اپنا اپنا آسمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نے اپنی روز مرہ زندگی میں کسی نہ کسی باشعور شخص سے یہ بات سن رکھی ہوگی کہ زندگی بالکل ایک عینک کی مانند ہے، عینک کے شیشے جس رنگ کے ہوں گے زندگی کے مناظر اسی رنگت کے دکھائی دیں گے، اب یہی دیکھ لیجیے کے کالے شیشوں سے منظر کالے کالے اور نیلے شیشوں سے دیکھے گئے مناظر میں نیلاہٹ کا عنصر ضرور ہوگا، بعین ہی خباثت، تعصب اور نا امیدی کی عینک سے دیکھے گئے مناظر میں انہی جذبات کا غلبہ نظر آئے گا جن کے تحت زندگی کے واقعات کی منظر کشی کی گئی ہوتی ہے، جیسے عام حالات میں انسان عینک کے لیے شفاف شیشے پسند کرتا ہے تاکہ دنیا کو اس کی اصل رنگت میں دیکھ سکے بغیر کسی بیرونی یا اضافی رنگت کے اسی طرح زندگی اور اس سے وابستہ معاملات میں بھی اگر بھلائی، برابری اور امید کی عینک پہن لی جائے تو ہمارے ارد گرد کا منظر ناصرف انتہائی حسین ہو سکتا ہے بلکہ امید اور خود اعتمادی کے سہارے کئی ناقابل یقین فوائد اور کامیابیاں بھی حاصل کی جاسکتی ہیں، لیکن ان سب کا انحصار اس بات پے کہ آپ نے اپنے لیے کون سی عینک کا انتخاب کیا ہے۔

کچھ لوگ اس عینک کو نظریہ حیات کا نام دیتے ہیں، کچھ کے نزدیک یہ انسانی سوچ کا دوسرا نام ہو سکتا ہے، کچھ اسے تعلیم، تربیت اور شعور کا عنوان دیں گے، اکثر تو اس عینک کو ضابطہ حیات ہی گردانتے ہیں۔ آپ کو اپنے لیے اپنی عینک کا انتخاب خود ہی کرنا ہوگا، دیگر افراد آپ کی اس امر میں مدد تو کر سکتے ہیں لیکن آپ کی عینک سے نظر آنے والے منظر اور اس کی شفافیت جانچنے کے لیے آپ سے اچھا منصف اور کون ہو سکتا ہے؟ اس لئے آپ کو خود یہ عینک اور اس سے نظر آنے والے مناظر کو حسب ذائقہ یا یوں کہ لیں کہ حسب توفیق پسند کرنا ہوگا، جب کہ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ ”توفیق“ یا ”سوچ“ تاعمر تربیت گاہ میں رہتی ہے اور ہر گھڑی اس میں بدلاؤ لایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ دانستہ یا غیر دانستہ آپ کے اردگرد کا ماحول، بچپن، دوست، والدین، اساتذہ غرض آپ کے بیرونی/خارجی ماحول کے کم و بیش تمام عناصر ہی آپ کی عینک ڈھالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن گھوم پھر کے اس پورے عمل کی بنیادی اکائی آپ ہی ہیں، آپ کے علاوہ ہر ایک شخص آپ کی زندگی کے سکرپٹ میں معاون اداکار تو رہتا ہے لیکن آپ کے اس سکرپٹ میں مرکزی کردار آپ ہی کے نام رہتا ہے اور اس پوری فلم کے واحد ہیرو آپ خود ہی ہیں۔

معاون اداکار آپ کے اس تخلیقی عمل کہیں کہیں ساتھ نظر آئیں گے لیکن اکثر اوقات آپ کو یہ سفر اکیلے ہی طے کرنا ہوگا کیوں کہ باقی سب کردار بھی خود اپنی اپنی زندگیوں میں کچھ اسی قسم کے تخلیقی عمل سے گزر رہے ہوں گے۔ آپ کی زندگی کے اس اہم سفر میں کسی کسی وقت ان کا نہ ہونا، قسمت کی آپ کے لیے کوئی ستم ظریفی نہیں بلکہ قدرت کا آپ کی شخصیت پے وہ بھروسا ہے جس کے تحت آپ اس آزمائش سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار تصور کیے جاتے ہیں۔

ایسی صورت حال میں آپ کا اور آپ کے وجود کی اندرونی ہمت کا ساتھ زندگی بھر کے لیے ہونا لازمی ہے، کیوں کہ دنیا کے کھربوں لوگوں میں آپ ہی وہ واحد اور اکلوتے شخص ہیں جس کا وجود آپ کے ساتھ دن کے چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن اور سال کے بارہ مہینے رہتا ہے۔ آپ کی ہر ہر پسند، ناپسند، محبت، نفرت، خوشی، غم بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ جن جذبات سے آپ خود بھی مکمل آگاہ نہ ہوں یا آگاہ ہوں لیکن پھر بھی نظر چرا رہے ہوں، آپ کا یہ ”آپ“ ان جذبات سے بھی واقفیت رکھتا ہے۔

ان میں اکثرجذبات خود کو از خود ہی ذہن میں موجود اپنے مطلقہ خانے یعنی شعور، لاشعور یا پھر تحت الشعور میں تقسیم کر لیتے ہیں اور بوقت ضرورت آپ کی امداد کے لیے حاضر رہتے ہیں، جن کو جبلی اور غیر جبلی رجحانات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، جبلی وہ رجحانات ہوا کرتے ہیں جن کو بجا لانے کی تحریک فطری ہو اور آپ کا ان پے اکثر اختیار نہیں ہوتا جبکہ غیر جبلی افعال کو آپ عادت بھی کہ سکتے ہیں جسے اپنایا، بھلایا یا تبدیل کیا جاسکتا ہے، یہ دونوں رجحانات بظاہر ایک سے ہی معلوم ہوسکتے ہیں لیکن دراصل غیر جبلی افعال کی آپ اپنے حساب سے تربیت بھی کر سکتے ہیں۔ عام حالات میں آپ نے جیسی تربیت کی ہو گی خاص موقعوں پے بھی آپ کا ذہن ویسا ہی ردعمل ظاہر کرے گا۔

مائنڈ سائنٹسٹس کا ماننا ہے کہ آپ اپنی حقیقت کے لیے خلق نہیں ہوئے بلکہ آپ اپنی حقیقت خود تخلیق کرتے ہیں اور اس حقیقت کی خلقت آپ کی سوچ کے انداز پر منحصر ہے۔

اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے، جب راقم اپنے نانا کے ساتھ گھر سے باہر نکلا تو سامنے وسیع میدان ہونے کے باعث یوں معلوم ہوتا تھا جیسے آسمان اور زمین گلے مل رہے ہوں ایسے میں نانا نے سوال پوچھا کہ آسمان کہاں تک ہے؟ میں اپنی عینک کی مدد سے آسمان پہ خاصی دیر تک دیکھنے کی کوشش کرتا رہا کہ آسمان کی حد کا صحیح تعین کر سکوں، دیر تک دیکھنے کی وجہ ایک تو وہ احساس تھا کہ نجانے عینک مجھے صحیح حد دکھا بھی رہی ہے یا نہیں یا پھر کسی نچلے حصے ہی سے آسمان کا مغالطہ ہو رہا ہے، دوسری طرف نانا کی علمی شخصیت کا رعب، کیونکہ ان کا شمار اردو کے نامور بزرگ شعراء میں ہوتا تھا اور ان سے اپنے کسی عمل کی تعریف سننا میرے لیے اعزاز ہوا کرتا تھا ایسے میں کوشش یہ تھی کہ غلط جواب کی سبکی سے خود کو بچایا جائے، بہرحال شہادت کی انگلی سے آسمان کی ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہے آسمان کی حد، نانا کا جواب کچھ ایسا آیا کہ گزرتے وقت اور زنگی کے مختلف تجربات سے گرنے کے بعد بھی جب جب یاد آتا ہے لطف دے جاتا ہے اور مزید معنی خیز معلوم ہوتا ہے، انہوں نے کہا فیضان ہر شخص کے لیے آسمان وہیں تک ہے جہاں تک وہ دیکھ سکتا ہے۔

آپ بھی اگر اپنے آسمان کی حد کا تعین خود کرنا چاہتے ہیں تو سوچ لیجیے کہ بینائی کی عینک سے زیادہ اہم وہ عینک ہے جو آپ کی بصیرت بڑھا سکے اور آپ کے لیے آپ کا من پسند آسمان تخلیق کر سکے، بس جب تک آپ اپنی حقیقی عینک اور آسمان ڈھونڈ نہیں لیتے کوشش کیجئے کہ دوسروں کو بھی ان کی اپنی عینک اور اپنا آسمان کھوج لینے دیں، اگر ان کی کھوج میں مدد نہیں بھی کر سکتے تو کم از کم اپنی عینک ان پے فٹ کرنے کی کوشش نہ کریں، آخر وہ بھی تو آپ ہی کی طرح اپنے سکرپٹ کے مرکزی کردار اور اپنی فلم کے ہیرو ہیں!

Latest posts by فیضان حسن (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

فیضان حسن کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments