیا کہ ہجروصال کا حسین امتزاج ہے یہ رات، تو انسان شب انتظار سے کیوں نہیں شغف رکھتا؟

وہ کیوں وصال یار سے تشنگی مٹانے کو لپکتا ہے؟ اصولا تو اسے اسی حسین رات سے ناتا جوڑ لینا چاہیے تھا۔ کاش کوئی ایسا معجزہ ہوتا کہ ہم دیکھ پاتے کہ اگر لمحات اسی شب میں رک جائیں، ہوائیں چلنی بندہوجائیں، سانس اٹک جائے، سمندر منجمد، لب خموش، گلاب بے رنگ و بو، اور مہندی رنگ بکھیرنا چھوڑ دے تو کیسا محسوس ہوگا۔ ۔ ۔

گھنٹی بجی، پلکیں اٹھیں، سانس تھمی، دھڑکن تیز اور اس نے اپنا آنچل بھول کر ڈھیروں خوشیاں جھولی میں لئے برق رفتاری سے حجرے اور صحن کے درمیان فاصلہ عبور کرتے ہوئے ایک پل کو سوچا، ”شاید پھر عید پر سرپرائز دینے کے لیے فون کیے بغیر آیا ہے، چھوڑوں گی نہیں“ ۔ ۔ ۔ پھر وہ ازلی فاصلے بالاخر اختتام پذیر ہوئے اور دروازہ بھی حجاب بن جانے سے قاصر ہوا، لب وا ہوئے، آنکھیں نم ہوئیں، سانس رکی، دھڑکن گمنام، رنگت سفید پڑ گئی۔ ۔ ۔

پاک فوج کے جوان جھکی نگاہوں کے ساتھ خون میں لت پت وردی لئے کھڑے تھے اور وردی کے اوپر رکھی ٹوپی پر بنا ہوا سبز ہلالی پرچم وطن کی مٹی سے وفاداری کے گیت گنگنا رہا تھا، آج تو محبوب بھی اپنی محبوبہ سے کپڑے میچ کرتے ہوئے خونی رنگ سے رنگ چکا تھا۔ آج وہ معجزہ ہو گیا تھا، واقعی آج شب انتظار ٹھہر چکی تھی، بلکہ حنا کے لیے شب غم میں تبدیل ہو چکی تھی۔

جدائی کے خوف سے اس کا بدن فرش پر بہنے لگا تھا، اس کا دل دلاسا دیتا کہ شہید تو زندہ ہوتے ہیں اس وصال نے تو ہمیشہ کے لئے تجھے وصل کی لذت سے آشنا کروا دیا ہے، مگر حناکی حنا تو ابھی رنگ بکھیرنا شروع ہوئی تھی وہ ایسا وصل نہ چاہتی تھی، وہ محبوب کی بانہوں میں سمٹ کر زندگی کے خوابوں سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی، وہ اس دلربا آواز کو اپنے کانوں میں محسوس کرنا چاہتی تھی، وہ اس خوبرو کا دیدار اپنی ظاہری آنکھوں سے چاہتی تھی، وہ اس چھون کا احساس پانا چاہتی تھی جس کا انتظار پچھلے چھ ماہ سے کر رہی تھی۔

آج اس کے ڈوبتے دل کو کوئی سہارا دینے والا نہیں تھا۔ یہ گھر بھی پرایا لگنے لگا تھا، زندگی بھی اجنبی معلوم ہوئی، اس کے قدم ہمیشہ کے لئے اسی دروازے پر محبوب کا انتظار کرتے رہ گئے، وہ پہلی نظر جو دروازے سے باہر پڑی تھی اس کے بعد وہ بے سدھ وہیں ڈھیر ہو گئی تھی اور شاید اس کی زندگی کے آخری الفاظ کسی نے سن لئے تھے : ”ہائے میرا سہاگ“ ۔

پھر اسی آج کو آٹھ سال مزید بیت گئے، وہ بستر پر ہے، نہ آنکھ جھپکتی ہے نہ حرکت کرتی ہے، کوئی منہ میں کچھ ڈال دے تو حلق سے گزر جاتا ہے ورنہ کوئی خبر نہیں، نہ ہی آنسو گرتے ہیں نہ ہی دھڑکن میں وہ شوخی باقی رہی، مرتو وہ بھی اسی دن گئی تھی مگر شب غم کی لذت اس کو عالم ارواح میں جانے سے روکے ہوئے ہے۔

اگر۔ ۔ ۔ اگر، وہ بقیہ زندگی گزارنے سے پہلے مر گئی تو بے وفا کہلائے گی اور جفا محبت کرنے والوں کا شیوا نہیں ہے۔

بندہ جب خوب عبادت وریاضت کرکے بھی دیدار حق اور اسرار محبوب سے ناواقف رہتا ہے تو اس کی حالت ہو بہو اس سہاگن کی طرح ہوتی ہے جو خوب سنگھار تو کر لیتی ہے مگر اس کا محبوب اس کو ملنے نہیں آتا۔ آزر ؔنے یہ منظر کشی خوب کی ہے :

اسے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ میری عید مبارک کردے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply