ایل ڈی اے پر ”پرچی مافیا“ کس طرح راج کر رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادارہ ترقیات لاہور (ایل ڈی اے ) کے دروازے اگرچہ کرونا وائرس کی بنا پر شہریوں پر بند ہیں تاہم بتایا جاتا ہے کہ ایجنٹوں کی ملی بھگت سے انتظامیہ نے شہریوں پر کرپشن کے تمام دروازے کھول دیے ہیں جہاں ”پرچی مافیا“ نے کرپشن کی نئی مثالیں قائم کر دی ہیں جس کے ہاتھوں عام شہری اپنے کاموں کے لئے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جوہر ٹاؤن میں واقع ایل ڈی اے کے ہیڈ کوارٹر میں کرونا وبا کے پیش نظر اپنے کاموں کے سلسلے میں آنے والے شہریوں کا داخلہ بند ہے جنہیں آن لائن بکنگ کے ذریعے پہلے ’اپائنٹمنٹ‘ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اگرچہ بتایا جاتا ہے کہ عملاً فی شہری ہزار روپیہ لے کر بیریئر پار کرا دیا جاتا ہے، مگر آگے جا کر اسے متعلقہ افسر مل پاتا ہے یا نہیں، یہ اس کی قسمت کیونکہ متعلقہ افسران یا سٹاف سے یقینی ملاقات انہی شہریوں کی ممکن ہے جن کے نام اس روز کے لئے جاری کی گئی ”اپائنٹمنٹ لسٹ“ میں شامل ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور پراپرٹی ڈیلر مافیا کے لوگ ”ان تکلفات“ کے بغیر ہی ایل ڈی اے بلڈنگ میں دندناتے پھرتے ہیں۔

دوسری طرف شہریوں کو آن لائن بکنگ کے ذریعے ”ون ونڈو آپریشن“ کی اپائنٹمنٹ کے لئے دو دو ماہ کا وقت دیا جا رہا ہے مگر ’ایل ڈی اے‘ کے ”کاریگر“ عملے نے ”ڈیلر مافیا“ کی ملی بھگت کے ساتھ ”بلیک میں ٹکٹیں بیچنے“ کا نیا دھندہ شروع کر رکھا ہے جو فرضی ناموں کی پرچیاں بنا کر ہفتے دو ہفتے بعد کی تاریخوں میں اپائنٹمنٹ طے کر کے شہریوں کو 4 سے 5 ہزار روپے فی پرچی کے ریٹ پر ”جلدی اپائنٹمنٹ“ اور ”فوری اپائنٹمنٹ“ بیچ رہے ہیں۔ فوری یا جلد اپائنٹمنٹ خریدنے والا شہری گیٹ پر درج تاریخ پر دفتر ایل ڈی اے جا کر اپنا وہی نام بتاتا ہے جو اس کے ہاتھ میں پکڑی پرچی پر درج ہوتا ہے، اور گیٹ پر تعینات عملہ لسٹ سے تصدیق کرکے اسے اندر داخل کر لیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے کے ”کاریگر“ اہلکاروں کا یہ دھندہ ”ڈیلر مافیا“ کے اشتراک سے چل رہا ہے جو ضرورت مند شہریوں کو way out کے طور پر فرضی ناموں کی پرچیاں حاصل کر کے دینے میں ان کی ”مدد“ کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *