لاک ڈاؤن نے وبا کو عالمی المیہ بنا دیا


2019 کے اواخر میں ظہور پذیر ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے نتیجے میں ہسپتالوں میں گنجائش کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے ایک عارضی منصوبے کے تحت تقریباً عالمی طور پر گھروں میں جبری نظر بندی اور روزمرہ کے معمولات زندگی میں سماجی فاصلے کے احکامات لاگو کئے گئے اور تین سے چار مہینے پر محیط اس جبری نظر بندی کے نتیجے میں تقریباً 200 ملین لوگ بے روز گار ہو گئے، دنیا کے بیشتر معاشی شعبے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے، عوام میں بڑے پیمانے پر ذہنی الجھاؤ اور پست ہمتی کی کیفیت پیدا ہوئی، لاکھوں چھوٹے درجے کے کاروبار بند ہو گئے، مقامی اور بین الاقوامی سفر پر پابندیاں لگ گئی، ہسپتالوں میں مریض لا وارثی کی حالت میں علاج کروانے پر مجبور ہو گئے اور مرنے والوں کی بغیر مذہبی رسومات کے تدفین ہوتی رہی۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنے وسیع اور بھیانک نتائج کا سبب بننے والا لاک ڈاؤن اور جبری سماجی فاصلے کا نظریہ کوئی زیادہ پرانا یا تاریخی نہیں۔ 69 / 1968 میں وبائی فلو پوری دنیا میں ایک ملین لوگوں کی ہلاکت کا باعث بنا، 1957 میں ایشین فلو (H 2 N 2 ) سے 1.1 ملین لوگ ہلاک ہوئے۔ 1949۔ 52 کے دوران پولیو نے عالمی وبا کی شکل اختیار کی اور لاکھوں لوگ اس کا شکار بنے، اسی طرح 1918 کے اسپینش فلو میں تقریباً پچاس ملین لوگ ہلاک ہو گئے اور اس کا زیادہ تر شکار بھی نوجوان لوگ تھے، ماضی قریب کی عالمی وبا 2009 کے سوائن فلو کے نتیجے میں تقریباً پونے تین لاکھ لوگوں کی ہلاکت ہوئی، لیکن ماضی کے ان، یا ان جیسے مختلف وبائی امراض پر اگر تحقیقی نظر ڈالی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ میں کبھی بھی کسی ملک کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا۔

تاریخی پس منظر کے بعد اب اگر سائنسی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو موجودہ وبائی مرض میں لگائے گئے لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلہ کے نظریے کی بنیاد کسی طب یا عالمی وبائی مرض کے ماہر کی تحقیق نہیں بلکہ 06۔ 2005 میں ”البکرکی ہائی اسکول“ کی ایک پندرہ سالہ طلبا ”لارا ایم گلاس“ کا کمپیوٹر سیمولیشن اور ماڈلنگ کے ذریعے بنایا گیا ایک آٹھویں کلاس کا سائنسی پروجیکٹ ہے۔ لارا نے اس پراجیکٹ میں کمپیوٹر ماڈلنگ کے ذریعے یہ بیان کیا کہ خاندان کے لوگ، ایک ساتھ کام کرنے والے، اسکولوں میں طلبہ یا سماجی زندگی میں لوگ ایک دوسرے سے کیسے ملتے ہیں، اور سمولیشن کے ذریعے یہ نتیجہ نکالا کہ ایک خیالی قصببے میں جس کی آبادی 10000 ہے اگر وبائی مرض پھوٹتا ہے تو بغیر احتیاطی تدابیر کی صورت میں وہاں 5000 لوگ اس مرض سے متاثر ہوں گئے، اور اگر صرف اسکول بند کر دیے جائیں تو متاثرہ افراد کی تعداد 500 ہو گی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2005 میں صدر بش کو 9 / 11 کے تناظر میں امریکہ میں بائیو ٹیررزم کی تشویش تھی اور اس دوران انہوں نے اسپینش فلو کے پھیلاؤ کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا، جارج بش کی تشویش میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اسی سال ایویان فلو ویتنام میں پھیلنا شروع ہوا اور اس کی کوئی ویکسین نہیں تھی۔ مستقبل میں اسی طرح کی کسی عالمی وبا سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانے کے لئے صدر بش اور ان کی انتظامیہ نے کام شروع کر دیا، اور اسی مقصد کے لئے مختلف ماہرین کی طرح ”ڈاکٹر کارٹر میچر“ اور ”ڈاکٹر رچرڈ ہیچٹ“ کو وائٹ ہاؤس نے مشاورت کے لیے رکھ لیا۔

اسی موضوع پر کام کرتے ہوئے ڈاکٹر میچر کا رابطہ لارا گلاس کے والد ”ڈاکٹر رابرٹ گلاس“ سے ہوا جو کہ ایڈوانس ماڈلنگ کے ذریعے یہ جانچ لگانے کے ماہر تھے کہ پیچیدہ نظام کیسے کام کرتا ہے، اور انہوں نے ہی اپنی بیٹی کے اسکول پراجیکٹ میں کمپیوٹر ماڈلنگ کے استعمال میں معاونت کی تھی۔ رابرٹ گلاس جن کی طب کی دنیا میں کوئی تربیت یا تجربہ نہیں تھا، انہوں نے اسی اسکول کے پراجیکٹ کو سپر کمپیوٹر ماڈلنگ پر مزید نکھار کے ڈاکٹر میچر کو واشنگٹن بھجوا دیا۔

ڈاکٹر ہیچٹ جو کہ کینسر کے مرض کے معالج تھے اور ڈاکٹر میچر جو انتہائی نگہداشت کے فزیشن تھے اور صدر بش کے بائیو ڈیفنس کے معاون خصوصی ڈاکٹر رنجیو ونکایا کے بقول انہے اس لیے رکھا گیا تھا تاکہ ہسپتالوں کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھا جا سکے الغرض ڈاکٹر رچرڈ ہیچٹ اور ڈاکٹر کارٹر میچرکا وبائی امراض کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ بہرحال ان دونوں ڈاکٹروں نے جب یہ منصوبہ سرکاری طور پر طبی ماہرین کے سامنے رکھا تو انہوں نے اس کو غیر موثر، ناقابل عمل اور ناممکن کہہ کر رد کر دیا۔

لیکن بش انتظامیہ نے اس منصوبے کی حوصلہ افزائی کی اور یوں طبی ماہرین سے رد ہونے والے ایک ایسا منصوبہ جو کہ طبی اور وبائی امراض کے ماہرین کے بجائے ایک کمپیوٹر سیمولیشن ماڈلر نے بنایا تھا، کو سیاسی بنیادوں پر ”نان فارماسیوٹیکل انٹرفیئرنس“ کی قسم میں ڈال کر ”سی ڈی سی“ نے امریکہ کی سرکاری حکمت عملی کا درجہ دے دیا۔

طبی ماہرین کی طرف سے اس کی مخالفت میں جو مواد لکھا گیا اس میں ایک قابل ذکر مقالہ ”ڈاکٹر ڈی اے ہینڈ رسن“ کا ہے جو کہ سرکاری طور پر چیچک کے خاتمے کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کی سربراہی کر رہے تھے، اور دنیا میں چیچک کے خاتمے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔ اس مقالے میں ان کے ساتھ تین دیگر مصنفین میں جان ہا پکنز یونیورسٹی کے پروفیسر، تھامس وی انگلیسبی ) متعدی امراض کے ماہر (، جینفر بی نوزو ) ماہر وبائی امراض ( اور اسی یونیورسٹی کے فزیشن تارا او ٹولی شامل ہیں۔ ان کا مقالہ تاریخی اور سائنسی بنیادوں پر مکمل لاک ڈاؤن کی نفی کرتا ہے۔

اس مقالے (Disease mitigation measures in the control of pandemic influenza 2006 ) میں تاریخی شوائد اور ماضی کی سائنسی تحقیق کی بنیادوں پر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ماضی میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ جس میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنے سے کسی انفلونزا یا وبا کا پھیلاؤ روکا تو کیا آہستہ بھی کیا گیا ہو۔

عالمی ادارہ صحت کے رائٹنگ گروپ کی طرف سے ماضی کے تحقیقی مواد کے مطالعے اور وباؤں کے دور میں بین الاقو امی تجربے کے مشاہدے کی بنیاد پر 2006 میں چھپے ایک مقالے میں یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ’جبری تنہائی یا قرنطینہ بالکل غیر موثر اور غیر عملی حکمت عملی رہی ہے‘ ۔ عالمی ادارہ صحت کے اسی مقالے کے مطابق ’ماضی کی عالمی وباؤں کے دوران بین الاقوامی سرحدوں کے داخلی راستوں پر مسافروں کے طبعی معائنے اور انہیں قرنطینہ کرنے سے وبا یا وائرس کے پھیلاؤ میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں پڑا اور آج کے جدید دور میں بھی اس کے مفید ہونے کا کوئی خاص امکان ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔‘ ماضی میں جب تک شہر زیادہ گنجان آباد نہیں تھے اور مقامی و بین الاقو امی آمدو رفت محدود تھی تب تک تو بڑے پیمانے پر علاقے کو قرنطینہ کرنا قابل عمل رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں نہ تو اس کا کوئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی یہ مکمل طور پر قابل عمل حل ہے۔

اسی طرح سارس وائرس پر کام کرنے والے عالمی ادارہ صحت کے ایک گروہ نے اپنے ایک مضمون میں یہ نتیجہ نکالا کہ ’مسافروں کی سکریننگ کے لیے استعمال کیے گئے موجود آلات زیادہ مفید ثابت نہیں ہوئے‘ ۔ لیکن ان تمام تاریخی شواہد کے باوجود موجودہ کرونا مرض میں ساری دنیا نے ہی مقامی اور بین الاقو امی آمدو رفت پر پابندیاں لگا دیں اور ان پابندیوں کی وجہ سے اجتماعی اور انفرادی سطح پر برآمد ہونے والے بھیانک معاشی اور سماجی نتائج سامنے آنا شروع بھی ہو گئے ہیں۔

اسی طرح ہم تعلیمی اداروں کے سے حوالے اگر ماضی کا مشاہدہ کریں تو سکولوں کے بند کرنے کا وباؤں کے پھیلاؤ پر ملا جلا اثر ملتا ہے، مثلاً اسرائیل میں ایک مطالعے میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ سانس کی وبا کے دوران اساتذہ کی طرف سے دو ہفتوں کی ہڑتال کی وجہ سے طلبہ میں وبا کے پھیلاؤ میں کمی آئی، لیکن 1918 کی وبا کے دوران شکاگو میں جب اسکولوں کو دو ماہ کی موسم سرما کی چھٹیاں ہوئی تو اس دوران طلبہ میں وائرس بہت تیزی سے پھیلا۔

ڈاکٹر ڈی اے ہینڈ رسن کے بقول ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ وہ معاشرے جہاں وبا کے ردعمل کے طور پر سماجی معاملات کو کم سے کم چھیڑا گیا، ان معاشروں نے وبا کا مقابلہ اتنے ہی بہتر انداز، کم سے کم اضطراب اور اچھے نتائج کے ساتھ کیا۔

موجودہ وبا میں لاک ڈاؤن کے تجزیے کے لیے اگر ہم خالی یورپ کے ہی چند ممالک جنہوں نے عالمی اداروں کی ہدایات کے برعکس ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا، ا ن کی اموات اور متاثرہ افراد کی تعداد کا باقی یورپ سے موازنہ کریں تو کم و بیش یہ تعداد یورپ کے اوسط متاثرہ ممالک کے برابر ہی ہے یا کچھ سخت متاثر ہونے والے ممالک جیسے اٹلی اور اسپین کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

وبائی حالات میں دو بہت ہی اہم عنصر، مضبوط سیاسی قیادت اور صحت کا مضبوط نظام ہیں، جو کہ عوام کا حوصلہ بنائے رکھیں اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مطلوبہ طبی ضروریات کو ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔ اگر ان دو عناصر میں سے کوئی ایک بھی اپنے فرائض کو صحیح معنوں میں پورا نہیں کرتا تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک قابل انتظام و با ایک آفت یا المیے میں بدل جائے گی۔ اور موجودہ کرونا وائرس کے تناظر میں یہ ہی ہوا، عالمی منظر نامے پر قیادت کے فقدان اور سرمایہ دارانہ مفادات کے تحفظ کی وجہ سے ایک قابل انتظام وبا کو ایک عالمی آفت اور المیے میں بدل دیا گیا۔

Facebook Comments HS